وضو کا بیان
نواقض وضو
1: پیشاب اور پاخانہ کے راستے سے نکلنے والی چیزیں،یعنی پیشاب،منی،مذی،ودی،پاخانہ اور ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اس کوحَدَث کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں یہی مراد ہے:((لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلَاۃَ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ))
’’جب تم میں سے کوئی بے وضو ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا،یہاں تک کہ وہ نیا وضو کرے۔‘‘[3]
2: لیٹ کر گہری نیند بھی ناقض وضو ہے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:((اَلْعَیْنُ وِکَائُ السَّہِ،فَمَنْ نَّامَ فَلْیَتَوَضَّأْ))
’’آنکھ،دبر(پیٹھ)کا بندھن ہے،جو سو جائے،اسے چاہیے کہ وضو کرے۔‘‘[4]
3: بے ہوشی،نشہ یا جنون کی وجہ سے عقل کا ماؤف ہونا۔اس لیے کہ اس حالت میں انسان کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں،اس لیے وضو ٹو ٹنے ہی کا حکم لگایا جاتا ہے۔
4: ہاتھ کے ساتھ شرم گاہ کو چھونا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَنْ مَّسَّ ذَکَرَہُ فَلَا یُصَلِّ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ‘
’’جو اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے،وہ(نیا)وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔‘‘[1]
5: ’’ارتداد‘‘ بایں طور کہ کوئی کفریہ لفظ بول دے تو اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اور تمام تعبدی(عبادت کے)اعمال باطل ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾’’اگر تونے شرک کیا تو تیرے عمل ضرور ضائع ہو جائیں گے۔‘‘[2]
6: اونٹ کا گوشت کھانے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:کیا ہم بھیڑ،بکری کے گوشت سے وضو کریں ؟ آپ نے فرمایا:’’اگر تو چاہے تو وضو کر لے اگر چاہے تو نہ کر ‘‘ اس نے عرض کی:کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کریں ؟ تو آپ نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘ [3]
7: عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا۔اس لیے کہ شہوت کا ارادہ شہوت کے حکم میں ہے اور ’’ناقض وضو ‘‘ہے،جیسا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو کا حکم صادر ہوا ہے،اس لیے کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانا شہوت کو ابھارتا ہے اور موطأ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عورت کو بوسہ دینا اور اسے ہاتھ لگانا ’’ملامست‘‘ ہے،جو اپنی عورت کو بوسہ دے یا اسے ہاتھ لگائے اس پر وضو ہے۔[4]
سلس البول والا شخص اور مستحاضہ عورت کیا کرے؟:
1: ’’سلسل البول‘‘ میں مبتلا شخص،(جسے پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں)یا جس کی ہوا خارج ہوتی رہتی ہے،اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے،جیسا کہ استحاضہ والی عو رت کے لیے حکم ہے۔
2: استحاضہ والی عورت وہ ہے،جسے ایام عادت کے علاوہ خون آتا رہے،اس کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا:
’ثُمَّ تَوَضَّئِي لِکُلِّ صَلَاۃٍ‘ ’’پھر تو ہر نماز کے لیے وضو کر۔‘‘[5]
3: میت کو غسل دینے والا یا جنازہ اٹھانے والا شخص بھی وضو کر لے تو بہتر ہے۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے:
((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ،وَمَنْ حَمَلَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ))’’جو میت کو غسل دے وہ نہائے اور جو اٹھائے وہ وضو کرے۔‘‘[1]