جنازے کا بیان
نوحہ کی حرمت اور رونے کا جواز
بین کرنا اور آواز کے ساتھ رونا حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ))’’زندوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔‘‘[3]
نیز فرمایا:’مَنْ نِّیحَ عَلَیْہِ فَإِنَّہُ یُعَذَّبُ بِمَا نِیحَ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جس پر بین کیا جائے،قیامت کے دن اس بین کی وجہ سے اسے عذاب ہوگا۔‘‘[4]
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی بیعت میں یہ اقرار بھی لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔[5]
نیز ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بَرِیئَ مِنَ الصَّالِقَۃِ وَالْحَالِقَۃِ وَالشَّاقَّۃِ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز اونچی کرنے والی،سر کے بال نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی سے براء ت کا اظہار فرمایا۔‘‘[1]
آنکھوں سے آنسو بہنے میں کوئی حرج نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر فرمایا:
((إِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ یَحْزَنُ،وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا یَرْضٰی رَبُّنَا،وَإِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا إِبْرَاھِیمُ!لَمَحْزُونُونَ))
’’آنکھ بہہ رہی ہے،دل غمگین ہے اور ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کرے اور اے ابراہیم!ہم تیری جدائی پر(بہت)غمگین ہیں۔‘‘[2]
اپنے ایک نواسے(حضرت ز ینب رضی اللہ عنہا کے بیٹے)کی وفات پر آپ روئے تو کہا گیا:آپ بھی روتے ہیں۔آپ نے تو رونے سے منع کیا ہے۔تو اس پر آپ نے فرمایا:
((ھٰذِہِ رَحْمَۃٌ جَعَلَھَا اللّٰہُ فِي قُلُوبِ عِبَادِہِ،وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ))
’’یہ رحمت ہے،جو اللہ نے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر ہی رحم کرتا ہے۔‘‘[3]