صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

حضور ﷺ اور صحابۂ کرام ؓ کے لیے جنّات اور شیاطین کا مسخر ہونا

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: ایک دفعہ میں سویا ہواتھا ایک شیطان میرے سامنے آیا۔ میں نے اس کا گلا پکڑ کر اس زور سے گھونٹا کہ اس کی زبان باہر نکل آئی اور اپنے انگوٹھے پر مجھے اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان ؑ پر رحم فرمائے! اگر ان کی دعا نہ ہوتی تو وہ شیطان بندھاہوا ہوتا اور تم سب اسے دیکھتے۔ 3 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: آج رات ایک سرکش جنّ چھوٹ کر میرے پاس نماز خراب کرنے آگیا۔ اللہ نے مجھے اسے پکڑنے کی قدرت دے دی، میں نے اسے پکڑلیا۔ میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کو آپ سب لوگ اسے دیکھ لیں، لیکن مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان ؑکی یہ دعا یاد آگئی: {رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْم لِاَحَدٍ مِّنمْ بَعْدِیْ}1 اے میرے ربّ! میرا (پچھلا) قصور معاف کر اور (آیندہ کے لیے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانے میں) کسی کو میسر نہ ہو۔ آپ نے فرمایا: میں نے اسے ذلیل اور رسوا کر کے واپس کردیا۔ 1 حضرت ابو الدرداء ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان ؑ کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کو بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ والوںکے بچے اس سے کھیل رہے ہوتے۔ حضرت بُریدہ ؓ فرماتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے حضور ﷺ کے زمانے میں شیطان کو پکڑا تھا۔ میں حضرت معاذ کے پاس گیا اور میں نے کہا:مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے حضورﷺ کے زمانے میں شیطان کو پکڑاتھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ حضور ﷺ نے صدقہ کی کھجوریں جمع کرکے مجھے دیں، میں نے وہ کھجوریں اپنے ایک کمرے میں رکھ دیں۔ مجھے روازنہ ان کھجوروں میں کمی نظر آتی تھی۔ میں نے حضورﷺ سے اس کی شکایت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کا کام ہے تم اس کی گھات لگائو۔ چناںچہ میں رات کو اس کی گھات میں بیٹھا۔ جب کچھ رات گزرگئی تو شیطان ہاتھی کی صورت میں آیا۔ جب دروازے کے پاس پہنچا تو شکل بدل کر دروازے کی درزوں سے اندر داخل ہوگیا اور کھجوروں کے پاس جاکر انھیں لقمہ بناکر کھانے لگ گیا۔ میں نے اپنے کپڑے اچھی طرح سے باندھے اور جا کر اسے درمیان سے پکڑلیا اور میں نے کہا: أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ اے اللہ کے دشمن! تو آکر صدقہ کی کھجوروں میں سے لے رہاہے، حالاںکہ فُقَرا صحابہ تجھ سے زیادہ ان کھجوروں کے حق دار ہیں۔ میں تجھے حضورﷺ کے پاس لے جائوں گا وہ تجھے رسوا کریں گے۔ اس نے مجھ سے عہد کیا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ میں صبح حضور ﷺ کی خدمت میں گیا، حضورﷺ نے فرمایا: تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اس نے مجھ سے عہد کیا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ ضرور آئے گا، اس لیے اس کی گھات لگانا۔ چناںچہ میں نے دوسری رات بھی اس کی گھات لگائی تو اس نے پہلی رات کی طرح پھر کیا۔ میں نے بھی اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا۔ اس نے پھر مجھ سے عہد کیا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا، اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور میں صبح صبح بتانے کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں گیا تو حضورﷺ کا اعلانچی یہ اعلان کررہا تھا: معاذ کہاں ہیں؟ (میں حضور ﷺ کی خدمت میں گیا)حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے معاذ! تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے سارا قصہ بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ ضرور آئے گا، تم اس کی گھات میں رہنا۔ میں تیسری رات پھر اس کی گھات میں بیٹھا تو اس نے اسی طرح کیا۔ میں نے بھی اس کے ساتھ اسی طرح کیا اور پکڑ کر اس سے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو دو دفعہ مجھ سے عہد کر چکا ہے اب تیسری مرتبہ ہے، میں تجھے حضورﷺ کی خدمت میں ضرور لے جائوں گا، وہ تجھے رسواکریں گے۔ اس نے کہا: میں عیال دار شیطان ہوں اور نصِیبِین سے آپ کے پاس آتاہوں (جو کہ ملکِ شام کی ایک جگہ ہے)۔ اگر مجھے ان کھجوروں کے علاوہ کچھ اور مل جاتاتو میں آپ کے پاس نہ آتا۔ ہم آپ کے اسی شہر میں رہاکرتے تھے، لیکن جب آپ کے حضرت مبعوث ہوئے اور اُن پر دو آیتیں نازل ہوئیں تو ان آیتوں نے ہمیں یہاں سے بھگادیا اور ہم جاکر نصِیبِین رہنے لگے۔ اور جس گھر میں یہ دونوں آیتیں پڑھی جاتی ہیں اس گھر میں شیطان تین دن تک داخل نہیں ہوتا۔ اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں آپ کو وہ دونوں آیتیں سکھا دوں گا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: آیت الکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ} سے لے کر آخر تک۔ پھر میں نے اسے چھوڑ دیا اور صبح حضورﷺ کو بتانے کے لیے گیا، تو حضور ﷺ کا اعلانچی اعلان کررہا تھا کہ معاذ بن جبل کہاں ہے؟ جب میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے فرمایا: تمہارے قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: اس نے مجھ سے عہد کیا کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گا اور اس نے جو کچھ کہا تھا وہ بھی میں نے حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: خبیث ہے تو جھوٹا، لیکن اس دفعہ اس نے تم سے سچی بات کہی ہے۔ حضرت معاذ ؓ کہتے ہیں: میں بعد میں یہ آیتیں پڑھنے لگ گیا تو پھر کھجوروں کا کم ہونا ختم ہوگیا۔ 1 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے رمضان کے صدقۂ فطر کی حفاظت میرے ذمہ لگائی۔ ایک دن ایک آدمی آکر اس میں سے لپّیں بھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑلیا اور کہا: میں تمھیں حضورﷺ کے پاس ضرور لے جائوں گا۔ اس نے کہا: میں محتاج ہوں اور مجھ پر بچوں کی ذمہ داری ہے اور مجھے بہت ہی زیادہ ضرورت ہے۔ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح کو حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! آج رات تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے سخت ضرورت مند ہونے اور اہل وعیال کی شکایت کی مجھے اس پر ترس آگیا، میں نے اسے چھوڑ دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: غور سے سن لو! اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آ ئے گا۔ چوںکہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ پھر آئے گا اس لیے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا۔ میں اس کی گھات میں بیٹھ گیا، وہ آکر لپّیں بھر کر پھر لینے لگ گیا۔ میں نے اسے پکڑ کر کہا: میں تمھیں حضورﷺ کے پاس ضرور لے جائوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، کیوںکہ میں محتاج ہوں، بہت سے بچوں کی مجھ پر ذمہ داری ہے، اب میں دوبارہ نہیں آئوںگا۔ مجھے اس پر پھر ترس آگیا، اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح کو حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے سخت ضرورت مند ہونے کی اور بچوں کی شکایت کی، مجھے اس پر ترس آگیامیں نے اسے چھوڑ دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: غور سے سن لو! اس نے تم سے جھوٹ کہا ہے، وہ پھر آئے گا۔ چوںکہ حضورﷺ نے فرمایاتھا کہ وہ پھر آئے گا، اس لیے میں سمجھ گیا کہ وہ پھر ضرور آئے گا۔ میں اس کی گھات میں بیٹھ گیا، وہ آکر پھرلپّیں بھر کر لینے لگا۔میں نے اسے پکڑ کر کہا:میں تمھیں حضورﷺ کے پاس ضرور لے جائوں گا، دودفعہ تم کہہ چکے ہو کہ دوبارہ نہیں آئوں گا، لیکن تم پھر آجاتے ہو۔ اب یہ تیسری مرتبہ ہے اور آخری مرتبہ ہے۔ اس نے کہا: مجھے اب چھوڑ دو، میں تمھیں ایسے کلمات سکھائوں گا جن سے اللہ تمھیں نفع پہنچائے گا۔ جب تم بستر پر لیٹا کرو تو آیت الکرسی {اَللّٰہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} آخر تک پڑھا کرو ،تو صبح تک اللہ کی طرف سے تمہارے لیے حفاظت کرنے والا فرشتہ مقرر رہے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آسکے گا۔ میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ صبح حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: اس نے کہا تھا کہ وہ مجھے چند ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: غور سے سنو! ہے تو وہ جھوٹا لیکن تم سے اس نے بات سچی کہی ہے اور تم جانتے ہو کہ تم تین راتوں سے کس سے باتیںکررہے ہو؟ میں نے کہا:نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایک شیطان ہے۔ 1 حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں: میرا ایک طاق تھا جس میں کھجوریں رکھی رہتی تھیں۔ ایک بھوتنی آکر ان میں سے کھجوریں لے جایاکرتی تھی۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: جائو، جب تم اسے دیکھو تو کہنا: بسم اللہ، حضورﷺ تمھیں بلارہے ہیں ان کے پاس چلو۔ میں نے اسے پکڑ لیا تو اس نے قسم کھائی کہ وہ دوبارہ نہیں آئے گی۔ پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ 2 اور اسی تیسری جلد میں صفحہ ۴۰۳ پر حضرت اُبی بن کعب ؓ کی اسی جیسی حدیث گزر چکی ہے۔ حضرت ابووائل ؓ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: حضورﷺ کے ایک صحابی کو ایک شیطان ملا تو انھوں نے اس شیطان سے کشتی کی اور اسے گراکر اس کے انگوٹھے کو دانتوں سے کاٹا۔ اس شیطان نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمھیں ایسی آیت سکھائوں گا کہ ہم میں سے جو بھی اس آیت کو سنتاہے وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتاہے۔ اس مسلمان نے اسے چھوڑ دیا تو شیطان نے وہ آیت سکھا نے سے انکار کردیا۔ اس مسلمان نے اس سے پھر کشتی کی اور اسے گرا کر اس کے انگوٹھے کو کاٹا اور اسے کہا: مجھے وہ آیت بتا۔ (اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں بتائوں گا مسلمان نے اسے چھوڑ دیا، لیکن) اس نے بتا نے سے انکار کردیا۔ جب مسلمان نے تیسری مرتبہ اسے کشتی میں گرادیا تو اس شیطان نے کہا: یہ سورۂ بقرہ کی آیت {اَللّٰہ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} آخر تک ہے۔حضرت عبداللہ سے کسی نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! وہ مسلمان کون تھا؟ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: حضرت عمرؓ کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے۔ 1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی کو ایک جنّ ملا۔ انھوں نے اس جنّ سے کشتی لڑی اور اسے گرادیا۔ جنّ نے ان سے کہا: دوبارہ کشتی لڑو۔ دوبارہ کشتی ہوئی تو پھر انھوں نے اس کو گرادیا۔ اس صحابی نے اس جنّ سے کہا: تم مجھے دبلے پتلے نظر آرہے ہو اور تمہارا رنگ بھی بدلا ہوا ہے اور تمہارے بازو کتے کے بازوئوں کی طرح چھوٹے چھوٹے ہیں، تو کیا تم سب جنّ ایسے ہی ہوتے ہو یا ان میں سے تم ہی ایسے ہو؟ اس جنّ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تو ان میں بڑے جسم والا اور طاقت ور ہوں۔ آپ مجھ سے تیسری مرتبہ کشتی کرو، اگر اس دفعہ آپ نے مجھے گرادیا تو میں آپ کو ایسی چیز سکھائوں گا جس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ چناںچہ تیسری مرتبہ کشتی ہوئی تو اس مسلمان نے اس کو پھر گرادیا اور اس سے کہا: لائو مجھے سکھائو۔ اس جن نے کہا: کیا آپ آیت الکرسی پڑھتے ہیں؟ اس مسلمان نے کہا: جی ہاں۔ اس جنّ نے کہا: آپ اس آیت کو جس گھر میں پڑھیں گے اس گھر سے شیطان نکل جائے گا اور نکلتے ہوئے گدھے کی طرح اس کی ہواخرج ہو رہی ہوگی اور صبح تک پھر اس گھر میں نہیں آئے گا۔ حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ نبی کریم ﷺ کے کون سے صحابی تھے؟ اس سوال پر چیں بہ جبیں ہوکر حضرت عبداللہ ؓ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یہ حضرت عمرؓ کے سوا کون ہوسکتاہے؟ 2 حضرت مجاہد نے فرمایا: ہمیں یہ بتایا جاتاتھا کہ حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں شیاطین زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔ جب وہ شہید ہوگئے تو پھر یہ آزاد ہوکر پھیل گئے۔1 حضرت عامر بن عبداللہ بن الزبیر کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیرؓ قریش کے سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ عمرہ سے واپس آرہے تھے۔ جب یَنَاصِب پہاڑ کے پاس پہنچے تو انھیں ایک درخت کے پاس ایک آدمی نظر آیا۔ حضرت ابنِ زبیر اپنے ساتھیوں سے آگے بڑھ کر اس آدمی کے پاس پہنچے اور اسے سلام کیا۔ اس آدمی نے ان کی پروا نہ کی اور ہلکی آواز سے سلام کا جواب دیا۔ حضرت ابنِ زبیر سواری سے نیچے اُترے، اس پر اس آدمی نے کوئی اثر نہ لیا اور اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا۔ حضرت ابنِ زبیر نے کہا: سائے سے پرے ہٹ جائو، تو وہ ناگواری کے ساتھ ایک طرف ہٹ گیا۔ حضرت ابنِ زبیر فرماتے ہیں: میں وہاں بیٹھ گیا اور میں نے اس کا پاتھ پکڑ کر کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جنّ ہوں۔ اس کے یہ کہتے ہی (غصہ کی وجہ سے) میرے جسم کا ہر بال کھڑا ہوگیا۔ میں نے اسے زور سے کھینچ کر کہا: تم جنّ ہو کر اس طرح میرے سامنے آتے ہو۔ اب جو میں نے غور سے دیکھا تو اس کے پائوں جانوروں جیسے تھے۔میں نے جوذرا زور دکھایا تو وہ نرم پڑ گیا۔ میں نے اسے ڈانٹا اور کہا: تم ذمی ہو کر میرے سامنے آئے ہو؟ وہ وہاں سے بھاگ گیا، اتنے میں میرے ساتھی بھی آگئے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے پاس جو آدمی تھا وہ کہاں گیا؟ میں نے کہا: یہ جنّ تھا جو بھاگ گیا۔ یہ سنتے ہی ان میں سے ہر ایک اپنی سواری سے نیچے گر گیا، پھر میں نے سب کو اٹھا کر ان کی سواری سے باندھ دیا اور میں ان کو لے کر حج پر گیا، لیکن اس وقت تک ان کی عقلیں ٹھیک نہیں ہوئی تھیں۔ 2 حضرت احمد بن ابی الحواری کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوسلیمان دارانی کو یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت ابنِ زبیرؓ چاندنی رات میں اپنی سواری پر نکلے اور جاکر تبوک میں پڑائو ڈالا۔ ان کی اچانک نظر پڑی تو انھیں اپنی سواری پر ایک بوڑھا بیٹھا ہوا نظر آیا جس کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید تھے۔ حضرت ابنِ زبیر نے اس پر حملہ کیا جس سے وہ سواری سے ایک طرف ہوگیا اور حضرت ابنِ زبیر اپنی سواری پر سوار ہو کر آگے چل دیے۔ اس بوڑھے نے بلند آواز سے کہا: اے ابنِ زبیر! اللہ کی قسم! اگر آپ کے دل میں میرا ڈر بال کے برابر بھی بیٹھ جاتاتو میں آپ کی عقل خراب کردیتا۔ حضرت ابنِ زبیر نے فرمایا: او ملعون! کیا تیری وجہ سے میرے دل میں ذرہ برابر ڈر پیدا ہوسکتا ہے؟ 1