صحابہ کرام ؓ کے بیانات

امیرالمؤمنین حضرت حسن بن علیؓ کے بیانات

حضرت ہُبَیْرہ کہتے ہیں: جب حضرت علی بن ابی طالبؓ کا انتقال ہوگیا تو حضرت حسن بن علی ؓکھڑے ہوکر منبر پر تشریف فرماہوئے اور فرمایا: اے لوگو!آج رات ایسی ہستی دنیا سے اٹھالی گئی ہے جن سے پہلے لوگ آگے نہیں جاسکے اور جنھیں پچھلے لوگ پا نہیں سکیں گے۔ حضورﷺ انھیں کسی جگہ بھیجتے تو انھیں دائیں طرف سے حضرت جبرائیل ؑ اور بائیں طرف سے حضرت میکائیل ؑ اپنے گھیرے میں لے لیتے، اور جب تک اللہ انھیں فتح نہ دیتے یہ واپس نہ آتے۔ یہ صرف سات سودرہم چھوڑ کر گئے ہیں۔آپ اس سے ایک خادم خرید نا چاہتے تھے۔ آج ستائیس رمضان کی رات میں ان کی روح قبض کی گئی ہے۔ اسی رات میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔ ایک روایت میں ہے: وہ سونا چاندی کچھ نہیں چھوڑ کر گئے، صرف سات سو درہم چھوڑ کر گئے ہیں جو اُن کے بیت المال میں اسے ملنے والے وظیفہ میں سے بچے ہیں۔ اس روایت میں اس سے آگے نہیں ہے۔1 جب حضرت علی ؓ شہید ہوگئے تو حضرت حسن ؓ نے کھڑے ہوکر بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: امابعد! آج رات تم نے ایک آدمی کو قتل کردیاہے۔ اسی رات میں قرآنِ پاک نازل ہوا، اسی میں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑکو اٹھایا گیا اور اسی رات میں حضرت موسیٰ ؑکے خادم حضرت یوشع بن نون ؑکو شہید کیاگیا اور اسی میں بنی اسرئیل کی توبہ قبول ہوئی۔2 طبرانی کی روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ پھر حضرت حسن ؓنے فرمایا: جو مجھے جانتاہے وہ تو جانتاہے اور جو مجھے نہیں جانتا میں اسے اپنا تعارف کرادیتا ہوں۔ میں حضرت محمد ﷺ کا بیٹا حسن ہوں (میں حضورﷺ کو اپنا باپ اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ حضرت یوسف ؑ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق ؑ کو اپنا باپ کہا ہے، حالاں کہ یہ دونوں ان کے دادا پرداداتھے)۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی جس میں حضرت یوسف ؑ کا قول ہے: {وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآئِیْ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ}1 اور میں نے اپنے ان باپ دادوں کا مذہب اختیار کررکھاہے ابراہیم کا، اسحاق اور یعقوب ؑ کا۔ پھر اللہ کی کتاب میں سے کچھ اور پڑھنے لگے، پھر (حضورﷺ کے مختلف نام لے کر) فرمایا: میں بشارت دینے والے کا بیٹا ہوں۔ میں ڈرانے والے کا بیٹاہوں۔ میں نبی ﷺ کا بیٹا ہوں۔ میں اللہ کے حکم سے اللہ کی دعوت دینے والے کا بیٹا ہوں۔ میں روشن چراغ کا بیٹا ہوں۔ میں اس ذات کا بیٹا ہوں جنھیں رحمۃٌللعالمین بناکربھیجاگیا۔میں اس گھرانے کا فرد ہوں جن سے اللہ نے گندگی دور کردی اور جنھیں خوب اچھی طرح پاک کیا۔ میں اس گھرانے کا فرد ہوں جن کی محبت اور دوستی کو اللہ نے فرض قرار دیا۔ چناںچہ جو قرآن حضرت محمد ﷺ پر اللہ نے نازل کیا اس میں اللہ نے فرمایا ہے: {قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی}2 آپ (ان سے) یوں کہیے کہ میں تم سے کچھ مطلب نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کی محبت کے۔ 3 طبرانی کی دوسری روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضور ﷺ انھیں جھنڈا دیا کرتے اور جب جنگ میں گُھمسان کا رَن پڑتاتو جبرائیل ؑ ان کے دائیں جانب آکر لڑتے۔ راوی کہتے ہیں: یہ رمضان کی اکیسویں رات تھی۔4 حاکم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نبوی گھرانہ میں سے ہوں۔ حضرت جبرائیل ؑ(آسمان سے) اُتر کر ہمارے پاس آیا کرتے تھے اور ہمارے پاس سے (آسمان کو) اوپر جایاکرتے تھے۔ اس روایت میں اسی آیت کا یہ حصہ بھی ہے: {وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیْھَا حُسْنًا}1 اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس میں اور خوبی زیادہ کردیں گے۔ یہاں نیکی کرنے سے مراد ہمارے سارے گھرانے سے محبت کرناہے۔2 حضرت ابو جمیلہ کہتے ہیں: حضرت علی ؓکی شہادت کے بعد حضرت حسن بن علی ؓ خلیفہ بنے۔ ایک دفعہ وہ لوگوں کو نماز پڑھارہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی نے آگے بڑھ کر ان کی سرین پر خنجر مارا جس سے وہ زخمی ہوگئے اور چند ماہ بیمار رہے۔ پھر کھڑے ہو کر انھوں نے بیان فرمایا تو اس میں فرمایا: اے عراق والو! ہمارے مارنے میں اللہ سے ڈرو، کیوںکہ ہم تمہارے اُمَرا بھی ہیں اور مہمان بھی، اور ہم اس گھرانے کے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًاآیت کا نشان}3 اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے گھروالو! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو (ہر طرح ظاہراً اور باطناً) پاک صاف رکھے۔ حضرت حسن اس موضوع پر کافی دیر گفتگو فرماتے رہے یہاں تک کہ مسجد کا ہر آدمی روتا ہوا نظرآنے لگا۔ 4 ابن ابی حاتم کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت حسن ؓان باتوں کو بار بار کہتے رہے یہاںتک کہ مسجدکا ہر آدمی آواز سے رونے لگا۔5 حضرت شعبی کہتے ہیں: جب حضرت معاویہ ؓنے حضرت حسن بن علی ؓ سے نُخَیلہ مقام پر صلح کی تو حضرت معاویہ نے ان سے کہا: جب یہ (صلح کی) بات طے ہوگئی ہے تو آپ کھڑے ہوکر گفتگو کریں، اور لوگوں کو بتادیں کہ آپ نے خلافت چھوڑدی ہے اور اسے میرے حوالے کردیاہے۔ چناںچہ حضرت حسن اٹھے اور منبر پر بیان کیا۔ حضرت شعبی کہتے ہیں: میں اس بیان کو سن رہاتھا، حضرت حسن ؓنے پہلے اللہ کی حمد وثنابیان کی پھر فرمایا: اما بعد! سب سے زیادہ سمجھ داری تقویٰ اختیار کرناہے اور سب سے بڑی حماقت گناہوں میں مبتلا ہونا ہے۔ میرا اور حضرت معاویہ ؓکا خلافت کے بارے میں آپس میں اختلاف تھا، یا تو یہ میرا حق تھا جسے میں نے حضرت معاویہ کے لیے اس لیے چھوڑ دیاتا کہ اس اُمّت کا آپس کا معاملہ ٹھیک رہے اور ان کے خون محفوظ رہیں، یا کوئی اور اس خلافت کا مجھ سے زیادہ حق دار ہے تو اب میں نے یہ خلافت اس کے حوالے کردی ہے۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍآیت کا نشان}1 اور میں (بالتعین) نہیں جانتا (کہ کیا مصلحت ہے) شاید وہ (تاخیرِ عذاب) تمہارے لیے (صورتاً) امتحان ہو اور ایک وقت (یعنی موت) تک (زندگی سے) فائدہ پہنچانا ہو۔ 2 حضرت شعبی کہتے ہیں: جب حضرت حسن بن علیؓنے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کی تو انھوںنے نُخَیلہ مقام میں ہم میں بیان کیا اور کھڑے ہوکر اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔ اور پچھلی حدیث جیسا مضمون بیان کیا اور آخر میں مزید یہ بھی ہے: میں اسی پر اپنی بات ختم کرتاہوں، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں۔3 حضرت حسن بن علی ؓنے اپنے اس بیان میں یہ بھی فرمایا: امابعد! اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے پہلوں کے ذریعہ سے (یعنی حضورﷺکے ذریعہ سے) تمھیں ہدایت دی اورہمارے پچھلوں کے ذریعہ(یعنی میرے ذریعہ) تمہارے خون کی حفاظت کی۔ اس خلافت کی تو ایک خاص مدت ہے اور دنیا تو آنے جانے والی چیز ہے کبھی کسی کے پاس ہوتی ہے کبھی کسی کے پاس۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے: {وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍآیت کا نشان}1 ترجمہ گزرچکاہے۔2