صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
مقام پر رہتے ہوئے صحابۂ کرام ؓ کے کھانے میں برکت
حضرت سَمُرہ بن جُندُب ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ حضورﷺ نے بھی وہ ثرید کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا اور تقریباً ظہرتک لوگ آکر باری باری کھاتے رہے۔ کچھ لوگ کھا کر چلے جاتے پھر کچھ لوگ اور آتے اور کھاکر چلے جاتے۔ ایک آدمی نے پوچھا: کیا اس میں اور ثرید لاکر ڈالا جاتاتھا؟ حضرت سمرہ نے فرمایا: زمین سے لاکر تو نہیں ڈالا جارہاتھا البتہ آسمان سے ضرور ڈالاجارہاتھا۔ دوسری روایت میں یوں ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: کیا اس میں اور ثرید لاکر ڈالاجارہاتھا؟ حضرت سمرہ نے فرمایا: پھر اس میں تعجب کی کیا بات ہوتی؟پھر آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: صرف وہاں سے لاکر ڈالاجارہاتھا۔ 1
حضرت واثلہ بن اَسقعؓ فرماتے ہیں: میں اَصحابِ صُفَّہ میں سے تھا۔ ایک دن حضور ﷺ نے مجھ سے روٹی کا ایک ٹکڑا منگوایا اور اس کے ٹکڑے کرکے ایک پیالے میں ڈالے اور اس میں گرم پانی ڈالا، پھر چربی ڈالی، پھر ان کو اچھی طرح ملایا، پھر ان کی ڈھیری بناکر بیچ میں سے اونچا کردیا، پھر فرمایا: جائو اور اپنے سمیت دس آدمی میرے پاس بلا لائو۔ میں دس آدمی بلا لایا۔ آپ نے فرمایا: کھائو، لیکن نیچے سے کھانا اوپر سے نہ کھانا، کیوںکہ برکت اوپر یعنی درمیان میں اُترتی ہے۔ چناںچہ ان سب نے اس میں سے پیٹ بھر کر کھایا۔ 2
حضرت واثلہ بن اَ سقع ؓ فرماتے ہیں: میں اَصحابِ صُفَّہ میں سے تھا۔ میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی اور مجھ سے کہا: اے واثلہ! حضورﷺ کی خدمت میں جائو اور ہمارے لیے کچھ کھانامانگ لائو۔ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں جاکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ساتھی بھوک کی شکایت کررہے ہیں۔ حضورﷺ نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: یارسول اللہ! اور تو کچھ نہیں البتہ روٹی کے کچھ ریزے ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہی میرے پاس لے آئو۔ حضرت عائشہ چمڑے کا برتن لے آئیں (جس میں روٹی کے ریزے تھے)۔ حضورﷺ نے ایک پیالہ منگوا کر اس میں وہ ریزے ڈالے اور اپنے ہاتھ سے ثرید بنانی شروع کردی تو وہ روٹی بڑھنے لگی یہاں تک کہ پیالہ بھر گیا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اے واثلہ! جائو اور اپنے ساتھیوں میں سے اپنے سمیت دس آدمی بلالائو۔ میں گیا اور اپنے ساتھیوں میں سے اپنے سمیت دس آدمی بلالایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: بیٹھ جائو اور اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو، لیکن پیالے کے کناروں سے کھانا اوپر سے یعنی درمیان میں سے نہ کھانا، کیوںکہ درمیان میں برکت اُترتی ہے۔ چناںچہ ساتھیوں نے پیٹ بھرکر کھایا اور جب وہ اٹھے تو پیالہ میںثرید اتناہی باقی تھا جتنا پہلے تھا۔
حضور ﷺ پھر اپنے ہاتھ سے ثرید بنانے لگے اور ثرید بڑھنے لگا یہاںتک کہ پیالہ بھرگیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے واثلہ! جائو اور اپنے ساتھیوں میں سے دس آدمی لے آئو۔ میں دس ساتھیوں کو لے آیا۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جائو۔ وہ لوگ بیٹھ گئے اور خوب پیٹ بھر کر کھایا، پھر اٹھ کر چلے گئے۔ آپ نے فرمایا: جائو اور اپنے دس ساتھی اور لے آئو۔ میں جاکر دس ساتھی لے آیا۔ انھوں نے پیٹ بھر کر کھایا اور چلے گئے۔ آپ نے پوچھا: کیا کوئی اور باقی رہ گیاہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، دس ساتھی رہ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جائو اور انھیں بھی لے آئو۔ میں جاکر انھیں لے آیا۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جائو۔ وہ بیٹھ گئے۔ انھوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، پھر اٹھ کر چلے گئے اور پیالہ میں اتنا ثرید بچ گیا جتنا پہلے تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے واثلہ! یہ عائشہ کے پاس لے جائو۔ ایک روایت میں ہے کہ میں صُفَّہ میں تھا۔ ہم صُفَّہ میں تقریبًا بیس آدمی تھے۔پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا، البتہ اس حدیث میں روٹی کے ٹکڑے اور کچھ دودھ کا ذکرہے۔ 1
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: کئی دن تک حضورﷺ کو کھانے کو کچھ نہ ملا۔ جب بھوک نے حضورﷺ کو بہت زیادہ ستایاتو آپ اپنی تمام اَزواجِ مُطہَّرات کے گھروں میں تشریف لے گئے، لیکن آپ کو کسی کے ہاں کھانے کو کچھ نہ ملا۔ پھر آپ حضرت فاطمہؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: اے بِٹیا! کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے کیوںکہ مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اللہ کی قسم! کچھ نہیں ہے۔ جب آپ حضرت فاطمہ کے ہاں سے تشریف لے گئے تو حضرت فاطمہ کی ایک پڑوسن نے ان کے ہاں دو روٹیاں اور گوشت کا ایک ٹکڑا بھیجا۔ حضرت فاطمہ نے کھانا لے کر اپنے ایک پیالے میں رکھ دیا اور اپنے دل میں کہا: اللہ کی قسم! میں یہ کھانا حضور ﷺ کو کھلائوں گی، نہ خود کھائوں گی اور میرے پاس جو بچے ہیں نہ ان کو کھلائوںگی۔ حالاںکہ یہ سب بھوکے تھے اور پیٹ بھر کھانے کی انھیں بھی ضرورت تھی۔ انھوں نے حضرت حسن یا حضرت حسین ؓ میں سے ایک کو حضورﷺ کی خدمت میں بلانے بھیجا۔ حضورﷺ حضرت فاطمہ کے ہاں دوبارہ تشریف لے آئے۔ حضرت فاطمہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اللہ نے کچھ بھیجاہے جو میں نے آپ کے لیے چھپا کررکھاہے۔ آپ نے فرمایا: بِٹیا! لے آئو۔ حضرت فاطمہؓ فرماتی ہیں: میں وہ پیالہ لے آئی۔ اسے کھولا تو میں دیکھ کر حیران رہ گئی، کیوںکہ سارا پیالہ روٹی اور گوشت سے بھراہواتھا۔ میں سمجھ گئی یہ برکت اللہ کی طرف سے ہوئی ہے۔ میں نے اللہ کی تعریف کی اور اس کے نبی ﷺ پر درود بھیجا اور کھانا حضور ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔
جب حضورﷺ نے کھانا دیکھاتو فرمایا: الحمدللہ! اے بِٹیا! یہ کھانا تمھیں کہاں سے ملا؟ میں نے کہا: اے اباجان! یہ کھانا اللہ کے ہاں سے آیا ہے، اور اللہ جسے چاہتاہے اس کو بے حساب اور بے گمان روزی دیتاہے۔ آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: اے بِٹیا! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے بنو اِسرائیل کی عورتوں کی سردار (حضرت مریمؓ) کے مشابہ بنایاہے، کیوںکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں روزی دیتے اور ان سے اس روزی کے بارے میں پوچھا جاتاتو وہ کہتیں: یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے، اور اللہ جسے چاہتاہے اسے بے حساب اور بے گمان روزی دیتا ہے۔ پھر حضورﷺ نے آدمی بھیج کر حضرت علی ؓ کو بلایا۔ پھر حضور ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین ؓ، حضورﷺ کی ازواجِ مطہرات ؓ نے اور آپ کے تمام گھروالوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ حضرت فاطمہ فرماتی ہیں: سب کے کھالینے کے بعد کھانا جوں کا توں باقی تھا اور وہ بچا ہوا کھانا تمام پڑوسیوں کو پورا آگیا۔ اس کھانے میں اللہ نے بڑی خیروبرکت ڈالی۔ 1
جلد اوّل صفحہ ۱۴۳ پر اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دینے کے باب میں حضرت علی ؓ کی حدیث گزرچکی ہے کہ حضورﷺ نے بنو ہاشم کو بلایا، وہ تقریباً چالیس آدمی تھے۔ حضور ﷺ نے ایک مد (۱۴ چھٹانک) کا کھانا پکاکر ان کے سامنے رکھا۔ انھوں نے پیٹ بھر کر کھایا، لیکن جب وہ کھاکر اٹھے تو کھانا اسی طرح بچا ہوا تھا جیسے پہلے تھا۔ حضورﷺ نے ایک پیالہ مشروب انھیں پلایا جسے انھوں نے خوب سیرہوکر پیا۔ جب وہ پی چکے تو وہ مشروب بھی اسی طرح بچاہوا تھا جیسے پہلے تھا۔ آپ تین دن انھیں ایسے ہی کھلاتے پلاتے رہے پھر انھیں اللہ کی طرف دعوت دی۔
اسی طرح جلد اوّل صفحہ ۴۱۹ پر سختیاں برداشت کرنے کے باب میں اہلِ صُفَّہ کے کھانے میں برکت کے قصے گزر چکے ہیں جنھیں حضرت ابوہریرہ ؓ اور دیگر صحابہ ؓ نے روایت کیاہے۔
اور جلد دوم صفحہ ۲۷۰ اور صفحہ ۲۷۸ پر خرچ کرنے کے باب میں مہمانوں کی مہمانی کے بعض قصے گزر چکے ہیں۔ ان میں حضرت ابوطلحہ اور حضرت ابوبکر ؓ کی مہمانی میں برکت اور رحمت ظاہر ہونے کے قصے بھی گزر چکے ہیں، اور حضرت زینبؓکے نکاح کے قصے میں ولیمہ میں برکت کا ظاہر ہونا بھی گزر چکاہے۔