حج اور عمرے کا بیان

واجبات احرام

ان واجبات سے وہ اعمال مراد ہیں،جن کے چھوڑنے سے دم(جانور ذبح کرنا)لازم آتا ہے یا پھر اگر دم ادا نہ کر سکے تو دس دن کے روزے ہیں،واجبات احرام تین ہیں: 1: میقات سے احرام باندھنا:’’میقات‘‘ سے مراد وہ جگہ ہے جس سے حج یا عمرہ کرنے والا احرام کے بغیر تجاوز نہیں کر سکتا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((وَقَّتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لِأَھْلِ الْمَدِینَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ،وَلِأَھْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ،وَلِأَھْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَھْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ،قَالَ:فَھُنَّ لَھُنَّ وَلِمَنْ أَتٰی عَلَیْھِنَّ مِنْ غَیْرِ أَھْلِھِنَّ،لِمَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَۃَ،فَمَنْ کَانَ دُونَھُنَّ فَمُھَلُّہُ مِنْ أَھْلِہِ،وَکَذَاکَ وَکَذَاکَ حَتّٰی أَھْلُ مَکَّۃَ یُھِلُّونَ مِنْھَا)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ’’ذُوالحُلَیْفَہ‘‘مقرر کیا ہے اور شام والوں کے لیے ’’جُحْفَہ‘‘ اور اہل نجد کے لیے ’’قَرْنُ المَنَازِلِ‘‘ اور یمن والوں کے لیے ’’یَلَمْلَمْ‘‘اور یہ ان کے اور ان راستوں سے حج اور عمرہ کی غرض سے دوسرے مقامات سے آنے والوں کے مواقیت ہیں اور جو(ان کی حدود کے)اندر رہتے ہیں،وہ اپنے گھر سے احرام باندھیں گے۔حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔‘‘[3] 2: سلے ہوئے کپڑے اتارنا:اس لیے کہ محرم قمیص،کوٹ اور اس طرح کا سلا ہوا لباس نہیں پہن سکتا ہے،نہ ہی پگڑی باندھ سکتا ہے اور نہ اپنے سر کو کسی چیز سے ڈھانپ سکتا ہے اور نہ ہی موزے اور جرابیں پہن سکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((لَا یَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِیصَ وَلَا الْعِمَامَۃَ وَلَا السَّرَاوِیلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَّسَّہُ زَعْفَرَانٌ وَّلَا وَرَسٌ وَّلَا الْخُفَّیْنِ إِلَّا لِمَنْ لَّمْ یَجِدِ النَّعْلَیْنِ فَإِنْ لَّمْ یَجِدْھُمَا فَلْیَقْطَعْھُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ)) ’’محرم قمیص،پگڑی،شلوار،ٹوپی،زعفران یا ورس لگا ہوا کپڑا اور موزے نہ پہنے،الّا یہ کہ جوتے نہ ہوں تو موزے ٹخنے کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے۔‘‘ [1] عورت نقاب نہ اوڑھے اور دستانے استعمال نہ کرے،[2] اس لیے کہ حدیث میں ان چیزوں کی ممانعت مروی ہے۔ 3: تلبیہ پڑھنا:اس کے الفاظ یہ ہیں:’لَبَّیْکَ اَللَّھُمَّ!لَبَّیْکَ،لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ،إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ‘ ’’اے اللہ!میں حاضر ہوں،اے اللہ!میں حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں،تیرے پاس حاضر ہوں،بے شک تعریف،نعمت اورملک تیرا ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘ [3] احرام شروع کرتے وقت مُحرِم ’’میقات‘‘ سے ہی یہ تلبیہ کہنا شروع کر دے،بار بار اور اونچی آواز سے کہنا مستحب ہے اور سواری سے اترتے وقت اور چڑھتے وقت،نماز کی اقامت یا نماز سے فارغ ہوتے وقت اور ساتھیوں سے ملتے وقت بھی یہ تلبیہ کہنا چاہیے۔[4]