جنازے کا بیان
نماز جنازہ کا طریقہ
جنازہ ایک ہو یا زیادہ قبلے کی طرف رکھا جائے۔اگر میت مرد ہے تو امام اس کے سامنے کھڑا ہو جائے اور اگر عورت ہے تو وسط میں سامنے کھڑا ہو جائے اور عام لوگ تین یا زیادہ صفوں میں اس کے پیچھے کھڑے ہوں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((مَنْ صَلّٰی عَلَیْہِ ثَلَاثَۃُ صُفُوفٍ فَقَدْ أَوْجَبَ)) ’’جس میت پر تین صفوں نے نماز جنازہ پڑھی،انھوں نے(اس کے لیے جنت کو)واجب کر لیا۔‘‘[1]
امام ایک میت یا زیادہ اموات پر نماز جنازہ کے ارادے سے ہاتھ اٹھائے اور ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے،پھر حمد وثنا کرے اور سورئہ فاتحہ پڑھے،پھر ہاتھ اٹھا کر تکبیر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے یا ہاتھ نہ اٹھائے بلکہ دایاں ہاتھ بائیں سے پکڑ کر سینے پر رکھے۔دونوں طرح درست ہے۔اور درود ابراہیمی پڑھے،پھر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے اور میت کے لیے دعا کرے،پھر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے،چاہے تو دعا کر لے اور چاہے تو سلام کہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:
((اَلسُّنَّۃُ فِي الصَّلَاۃِ عَلَی الْجَنَازَۃِ أَنْ یُّکَبِّرَ الإِْمَامُ ثُمَّ یَقْرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ بَعْدَ التَّکْبِیرَۃِ الْأُولٰی سِرًّا فِي نَفْسِہِ ثُمَّ یُصَلِّيَ عَلَی النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَیُخْلِصَ الدُّعَائَ لِلْمَیِّتِ فِي التَّکْبِیرَاتِ،لَا یَقْرَأُ فِي شَيْئٍ مِّنْھُنَّ،ثُمَّ یُسَلِّمَ سِرًّا فِي نَفْسِہِ))
’’نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ امام تکبیر کہے اور آہستہ،دل میں فاتحۃ الکتاب پڑھے،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اور تکبیرات کے دوران میں میت کے لیے خلوص سے دعا کرے اور قراء ت نہ کرے،پھر آہستہ سے سلام کہے۔‘‘[2]