جنازے کا بیان

میت کو غسل دینے کا طریقہ

اگر جسم کے تمام حصوں پر پانی ڈال دیا جائے اور پانی سارے جسم کو تر کر دے تو بھی کافی ہے مگر مستحب اور مکمل طریقۂ غسل یہ ہے کہ میت کو کسی تختے پر لٹایا جائے جو سطح زمین سے اونچا رکھا گیا ہو اور پھر نیک اور قابل اعتماد آدمی غسل دے۔ نیز آہستہ آہستہ میت کے پیٹ کو دبائے تاکہ کوئی آلائش وغیرہ ہو تو نکل جائے،پھر اپنے ہاتھ پر کپڑے کا لفافہ باندھ لے،غسل کی نیت کرے اور اس کی شرم گاہ دھوئے،نجاست ہو تو صاف کرے،پھر ہاتھ پر سے لفافہ اتار کر اسے نماز کے وضو کی طرح وضو کرائے،پھر جسم پر پانی ڈالے،اوپر سے شروع کرے اور نیچے کو لے جائے،تین بار ایسا کرے۔اگر اس سے جسم کی صفائی نہیں ہوئی تو پانچ بار غسل دے اور آخری غسل میں صابن وغیرہ استعمال کرے۔ اگر میت مسلمان عورت ہے تو غسل دینے والی اس کے بالوں کی لٹیں کھول کر غسل دے گی،بعدازاں دوبارہ بالوں کی لٹیں بنا دے،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے بالوں کے بارے میں یہی حکم دیا تھا،پھر حنوط یا کوئی اور خوشبو لگائی جائے۔[1]