جنازے کا بیان

علاج معالجہ مستحب ہے

مسلمان بیمار کے لیے مستحب ہے کہ وہ مباح اور حلال ادویہ کے ساتھ علاج کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُنْزِلْ دَائً إِلَّا أَنْزَلَ لَہُ شِفَائً))’’اللہ نے جتنی بیماریاں اتاری ہیں،ان کا علاج بھی اتارا ہے۔پس علاج کرو۔‘‘[1] حرام اشیاء کے ساتھ علاج کرنا ناجائز ہے،جیسا کہ شراب اور خنزیر وغیرہ،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَجْعَلْ شِفَائَ کُمْ فِیمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ))’’جو چیزیں اللہ نے تم پر حرام کی ہیں،ان میں اس نے تمھارے لیے شفا نہیں رکھی۔‘‘[2]