حیض ونفاس کا بیان

حیض و نفاس کی تعریف اور ان کے احکام

٭حیض: حیض اس خون کو کہتے ہیں جو بالغہ عورت کے رحم سے بغیر بیماری کے معلوم اور محدود اوقات میں نکلتا ہے۔اس کا کم سے کم وقت،ایک دن اور ایک رات ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن۔اور عام طور پر یہ چھ یا سات دن آتا رہتا ہے۔[2] طہر(حیض کے علاوہ باقی دنوں)کی کم از کم مدت،تیرہ یا پندرہ دن ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔عام طور پر طہر تیئیس یا چوبیس دن رہتا ہے۔اس بارے میں عورتوں کی تین اقسام ہیں: پہلی بار حیض والی عورت۔دوسری وہ عورت جس کے ہاں حیض کی ایک عادت معلوم ہے۔تیسری استحاضہ والی عورت۔ہر ایک کے الگ الگ احکام ہیں۔ جسے پہلی بار حیض آیا ہے وہ خون دیکھتے ہی نماز،روزہ اور جنسی ملاپ ترک کر دے اور ایام طہر(پاکیزگی کے دنوں)کا انتظار کرے۔ایک دن رات کے بعد پاک ہو جائے یا پندرہ دن کے بعد تو اس کے بعد نہائے اور نماز پڑھے،اگر پندرہ دن کے بعد بھی خون جاری رہے تو وہ ’’مستحاضہ‘‘ سمجھی جائے گی اور ’’استحاضہ‘‘ کے احکام کی پابندی کرے گی۔ اگر پندرہ دنوں کے دوران اسے ایک دو دن خون آتا ہے اور پھر منقطع ہو جاتا ہے تو ’’طہر‘‘ کے دنوں میں نہا کر نماز پڑھے گی اور ’’ایام حیض‘‘ میں رک جائے گی۔ اور جس کے ہاں حیض کی ایک عادت معلوم ہے کہ ہر مہینہ میں مقررہ ایام میں اسے ماہواری آتی ہے تو وہ ایام عادت میں نماز،روزہ اور جنسی ملاپ ترک کر دے گی۔ایام عادت کے بعد اگر خون کا پیلا یا گدلا رنگ دیکھے تو اس کی پروانہ کرے۔حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ((کُنَّا لَا نَعُدُّ الْکُدْرَۃَ وَالصُّفْرَۃَ شَیْئًا))’’ہم(آغاز طہر کے بعد)پیلے یا مٹیالے رنگ کی کچھ پروا نہیں کرتی تھیں ‘‘۔(اسے حیض شمار نہیں کرتی تھیں)[3] ہاں اگر ایام عادت میں ایسا رنگ دیکھے تو وہ حیض ہی شمار ہو گا۔تب وہ غسل کر کے نماز روزہ شروع نہیں کر سکتی۔٭ ’’مستحاضہ‘‘ وہ عورت ہے جس کا خون مسلسل جاری رہے،اگر اس سے پہلے اس کی کوئی ’’عادت معروفہ‘‘ ہو تو اس کے مطابق ہی حیض اور طہر کے دن شمار کر لے،یعنی جتنے دن پہلے اسے حیض آتا تھا،وہ دن حیض میں شمار کرے اور باقی ’’طہر‘‘ کے دن شمار ہوں گے۔ان دنوں میں غسل کے بعد نماز،روزہ اور وطی سب جائز ہیں اور اگر پہلے سے کوئی ’’عادت معروفہ‘‘ اسے حاصل نہیں ہے یا عادت تھی مگر اسے اس کا نسیان ہو گیا ہے تو پھر غور کرے،اگر حیض کے خون کی تمیز سیاہ یا سرخ رنگ کے ذریعہ ہو سکتی ہے تو اس کے مطابق عمل کرے،اگر رنگ سے بھی امتیاز کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے تو پھر ہر ماہ چھ یا سات دن حیض کے شمار کرے اور باقی ایام ’’استحاضہ‘‘ کے قرار دے،جن میں نماز اور روزہ کی ادائیگی کرے گی۔ ’’استحاضہ‘‘ کے دنوں میں عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے،پٹی باندھے اور نماز پڑھے،چاہے خون کثرت سے ہی جاری ہو۔درج ذیل احادیث مستحاضہ عورت کے مذکورہ بالا احکام کی دلیل ہیں: 1: ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جسے بہت خون آرہا تھا تو آپ نے فرمایا:((لِتَنْظُرْ عِدَّۃَ اللَّیَالِي وَالْأَیَّامِ الَّتِي کَانَتْ تَحِیضُھُنَّ مِنَ الشَّھْرِ قَبْلَ أَنْ یُّصِیبَھَا الَّذِي أَصَابَھَا،فَلْتَتْرُکِ الصَّلَاۃَ قَدْرَ ذٰلِکَ مِنَ الشَّھْرِ،فَإِذَا خَلَّفَتْ ذٰلِکَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ)) ’’استحاضہ کے آنے سے قبل مہینے میں جتنے دن اور راتیں وہ حیض میں گزارتی تھی،اس کے برابر انتظار کرے اور نماز ترک کردے،جب وہ دن گزر جائیں تو نہائے اور کپڑے کی لنگوٹ باندھے اور نماز پڑھے۔‘‘[1] یہ حدیث،عادت والی مستحاضہ کے لیے دلیل ہے۔ 2: فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی بیماری میں مبتلا تھیں،انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا کَانَ دَمُ الْحَیْضِ فَإِنَّہُ دَمٌ أَسْوَدُ یُعْرَفُ،فَإِذَا کَانَ ذٰلِکِ فَأَمْسِکِي عَنِ الصَّلَاۃِ،فَإِذَا کَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي،فَإِنَّمَا ھُوَ عِرْقٌ)) ’’اگر حیض کا خون ہو وہ تو سیاہ ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے،اگر یہی ہے تو نماز سے رک جا اور اگر کوئی اور رنگ ٭ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ایام عادت کے بعد خون جاری رہنے کی صورت میں تین دن تک دیکھے،پھر نہا کر نماز پڑھے۔اس صورت میں اگر خون پندرہ دن سے تجاوز کر گیا تو یہ ’’مستحاضہ‘‘ کے حکم میں ہو گی۔اور بعض علماء کہتے ہیں کہ ’’ایام عادت‘‘ کے بعد اگر خون جاری رہے تو نماز ترک نہ کرے۔ہاں اگر دو یا تین بار ایسا ہو گیا تو پھر گویا وہی عادت قرار پائے گی۔ظاہراً یہی رائے قوی ہے۔(مؤلف) ہے تو وضو کر اور نماز پڑھ،اس لیے کہ یہ ایک رگ(استحاضہ)کا خون ہے۔‘‘[1] یہ حدیث غیر معتادہ(جو عادت والی نہ ہو یا جسے عادت بھول گئی ہو)کے مسئلہ کی وضاحت کرتی ہے۔ 3: حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((کُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً کَثِیرَۃٌ شَدِیدَۃً فَأَتَیْتُ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَسْتَفْتِیہِ وَأُخْبِرُہُ:،فَقَالَ:إِنَّمَا ھِيَ رَکْضَۃٌ مِّنَ الشَّیْطَانِ فَتَحَیَّضِي سِتَّۃَ أَیَّامٍ أَوْ سَبْعَۃَ أَیَّامٍ فِي عِلْمِ اللّٰہِ،ثُمَّ اغْتَسِلِي،فَإِذَا رَأَیْتِ أَنَّکِ قَدْ طَھُرْتِ اسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَّعِشْرِینَ لَیْلَۃً أَوْ ثَلَاثًا وَّعِشْرِینَ لَیْلَۃً وَّأَیَّامَھَا،وَصُومِي وَصَلِّي،فَإِنَّ ذٰلِکَ یُجْزِئُکِ،وَکَذٰلِکِ فَافْعَلِي کَمَا تَحِیضُ النِّسَائُ)) ’’میں سخت ’’استحاضہ‘‘ میں مبتلا تھی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا کہ کیا کروں ؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’یہ شیطان کی طرف سے دھکا ہے،چھ دن یا سات دن حیض کے شمار کر،پھر نہا لے،جب صاف ہو جائے تو چوبیس یا تیئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ،یہی تجھے کافی ہے اور ہر ماہ اسی طرح کرتی رہ،جس طرح کہ عام عورتیں ایام ماہواری گزارتی ہیں۔‘‘[2] یہ حدیث ان عورتوں کے لیے ہے جن کی نہ کوئی عادت مقرر ہو اور نہ ہی وہ حیض اور غیر حیض کا امتیاز کر سکتی ہوں۔ ٭نفاس: نفاس وہ خون ہے جو بچے کی ولادت کے بعد عورت کی شرم گاہ سے خارج ہوتا ہے۔اس کے کم سے کم کی کوئی حد نہیں،جب بھی عورت پاک صاف ہو جائے تو نہا کر نماز پڑھنی شروع کر دے۔ہاں چالیس روز سے قبل اس سے وطی(جماع کرنا)مناسب نہیں ہے،اس لیے کہ اس سے ایذا اور تکلیف لاحق ہونے کا اندیشہ ہے،نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے،اس لیے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:((کَانَتِ النُّفَسَائُ تَجْلِسُ عَلٰی عَھْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَرْبَعِینَ یَوْمًا)) ’’نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نفاس والی عورتیں چالیس دن انتظار کرتی تھیں۔‘‘[3] وہ اس طرح کرے گی کہ چالیس دن گزرنے کے بعد نہائے،نماز پڑھے اور روزے رکھے،چاہے پاک صاف ہوئی ہے یا خون آرہا ہے۔ہاں اگر اسے خون آرہا ہے تو مستحاضہ کی طرح اس کے احکام ہوں گے۔بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ نفاس والی عورت پچاس دن یا ساٹھ دن انتظارکرے۔مگر شرعی طور پر احتیاط اسی میں ہے کہ وہ چالیس دن ہی نفاس کے شمار کرے۔ طہر کی پہچان: ’’طہر‘‘ کی پہچان دو طرح سے ہو سکتی ہے۔اَولاً:عورت کو خالص سفید پانی آنا شروع ہو جائے۔ثانیاً:بالکل خشک ہو جائے۔روئی کا ٹکڑا اندر لے جائے اور باہر نکالے،اگر بالکل خشک ہے تو ’’طہر‘‘ کی نشانی ہے،سونے سے پہلے اور بعد ازاں اسی طرح کرے تاکہ معلوم ہو وہ حیض و نفاس سے پاک وصاف ہے یا نہیں۔ دورانِ حیض ونفاس ممنوع اور جائز امور: ٭حیض و نفاس کے ایام میں ممنوع اعمال: 1: حیض ونفاس والی عورت سے مجامعت کرنا منع ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ﴾’’اور اُن کے پاک ہونے تک ان کے قریب نہ جاؤ۔‘‘[1] 2: نماز اور روزہ بھی ممنوع ہے،البتہ پاک ہونے کے بعد روزے کی قضا دے گی،جبکہ نماز کی قضا نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتِ(الْمَرْأَۃُ)لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ‘ ’’کیا ایسا نہیں کہ جب عورت حیض والی ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے۔‘‘[2] اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کا نہیں۔‘‘ [3] 3: مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَّلَا جُنُبٍ‘ ’’میں مسجد کو حیض والی عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا۔‘‘[4] 4: قرآن کی قراء ت بھی نہ کرے۔حدیث میں ہے:((لَا تَقْرَإِ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِّنَ الْقُرْآنِ))’’جنبی مرد اور حیض والی عورت قرآن پاک نہ پڑھیں۔‘‘[5] 5: حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دینا جائز نہیں بلکہ طہر کا انتظار کیا جائے اور طہر بھی وہ جس میں جماع نہ کیا ہو۔حدیث میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رجوع کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:’’اسے ماہواری سے پاک ہونے تک اپنے پاس رکھ اور طہر میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے۔‘‘[1] ٭حیض ونفاس میں جائز کام: 1: مجامعت کے سوا عورت کے ساتھ ہر انداز میں اٹھنا بیٹھنا اور بوس وکنار کرنا جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اِصْنَعُوا کُلَّ شَيْئٍ إِلَّا النِّکَاحَ‘ ’’جماع کے سوا سب کام کر سکتے ہو۔‘‘[2] 2: اللہ کا ذکر بھی کر سکتی ہے،اس لیے کہ اس کی شارع کی طرف سے کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔ 3: بیت اللہ کے طواف کے سوا حج اور عمرہ کے سب اعمال،مَثلاً:احرام،وقوف عرفہ وغیرہ کرے گی۔طہر اور غسل کے بعد بیت اللہ کا طواف بھی کرے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا:((اِفْعَلِي کَمَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لَّا تَطُوفِي بِالْبَیتِ حَتّٰی تَطْھُرِي)) ’’وہ تمام افعال کر جو حاجی کرتے ہیں،البتہ پاک وصاف ہونے تک طواف نہ کرنا۔‘‘[3] 4: حیض و نفاس والی عورت کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’میں حیض کی حالت میں ہوتی اور پانی پیتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ لگا کر پیتے جس جگہ میں نے منہ لگایا ہوتا۔‘‘[4] اور عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ بیوی کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی۔‘‘[5]