صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
جِنّات اور غیبی آوازوں کا صحابۂ کرام ؓ کی مدد کرنا
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت خُریم بن فاتک ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا: اے امیرالمؤمنین! کیا آپ کو نہ بتائوں کہ میرے اسلام لانے کی اِبتدا کیسے ہوئی؟ حضرت عمر نے فرمایا: ضرور بتائو۔ انھوں نے کہا:میں ایک مرتبہ اپنے جانور تلاش کررہا تھا اور ان کے نشانات پر چل رہاتھا کہ اسی میں اَبرَقُ الْعَزَّاف مقام پر مجھے رات آگئی، تو میں نے اونچی آواز سے پکار کر کہا: میں اس وادی کے (جنّ) بادشاہ کی پناہ چاہتاہوں اس کی قوم کے بے وقوفوں سے۔ تو غیب سے کسی نے بلند آواز سے کہا:
وَیْحَکَ عُذْ بِاللّٰہِ ذِي الْجَلَالِ
وَالْمَجْدِ وَالنَّعْمَائِ وَالإِفْضَالِ
تیرابھلا ہو! اللہ کی پناہ مانگ جو جلال، بزرگی، نعمت اور فضل والا ہے۔
وَاقْرَأْ آیَاتٍ مِّنَ الْأَنْفَالِ
وَوَحِّدِ اللّٰہَ وَلَا تُبَالِ
سورت اَنفال کی آیتیں پڑھ، اور اللہ کو ایک مان اور کسی کی پروا نہ کر۔
یہ سن کر میں بہت زیادہ ڈرگیا۔ جب میری جان میں جان آئی تو میں نے کہا:
یَا أَیُّھَا الْھَاتِفُ مَا تَقُوْلُ
أَرُشْدٌ عِنْدَکَ اَمْ تَضْلِیْلُ
بَیِّنْ لَنَا ھُدِیْتَ مَا الْحَوِیْلُ
اے غیبی آواز دینے والے! تو کیا کہہ رہاہے؟ کیا تو صحیح راستہ دکھانا چاہتا ہے یا گمراہ کرنا چاہتا ہے؟ اللہ تجھے ہدایت دے!ہمیں صاف صاف بتا کہ کیا صورت ہے؟
اس نے جواب میں کہا:
إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ذُو الْخَیْرَاتِ
بِیَثْرِبَ یَدْعُوْ إِلَی النَّجَاۃِ
یَأْ مُرُ بِالصَّوْمِ وَالصَّلاَۃِ
وَیَزْجُرُ النَّاسَ عَنِ الْھَنَاتِ
تمام خیروں کو لے کر آنے والے اللہ کے رسول ﷺ یَثْرِب میں نجات کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں اور شر والے کاموں سے لوگوں کو روکتے ہیں۔
میں نے اپنی سواری آگے بڑھا کر کہا:
أَرْشِدْنِيْ رُشْدًا ھُدِیْتَ
لَا جُعْتَ وَلاَ عُرِیْتَ
وَلَا بَرِحْتَ سَیِّدًا مُقِیْتَ
وَلَا تُوْقِرْنِيْ عَلَی الْخَیْرِ الَّذِيْ أُتِیْتَ
مجھے سیدھا راستہ بتا! اللہ تجھے ہدایت دے! تو کبھی بھوکا ننگا نہ ہو اور تو ہمیشہ طاقت ور سردار بنا رہے، اور جو خیر تجھے ملی ہے اس کا مجھ پر زیادہ بوجھ نہ ڈال۔
وہ یہ اشعار پڑھتاہوا میرے پیچھے آیا:
صَاحَبَکَ اللّٰہُ وَسَلَّمَ نَفْسَکَا
وَبَلَّغَ الْأَھْلَ وَأَدّٰی رَحْلَکَا
اٰمِنْ بِہٖ أَفْلَحَ رَبِّيْ حَقَّکَا
وَانْصُرْہُ أَعَزَّ رَبِّيْ نَصْرَکَا
اللہ ہمیشہ تیرا ساتھی ہو اور تیری جان کو صحیح سالم رکھے اور تجھے گھر والوں تک پہنچائے اور تیری سواری کو بھی پہنچائے۔ تو اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لا! میرا ربّ تیرے حق کو بامراد کرے۔ اور اس رسول ﷺ کی مدد کر! میرا ربّ تیری اچھی طرح نصرت کرے۔
میں نے کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے!تو کون ہے؟ اس نے کہا:میں اُثال کا بیٹا عمرو ہوں اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے نَجَد کے مسلمان جِنَّات کا امیر ہوں۔ تمہارے گھر پہنچنے تک تمہارے اونٹوں کی حفاظت ہوگی تمھیں اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چناںچہ میں جمعہ کے دن مدینہ داخل ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ میرے پاس باہر آئے اور کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے! اندر آجائو ہمیں تمہارے مسلمان ہونے کی خبر پہنچ چکی ہے۔ میں نے کہا:مجھے اچھی طرح وضو کرنا نہیں آتا۔چناںچہ انھوں نے مجھے وضو کرنا سکھایا پھر میں مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے حضور ﷺ کو منبر پر بیان کرتے ہوئے دیکھا آپ بالکل چودھویں رات کے چاند کی طرح لگ رہے تھے۔ آپ فرمارہے تھے: جو مسلمان اچھی طرح وضوکرتاہے اور پھر سوچ سمجھ کر دھیان سے ایسی نماز پڑھتاہے جس کی ہر طرح حفاظت کرتا ہے، وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ پھر حضرت عمر بن خطّابؓ نے مجھ سے کہا: تم اپنی اس حدیث پر گواہ لائو،نہیں تو میں تمھیں سزادوں گا۔ چناںچہ قریش کے بزرگ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے میرے حق میں گواہی دی جسے حضرت عمر نے قبول کرلیا۔ 1
ابو نُعیم نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے اسی جیسی حدیث نقل کی ہے جس میں اشعار اس طرح ہیں:
أَرْشِدْ لِيْ رُشْدًا بِھَا ھُدِیْتَ!
لَا جُعْتَ یَا ہٰذَا وَلاَ عُرِیْتَا
وَلَا صَحِبْتَ صَاحِبًا مَقِیْتَ!
لَا یَثْوِیَنَّ الْخَیْرُ إِنْ ثَوَیْتَا
مجھے صحیح راستہ بتا، اللہ تجھے ہدایت عطافرمائے! اے فلانے! تُو نہ کبھی بھوکا ہو اور نہ کبھی ننگا اور نہ کبھی ایسے ساتھی کے ساتھ رہے جس سے لوگ نفرت کرتے ہوں۔ اور اگر تو مرجائے تو تیری خیر ختم نہ ہو بلکہ ہمیشہ باقی رہے۔ 1
حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے فرمایا: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائو جس سے حیرت بھی ہو اور خوشی بھی ہو۔ تو حضرت ابنِ عباس ؓ نے مجھے حضرت خُریم بن فاتک ؓ کا یہ واقعہ سنایا۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔ 2
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں:میں نے جب بھی سنا کہ حضرت عمر ؓ نے کسی چیز کے بارے میں کہا ہو کہ میرا گمان یہ ہے کہ یہ اس طرح ہے تو وہ اسی طرح ہوتی جس طرح ان کا گمان ہوتا۔ چناںچہ ایک مرتبہ وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک خوب صورت آدمی گزرا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: یا تو میرا اندازہ غلط ہے، یا یہ آدمی ابھی تک اپنے جاہلیت والے دین پر ہے، یا پھر یہ جاہلیت میں کاہن تھا، اسے میرے پاس لائو۔ لوگ اس آدمی کو بلا کر لائے تو حضرت عمر نے اس سے اپنی بات کہی۔ اس نے کہا:میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا کہ کسی مسلمان آدمی کے منہ پر ایسی بات صاف کہہ دی گئی ہو۔ حضرت عمر نے کہا: میں تمھیں پُرزور تاکید کرتا ہوں کہ تم مجھے ساری بات بتائو۔ اس آدمی نے کہا: میں جاہلیت میں کاہن تھا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا جو جنّ تمہارے پاس آتا تھا اس کا سب سے عجیب وغریب قصہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن میں بازار میں تھا وہ جنّ میرے پاس گھبرایا ہوا آیا اور اس نے یہ شعر پڑھے:
أَلَمْ تَرَ الْجِنَّ وَإِبْلاَسَھَا
وَیَأْسَھَا مِنْ بَعْدِ إِنْکَاسِھَا
وَلُحُوْقَھَا بِالْقِلاَصِ وَأَحْلاَسِھَا
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمام جنات حیران وپریشان ہیں اور (پہلے تو آسمان پر چڑھ جاتے تھے اور) اب آسمان سے نا اُمید ہوکر واپس آرہے ہیں، بلکہ اسلام میں داخل ہوکر جوان اونٹنیوں اور ان پر کجاوے کے نیچے بچھائی جانے والی چادروں والے عربوں کے ساتھ مل رہے ہیں۔
حضرت عمر ؓ نے کہا: اس نے سچ کہا۔میں بھی ایک دن کفار کے معبودوں کے پاس سویاہوا تھا کہ ایک آدمی ایک بچھڑا لایا اور اس نے اسے ذبح کیا، پھر کسی چیخنے والے نے زور سے چیخ کر کہا ، میں نے اس سے زیادہ سخت چیخ کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے کہا: اے جَلِیْح! (یہ کسی آدمی کا نام ہے) یہ کامیابی والا کام ہے، ایک فصیح آدمی لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ رہا ہے۔ سب لوگ گھبرا کر اٹھ گئے۔ میں نے کہا: میں تو یہاں ہی رہوں گا، جب پتا چل جائے گا کہ اس آواز کے پسِ پردہ کیا ہے تب یہاں سے جائوں گا۔ اس نے پھر پکارکر کہا: اے جلیح! یہ کامیابی والا کام ہے، ایک فصیح آدمی لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ رہاہے۔ پھر میں وہاں سے اٹھا، کچھ عرصہ بعد ہی ہمیں بتایا گیا کہ یہ نبی ہیں۔ یہ روایت صرف بخاری میں ہے اور یہ کاہن آدمی حضرت سواد بن قارب ؓ ہیں۔ 1
حضرت محمد بن کعب قُرظی کہتے ہیں: ایک دن حضرت عمر بن خطّاب ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا۔ کسی نے پوچھا:اے امیرالمؤمنین! کیا آپ اس گزرنے والے کو جانتے ہیں؟ حضرت عمر نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حضرت سواد بن قارب ؓ ہیں جنھیں ان کے پاس آنے والے جنّ نے حضورﷺ کے ظاہر ہونے کی خبردی تھی۔ چناںچہ حضرت عمر نے پیغام دے کر انھیں بلایا اور فرمایا: کیا آپ ہی سواد بن قارب ہیں؟ انھوں نے کہا:جی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم زمانۂ جاہلیت میں کہانت کا کام کرتے تھے؟ اس پر حضرت سواد کو غصہ آگیا اور کہا: اے امیرالمؤمنین! جب سے میں مسلمان ہوا ہوں کبھی کسی نے میرے منہ پر ایسی بات نہیں کہی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: سبحان اللہ! ہم تو جاہلیت میں شرک پر تھے اور یہ شرک تو تمہاری کہانت سے زیادہ برا تھا۔ تمہارے تابع جنّ نے حضورﷺ کے ظاہر ہونے کی جوخبر دی تھی وہ مجھے بتائو۔انھوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! جی ہاں، ایک رات میں لیٹاہواتھا اور بیداری اور نیند کے درمیان کی حالت میں تھا، میرا جنّ میرے پاس آیا اور مجھے پائوں مار کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھ اور میری بات سن، اور اگر تیرے اندر عقل ہے تو تو سمجھ لے کہ (قریش کی شاخ) لؤی بن غالب میں ایک رسول مبعوث ہواہے جو اللہ کی اور اس کی عبادت کی دعوت دیتاہے۔ پھر یہ شعر پڑھنے لگا:
عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتِطْلاَبِھَا
وَشَدِّھَا الْعِیْسَ بِأَقْتَابِھَا
تَھْوِيْ إِلٰی مَکَّۃَ تَبْغِي الْھُدٰی
مَا صَادِقُ الْجِنِّ کَکُذَّابِھَا
فَارْحَلْ إِلَی الصَّفْوَۃِ مِنْ ھَاشِمٍ
لَیْسَ قُدَامَاھَا کَأَذْنَابِہَا
مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ جنات حق کو تلاش کررہے ہیں اور سفید اونٹوں پر کجاوے باندھ کر ہر طرف کا سفر کررہے ہیں۔ یہ سب ہدایت حاصل کرناچاہتے ہیں اس لیے مکہ جارہے ہیں۔ سچا جن اور جھوٹا جنّ دونوں ایک جیسے نہیں ہوسکتے،لہٰذا تم سفر کرکے اس ہستی کے پاس جائو جو بنی ہاشم میں چیدہ اور عمدہ ہیں، اور ہدایت میں پہلے کرنے والا دیر کرنے والے کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اس سے اَفضل ہوگا۔
میں نے اس جنّ سے کہا: مجھے سونے دو، مجھے شام سے بہت نیند آرہی ہے۔ اگلی رات وہ میرے پاس پھر آیا اور اس نے پھر پائوں مارکر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھ اور میری بات سن اور اگر تیرے اندر عقل ہے تو سمجھ لے کہ لؤی بن غالب میں ایک رسول مبعوث ہوا ہے جو اللہ اور اس کی عبادت کی دعوت دے رہاہے۔ پھر وہ یہ شعر پڑھنے لگا:
عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتِحْیَارِھَا
وَشَدِّھَا الْعِیْسَ بِأَکْوَارِھَا
تَھْوِيْ إِلٰی مَکَّۃَ تَبْغِي الْھُدٰی
مَا مُؤْمِنُوا الْجِنِّ کَکُفَّارِھَا
فَارْحَلْ إِلَی الصَّفْوَۃِ مِنْ ھَاشِمٍ
بَیْنَ رَوَابِیْھَا وَأَحْجَارِھَا
مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ جنات حیران پریشان ہیں اور سفیداونٹوں پر کجاوے باندھ کر ہر طرف کا سفر کررہے ہیں۔ یہ سب ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے مکہ جارہے ہیں۔ مؤمن جنّ کافر جنّ جیسے نہیںہوسکتے،لہٰذا تم سفر کرکے اس ہستی کے پاس جائو جو بنی ہاشم میں چیدہ اور برگزیدہ ہیں، اور مکہ کے ٹیلوں اور پتھروں کے درمیان رہتے ہیں۔
میں نے اس سے کہا:مجھے سونے دو، مجھے شام سے بہت نیند آرہی ہے۔ تیسری رات وہ پھر میرے پاس آیا اور پھر پائوں مار کر کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھ اور میری بات سن، اور اگر تیرے اندر عقل ہے تو سمجھ لے کہ لؤی بن غالب میں ایک رسول مبعوث ہواہے جو اللہ کی اور اس کی عبادت کی دعوت دے رہاہے۔ پھر وہ یہ اشعار پڑھنے لگا:
عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتِجْسَاسِھَا
وَشَدِّھَا الْعِیْسَ بِأَحْلاَسِھَا
تَھْوِيْ إِلٰی مَکَّۃَ تَبْغِي الْھُدٰی
مَا خَیِّرُ الْجِنِّ کَأَنْجَاسِھَا
فَارْحَلْ إِلَی الصَّفْوَۃِ مِنْ ھَاشِمٍ
وَاسْمُ بِعَیْنَیْکَ إِلٰی رَأْسِھَا
مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ جنّات حق کو تلاش کررہے ہیں اور سفیداونٹوں پر کجاوے کے نیچے ٹاٹ رکھ کر ہر طرف کا سفر کررہے ہیں۔ یہ سب ہدایت حاصل کرناچاہتے ہیں اس لیے مکّہ جارہے ہیں۔ اور خیر والا جنّ ناپاک جنّ کی طرح نہیں ہوسکتا، لہٰذا تم سفر کرکے اس ہستی کے پاس جائو جو بنی ہاشم میں برگزیدہ ہیں اور آنکھیں بلند کرکے مکہ کی چوٹی کی طرف دیکھو۔
چناںچہ میں اٹھا اور میں نے کہا : اللہ نے میرے دل کو اچھی طرح جانچ لیا ہے، یعنی جنّ کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے اور میں اونٹنی پر سوار ہو کر چل دیا۔ پھر میں مدینہ آیا تو وہاں حضور ﷺ اپنے صحابہ میں تشریف فرماتھے۔ میں نے قریب جا کر عرض کیا: میری درخواست بھی سن لیں۔ آپ نے فرمایا کہو۔ میں نے یہ اشعار پڑھے:
أَتَانِيْ نَجِیِّيْ بَعْدَ ھَدْئٍ وَرَقْدَۃٍ
وَلَمْ یَکُ فِیْمَا قَدْ بَلَوْتُ بِکَاذِبٖ
ثَلاَثَ لَیَالٍ قَوْلُہٗ کُلَّ لَیْلَۃٍ
أَتَاکَ رَسُوْلٌ مِّنْ لُؤَ يِّ بْنِ غَالِبٖ
فَشَمَّرْتُ عَنْ ذَیْلِ الْإِزَارِ وَوَسَّطَتْ
بِيَ الذِّعْلِبُ الْوَجْنَائُ غَبَرَ السَّبَاسِبٖ
فَأَشْھَدُ أَنَّ اللّٰہَ لاَ شَيْئَ غَیْرُہٗ
وَأَنَّکَ مَأْمُوْنٌ عَلٰی کُلِّ غَائِبٖ
وَأَنَّکَ أَدْنَی الْمُرْسَلِیْنَ وَسِیْلَۃً
إِلَی اللّٰہِ یَا ابْنَ الْأَکْرَمِیْنَ الْأَطَایِبٖ
فَمُرْنَا بِمَا یَأْتِیْکَ یَا خَیْرَ مَنْ مَشٰی
وَإِنْ کَانَ فِیْمَا جَائَ شَیْبُ الذَّوَائِبٖ
وَکُنْ لِيْ شَفِیْعًا یَوْمَ لاَ ذُوْ شَفَاعَۃٍ
سِوَاکَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبٖ
اِبتدائی رات کے کچھ حصے کے گزر جانے اور میرے کچھ سولینے کے بعد مجھ سے سرگوشی کرنے والا جنّ میرے پاس تین رات آتارہا، اور جہاں تک میں نے اسے آزمایا وہ جھوٹا نہیں تھا۔ اور ہر رات مجھ سے یہی کہتا رہا کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو قبیلہ لؤی بن غالب میں سے ہے۔ اس پر میں نے سفرکے لیے اپنی لنگی چڑھالی اور (میں نے سفر شروع کردیا اور) تیز رفتار بڑے رخساروں والی اونٹنی مجھے لے کر ہموار اور وسیع غبار آلود میدانوں میں چلتی رہی۔میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی چیز (عبادت کے لائق) نہیں اور آپ غیب کی ہر بات کے بارے میں قابلِ اعتماد ہیں۔ اور اے قابلِ احترام اور پاکیزہ لوگوں کے بیٹے! آپ اللہ تک پہنچنے کے لیے تمام رسولوں میںسب سے زیادہ قریبی وسیلہ ہیں۔ اور اے روئے زمین پر چلنے والوں میں سب سے اچھے! آپ ہمیں ان تمام اعمال کا حکم دیں جو آپ کے پاس اللہ کی طرف سے آرہے ہیں، ہم ان اعمال کو ضرور کریں گے چاہے ان اعمال کی محنت میں ہمارے بال سفید ہوجائیں۔ اور آپ میرے اس دن سفارشی بن جائیں جس دن آپ کے علاوہ اور کوئی سفارشی سواد بن قارب کے کسی کام نہیں آسکتا۔
میرے اشعار سن کر حضورﷺ اور تمام صحابہ بہت زیادہ خوش ہوئے، حتیٰ کہ ان سب کے چہروں میں خوشی نمایاں نظر آنے لگی۔
حضرت محمد بن کعب قرظی راوی کہتے ہیں: یہ قصہ سنتے ہی حضرت عمر ؓ اٹھ کر حضرت سواد سے چمٹ گئے اور فرمایا: میری دلی خواہش تھی کہ میں تم سے یہ سارا قصہ سنوں۔ کیا اب بھی وہ جنّ تمہارے پاس آتا ہے؟ حضرت سواد نے کہا: جب سے میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا ہے وہ نہیں آیا اور اس جنّ کی جگہ اللہ کی کتاب نعم البدل ہے۔ پھر حضرت عمرنے فرمایا: ہم ایک دن قریش کے ایک قبیلہ میں تھے جن کو آلِ ذَرِیح کہاجاتاہے۔ انھوں نے اپنا ایک بچھڑا ذبح کیا اور قصاب اس کا گوشت بنارہاتھا کہ اتنے میں ہم سب نے بچھڑے کے پیٹ میں سے آواز سنی اور بولنے والی کوئی چیز ہمیں نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ یہ کہہ رہاتھا: اے آلِ ذَرِیح! یہ کامیابی والا کام ہے۔ ایک پکارنے والا پکار کر فصیح زبان میں کہہ رہاہے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتاہے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں۔ 1
حضرت براءؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت سواد بن قاربؓ نے فرمایا: میں ہندوستان میں ٹھہراہوا تھا تو ایک رات میرا تابع جنّ میرے پاس آیا۔ پھر ساے قصے کے بعد آخری اشعار سنانے کے بعد یہ ہے کہ اشعار سن کر حضورﷺ اتنے ہنسے کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آنے لگے اور آپ نے فرمایا: اے سواد! تم کامیاب ہوگئے۔
حضرت محمد بن کعب قرظی کی دوسری روایت میں ہے کہ حضرت سواد ؓ فرماتے ہیں کہ جن کی باتوں سے میرے دل میں اسلام کی محبت بیٹھ گئی اور اسلام کا شوق پیداہوگیا۔ صبح کو میں نے اونٹنی پر کجاوہ کسا اور مکہ کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ جاچکے ہیں۔ چناںچہ میں مدینہ چلاگیا اور وہاں جاکر حضورﷺ کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ حضورﷺ مسجد میں ہیں۔ میں مسجد گیا اور اونٹنی کے پائوں کو رسی باندھ کر اندر گیا تو حضورﷺ تشریف فرماتھے اور لوگ آپ کے ارد گرد تھے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میری درخواست سن لیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا: حضورﷺ کے قریب آجائو۔ میں آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ حضورﷺ کے سامنے پہنچ گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا: کہو اور تمہارا جنّ جو تمہارے پاس آتارہا اس کے بارے میں بتائو۔ 1
حضرت عباس بن مِرداس سُلَمیؓ فرماتے ہیں: میرے اسلام لانے کی اِبتدا اس طرح ہوئی کہ جب میرے والد مرداس کے مرنے کا وقت قریب آیا تو انھوں نے مجھے ضمار نامی اپنے بت کے خیال رکھنے کی وصیت کی۔ میں نے اس بت کو ایک کمرے میں رکھ لیا اور روزانہ اس کے پاس جانے لگا۔ جب نبی کریم ﷺ کا ظہور ہوا تو ایک دفعہ میں نے آدھی رات کو ایک آواز سنی جس سے میں ڈرگیا اور چھلانگ لگا کر اٹھا اور مدد لینے کے لیے ضمار کے پاس گیا، تو میں نے دیکھا کہ اسی کے پیٹ میں سے آواز آرہی ہے اور وہ یہ اشعار کہہ رہاہے :
قُلْ لِلْقَبِیْلَۃِ مِنْ سُلِیْمٍ کُلِّھَا
ھَلَکَ الْأَنِیْسُ وَعَاشَ أَھْلُ الْمَسْجِدٖ
أَوْدٰی ضَمَارِ وَکَانَ یُعْبَدُ مُدَّۃً
قَبْلَ الْکِتَابِ إِلَی النَّبِيِّ مُحَمَّدٖ
إِنَّ الَّذِيْ وَرِثَ النُّبُوَّۃَ وَالْھُدٰی
بَعْدَ ابْنِ مَرْیَمَ مِنْ قُرَیْشٍ مُّھْتَدٖ
سارے قبیلۂ سلیم سے کہہ دو کہ بت اور ان کے پوجنے والے مردہ باد اور مسجد والے زندہ باد۔ ضماربت ہلاک ہوگیا اور نبی کریم حضرت محمد (ﷺ) کے پاس کتاب کے آنے سے پہلے اس کی عبادت کی جاتی تھی۔ اور قبیلۂ قریش کی جو ہستی (حضرت عیسیٰ) ابنِ مریم( ؑ) کے بعد نبوت اور ہدایت کے وارث ہوئی ہے وہ ہدایت یافتہ ہے۔
حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں: میں نے یہ ساری بات لوگوں سے چھپا کر رکھی اور کسی کو نہ بتائی۔ جب کفار غزوۂ اَحزاب سے واپس آئے تو ایک مرتبہ میں ذاتِ عرق کے پاس مقام عقیق کے ایک کنارے پر اپنے اونٹوں میں سویا ہوا تھا، میں نے ایک دم آواز سنی (جس سے میری آنکھ کھل گئی) اور میں نے دیکھا کہ ایک آدمی شتر مرغ کے پر کے اوپر بیٹھا ہوا کہہ رہاہے: وہ نور حاصل کرلو جو منگل کی رات کو عضباء نامی اونٹنی والے پر بنو عنقاء کے بھائیوں کے علاقہ میں یعنی مدینہ میں اُترا ہے۔ اس کے جواب میں اس کی بائیں جانب سے ایک غیبی آواز دینے والے نے یہ اشعار کہے:
بَشِّرِ الْجِنَّ وَإِبْلاَسَھَا
أَنْ وَضَعَتِ الْمَطِيُّ أَحْلاَسَھَا
وَکَلَأَتِ السَّمَآئَ أَحْرَاسُھَا
جنّات کو خبردے دو کہ جنّات اس وجہ سے حیران وپریشان ہیں کہ اونٹنیوں نے اپنے پالان رکھ دیے ہیں اور آسمان کے چوکیداروں نے آسمان کی حفاظت شروع کردی ہے۔
حضرت عباس ؓ کہتے ہیں: میں خوفزدہ ہوکر ایک دَم اٹھا اور سمجھ گیا کہ حضرت محمدﷺ (اللہ کے بھیجے ہوئے) رسول ہیں۔ چناںچہ میں گھوڑے پر سوار ہوا اور بہت تیزی سے سفر کیا یہاں تک کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ کر آپ سے بیعت ہوگیا، پھر واپس آکر میں نے ضمار کو آگ سے جلادیا۔ میں دوبارہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ اشعار آپ کو سنائے: لَعَمْرُکَ أَنِّيْ یَوْمَ أَجْعَلُ جَاھِلاً
ضَمَارِ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ مُشَارِکَا
وَتَرْکِيْ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَالْأَوْسُ حَوْلَہٗ
أُولٰئِکَ أَنْصَارٌ لَہٗ مَا أُوْلَائِکَا
کَتَارِکِ سَھْلِ الْأَرْضِ وَالْحَزْنَ یَبْتَغِيْ
لِیَسْلُکَ فِيْ وَعْثِ الْأُمُوْرِ الْمَسَالِکَا
فَاٰمَنْتُ بِاللّٰہِ الَّذِيْ أَنَا عَبْدُہٗ
وَخَالَفْتُ مَنْ أَمْسٰی یُرِیْدُ الْمَھَالِکَا
وَوَجَّھْتُ وَجْھِيْ نَحْوَ مَکَّۃَ قَاصِدًا
أُبَایِعُ نَبِيَّ الْأَکْرَمِیْنَ الْمُبَارَکَا
نَبِيٌّ أَتَانَا بَعْدَ عِیْسٰی بِنَاطِقٍ
مِنَ الْحَقِّ فِیْہِ الْفَصْلُ فِیْہِ کَذٰلِکَا
أَمِیْنٌ عَلَی الْفُرْقَانِ أَوَّلُ شَافِعٍ
تَلاَفَيْ عُرَی الْإِسْلَامِ بَعْدَ انْتِقَاضِہَا
وَأَوَّلُ مَبْعُوْثٍ یُجِیْبُ الْمَلاَئِکَا
فَأَحْکََمَہَا حَتّٰی أَقَامَ الْمَنَاسِکَا
عَنَیْتُکَ یَا خَیْرَ الْبَرِیَّۃِ کُلِّھَا
تَوَسَّطْتَّ فِي الْفَرْعَیْنِ وَالْمَجْدِ مَالِکَا
وَأَنْتَ الْمُصَفّٰی مِنْ قُرَیْشٍ إِذَا سَمَتْ
عَلٰی ضُمُرِھَا تَبْقَی الْقُرُوْنَ الْمُبَارَکَا
إِذَا انْتَسَبَ الْحَیَّانِ کَعْبٌ وَمَالِکٌ
وَجَدْنَاکَ مَحْضًا وَالنِّسَائَ الْعَوَارِکَا
آپ کی زندگی کی قسم! جب میں جاہل تھا تو میں نے ضماربت کو ربُّ العالمین کا شریک بنا رکھا تھا اور میں نے اللہ کے رسول کو چھوڑا ہوا تھا اور قبیلۂ اَوس ہر وقت آپ کے چاروں طرف جاں نثار تھا۔ یہ سب آپ کے مددگار بنے ہوئے تھے اور یہ کیا ہی اچھے لوگ ہیں۔ اور میری مثال اس آدمی جیسی تھی جو نرم زمین کو چھوڑ کر سخت زمین کو تلاش کرے تا کہ مشکل کاموں کے راستے پر چلے۔ پھر میں اس اللہ پر ایمان لے آیا جس کا میں بندہ ہوں اور میں نے اس آدمی کی مخالفت کی جو (ایمان چھوڑکر) ہلاکت کے راستوں پر چلنا چاہتاہے۔ اور میں نے کریم لوگوں کے مبارک نبی سے بیعت ہونے کے ارادے سے اپنا رخ مکہ کی طرف کرلیا۔ عیسیٰ ؑ کے بعد ہمارے پاس ایسے نبی آئے ہیں جو بولتا ہوا حق یعنی قرآن لے کر آئے ہیں، اور اس میں ایسی باتیں ہیں جن سے حق اور باطل جدا جدا ہوجاتاہے، اور واقعی اس میں ایسی باتیں ہیں۔ حضورﷺ قرآن کے امین ہیں اور (قیامت کے دن) سب سے پہلے سفارش کریں گے اور سب سے پہلے اٹھائے جائیں گے اور فرشتوں کو جواب دیں گے۔ اسلام کے دستے ٹوٹ چکے تھے آپ نے ان سب کو جوڑ دیا اور انھیں خوب مضبوط کیا اور سارے اَحکامِ الٰہی زندہ کردیے۔ اے ساری مخلوق میں سب سے بہترین شخص! آپ ہی میرے مقصود ہیں، آپ اگلوں پچھلوں میں اعلیٰ نسب والے ہیں اور قبیلہ مالک میں بزرگی میں سب سے آگے ہیں۔ جب قریش بھوک اور کمزوری کے باوجود بلندیاں حاصل کررہے ہیں تو آپ ان میں سے سب سے زیادہ صاف ستھرے اور پاکیزہ ہیں۔ اور آپ تمام زمانوں میں بابرکت رہیں گے جب قبیلہ کعب اور قبیلہ مالک اپنا اپنا نسب بیان کریں گے تو ہم آپ کو خالص نسب والا اور عورتوں کو گندا پائیں گے۔1
اور خرائطی کی روایت میں پہلے تین اشعار کے بعد یہ ہے کہ حضرت عباس بن مرداس ؓ فرماتے ہیں کہ میں خوفزدہ ہوکر نکلا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور انھیں سارا قصہ سنا یا اور اپنی قوم بنو حارثہ کے تین سوآدمی لے کر حضورﷺ کی خدمت میں مدینہ گیا اور وہاں جاکر ہم مسجد میں داخل ہوئے۔ جب حضورﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: اے عباس! تمہارے اسلام لانے کی کیا صورت ہوئی؟ میں نے آپ کو سارا قصہ سنایا جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور یوں میں اور میری قوم والے سب مسلمان ہوگئے۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کی خبر مدینہ میں سب سے پہلے اس طرح ملی کہ مدینہ کی ایک عورت کا ایک جنّ تابع تھا۔ ایک دفعہ وہ ایک سفید پرندے کی شکل میں آیا اور اس کی دیوار پر بیٹھ گیا۔ اس عورت نے اس سے کہا: تم نیچے کیوں نہیں آتے تاکہ ہم آپس میں باتیں کریں اور ایک دوسرے کو حالات بتائیں؟ اس نے کہا: مکہ میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں جنھوں نے زِنا کو حرام قرار دیا ہے اور ہمارا چین سکون چھین لیا ہے (پہلے ہم آسمان پر جاکر وہاں کی خبریں لے آتے تھے اب وہاں نہیں جاسکتے، اس لیے پریشان ہیں)۔ 2
حضرت علی بن حسین ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے بارے میں مدینہ میں سب سے پہلی خبر اس طرح آئی کہ ایک عورت کا نام فاطمہ تھا اس کے پاس ایک جنّ آیا کرتاتھا۔ چناںچہ ایک دن وہ جنّ آیا اور دیوار پر کھڑا ہوگیا۔ اس عورت نے کہا: تم نیچے کیوں نہیں آتے؟ اس نے کہا: نہیں، اب وہ رسول مبعوث ہوگئے ہیں جنھوں نے زِنا کو حرام کردیاہے۔ 1
حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کی بعثت سے پہلے ہم ایک تجارتی قافلہ میں ملکِ شام گئے۔ جب ہم ملکِ شام کی حدود میں داخل ہوگئے تو وہاں ایک نجومی عورت ہمارے سامنے آئی اور اس نے کہا کہ میرا (جنّ) ساتھی میرے دروازے پر آکر کھڑاہوگیا، میں نے کہا:کیا تو اندر نہیں آئے گا؟ اس نے کہا: اب اس کی کوئی صورت نہیں ہے، کیوںکہ احمدﷺ کا ظہور ہوگیا ہے اور ایسا حکم آگیا ہے جو میرے بس میں نہیں ہے۔ میں وہاں سے جب مکہ واپس آیا تو دیکھا کہ مکہ میں حضورﷺ کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی دعوت دے رہے ہیں۔ 2
حضرت مجاہد کہتے ہیں: ایک بڑے میاں نے جاہلیت کا زمانہ پایاتھا انھیں ابنِ عیسیٰ کہاجاتا تھا۔ غزوہ رُودس میں ہم اور وہ اکٹھے تھے (رُودس ملکِ شام کا ایک جزیرہ ہے) انھوں نے مجھے اپنا یہ واقعہ سنایا کہ میں اپنے خاندان کی ایک گائے ہانکے جارہاتھا کہ اتنے میں میں نے اس کے پیٹ میں سے یہ آواز سنی: اے آل ذَرِیح! یہ صاف اور واضح بات ہے کہ ایک آدمی بلند آواز سے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ رہاہے۔ وہ بڑے میاں کہتے ہیں: پھر ہم مکہ آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں نبی کریم ﷺ کا ظہور ہوچکا ہے۔ 3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک کافر جنّ نے مکہ میں ابو قُبیس پہاڑ پر آواز دی۔ وہ نظر نہیں آرہاتھا، اس نے یہ اشعار کہے:
قَبَّحَ اللّٰہُ رَأْيَ کَعْبِ بْنِ فِھْرٍ
مَا أَرَقَّ الْعُقُوْلَ وَالْأَحْلاَمٖ
دِیْنُھَا أَنَّھَا یُعْنَفُ فِیْھَا
دِیْنَ آبَائِھَا الْحُمَاۃِ الْکِرَامٖ
خَالَفَ الْجِنَّ جِنُّ بُصْرٰی عَلَیْکُمْ
وَ رِجَالُ النَّخِیْلِ وَ الْاٰطَامٖ
ھَلْ کَرِیْمٌ لَکُمْ لَہٗ نَفْسُ حُرٍّ
مَاجِدُ الْوَالِدَیْنِ وَالْأَعْمَامٖ
یُوْشِکُ الْخَیْلُ أَنْ تَرَوْھَا تَھَادٰی
تَقْتُلُ الْقَوْمَ فِيْ بِلاَدِ التِّھَامٖ
ضَارِبٌ ضَرْبَۃً تَکُوْنُ نَکَالًا
وَرَوَاحًا مِنْ کُرْبَۃٍ وَاغْتِمَامٖ
کعب بن فہر یعنی قریش کی رائے کو اللہ برا کرے! ان کی عقل اور سمجھ کس قدر کمزور ہے۔ (قریش میں جو مسلمان ہو چکے ہیں) ان کا دین یہ ہے کہ وہ اپنے حفاظت کرنے والے بزرگ آباء واَجداد کے دین یعنی بت پرستی کو برا بھلا کہتے ہیں۔ بُصریٰ کے جنّات نے، اور کھجور کے درختوں اور قلعوں کے علاقے یعنی مدینہ کے رہنے والے انصار نے (اسلام لاکر اور اس کے پھیلا نے کی محنت کرکے) عام جنّات کی مخالفت کی ہے، اور اس طرح تمھیں نقصان پہنچایا ہے۔ کیا تم میں ایسا بااخلاق آدمی نہیں ہے جو شریف النفس ہو، اور جس کے والدین اور سارے چچا بزرگی والے ہوں؟ عن قریب تم گھوڑوں والا لشکر دیکھو گے جو ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہوں گے اور تہامہ کے علاقہ میں (مسلمانوں کی) اس قوم کو قتل کریں گے اور مسلمانوں پر تلواروں سے ایسی ضروب لگائیں گے جس میں ان کے لیے عبرت ناک سزا ہوگی، اور تمہارے لیے بے چینی اور غم سے راحت ہوگی (یہ کافر جنّ مشرکوں کو جھوٹی خوش خبری دے رہاہے)۔
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: یہ بات سارے مکہ میں پھیل گئی، اور مشرکین ایک دوسرے کو یہ اشعار سنانے لگے، اور ایمان والوں کو مزید اِیذا دینے اور مار ڈالنے کے ارادے کرنے لگے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: یہ ایک شیطان تھا جس نے لوگوں سے بتوں کے بارے میں بات کی ہے۔ اسے مِسعَر کہا جاتاہے، اللہ اسے رسواکریں گے۔ چناںچہ تین دن گزرنے کے بعد اسی پہاڑ پر ایک غیبی آواز دینے والے نے یہ اشعار پڑھے:
نَحْنُ قَتَلْنَا مِسْعِرًا
لَمَّا طَغٰی وَاسْتَکْبَرَا
وَسَفَّہَ الْحَقَّ وَسَنَّ الْمُنْکَرَا
قَنَّعْتُہٗ سَیْفًا جَرَوْفًا مُبْتِرَا
بِشَتْمِہٖ نَبِیَّنَا الْمُطَھَّرَا
جب مسعر نے سرکشی اور تکبر کیا، اور حق کو بے وقوفی کی چیز بتایا، اور منکر چیز کو چلایا، تو ہم نے اسے قتل کردیا۔ میں نے ایسی تلوار سے اس کے سر پر وار کیا جو کام پورا کردینے والی اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے کیا کہ اس نے ہمارے پاک نبی ﷺ کی شان میں برے کلمات استعمال کیے تھے۔
حضورﷺ نے فرمایا: یہ ایک قوی ہیکل جنّ تھا جسے سَمْحَج کہاجاتاتھا ۔میں نے اس کا نام عبداللہ رکھاتھا۔ یہ مجھ پر ایمان لایاتھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ مسعر کو تین دن سے تلاش کررہاتھا اس پر حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ اسے جزائے خیر دے۔ 1
حضرت عبداللہ بن محمود کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ قبیلہ خَشعم کے چند آدمی کہتے تھے کہ جن باتوں کی وجہ سے ہمیں اسلام کی دعوت ملی ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ ہم بت پرست قوم تھے، ایک دن ہم لوگ اپنے ایک بت کے پاس تھے کہ کچھ لوگ اس بت کے پاس اپنا ایک فیصلہ لے کر آئے۔ انھیں اُمید تھی کہ جس بات میں ہمارا اختلاف ہورہا ہے اس کا حل ہمیں اس بت سے مل جائے گا کہ اتنے میں ایک غیبی آواز دینے والے نے انھیں آواز دے کر کہا:
یَا أَیُّھَا النَّاسُ ذَوُو الْأَجْسَامِ
مِنْ بَیْنِ أَشْیَاخٍ إِلٰی غُلَامِ
مَا أَنْتُمْ وَطَائِشُ الْأَحْلَامِ
وَمُسْنِدُ الْحُکْمِ إِلَی الْأَصْنَامِأَکُلُّکُمْ فِيْ حَیْرَۃِ نِیَامِ
أَمْ لاَ تَرَوْنَ مَا الَّذِيْ أَمَامِ
مِنْ سَاطِعٍ یَجْلُوْ دُجَی الظَّلاَمِ
قَدْ لاَحَ لِلنَّاظِرِ مِنْ تِھَامِ
ذَاکَ نَبِيٌّ سَیِّدُ الْأَنَامِ
قَدْ جَائَ بَعْدَ الْکُفْرِ بِالْإِسْلَامِ
أَکْرَمَہُ الرَّحْمٰنُ مِنْ إِمَامِ
وَمِنْ رَسُوْلٍ صَادِقِ الْکَلَامِ
أَعْدَلُ ذِيْ حُکْمٍ مِنَ الْأَحْکَامِ
یَأْمُرُ بِالصَّلَاۃِ وَالصِّیَامِ
وَالْبِرِّ وَالصَّلَاۃِ لِلْأَرْحَامِ
وَیَزْجُرُ النَّاسَ عَنِ الْاٰثَامِ
وَالرِّجْسِ وَالْأَوْثَانِ وَالْحَرَامِ
مِنْ ھَاشِمٍ فِيْ ذِرْوَۃِ السَّنَامِ
مُسْتَعْلِنًا فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ
اے جسم والے انسانو! اے بوڑھے، بچے، چھوٹے، بڑے تمام انسانو! تم بالکل بے عقل ہو اور اپنے فیصلے تم نے بتوں کے سپرد کر رکھے ہیں۔ کیا تم سب حیرت میں سوئے ہوئے ہو؟ کیا تمھیں وہ چیز نظر نہیں آرہی جو میرے سامنے ہے؟ وہ ایک روشن نور ہے جو اندھیرے کی اندھیری کو بھی دور کررہاہے۔ وہ نور دیکھنے والوں کے لیے تہامہ کے پہاڑوں سے ظاہر ہورہاہے۔ یہ وہ نبی ہیں جو تمام مخلوق کے سردار ہیں اور کفر کے بعد اسلام لے کر آئے ہیں۔ رحمن نے ان کا خاص اکرام فرمایاہے۔ یہ امام، رسول، سچی گفتگو والے اور سب سے زیادہ انصاف والا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ وہ نماز، روزے، نیکی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، اور لوگوں کو گناہوں سے، پلیدی سے، بتوں سے اور حرام کاموں سے روکتے ہیں۔ اور وہ قبیلہ بنو ہاشم میں سے ہیں اور سب سے اعلیٰ نسب والے ہیں اور اللہ کے قابلِ احترام شہر مکہ میں وہ یہ سارے کام علی الاعلان کررہے ہیں۔
جب ہم نے یہ سنا تو ہم اس بت کے پاس سے اٹھ کر آگئے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے۔ 1
حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے اس وقت میں شام میں تھا۔ میں اپنی کسی ضرورت سے سفر میں نکلا تو مجھے راستہ میں رات آگئی۔ میں نے کہا: میں آج رات اس وادی کے بڑے سردار (جنّ) کی پناہ میں ہوں۔ (زمانۂ جاہلیت میں عربوں کا خیال تھا کہ ہر جنگل اور ہر وادی پر کسی جن کی حکومت ہوتی ہے) جب میں بستر پر لیٹا تو ایک منادی نے آواز لگائی، وہ مجھے نظر نہیں آرہاتھا۔ اس نے کہا: تم اللہ کی پناہ مانگو، کیوںکہ جنّات اللہ کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں دے سکتے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے کہا: اَن پڑھوں میں اللہ کی طرف سے آنے والے رسول ظاہر ہوچکے ہیں۔ ہم نے (مکہ میں) حجون مقام پر ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور ہم نے ان کا اتباع اختیار کر لیا ہے۔ اور اب جنّات کے تمام مکرو فریب ختم ہوگئے ہیں۔ اب (وہ آسمان پر جانا چاہتے ہیں تو) ان کو ستارے مارے جاتے ہیں۔ تم محمدﷺ کے پاس جائو جو ربُّ العالمین کے رسول ہیں اور مسلمان ہوجائو۔
حضرت تمیم ؓ کہتے ہیں: میں صبح کو دَیرِ ایوب بستی میں گیا اور وہاں ایک پادری کو ساراقصہ سنا کر اس سے اس کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: جنّات نے تم سے سچ کہا ہے۔ وہ نبی حرم (مکہ) میں ظاہر ہوں گے اور ہجرت کر کے حرم (مدینہ) جائیں گے۔ وہ تمام اَنبیا ؑ سے بہتر ہیں، کوئی اور تم سے پہلے ان تک نہ پہنچ جائے اس لیے جلدی جائو۔ حضرت تمیم ؓ کہتے ہیں: میں ہمت کرکے چل پڑا اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگیا۔ 1
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ فرماتے ہیں: حضرت حجاج بن علاط بہزی سُلَمیؓ کے مسلمان ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ وہ اپنی قوم کے کچھ سواروں کے ساتھ مکہ کے ارادے سے نکلے۔ رات کو یہ لوگ ایک وحشت ناک اور خوف ناک وادی میں پہنچے تو گھبرا گئے۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: اے ابوکلاب! (یہ حضرت حجاج کی کنیت ہے) اٹھو، اور اپنے لیے اور اپنے ساتھیوں کے لیے (اس وادی کے سردار جنّ سے) امن مانگو۔ حضرت حجاج ؓ نے کھڑے ہوکر یہ اشعار پڑھے:
أُعِیْذُ نَفْسِيْ وَأُعِیْذُ صَحْبِيْ
مِنْ کُلِّ جِِنِّيٍّ بِھٰذَا النَّقْبِ
حَتّٰی أَؤُوْبَ سَالِمًا وَرَکْبِيْ
میں اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ہر اُس جنّ سے پناہ دیتاہوں جو اس پہاڑی راستے میں موجود ہے، تاکہ میں اور میرے سوار ساتھی صحیح سالم اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔
اس کے بعد حضرت حجاج نے کسی نظر نہ آنے والے کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:
{یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ط لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ آیت کا نشان}2
اے جنّ اور انسان کے گروہ! اگر تم کو یہ قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو تو (ہم بھی دیکھیں) نکلو، مگر بدونِ زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں، پس نکلنے کا وقوع بھی محتمل نہیں)۔
جب یہ لوگ مکہ پہنچے تو انھوں نے قریش کی ایک مجلس میں یہ بات بتائی۔ قریش نے کہا: اے ابوکلاب! آپ ٹھیک کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم! یہ کلام بھی اسی کلام میں سے ہے جس کے بارے میں محمد دعویٰ کرتے ہیں کہ ان پر یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ حضرت حجاج ؓ نے کہا:اللہ کی قسم! خود میں نے بھی سناہے اور میرے ساتھ ان لوگوں نے بھی سناہے۔ یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ اتنے میں عاص بن وائل آیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: اے ابوہشام! ابوکلاب جو کہہ رہاہے کیا آپ نے وہ نہیں سنا؟ اس نے پوچھا: ابوکلاب کیا کہہ رہاہے؟ لوگوں نے اسے ساری بات بتائی۔ اس نے کہا: آپ لوگ اس پر تعجب کیوں کررہے ہیں؟ جس جنّ نے ان کو وہاں یہ کلام سنایا ہے وہی جن یہ کلام محمد (ﷺ) کی زبان پر جاری کرتاہے۔ حضرت حجاج کہتے ہیں: عاص کی اس بات کی وجہ سے میرے ساتھی میری رائے سے یعنی اسلام لانے سے رک گئے، لیکن اس سب سے میری بصیرت میں اضافہ ہوا۔ (پھر ہم لوگ اپنے علاقہ میں واپس آگئے) ایک عرصہ کے بعد میں نے حضورﷺ کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ مکہ سے مدینہ تشریف لے جاچکے ہیں۔ میں اونٹنی پر سوار ہو کر چل دیا اور مدینہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور میں نے وادی میں جو سنا تھا وہ حضورﷺکو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم نے حق بات سنی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اسی کلام میں سے ہے جو میرے ربّ نے مجھ پر نازل کیاہے۔ اے ابوکلاب! تم نے حق بات سنی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام سکھادیں۔ حضورﷺ نے مجھ سے کلمۂ اخلاص کی گواہی طلب فرمائی اور فرمایا: اب تم اپنی قوم کے پاس جائو اور انھیں ان تمام باتوں کی دعوت دو جن کی میں نے تمھیں دعوت دی ہے، کیوںکہ یہ حق ہیں۔ 1
حضرت اُبی بن کعب ؓ فرماتے ہیں: کچھ لوگ مکہ کے ارادے سے چلے اور راستہ سے بھٹک گئے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اب تو موت آنے والی ہے تو انھوںنے کفن پہنے اور مرنے کے لیے لیٹ گئے۔ اتنے میں درختوں کے بیچ میں سے ایک جنّ نکل کر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ان لوگوں میں سے اکیلا باقی رہ گیا ہوں جنھوں نے نبی کریمﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ میں نے حضورﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ مؤمن مؤمن کا بھائی ہے اور سفر میں آگے جاکر حالات معلوم کرکے اسے بتانے والاہے اور راستہ بھٹک جانے کی صورت میں اسے راستہ بتانے والاہے اسے بے یارو مدد گار نہیں چھوڑتا۔ یہ ہے پانی اور یہ ہے تمہارا راستہ۔ پھر اس نے انھیں پانی کی جگہ بتائی اور راستہ دکھایا۔ 1
قبیلۂ بنو سہم بن مُرَّہ کے سعید بن شُیَیم کہتے ہیں: میرے والد گرامی نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا کہ عُیَینہ بن حصن جو لشکر خیبر کے یہودیوں کی مدد کے لیے لے کر گیاتھا میں بھی اس لشکر میں تھا۔ ہم نے عیینہ کے لشکر میں یہ آواز سنی: اے لوگو! اپنے گھروالوں کی خبر لو، دشمن نے ان پر حملہ کردیاہے۔ یہ سنتے ہی سارے لشکر والے واپس چلے گئے ایک دوسرے کا انتظار بھی نہیں کیا۔ ہمیں اس آواز کا کچھ پتا نہ چلا کہ کہاں سے آئی تھی، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ یہ آواز آسمان سے آئی تھی۔ 2