صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

گوشت میں برکت

حضرت مسعود بن خالد ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کی خدمت میں ایک بکری بھیجی اور میں خود کسی کام سے کہیں چلاگیا۔ حضورﷺنے میرے گھر بکری کاکچھ گوشت بھیجا۔ میں اپنی بیوی حضرت اُمِّ خُنَّاسؓ کے پاس واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پاس گوشت رکھا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا: اے اُمِّ خُنَّاس! یہ گوشت کہاں سے آیا ہے؟ میری بیوی نے کہا: آپ نے اپنے خلیلﷺکو جو بکری بھیجی تھی اس میں سے انھوں نے یہ گوشت ہمیں بھیجا ہے۔ میں نے کہا: کیا بات ہے تم نے بچوں کو یہ گوشت اب تک کھلایا نہیں؟میری بیوی نے کہا: میں تو سب کو کھلا چکی ہوں یہ تو ان کا بچا ہوا ہے۔ حضرت مسعود ؓ فرماتے ہیں: تھوڑے سے گوشت سے سب گھر والوں نے کھالیا اور پھر بھی گوشت بچ گیا، حالاںکہ یہ لوگ دو تین بکریاں ذبح کرتے تھے اور پھر بھی کافی نہیں ہوتی تھیں۔1 حضرت خالد بن عبدالعُزّٰیؓفرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کی خدمت میں ذبح کرنے کے قابل ایک بکری پیش کی جسے حضورﷺ نے بھی نوش فرمایا اور آپ کے بعض صحابہؓ نے بھی کھایا، لیکن پھر بھی گوشت بچ گیا جو حضورﷺ نے مجھے عطا فرما دیا، جسے میں نے اور میرے تمام بال بچوں نے کھایا اور پھر بھی بچ گیا حالاںکہ میرے بچے بہت سارے تھے۔ 2