صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کے دودھ اور گھی میں برکت

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضرت اُمِّ مالک بَہزیّہؓ اپنی کپّی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گھی ہدیہ بھیجا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ان کے بیٹوں نے ان سے سالن مانگا اس وقت ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ اپنی اس کپّی کے پاس گئیں جس میں وہ حضورﷺ کو گھی ہدیتاً بھیجا کرتی تھیں، اس میں سے انھیں گھی مل گیا (حالاںکہ اسے خالی کرکے ٹانگا تھا)۔ وہ بہت عرصہ تک اپنے بیٹوں کو یہ گھی بطورِ سالن کے دیتی رہیں۔ آخر ایک مرتبہ انھوں نے اس کپّی کو نچوڑلیا (جس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا)۔ انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں جاکر سارا واقعہ عرض کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے نچوڑاتھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا:اگر تُو اسے اسی طرح رہنے دیتی اور نہ نچوڑتی، تو تجھے اس کپّی سے ہمیشہ گھی ملتا رہتا۔ 1 حضرت اُمِّ مالک اَنصاریہؓگھی کی ایک کپّی لے کر حضورﷺ کی خدمت میں گئیں۔ آپ نے حضرت بلال ؓ کو ان سے گھی لینے کا حکم دیا۔ حضرت بلال ؓ نے نچوڑکر اس کپّی میں سے ساراگھی نکال لیا اور خالی کپّی حضرت اُمِّ مالک کو واپس کردی۔ جب وہ واپس گھر پہنچیں تو دیکھا کہ کپّی تو گھی سے بھری ہوئی ہے۔ انھوں نے جاکر حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے بارے میں آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اے اُمِّ مالک! کیوں، کیابات پیش آئی ہے؟ انھوں نے کہا: آپ نے میرا ہدیہ کیوں واپس کردیا؟ آپ نے حضرت بلال ؓ کو بلاکر ان سے اس بارے میں پوچھا۔ حضرت بلال ؓ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجاہے! میں نے تو کپّی میں سے سارا گھی نکال لیا تھا، بلکہ اسے اتنا نچوڑا تھا کہ مجھے شرم آنے لگی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے اُمِّ مالک! تمھیں مبارک ہو! اللہ نے تمھیں ہدیہ کا بدلہ جلدی دے دیا۔ پھر حضور ﷺ نے انھیں سکھایا کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور دس مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا کریں۔ 2 حضرت اُمِّ اَوس بَہزیہؓ نے گھی پکاکر ایک کپّی میں ڈالا پھر حضورﷺ کو ہدیہ میں پیش کیا۔ حضور ﷺ نے اسے قبول فرمالیا اور کپّی میں جتنا گھی تھا وہ لے لیا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور وہ کپّی انھیں واپس فرمادی۔ انھوں نے گھر جاکر دیکھا تو وہ کپّی گھی سے بھری ہوئی تھی۔ وہ سمجھیں کہ شاید حضورﷺ نے ان کا ہدیہ قبول نہیں فرمایا، وہ چیختیں پکار تیں حضور ﷺ کی خدمت میں آئیں (اور عرض کیا: آپ نے میرا ہدیہ قبول نہیں فرمایا؟) حضور ﷺ نے فرمایا: انھیں واقعہ تفصیل سے بتائو کہ ہم نے تو قبول کرلیا تھا (اب یہ اللہ نے برکت عطافرمائی ہے)۔ چناںچہ وہ حضورﷺ کی زندگی میں وہ گھی کھاتی رہیں پھر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ کے زمانۂ خلافت میں وہ گھی کھاتی رہیں، پھر جب حضرت علی اور حضرت معاویہ ؓ میں اختلافات پیداہوئے تو اس وقت تک وہ کھاتی رہیں۔ 1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میری والدہ کی ایک بکری تھی، وہ اس کا گھی ایک کپّی میں جمع کرتی رہیں۔ جب وہ کپّی بھر گئی تو اپنی لے پالک لڑکی کے ہاتھ وہ کپّی بھیجی اور اس سے کہا: اے بیٹی! یہ کپّی حضورﷺ کی خدمت میں پہنچادو، آپ اسے سالن بنالیا کریں گے۔ وہ لڑکی کپّی لے کر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ گھی کی کپّی حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ نے آپ کی خدمت میں بھیجی ہے۔ حضورﷺ نے گھروالوں سے فرمایا: اس کی کپّی خالی کرکے دے دو، گھروالوں نے خالی کرکے کپّی اسے دے دی وہ لے کر چلی گئی اور گھر آکر اُسے ایک کھونٹی پر لٹکادیا۔ اس وقت حضرت اُمِّ سُلَیم گھر میں نہیں تھیں۔ جب وہ گھر واپس آئیں تو دیکھا کہ کپّی بھری ہوئی ہے اور اس میں سے گھی ٹپک رہاہے۔ انھوں نے کہا: اے لڑکی! کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ یہ کپّی جاکر حضورﷺ کو دے آئو۔ اس نے کہا: میں تو دے آئی ہوں، اگر آپ کو میری بات پر اطمینان نہیں ہے تو آپ خود جاکر حضورﷺ سے پوچھ لیں۔ حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ اس لڑکی کو لے کر حضورﷺ کی خدمت میں گئیں اور عرض کیا: یارسول اللہ! میںنے اس لڑکی کے ہاتھ ایک کپّی آپ کی خدمت میں بھیجی تھی جس میں گھی تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں یہ کپّی لے کر آئی تھی۔ حضرت اُمِّ سُلَیمؓ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق اور سچا دین دے کر بھیجا ہے! وہ کپّی تو بھری ہوئی ہے اور اس میں سے گھی ٹپک رہاہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمِّ سُلَیم! کیا تم اس بات پر تعجب کررہی ہو کہ جس طرح تم نے اللہ کے نبی کو کھلایاہے اس طرح اللہ تعالی تمھیں کھلارہے ہیں، اس سے تم خود بھی کھائو اور دوسروں کو بھی کھلائو۔ حضرت اُمِّ سُلَیمؓ فرماتی ہیں: میں گھر واپس آئی، اور ایک بڑے پیالہ میں اور دوسرے برتنوں میں ڈال ڈال کر میں نے وہ گھی تقسیم کیا، اور کچھ اس میں چھوڑ دیا جسے ہم ایک یا دومہینے تک سالن بنا کر استعمال کرتے رہے۔ 1 حضرت اُمِّ شریکؓ فرماتی ہیں: میرے پاس ایک کپّی تھی جس میں میں حضورﷺ کو گھی ہدیہ کیا کرتی تھی۔ ایک دن میرے بچوں نے مجھ سے گھی مانگا اور گھی تھا نہیں۔ میں دیکھنے کے لیے اُٹھ کر کپّی کی طرف گئی (کہ شاید اس میں سے کچھ بچاہوا گھی مل جائے)۔ میں نے جاکردیکھا تو کپّی تو گھی سے بھری ہوئی تھی اور اس میں سے گھی بہہ رہا تھا۔ میں نے بچوں کے لیے اُنڈیل کر اس میں سے کچھ گھی نکالا جسے بچے کچھ دیر کھاتے رہے، پھر میں دیکھنے گئی کہ کپّی میں کتنا گھی باقی رہ گیا ہے۔ میں نے اسے اُنڈیل کر سارا گھی نکالا جس سے وہ ختم ہوگیا۔ پھر میں حضورﷺ کی خدمت میں گئی۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے اسے بالکل اُلٹا دیا تھا؟ غور سے سنو! اگر تم اسے اُلٹا نہ کرتیں تو ایک عرصہ تک یہ گھی باقی رہتا۔ 2 حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: حضرت اُمِّ شریکؓکی ایک کپّی تھی۔ جو اُن کے پاس آتا اسے وہ کپّی عاریتاً دے دیتیں۔ ایک آدمی نے ان سے اس کپّی کا سودا کرنا چاہاتو انھوں نے کہا: اس میں کچھ نہیں ہے۔ پھر اس میں پھونک بھر کر اسے دھوپ میں لٹکادیا (تاکہ گھی پگھل کر ایک جگہ جمع ہوجائے) تو کیا دیکھتی ہیں کہ وہ گھی سے بھری ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتاتھا کہ حضرت اُمِّ شریکؓکی کپّی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔3 اس حدیث کا کچھ حصہ پہلے گزر چکاہے۔ حضرت حمزہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے صحابہ ؓ کا کھانا مختلف صحابہ باری باری پکاکر لاتے۔ ایک رات یہ لاتے دوسری رات دوسرے صحابی لاتے۔ چناںچہ ایک رات میری باری آئی۔ میں نے حضورﷺ کے صحابہ کا کھانا تیار کیا اور گھی کی مشک کو ایسے ہی چھوڑ دیا اور اس کے منہ کو ڈوری سے باندھا نہیں۔ جب میں کھانا حضورﷺ کی خدمت میں لے جانے لگا تو مشک ہل گئی اور اس میں سے گھی گرنے لگا۔ تو میں نے کہا:کیا حضورﷺ کے کھانے نے میرے ہی ہاتھوں سے گرنا تھا؟ جب میں کھانا لے کر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچا تو حضورﷺ نے فرمایا: قریب آجائو، تم بھی کھائو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ!گنجایش نہیں (کھانا کم ہے)۔ کھانا کھلا کر میں اپنی جگہ واپس آیا تو دیکھا کہ مشک سے غٹ غٹ گھی کے گرنے کی آواز آرہی تھی۔ میں نے کہا:یہ آواز کیسی؟ جو گھی اس میں بچ گیا تھا وہ گررہا ہوگا میں اسے دیکھنے گیا تو مشک سینے تک بھری ہوئی تھی۔ میں وہ مشک لے کر حضورﷺ کی خدمت میں گیا اور سارا واقعہ آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم اس کو ہاتھ نہ لگاتے اور ویسے ہی رہنے دیتے تو یہ منہ تک بھر جاتی، پھر اس کے منہ پر ڈوری باندھی جاتی۔ 1 ایک روایت میں ہے کہ اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو ساری وادی میں گھی بہنے لگتا۔ حضرت حمزہ بن عمرو اَسلمی ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ غزوۂ تبوک میں تشریف لے گئے اور اس سفر میں گھی کی مشک سنبھالنے کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔ میں نے اس مشک کو دیکھا تو اس میں تھوڑا سا گھی تھا۔ میں نے حضورﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اور اس مشک کو دھوپ میں رکھ دیا اور خود سوگیا۔ پھر (اللہ تعالیٰ نے اس مشک کو گھی سے بھر دیا اور) مشک سے گھی بہنے کی آواز سے میری آنکھ کھلی، میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے سر کو پکڑا۔ حضورﷺ مجھے دیکھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم اس کا سرنہ پکڑ تے ایسے ہی رہنے دیتے تو سار ی وادی میں یہ گھی بہنے لگتا۔ 2 حضرت خَبَّاب بن اَرَت ؓ کی صاحب زادی فرماتی ہیں: میرے والد ایک غزوہ میں تشریف لے گئے اور ہمارے لیے صرف ایک بکری چھوڑ کر گئے اور ہم سے کہہ کہ گئے کہ جب اس کا دودھ نکالنے لگو تو اسے صُفَّہ والوں کے پاس لے جانا وہ دودھ نکال دیں گے۔ چناںچہ ہم وہ بکری صُفَّہ لے گئے تو وہاں حضورﷺ تشریف فرما تھے۔ حضورﷺ نے اس بکری کو لیا اور اس کی ٹانگ باندھ کر اس کا دودھ نکالنے لگے اور ہم سے فرمایا: تمہارے ہاںجو سب سے بڑابرتن ہے وہ لے آئو۔ میں گئی اور تو مجھے کوئی برتن ملا نہیں، صرف ایک بڑا پیالہ ملا جس میں ہم آٹا گوندھتے تھے، میں وہ لے آئی۔ حضورﷺ نے اس میں دودھ نکالا تو وہ بھر گیا۔ پھر فرمایا: جائو، خود بھی پیو اور پڑوسیوں کو بھی پلائو ،اور جب اس بکری کا دودھ نکالنا ہو تو اسے میرے پاس لے آیاکرو، میں اس کا دودھ نکال دیا کروںگا۔ ہم وہ بکری حضورﷺ کے پاس لے جاتے رہے اور ہمارے خوب مزے ہوگئے۔ پھر میرے والد آگئے اور انھوں نے اس بکری کی ٹانگ باندھ کر اس کا دودھ نکالا تو وہ اپنے پہلے دودھ پر آگئی۔ میری والدہ نے کہا: آپ نے تو ہماری بکری خراب کردی۔ میرے والد نے کہا: کیوں؟ والدہ نے کہا: یہ تو آپ کے پیچھے اتنا دودھ دیا کرتی تھی جس سے یہ بڑا پیالہ بھر جاتاتھا۔ والد نے کہا: اس کا دودھ کون نکالتاتھا؟ والدہ نے کہا: حضورﷺ۔ والد نے کہا: تم تو مجھے حضورﷺ کے برابر کررہی ہو۔ اللہ کی قسم! ان کے ہاتھ میں تو میرے ہاتھ سے بہت زیادہ برکت ہے۔ 1 جلداوّل صفحہ ۴۱۹ پر سختیاں برداشت کرنے کے باب میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث اور جلد اوّل صفحہ ۱۴۳ پر اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دینے کے باب میں حضرت علی ؓ کی حدیث گزرچکی ہے۔