صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
سفرِ غزوات کے دوران کھانے میں برکت
حضرت ابوعمرہ انصاری ؓ فرماتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں حضورﷺ کے ساتھ تھے لوگوں کو سخت بھوک لگی تو لوگوں نے حضورﷺ سے کچھ اونٹ ذبح کرنے کی اجازت لی اور عرض کیا: یہ گوشت کھانے سے اللہ ہمیں اتنی طاقت دے دیں گے جس سے ہم منزل تک پہنچ جائیں گے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے دیکھا کہ حضورﷺ نے کچھ اونٹ ذبح کرنے کی اجازت دینے کا ارادہ کرلیا ہے تو عرض کیا: یاسول اللہ! کل جب ہم بھوکے اور پیدل دشمن کا مقابلہ کریں گے تو ہمارا کیا حال ہوگا، اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس جو توشے بچے ہوئے ہیں وہ منگواکر جمع کرلیں اور پھر اللہ سے اس میں برکت کی دعا کریں، اللہ آپ کی دعا کی برکت سے کھانے میں بھی برکت دے دیں گے اور منزل تک بھی پہنچادیں گے۔ چناںچہ حضورﷺ نے لوگوں سے ان کے بچے ہوئے تو شے منگوائے تو لوگ لانے لگے۔ کوئی مٹھی بھر کھانے کی چیز لایا کوئی اس سے زیادہ۔ سب سے زیادہ ایک آدمی ساڑھے تین سیر کھجور لایا۔ حضورﷺ نے ان تمام چیزوں کو جمع کیا، پھر کھڑے ہوکر کچھ دیر دعاکی، پھر لشکر والوں سے فرمایا: اپنے اپنے برتن لے آئو اور اس میں سے لپّیں بھر کر برتنوں میں ڈال لو۔ چناںچہ لشکر والوں نے اپنے تمام برتن بھر لیے اور کھانے کا جتنا سامان پہلے تھا اتنا پھر بچ گیا۔ اسے دیکھ کر حضورﷺ اتنا ہنسے کہ دندانِ مبارک نظر آنے لگے۔ آپ نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ ان دونوں گواہیوں پر ایمان رکھتا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ جہنم کے اس سے دور رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہوگا۔ 1
حضرت ابوخُنَیس غِفاری ؓ فرماتے ہیں: میں غزوۂ تِہامہ میں حضورﷺ کے ساتھ تھا۔ جب ہم عُسفان پہنچے تو صحابہ حضورﷺ کے پاس آئے۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا، لیکن حضورﷺ کے ہنسنے سے لے کر آخرتک کا مضمون ذکرنہیں کیا بلکہ یہ ذکرکیاہے کہ پھر حضورﷺ نے وہاں سے کُوچ کا حکم دیا۔ جب عُسفان سے آگے چلے گئے تو پھر بارش ہوئی اور حضورﷺ اور صحابہ نیچے اترے اور سب نے بارش کا پانی پیا۔ 2
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں: غزوۂ تبوک کے سفر میں لوگوں کو سخت بھوک لگی تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ ذبح کرکے ان کا گوشت کھالیں اور ان کی چربی کا تیل استعمال کرلیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کرلو۔ اس پر حضرت عمر ؓحضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر آگے حضرت ابوعمرہؓ جیسی حدیث ذکرکی۔ 3
حضرت سَلَمہ ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ خیبر میں حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ ہمارے توشوں میں جتنی کھجوریں تھیں حضورﷺ نے ہمیں انھیں جمع کرنے کا حکم دیا اور چمڑے کا ایک دستر خوان بچھادیا۔ ہم نے اپنے تو شوں کی کھجوریں لاکر اس پر پھیلادیں۔ پھر میں نے انگڑائی لی اور (مجمع کی زیادتی کی وجہ سے) لمبے ہوکر دیکھا اور اندازہ لگایا تو بیٹھی ہوئی بکری جتنا ڈھیر تھا۔ ہم چودہ سو آدمی تھے ہم نے وہ کھجوریں کھائیں، پھر میں نے لمبے ہوکر دیکھا تو اب بھی بیٹھی ہوئی بکری جتنا ڈھیر تھا۔ اس کے بعد پانی میں برکت کا قصہ ذکرکیا۔ 1
ایک روایت میں ہے کہ ہم نے اتنی کھجوریں کھائیں کہ ہم سیر ہوگئے اور اپنے چمڑے کے تمام تھیلے کھجوروں سے بھرلیے۔ 2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے خندق کھودی اور آپ کے صحابہ نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔ جب حضورﷺ نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا: کیا تمھیں ایساآدمی معلوم ہے جو ہمیں ایک وقت کا کھانا کھلادے۔ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں جانتاہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگراس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے تو پھر تم آگے بڑھو اور اس آدمی کے گھر لے چلو۔ چناںچہ یہ حضرات اس آدمی کے گھر تشریف لے گئے تو وہ گھر والاوہاں گھر میں نہیں تھا، بلکہ وہ اپنے حصے کی خندق کھود رہاتھا۔ اس کی بیوی نے پیغام بھیجا کہ جلدی سے آئو، کیوںکہ حضورﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہیں۔ وہ آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں! اس آدمی کی ایک بکری تھی جس کا ایک بچہ بھی تھا۔ وہ آدمی (ذبح کرنے کے لیے) بکری کی طرف جلدی سے بڑھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: بکری کے بعد اس کے بچے کا کیاہوگا؟ اس لیے بکری ذبح نہ کرو۔ چناںچہ اس نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور اس کی بیوی نے تھوڑاسا آٹا لے کر گوندھا اور اس کی روٹی پکائی، اتنے میں ہنڈیا بھی تیار ہوگئی۔ اس کی بیوی نے پیالہ میں ثرید بناکر حضورﷺ اور حضورﷺ کے ساتھیوں کے سامنے پیش کیا۔ حضورﷺ نے اپنی انگلی کو اس ثرید میں رکھ کر فرمایا: بسم اللہ۔ اے اللہ! اس میں برکت عطافرما، (پھر ساتھیوں سے فرمایا:) کھائو۔
چناںچہ صحابہ نے اس میں سے پیٹ بھرکے کھایا، لیکن صرف ایک حصہ کھا سکے اور دوحصے پھر بھی بچ گئے۔ آپ کے ساتھ جو دس صحابی تھے آپ نے ان سے فرمایا: اب آپ لوگ جائو، اور اپنے جتنے اور آدمی بھیج دو۔ چناںچہ وہ دس صحابی چلے گئے اور دوسرے دس آگئے اور انھوں نے بھی خوب سیرہوکرکھایا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور اس گھر والی عورت اور باقی تمام افراد کے لیے برکت کی دعافرمائی، پھر یہ حضرات خندق کی طرف چل پڑے۔ آپ نے فرمایا: ہمیں سلمان کے پاس لے چلو۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت سلمان ؓ کے سامنے ایک سخت چٹان ہے جو اُن سے ٹوٹ نہیں رہی۔ حضورﷺ نے فرمایا: چھوڑو، میں اسے سب سے پہلے توڑتا ہوں۔ اور بسم اللہ پڑھ کر آپ نے اس چٹان پر زور سے کدال ماری جس سے اس کا ایک تہائی ٹکڑا ٹوٹ کر گرگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللّٰہ أکبر! ربِّ کعبہ کی قسم! شام کے محلات فتح ہوں گے۔ آپ نے پھر زور سے کدال ماری تو ایک اور ٹکڑا ٹوٹ کرگرگیا۔ آپ نے فرمایا: اللّٰہ أکبر! ربِّ کعبہ کی قسم! فارس کے محلات فتح ہوںگے۔ اس پر منافقوں نے کہا:ہمیں تو اپنی حفاظت کے لیے خندق کھودنی پڑرہی ہے، اور یہ ہم سے فارس اور روم کے محلات کے وعدے کررہے ہیں۔ 1
اور خرچ کرنے کے باب میں یہ حدیث گزرچکی ہے کہ حضرت جابر ؓ نے ساڑھے تین سیر جوکے آٹے کی روٹی پکائی اور بکری کے بچے کو ذبح کرکے اس کا سالن بنایا اور حضور ﷺ کو کھانے کی دعوت دی۔ حضورﷺ نے تمام خندق والوں کو کھانے پر بلا لیا جوکہ ہزار کے قریب تھے۔ سب نے پیٹ بھرکے کھالیا اور کھانا پھر بھی سارے کا سارا ویسے ہی بچ گیا۔