زکاۃ کا بیان

سونا اور چاندی

سونا،چاندی اور وہ سامان تجارت جس کی قیمت سونے اور چاندی سے متعین ہوتی ہے،اسی طرح کانوں سے حاصل شدہ اموال اور جاہلی دور میں مدفون خزانہ بھی سونے چاندی کے ساتھ ملحق ہے اور اس کے علاوہ دیگر مالی کرنسی جو سونے اور چاندی کے قائم مقام ہے،ان سب میں زکاۃ ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ ’’ اور جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا لیتے ہیں اور اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے،انھیں دردناک عذاب کی نوید سنا دیں۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَۃٌ‘ ’’پانچ اوقیہ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔‘‘ [2] نیز فرمایا:((اَلعَجْمَائُ جُرْحُھَا جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ،وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ،وَفِي الرِّکَازِ الْخُمُسُ)) ’’جانور کسی کو زخمی کر دے تو وہ ہدر(اس میں قصاص وغیرہ نہیں)ہے،کنویں میں کام کرتے ہوئے کسی کا نقصان ہو جائے تو ہدر ہے اور کان میں نقصان ہو جائے تو ضائع(ہدر)ہے اور جاہلی مدفون خزانہ میں(بیت المال کے لیے)پانچواں حصہ ہے۔‘‘ [3]