زکاۃ کا بیان

چوپائے

اونٹ،گائے اور بھیڑ بکریوں میں زکاۃ ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ﴾’’اے ایمان والو!اس پاک مال میں سے خرچ کرو جو تم کماتے ہو۔‘‘[4] ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:’وَیْحَکَ!إِنَّ شَأْنَھَا شَدِیدٌ،فَھَلْ لَّکَ مِنْ إِبِلٍ تُؤَدِّي صَدَقَتَھَا؟‘ قَالَ:نَعَمْ،قَالَ:’فَاعْمَلْ مِنْ وَّرَائِ الْبِحَارِ،فَإِنَّ اللّٰہَ لَنْ یَّتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَیْئًا‘ ’’تجھ پر افسوس!اس کا معاملہ تو بہت سخت ہے،کیا تیرے پاس اونٹ ہیں جن کی توزکاۃ ادا کرتا ہے۔‘‘ کہا:ہاں،آپ نے فرمایا:’’پھر تو سمندر پار عمل کر،اللہ تیرے عمل میں ہرگز کمی نہیں کرے گا۔‘‘[5] اور فرمایا:’وَالَّذِي لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ!مَامِنْ رَّجُلٍ تَکُونُ لَہُ إِبِلٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْغَنَمٌ لَّا یُؤَدِّي حَقَّھَا إِلَّا أُتِيَ بِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْظَمَ مَا تَکُونُ وَأَسْمَنَہُ،تَطَؤُہُ بِأَخْفَافِھَا وَتَنْطَحُہُ بِقُرُونِھَا،کُلَّمَا جَازَتْ أُخْرَاھَا رُدَّتْ عَلَیْہِ أُولَاھَا،حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ‘ ’’اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے!جس آدمی کے پاس اونٹ یا گائے یا بھیڑ بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو انھیں قیامت کے دن لایا جائے گا۔تو وہ بڑی بڑی ہوں گی اور موٹی موٹی،اسے اپنے پاؤں کے نیچے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔جب(مارتے ہوئے)سب گزر جائیں گی تو پہلی کو پھر لوٹایا جائے گا۔لوگوں کے فیصلے ہونے تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔‘‘ [1]