غسل کا بیان
غسل کی مشروعیت
غسل کا مشروع ہونا کتاب وسنت سے ثابت ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾’’اور اگر تم جنبی ہو جاؤ تو غسل کرلو۔‘‘[2]
اور فرمایا:﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا﴾’’اور جنابت کی حالت میں بھی(نماز کے قریب نہ جاؤ)حتیٰ کہ تم غسل کرلو مگر یہ کہ راہ چلتے مسافر ہو۔‘‘[3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))
’’جب(مرد کی)شرم گاہ(عورت کی)شرم گاہ میں تجاوز کرے تو غسل واجب ہو گیا۔‘‘[4]