نماز کا بیان

نماز کا حکم،حکمت اور فضیلت

٭نماز کا حکم: اللہ جل مجدہ کی طرف سے ہر مومن پر نماز فرض ہے۔قرآن پاک میں متعدد آیات میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے:﴿فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ ’’پس نماز قائم کرو،بے شک نماز ایمان والوں پر مقررہ وقت پر لازم ہے۔‘‘[1] نیز فرمایا:﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾’’سب نمازوں کی اور درمیانی نماز کی حفاظت کرو۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں دوسرا رکن قرار دیا ہے۔ارشاد ہے: ((بُنِيَ الإِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ:شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ،وَالْحَجِّ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ)) ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کا اقرار کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا،زکاۃ ادا کرنا،حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘[3] نماز کا تارک شرعاًواجب القتل ہے جسے حکومتِ وقت یہ سزا دے گی اور سستی کرنے والا قطعی طور پر فاسق ہے۔ ٭حکمتِ نماز: نفس انسانی کی تطہیر وتزکیہ اس کا بنیادی مقصد ہے اور اس کے ذریعے سے بندہ دنیا میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ مناجات اور آخرت میں اس کے قرب کا اہل قرار پاتا ہے،نیز نماز بے حیائی اور منکرات سے انسان کو دور کرتی ہے۔اللہ عزوجل کا فرمان ہے:﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾ ’’اور نماز قائم کر،بے شک نماز بے حیائی اور ناجائز کاموں سے روکتی ہے۔‘‘[4] ٭ فضیلت نماز: نماز کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں احادیث مبارکہ کثیر تعداد میں وارد ہیں،نمونہ کے طور پر ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیے: 1: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’رَأْسُ الْأَمْرِ الإِْسْلَامُ وَعَمُودُہُ الصَّلَاۃُ وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادُ‘ ’’اصل دین اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی عظمت وبلندی(کا نشان)اللہ کے راستے میں جہاد ہے۔‘‘[5] 2: اور فرمایا:((بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ))’’بندے کو شرک و کفر سے ملانے والی چیز نماز چھوڑ دیناہے۔‘‘[6] یعنی انسان جب نماز چھوڑ دیتا ہے تو کفر کی طرف چل پڑتا ہے۔ 3: نیز ارشاد فرمایا:((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ،وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ،فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَ ھُمْ وَأَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِْسْلَامِ،وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ)) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑائی کرتا رہوں،یہاں تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔جب یہ کام کر لیں گے تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے۔ہاں اسلامی حقوق(کی ادائیگی میں ان کے خون اور اموال مستثنیٰ ہیں)اور ان(کے دل)کا حساب لینا اللہ پر ہے۔‘‘[1] 4: نیز جب آپ سے افضل عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا:’اَلصَّلَاۃُ لِوَقْتِھَا‘ ’’بروقت نماز کی ادائیگی۔‘‘[2] 5: نیز ارشاد ہے:’أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَھْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ،ھَلْ یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ شَيْئٌ؟ قَالُوا:لَا یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ شَيْئٌ،قَالَ:فَذٰلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُو اللّٰہُ بِھِنَّ الْخَطَایَا‘ ’’مجھے بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو۔تمھارا کیا خیال ہے کہ اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گی۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:’’نہیں ‘‘ فرمایا:’’یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے کہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘[3] 6: نیز فرمایا:’مَا مِنِ امْرِیئٍ مُّسْلِمٍ تَحْضُرُہُ صَلاَۃٌ مَّکْتُوبَۃٌ فَیُحْسِنُ وُضُوئَ ھَا وَخُشُوعَھَا وَرُکُوعَھَا إِلَّا کَانَتْ کَفَّارَۃً لِّمَا قَبْلَھَا مِنَ الذُّنُوبِ مَالَمْ یَأْتِ کَبِیرَۃً،وَذٰلِکَ الدَّھْرَ کُلَّہُ‘ ’’جس مسلمان کے پاس کسی فرضی نماز کا وقت آپہنچتا ہے،وہ اس کے لیے اچھے وضو،خشوع اور رکوع کا اہتمام کرتا ہے تو وہ نماز اس کے پہلے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گی،جب تک کہ بڑا گناہ نہ کیا جائے اور یہ قانون ساری زندگی جاری رہتا ہے۔‘‘[4]