صحابہ کرام ؓ کے بیانات
امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بیانات
حضرت علی بن حسین کہتے ہیں: امیرالمؤمنین بننے کے بعد حضرت علی ؓ نے جو سب سے پہلا بیان فرما یا اس میں پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
اللہ نے ہدایت دینے والی کتاب نازل فرمائی اور اس میں خیر وشر سب بیان کر دیا، لہٰذا تم خیر کو لو اور شرکو چھوڑو اور تمام فرائض اداکر کے اللہ کے ہاں بھیج دو، اللہ ان کے بدلے میں تمھیں جنت میں پہنچادیں گے۔ اللہ نے بہت سی چیزوں کو قابلِ احترام بنایاہے جو سب کو معلوم ہے، لیکن ان تمام چیزوں پر مسلمان کی حرمت کو فوقیت عطافرمائی ہے۔اور اللہ نے اخلاص اور وحدانیت کے یقین کے ذریعہ مسلمانوں کو مضبوط کیاہے۔ اور کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ناحق تکلیف سے تمام لوگ محفوظ رہیں۔کسی مسلمان کو اِیذا پہنچانا حلال نہیں ہے، البتہ قصاص اور بدلہ میں جو تکلیف دینا شرعاً واجب ہوجائے اس کی اور بات ہے۔قیامت اور موت کے آنے سے پہلے پہلے اعمال صالحہ کرلو، کیوںکہ بہت سے لوگ تم سے آگے جاچکے ہیں اور تمہارے پیچھے قیامت آرہی ہے جو تمھیں ہانک رہی ہے۔ ہلکے پھلکے رہو یعنی گناہ نہ کرو، اگلوں سے جاملوگے کیوںکہ اگلے لوگ پچھلوں کا انتظارکررہے ہیں۔اللہ کے بندو! اللہ کے بندوں اور شہروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم سے ہر چیز کے بارے میں پوچھاجائے گا حتیٰ کہ زمین کے ٹکڑوں اور جانورں کے بارے میں بھی پوچھاجائے گا۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو۔ جب تمھیں خیر کی کوئی چیز نظر آئے تو اسے لے لو اور جب شر نظر آئے تو اسے چھوڑ دو، اور اس وقت کو یاد رکھو جب تم تھوڑے تھے اور سرزمینِ مکہ میں تم کمزور سمجھے جاتے تھے۔1
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
آدمی سے اس کے کنبہ کو اتنے فائدے حاصل نہیں ہوتے جتنے کنبہ سے آدمی کو حاصل ہوتے ہیں،کیوںکہ اگر آدمی کنبہ کی مدد سے اپنا ہاتھ روکتا ہے تو صرف ایک ہاتھ رکتاہے اور کنبہ والے اپنے ہاتھ روک لیں تو پھر کئی ہاتھ رک جاتے ہیں، اور کنبہ کی طرف سے آدمی کو محبت، حفاظت اور نصرت ملتی ہے۔ بعض دفعہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی خاطر ناراض ہوتاہے، حالاںکہ وہ اس دوسرے آدمی کو صرف اس کے خاندانی نسب کی وجہ سے ہی جانتاہے۔ میں تمھیں اس بارے میں اللہ کی کتاب میں بہت سی آیتیں پڑھ کر سنائوں گا۔
پھر حضرت علی ؓ نے یہ آیت پڑھی:
{لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}2
کیا خوب ہوتا اگر میرا تم پر کچھ زور چلتا یا کسی مضبوط پایہ کی پناہ پکڑتا۔
اس کے بعد حضرت علی ؓ نے فرمایا:
یہ جو حضرت لوط ؑ نے رکن شدید یعنی مضبوط پایہ فرمایا ہے اس سے مراد کنبہ ہے، کیوںکہ حضرت لوط ؑ کا کوئی کنبہ نہیں تھا۔اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! حضرت لوط ؑکے بعد اللہ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اپنی قوم کے بڑے کنبہ میں سے ہوتاتھا۔ پھر حضرت علی نے حضرت شعیب ؑ کے بارے میں یہ آیت پڑھی:
{وَاِنَّا لَنَرٰکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا}3
اور ہم تم کو اپنے میں کمزور دیکھ رہے ہیں۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا:
حضرت شعیب ؑ چوں کہ نابینا تھے، اس لیے ان لوگوں نے آپ کو کمزوری کی طرف منسوب کیا:
{وَلَوْلَا رَھْطُکَ لَرَجَمْنٰکَ}1
اور اگر تمہارے خاندان کا پاس نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کرچکے ہوتے۔
حضرت علی نے فرمایا:
اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! انھیں اپنے ربّ کے جلال کا ڈر تو تھا نہیں، البتہ حضرت شعیب کے خاندان کا ڈر تھا۔2
حضرت شَعبیکہتے ہیں: جب رمضان شریف آتاتو حضرت علی ؓ بیان فرماتے اور اس میں یہ ارشاد فرماتے:
یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کے روزے کو اللہ نے فرض کیا اور اس کی تراویح کو (ثواب کی چیز بنایا لیکن) فرض نہیں کیا۔ اور آدمی کو یہ بات کہنے سے بچنا چا ہیے کہ جب فلاں روزہ رکھے گا تو میں بھی رکھوں گا اور جب فلاں روزہ رکھنا چھوڑ دے گا تو میں بھی چھوڑ دوں گا۔ غور سے سنو! روزہ صرف کھانے پینے کے چھوڑنے کا نام نہیں ہے، بلکہ انھیں تو چھوڑ ناہے ہی، لیکن اصل روزہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ، غلط اور بے ہودہ باتوں کو بھی چھوڑ دے۔ توجہ سے سنو! رمضان کے مہینہ کو اس کی جگہ سے آگے نہ لے جائو وہیں رہنے دو، اس لیے جب تمھیں رمضان کا چاند نظر آجائے تو روزے شروع کردو اور جب عید کا چاند نظرآئے تو روزے رکھنے چھوڑ دو۔ اور اگر رمضان کی ۲۹ کو غروب کے وقت اَبرہوتو پھر مہینہ کی ۳۰ کی گنتی پوری کرو۔
حضرت شعبی کہتے ہیں: حضرت علی ؓ یہ تمام باتیں فجر اور عصر کے بعد کہا کرتے۔3
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر موت کا تذکرہ فرمایا۔ چناںچہ ارشاد فرمایا:
اللہ کے بندو! اللہ کی قسم! موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں ہے۔ اگر تم (تیاری کرکے) اس کے لیے ٹھہر جائو گے تو بھی وہ تمھیں پکڑ لے گی اور اگر (اس کے لیے تیاری نہیں کروگے بلکہ) اس سے بھاگوگے تو بھی وہ تمھیں آ پکڑے گی۔ اس لیے اپنی نجات کی فکر کرو، نجات کی فکر کرو اور جلدی کرو، جلدی کرو۔ اور ایک چیز تلاش میں تمہارے پیچھے لگی ہو ئی ہے جو بہت تیز ہے اور وہ ہے قبر۔ لہٰذا قبر کے بھینچنے سے، اس کی اندھیری سے اور اس کی وحشت سے بچو۔ غور سے سنو! قبر یا تو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ غور سے سنو! قبر روزانہ تین مرتبہ یہ اعلان کرتی ہے:میں تاریکی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں۔ غور سے سنو! قبر کے بعد وہ جگہ ہے جو قبر سے بھی زیادہ سخت ہے۔ وہ جہنم کی آگ ہے جو بہت گرم اور بہت گہری ہے، جس کے زیور(یعنی سزادینے کے آلات) لوہے کے ہیں، جس کے نگران فرشتے کا نام مالک ہے،جس میں اللہ کی طرف سے کسی طرح کی نرمی اور رحم کا ظہور نہیں ہوگا۔ اور توجہ سے سنو! اس کے بعد ایسی جنت ہے جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اللہ ہمیں اور آپ کو متقیوں میں سے بنا ئے اور دردناک عذاب سے بچائے۔1
حضرت اَصْبَغ بن نُباتہ بھی اسی بیان کو اس طرح نقل کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی ؓ منبر پر تشریف فرماہوئے۔ پہلے انھوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور موت کا ذکر کیا اور پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ ’’اور قبر جو یہ اعلان کر تی ہے کہ میں تنہائی کا گھر ہوں‘‘ اس کے بعد اس روایت میں یہ ہے کہ
غور سے سنو! قبر کے بعد (قیامت کا) ایک ایسا دن ہے اس میں بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور بوڑھے مدہوش، اور تمام حمل والیاں (دن پورے ہونے سے پہلے ہی)اپنا حمل ڈال دیں گی۔ اور (اے مخاطب!)تمھیں لوگ نشہ کی حالت میں نظر آئیں گے، حالاںکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے، لیکن اس دن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔
اور ایک روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ پھر حضرت علی ؓ رونے لگے اور ان کے اردگرد کے تمام مسلمان بھی رونے لگے۔2
حضرت صالح عجلی کہتے ہیں: ایک دن حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، پھر فرمایا:
اللہ کے بندو! دنیاوی زندگی تمھیں دھوکہ میںنہ ڈال دے، کیوںکہ یہ ایسا گھر ہے جو بلائوں سے گھرا ہوا ہے اور جس کا ایک دن فنا ہوجانا مشہور ہے اور جس کی خاص صفت بدعہدی کرنا ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ زوال پذیر ہے۔ اور دنیا اپنی جگہ بدلتی رہتی ہے، کبھی کسی کے پاس اور کبھی کسی کے پاس۔ اور اس میں اُترنے والے اس کے شرسے ہر گز نہیں بچ سکتے، اور دنیا والے خوب فراوانی اور خوشیوں میں ہوتے ہیں اور اچانک آزمایش اور دھوکہ میں آجاتے ہیں۔دنیا کے عیش وعشرت میں لگنا قابل مذمت کام ہے اور اس کی فراوانی ہمیشہ نہیں رہتی۔ اور دنیا والے خود دنیا کے لیے نشانہ ہیں، ان پر دنیا اپنے تیر چلاتی رہتی ہے اور موت کے ذریعہ انھیں توڑتی رہتی ہے۔
اللہ کے بندو! تمہارا دنیا کا راستہ ان لوگوں سے الگ نہیں ہے جو دنیا سے جاچکے ہیں، جن کی عمریں تم سے زیادہ لمبی تھیں اور جن کی پکڑ تم سے زیادہ سخت تھی اور جنھوں نے تم سے زیادہ شہر آباد کیے تھے اور جن کی آبادی کے نشانات بہت زیادہ عرصے تک رہے تھے اور ان کی آوازوں کا شور بہت زمانے تک رہاتھا،لیکن اب ان کی یہ آوازیں بالکل خاموش اور بجھ چکی ہیں، اور اب ان کے جسم بوسیدہ اور ان کے شہر خالی ہوچکے ہیں، اور ان کے تمام نشانات مٹ چکے ہیں، اور قلعی اور چو نے والے محلات، مزین تختوں اور بچھے ہوئے گائو تکیوں کے بجائے اب انھیں چٹانیں اور پتھر مل گئے ہیں جو اُن کی بغلی قبروں میں رکھے ہوئے ہیں اور گارے سے بنے ہوئے ہیں۔ اور ان کی قبروں کے سامنے کی جگہ ویران اور بے آباد پڑی ہوئی ہے، اور مٹی کے گارے سے ان قبروں پر لپائی کی گئی ہے۔
ان قبروں کی جگہ آبادی کے قریب ہے، لیکن ان میں رہنے والے بہت دور چلے جانے والے مسافر ہیں۔ ان کی قبریں آبادی کے درمیان ہیں، لیکن یہ قبروں والے وحشت اور تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ان کی قبریںکسی محلہ میں ہیں،لیکن یہ قبروں والے اپنے ہی میں مشغول ہیں اور انھیں آبادی سے کوئی اُنس نہیں ہے۔ حالاںکہ یہ قبروں والے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اور ان کی قبریں پاس پاس ہیں، لیکن ان میں پڑوسیوں والا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ اور ان میں آپس میں جوڑ ہوبھی کیسے سکتا ہے جب کہ بوسیدگی نے انھیں پیس رکھاہے، اور چٹانوں اور گیلی مٹی نے انھیں کھا رکھا ہے۔ پہلے یہ لوگ زندہ تھے اب مرچکے ہیں اور عیش ولذت والی زندگی گزار کراب ریزہ ریزہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مرنے پر ان کے دوستوں کو بہت دکھ ہوا اور مٹی میں انھوں نے بسیرا اختیار کرلیا اور ایسے سفر پر گئے ہیں جہاں سے واپسی نہیں۔ ہائے افسوس! ہائے افسوس! ہر گز ایسا نہیں ہوگا، یہ اس کی صرف ایک بات ہی بات ہے جس کو وہ کہہ رہاہے اور ان کے آگے آڑ یعنی عالمِ برزخ ہے، اس دن تک کے لیے جس دن لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ اور تم بھی ایک دن ان کی طرح قبرستان میں اکیلے رہوگے اور بوسیدہ ہو جائوگے اور تمھیں بھی اس لیٹنے کی جگہ کے سپرد کردیا جائے گا اور یہ قبر کا امانت خانہ تمھیں اپنے میں سمیٹ لے گا۔
تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمام کام ختم ہوجائیں گے اور قبروں کے مردے زندہ کر کے کھڑے کردیے جائیں گے اور جو کچھ دلوں میں ہے وہ سب کھول کر رکھ دیاجائے گا اور تمھیں جلال و دبدبہ والے بادشاہ کے سامنے اندر کی ساری باتیں ظاہر کرنے کے لیے کھڑا کردیاجائے گا۔ پھرگزشتہ گناہوں کے ڈر سے دل اُڑ نے لگ جائیں گے، اور تمہارے اوپر سے تمام رکاوٹیں اور پردے ہٹادیے جائیں گے، اور تمہارے تمام عیب اور رازظاہر ہوجائیں گے، اور ہر انسان کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا، برے کام کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ برابدلہ اور اچھے کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیں گے۔ اور اعمال نامہ سامنے رکھ دیاجائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اس اعمال نامہ میں جو کچھ لکھا ہواہے اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے: ہائے ہماری بدقسمتی! اس اعمال نامہ کی عجیب حالت ہے کہ اس نے لکھے بغیر نہ چھوٹاگناہ چھوڑا اور نہ بڑا۔اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا اسے وہاں سب لکھا ہوا موجود پائیں گے اور آپ کا ربّ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی کتاب پر عمل کرنے والا اور اپنے دوستوں کے پیچھے چلنے والا بنائے، تاکہ ہمیں اور آپ کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے گھر یعنی جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ بے شک وہ تعریف کے قابل بزرگی والاہے۔1
ابنِ جوزی نے حضرت علی ؓ کے اسی بیان کو تفصیل سے ذکر کیا ہے، لیکن شروع میں اس مضمون کا اضافہ کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا:
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، میں اسی ذات کی تعریف کرتاہوں اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوں اور اسی پر ایمان لاتاہوں اور اسی پر بھروسہ کرتاہوں۔ اور اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ سے اللہ تمہاری تمام بیماریوں کو دور کردے اور تمھیں غفلت سے بیدار کردے۔ اور یہ بات جان لو کہ ایک دن تم لوگوں نے مرناہے، اور مرنے کے بعد قیامت کے دن تم لوگوں کو اٹھایاجائے گا اور اعمال پر لاکر کھڑا کردیا جائے گا اور پھر ان اعمال کا بدلہ تمھیں دیاجائے گا، لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں دھوکہ میںنہ ڈال دے۔
پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔1
حضرت جعفر بن محمدکے دادا کہتے ہیں: حضرت علیؓ ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جب اس میت کو قبر میں رکھا جانے لگا تو اس کے گھروالے اور رشتہ دار سب اونچی آواز سے رونے لگے۔ حضرت علیؓنے فرمایا:
کیوں روتے ہوں؟ غور سے سنو! اللہ کی قسم! ان لوگوں کے مرنے والے نے اب قبرمیں جاکر جو منظر دیکھ لیاہے، اگر یہ لوگ بھی وہ منظردیکھ لیں تو یہ اپنے مردے کو بھول جائیں۔موت کے فرشتے نے باربار ان لوگوں کے پاس آناہے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔
پھر (بیان کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا:
اللہ کے بندو! میں تمھیں اُس اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں جس نے تمہارے لیے مثالیں بیان کیں، تمہاری موت کا وقت مقرر کیا، اور تمہارے ایسے کان بنائے کہ ان میں جو بات پہنچتی ہے اسے سمجھ کر محفوظ کرلیتے ہیں، اور ایسی آنکھیں عطافرمائیں کہ جو کچھ پردے میں ہے اسے وہ ظاہرکردیتی ہیں،اور ایسے دل دیے جو اِن مصائب اور مشکلات کو سمجھتے ہیں جو ان کی صورتوں کی ترکیب میں ان کو پیش آتے ہیں، اور اس چیز کو بھی سمجھتے ہیںجس نے ان دلوں کو آبادکیا یعنی ذکرِ الٰہی کو۔
اللہ تعالیٰ نے تمھیں بے کار پیدا نہیں کیا اور تم سے نصیحت والی کتاب یعنی قرآن کو ہٹایا بھی نہیں (بلکہ تمھیں نصیحت والی کتاب عطافرمائی)، بلکہ پوری نعمتوں سے تمھیں نوازا اور مکمل عطیات دیے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارا پوری طرح اِحاطہ اور شمار کیا ہواہے۔ اور خوشی اور نفع کی حالت میں، اور نقصان اور رنج کی حالت میں آپ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ تیار کیا ہوا ہے۔ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور دین کی طلب میں مزید کوشش کرو اور خواہشات کے ٹکڑے کردینے والی اور لذتوں کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، کیوںکہ دنیا کی نعمتیں ہمیشہ نہیں رہیں گی اور اس کے دردناک حادثات سے امن نہیں ہے۔ دنیا ایک دھوکہ ہے جس کی شکل بدلتی رہتی ہے اور کمزور ساسایہ ہے اور ایسا سہارا ہے جو جھک جاتاہے یعنی بوقتِ ضرورت کام نہیں آتا۔ شروع میں یہ دھوکہ نیا نظر آتاہے، لیکن جلدی ہی پراناہوکر گزر جاتاہے، اور اپنے پیچھے چلنے والے کو اپنی شہوتوں میں تھکا کر اور دھوکہ کا دودھ پلاکر ہلاک کردیتاہے۔
اللہ کے بندو! عبرت کی چیزوں سے نصیحت پکڑو، اور قرآنی آیتوں اور نبوی حدیثوں سے عبرت حاصل کرو، اور ڈرانے والی چیزوں سے ڈر جائو، اور وعظ ونصیحت کی باتوں سے نفع حاصل کرو۔ یوں سمجھو کہ موت نے اپنے پنجے تم میں گاڑ دیے ہیں، اور مٹی کے گھر نے تمھیں اپنے اندر سمیٹ لیا ہے، اور بڑے سخت اور ہول ناک مناظر تم پر اچانک آگئے ہیں۔ (ان مناظرکی تفصیل یہ ہے کہ) صور پھونک دیاگیاہے، اور قبروں میں سے تمام انسانوں کو اٹھایا جارہاہے، اور اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت سے تمام انسانوں کو ہانک کر محشرمیںلارہے ہیں اور حساب کے لیے کھڑاکررہے ہیں، اور ہر انسان کے ساتھ اللہ نے ایک فرشتہ لگارکھا ہے جو اسے محشر کی طرف ہانک رہاہے، اور ہرانسان کے ساتھ ایک فرشتہ ہے جو اس کے خلاف اس کے برے اعمال کی گواہی دے رہاہے، اور زمین اپنے ربّ کے نور سے چمک اٹھی ہے، اور اعمال کے حساب کا دفتر لاکر رکھ دیاگیاہے، اور اَنبیا اور گواہ سب حاضر کردیے گئے ہیں، اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جارہاہے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیاجارہاہے۔
اس دن کی وجہ سے تمام شہر تھرارہے ہیں، اور ایک اعلان کرنے والااعلان کررہاہے، اور یہ اوّلین اور آخرین کی باہمی ملاقات کا دن ہے۔ اور اللہ کی طرف سے خاص تجلی ظاہر ہورہی ہے، اور سورج بے نور ہورہاہے،جگہ جگہ وحشی جانور گھبراکراکٹھے ہوگئے ہیں، اور چھپے ہوئے تمام راز کھل گئے ہیں، اور شریر لوگ ہلاک ہورہے ہیں، اور انسانوں کے دل کانپ رہے ہیں، اور جہنم والوں پر اللہ کی طرف سے ہلاک کردینے والا رعب اور رُلانے والی سزا اُتر رہی ہے۔ جہنم کو ظاہر کر دیا گیا ہے، اسے دیکھنے میں اب کوئی آڑ نہیں ہے۔اس میں آنکڑے اور شورہے، اور کڑک جیسی بھیانک آوازہے۔ جہنم سخت غصہ میں ہے اوردھمکیاں دے رہی ہے اور اس کی آگ بھڑک رہی ہے اور اس کا گرم پانی اُبل رہاہے۔ اس کی گرم ہوا میں اور تیزی آرہی ہے، اور اس میں ہمیشہ رہنے والے کا کوئی غم اور پریشانی دور نہیں کی جائے گی، اور اس جہنم میں رہنے والوں کی حسرتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی، اور اس جہنم کی بیڑیاں کبھی توڑی نہیں جائیں گی۔ اور ان جہنمیوں کے ساتھ فرشتے ہیں جو انھیں گرم پانی کی اور آگ میں داخل ہونے کی خوش خبری دے رہے ہیں۔ اور انھیں اللہ کے دیدار سے روک دیاگیا ہے اور انھیں دوستوں سے جداکردیاگیاہے اور سب جہنم کی آگ کی طرف چلے جارہے ہیں۔
اللہ کے بندو! اللہ سے اس آدمی کی طرح ڈرو جس نے دب کرعاجزی اختیار کرلی ہو، اور (دشمن سے) ڈرکر کوچ کرگیا ہو، اور جسے برے کاموں سے ڈرایاگیاہو اور وہ دیکھ بھال کر ان سے رک گیا ہو، اور جلدی جلدی تلاش کرنے لگا ہو، اور بھاگ کر نجات حاصل کرلی ہو، اور آخرت کے لیے اس نے نیک اعمال آگے بھیج دیے ہوں جہاں لوٹ کر جاناہے، اور نیک اعمال کے توشہ سے اس نے مدد حاصل کی ہو۔ اور بدلہ لینے اور دیکھنے میں اللہ کافی ہے، اور جھگڑنے اور حجت کرنے میں اللہ کی کتاب کافی ہے، اور جنت ثواب کے لیے اور جہنم وبال اور سزا کے لیے کافی ہے۔ اور میں اپنے لیے اور آپ لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتاہوں۔1
ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
امابعد! دنیا نے پشت پھیرلی ہے اور جدائی کا اعلان کردیاہے اور آخرت سامنے سے آرہی ہے اور بلندی سے جھانک رہی ہے۔ آج گھوڑے دوڑانے کا یعنی عمل کا میدان ہے، کل تو ایک دوسرے سے آگے نکلنا ہو گا۔ غور سے سنو! تم آج کل دنیاوی اُمیدوں کے دنوں میں ہو، لیکن ان کے پیچھے موت آرہی ہے اور جس نے اُمید کے دنوں میں موت کے آنے سے پہلے نیک اعمال میں کوتاہی کی وہ ناکام ونامراد ہوگیا۔ توجہ سے سنو! جیسے تم خوف کے وقت عمل کر تے ہوایسے ہی دوسرے اوقات میں بھی شوق اور رغبت سے عمل کیاکرو۔ غورسے سنو! میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو جنت جیسی ہو اور پھر بھی اس کا طالب سو یا ہواہو، اور نہ ہی ایسی کوئی چیز دیکھی جو جہنم جیسی ہو اور پھر بھی اس سے بھاگنے والاسوتارہے۔ غور سے سنو! جو حق سے نفع نہیں اٹھاتا اسے باطل ضرور نقصان پہنچاتاہے۔ جسے ہدایت سیدھے راستے پر نہ چلاسکی اسے گمراہی سیدھے راستہ سے ضرور ہٹادے گی۔ غور سے سنو! آپ لوگوں کو یہاں سے کوچ کرنے کا اور سفرِ آخرت کا حکم مل چکاہے، اور اس سفر کا توشہ بھی آپ لوگوں کوبتادیاگیاہے۔
اے لوگو! غور سے سنو! یہ دنیا تو ایسا سامان ہے جو سامنے موجود ہے اور اس میں سے اچھا برا ہر ایک کھا رہا ہے، اور اللہ نے آخرت کا جو وعدہ فرمارکھاہے وہ بالکل سچاہے اور وہاں وہ بادشاہ فیصلہ کرے گا جو بڑی قدرت والاہے۔ غور سے سنو! شیطان تمھیں فقیر اور محتاج ہونے سے ڈراتاہے، اور تمھیں بے حیائی کے کاموں کا حکم دیتاہے،اور اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بہت وسعت والے اور خوب جاننے والے ہیں۔ اے لوگو! اپنی موجودہ زندگی میں اچھے عمل کرلو انجام کار محفوظ رہوگے،کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرماںبردار سے جنت کا اور نافرمان سے جہنم کا وعدہ فرمارکھاہے۔ جہنم کی آگ میں جہنمیوں کا چیخنا کبھی ختم نہ ہوگا، اس کے قیدی کو کبھی چھڑایا نہیں جاسکے گا اور اس میں جس کی ہڈی ٹوٹے گی تو کبھی جڑنہ سکے گی۔ اس کی گرمی بہت سخت ہے، وہ بہت گہری ہے، اور اس کا پانی خون اور پیپ ہے۔ اور مجھے تم پر سب سے زیادہ خطرہ دوباتوں کاہے: ایک خواہشات کے پیچھے چلنے کا، دوسرے اُمیدیں لمبی رکھنے کا۔1
اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ خواہشات کے پیچھے چلنے سے انسان حق سے ہٹ جاتا ہے اور لمبی اُمیدوں کی وجہ سے آخرت بھول جاتاہے۔
حضرت زیاد اَعرابی کہتے ہیں: (خوارج کے) فتنہ کے بعد اور نہروان شہر سے فارغ ہونے کے بعد امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؓ کوفہ کے منبرپر تشریف فرماہوئے۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر آنسوئوں کی وجہ سے ان کے گلے میں پھندالگ گیا اور اتنا روئے کہ آنسوئوں سے ڈاڑھی تر ہوگئی اور آنسو نیچے گرنے لگے۔ پھر انھوں نے اپنی ڈاڑھی جھاڑی تو اس کے قطرے کچھ لوگوں پر جاگرے، تو ہم یہ کہاکرتے تھے حضرت علیؓ کے آنسو جس پر گرے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم پر حرام کردیں گے۔پھر حضرت علی نے فرمایا:
اے لوگو! ان میں سے نہ بنو جو بغیر کچھ کیے آخرت کی اُمید رکھتے ہیں اور لمبی اُمیدوں کی وجہ سے توبہ کوٹالتے رہتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں باتیں تو زاہدوں جیسی کرتے ہیں، لیکن دنیا کا کام ان لوگوں کی طرح کرتے ہیں جن میں دنیا کی رغبت اور شوق ہو۔اگر انھیں دنیا ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو ان میں قناعت بالکل نہیں ہے۔ جو نعمتیں انھیں اللہ دے رہاہے ان کا شکر کر نہیں سکتے، اور پھر چاہتے ہیں کہ نعمتیں اور بڑھ جائیں۔ دوسروں کو نیک کاموں کا حکم کرتے ہیں، لیکن خود نہیں کرتے۔ اوروں کو برے کاموں سے روکتے ہیں، لیکن خود نہیں رکتے۔ محبت تو نیک لوگوں سے کرتے ہیں، لیکن ان کے والے عمل نہیں کرتے۔ اور ظالموں سے بغض رکھتے ہیں، لیکن خود ظالم ہیں۔ اور (دنیا کے) جن کاموں پر کچھ ملنے کا صرف گمان ہی ہے، ان کا نفس ان سے وہ کام تو کروالیتاہے اور (آخرت کے) جن کاموں پر ملنا یقینی ہے وہ کام ان سے نہیں کرواسکتا۔
اگر انھیں مال مل جائے تو فتنہ میں پڑجاتے ہیں، اگر بیمارہوجائیں تو غمگین ہوجاتے ہیں، اگر فقیرہوجائیں تو نااُمیدہوکر کمزور پڑجاتے ہیں۔وہ گناہ بھی کرتے ہیں اور نعمتیں بھی استعمال کرتے ہیں۔ عافیت ملتی ہے تو شکر نہیں کرتے اور جب کوئی آزمایش آتی ہے تو صبر نہیں کرتے۔ ایسے نظر آتاہے کہ جیسے دوسروں کو موت سے ڈرایاگیاہے انھیں نہیں، اور آخرت کے سارے وعدے اور وعید دوسروں کے لیے ہیں۔
اے موت کا نشانہ بننے والو! اور موت کے پاس گروی رکھے جانے والو! اے بیماریوں کے برتنو! اے زمانے کے لوٹے ہوئے لوگو! اے زمانہ پر بوجھ بننے والو! اے زمانہ کے پھلو! اے حادثات کی کلیو! اے دلائل کے سامنے گونگے بن جانے والو! اے فتنہ میں ڈوبے ہوئے لوگو! اے وہ لوگو جن کے اور عبرت کی چیزوں کے درمیان رکاوٹیں ہیں! میں حق بات کہہ رہا ہوں۔آدمی صرف اپنے آپ کو پہچان کر ہی نجات پاسکتاہے اور آدمی اپنے ہاتھوں ہی ہلاک ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}1
اے ایمان والو! تم اپنے کو اور اپنے گھروالوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچائو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان لوگوں میں سے بنائے جو وعظ ونصیحت سن کر قبول کرلیتے ہیں، اور جب ان کو عمل کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کر کے عمل کرلیتے ہیں۔2
حضرت یحییٰ بن یَعمر کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
اے لوگو! تم سے پہلے لوگ صرف گناہوں کے اِرتکاب کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے۔ ان کے عُلما اور فُقَہانے انھیں روکا نہیں اللہ نے ان پر سزائیں نازل کیں۔ غور سے سنو! نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہ عذاب اُترے جو اُن پر اُتراتھا۔ اور یہ سمجھ لو کہ نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے سے نہ رزق کم ہوتاہے اور نہ موت جلدی آتی ہے۔ آسمان سے تقدیر کے فیصلے بارشوں کے قطروں کی طرح اترتے ہیں۔ چناںچہ ہر انسان کے اہل وعیال، مال وجان کے بارے میں کم ہوجانے یا بڑھ جانے کا جو فیصلہ اللہ نے مقدر میں لکھا ہوا ہے وہ آسمان سے اترتاہے۔ اب جب تمہارے اہل وعیال، مال وجان میں کسی قسم کا نقصان ہواور تمھیں دوسروں کے اہل وعیال مال وجان میں نقصان کے بجائے اور اضافہ نظر آئے، تو اس سے تم فتنہ میں نہ پڑجانا۔ مسلمان آدمی اگر دَناء ت وکمینگی کا اِرتکاب کرنے والا نہ ہو تو اسے جب بھی یہ نقصان یاد آئے گا وہ عاجزی، انکساری، دعا اور اِلتجا کا مظاہرہ کرے گا (اور یوں اسے باطنی نفع ہوگا)، اور کمینے لوگوں کو اس پر بہت غصہ آئے گا۔
جیسے کہ کامیاب ہونے والا جُوئے باز تیروں سے جوا کھیلنے میں پہلی دفعہ ہی ایسی کامیابی کا انتظار کرتاہے جس سے خوب مال ملے اور تاوان وغیرہ اسے نہ دینا پڑے، ایسے ہی خیانت سے پاک مسلمان آدمی جب اللہ سے دعا کرتاہے تو دو اچھائیوں میں سے ایک کی اسے اُمید ہوتی ہے (کہ یاتو جو مانگاہے وہ دنیامیں مل جائے گا اور اگر وہ نہ ملا تو پھر اس دعا کے دنیا میں قبول نہ ہونے کے بدلہ میں آخرت میں اسے ثواب ملے گا) جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ یا پھر اللہ اسے مال دیں گے اور اس کے اہل وعیال میں خوب کثرت ہوگی اور وہ خوب مال دار ہوگا۔ کھیتی دوطرح کی ہے: (ایک دنیا کی دوسری آخرت کی) دنیا کی کھیتی مال اور بیٹے ہیں، اور آخرت کی کھیتی نیک اعمال ہیں۔ اور کبھی اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو دونوں قسم کی کھیتیاں عطافرماتے ہیں۔
حضرت سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے علاوہ اور کون ایسا ہے جو یہ بات اتنے اچھے طریقہ سے کہہ سکے؟1
’’البدایہ‘‘ کی روایت اسی جیسی ہے اور اس کے آخر میں یہ ہے:
یا تو اللہ اس کی دعا دنیا میں پوری کردیں گے اور وہ بہت زیادہ مال اور اولاد والا ہوجائے گا، خاندانی شرافت اور دین کی نعمت بھی اسے حاصل ہوگی، یا پھر اسے اس دعا کا بدلہ آخرت میں دیں گے، اور آخرت (دنیا سے ہزار درجہ) بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ کھیتیاں دو ہیں: دنیا کی کھیتی مال اور تقویٰ ہے (بظاہر مال اور اولاد ہے)، اور آخرت کی کھیتی باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ ہیں۔1
حضرت ابو وائل کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے کوفہ میں لوگوں میں بیان فرمایا۔ میں نے انھیں اس بیان میں یہ کہتے ہوئے سنا:
اے لوگو! جو جان بوجھ کر محتاج بنتاہے وہ محتاج ہو ہی جاتاہے۔ اور جس کی عمر بہت زیادہ ہوجاتی ہے وہ مختلف بیماریوں اور کمزوریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جو بلا اور آزمایش کے لیے تیاری نہیں کرتا جب اس پر آزمایش آتی ہے تو وہ صبر نہیں کرسکتا۔ جو کسی چیز پر قابو پالیتا ہے وہ اپنے کو دوسروں پر ترجیح دیتاہے۔ جو کسی سے مشورہ نہیں کرتا اسے ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔
اور اس گفتگو کے بعد یہ فرمایاتھا:
عن قریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف ظاہری نشان باقی رہ جائے گا۔
اور یہ بھی فرمایا تھا:
غور سے سنو! آدمی کو سیکھنے میں حیا نہیں کرنی چاہیے اور جس آدمی سے ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ نہیں جانتا تو اسے یہ کہنے میں حیا نہیں کرنی چاہیے کہ میں نہیں جانتا۔ تمہاری مسجدیں ویسے تو اس دن آباد ہوں گی، لیکن تمہارے دل اور جسم اجڑے ہوئے اور ہدایت سے خالی ہوں گے۔ آسمان کے سایہ تلے رہنے والے تمام انسانوں میں سب سے برے تمہارے فُقَہا ہوں گے، ان میں سے ہی فتنہ ظاہر ہوگا اور ان ہی میں لوٹ کر واپس آئے گا۔
اس پر ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا:اے امیرالمؤمنین! ایسا کب ہوگا؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا:
جب علم تمہارے گھٹیا لوگوں میں ہوگا، اور تمہارے سرداروں میں زنا اور بے حیائی عام ہوگی، اور بادشاہت تمہارے چھوٹے لوگوں میں ہوگی(جنھیں نہ تجربہ ہوگا نہ سمجھ ہوگی)، اس وقت قیامت قائم ہوگی۔1
حضرت علی ؓ ایک دن لوگوں میں بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جومخلوق کو پیدا کر نے والا، (رات میں سے) پھاڑ کر صبح کو نکا لنے والا، مُردوں کو زندہ کرنے والا اور قبروں میں جو مدفون ہیں انھیں قیامت کے دن اٹھا نے والا ہے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور میں تمھیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ بندہ جن اعمال کو اللہ کے قُرب کے لیے وسیلہ بنا سکتا ہے، ان میں سب سے افضل ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ ہے اور کلمۂ اخلاص ہے، اس لیے کہ وہ عین انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اور نماز قائم کرناہے، کیوںکہ وہ ہی اصل مذہب ہے۔ اور زکوٰۃ دینا ہے، کیوںکہ وہ اللہ کے دینی فرائض میں سے ہے۔ اور رمضان کے روزے رکھنا ہے، کیوںکہ یہ اللہ کے عذاب سے ڈھال ہے۔ اور بیتُ اللہ کا حج ہے، کیوںکہ یہ فقر کے دور کرنے اور گناہوں کے ہٹانے کا سبب ہے۔ اور صلہ رحمی کر نا ہے، کیوںکہ اس سے مال بڑھتاہے اور عمر لمبی ہوتی ہے اور گھر والوں کی محبت (دوسروں کے دلوں میں) بڑھتی ہے۔ اور چھپ کر صدقہ کرناہے، کیوںکہ اس سے خطائیں مٹ جاتی ہیں اور ربّ کا غصہ ٹھنڈا پڑ جاتاہے۔ اور لوگوں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرناہے، کیوںکہ یہ بری موت اور ہولناک جگہوں سے بچاتاہے۔
اور اللہ کا ذکر خوب کرو، کیوںکہ اللہ کا ذکر سب سے اچھا ذکرہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے متقی لوگوں سے جن چیزوں کا وعدہ فرمایاہے ان چیزوں کا اپنے اندر شوق پیداکرو، کیوںکہ اللہ کا وعدہ سب سے سچاوعدہ ہے۔ اور اپنے نبی کریم ﷺ کی سیرت کی اِقتدا کرو، کیوںکہ ان کی سیرت سب سے اَفضل سیرت ہے۔ اور ان کی سنتوں پر چلو، کیوںکہ ان کی سنتیں سب سے اَفضل طریقۂ زندگی ہیں۔ اور اللہ کی کتاب سیکھو، کیوںکہ وہ سب سے اَفضل کلام ہے۔ اور دین کی سمجھ حاصل کرو، کیوںکہ یہی دلوں کی بہار ہے۔ اور اللہ کے نور سے شفا حاصل کرو، کیوںکہ یہ دلوں کی تمام بیماریوں کی شفاہے۔ اس کی تلاوت اچھی طرح کرو،کیوںکہ (اس کے اندر) سب سے عمدہ قصے ہیں۔ جب اسے تمہارے سامنے پڑھاجائے تو اسے کان لگاکر سنو اور خاموش رہو تا کہ تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ اور جب تمھیں اس کے علم کے حاصل کرنے کی توفیق مل گئی ہے تو اس پر عمل کرو تاکہ تمھیں ہدایتِ کامل درجہ کی مل جائے، کیوںکہ جو عالم اپنے علم کے خلاف عمل کرتاہے وہ راہِ حق سے ہٹے ہوئے اس جاہل جیساہے جو اپنی جہالت کی وجہ سے درست نہیں ہوسکا۔ بلکہ میراخیال تویہ ہے کہ جوعالم اپنے علم کو چھوڑ بیٹھا ہے اس کے خلاف حجت زیادہ بڑی ہوگی، اور اس پر حسرت زیادہ عرصہ تک رہے گی، اور اس کے مقابلہ میں جہالت میں حیران و پریشان رہنے والے جاہل کے خلاف حجت چھوٹی اور اس پر حسرت کم ہوگی۔ ویسے تو دونوں گمراہ ہیں اور دونوں ہلاک ہوں گے۔ اور تردد میں نہ پڑو، ورنہ تم شک میں پڑجائوگے۔ اور اگر تم شک میں پڑگئے تو ایک دن کافربن جائوگے۔ اور اپنے لیے آسانی اور رخصت والا راستہ اختیار نہ کرو، ورنہ تم غفلت میں پڑجائوگے۔ اور اگر تم حق سے غفلت برتنے لگ گئے تو پھر خسارہ والے ہوجائو گے۔
غور سے سنو! یہ سمجھ داری کی بات ہے کہ تم بھروسہ کرو، لیکن اتنا بھروسہ نہ کرو کہ دھوکہ کھالو۔ اور تم میں سے اپنے آپ کا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہے جو اپنے ربّ کی سب سے زیادہ اطاعت کرنے والاہے اور تم میں سے اپنے آپ کو سب سے زیادہ دھوکہ دینے والا وہ ہے جو اپنے ربّ کی سب سے زیادہ نافرمانی کرنے والاہے، جو اللہ کی اطاعت کرے گا وہ امن میں رہے گا اور خوش رہے گا، اور جو اللہ کی نافرمانی کرے گا وہ ڈرتا رہے گا اور اسے ندامت اٹھانی پڑے گی۔ پھر تم اللہ سے یقین مانگو اور اس کے سامنے عافیت کا شوق ظاہر کرو۔دل کی سب سے بہتر دائمی کیفیت یقین ہے۔ فرائض سب سے اَفضل عمل ہیں۔
اور جو نئے کام اپنے پاس سے گھڑے جاتے ہیں وہ سب سے برے ہیں۔ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر نئی بات گھڑنے والا بدعتی ہے۔ جس نے کوئی نئی بات گھڑی اس نے (دین) ضائع کردیا۔ جب کوئی بدعتی نئی بدعت نکالتاہے تو وہ اس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی سنت ضرور چھوڑتاہے۔ اصل نقصان والاوہ ہے جس کا دینی نقصان ہوا ہو اور نقصان والاوہ ہے جو اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دے۔ ریاکاری شرک میں سے ہے اور اخلاص عمل وایمان کا حصہ ہے۔ کھیل کود کی مجلسیں قرآن بھلادیتی ہیں اور ان میں شیطان شریک ہوتاہے اور یہ مجلسیں ہر گمراہی کی دعوت دیتی ہیں۔ اور عورتوں کے ساتھ زیادہ بیٹھنے سے دل ٹیڑھے ہوجاتے ہیں اور ایسے آدمی کی طرف سب کی نگاہیں اٹھتی ہیں۔عورتیں شیطان کے جال ہیں۔ اللہ کے ساتھ سچائی کا معاملہ کرو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ سچے کے ساتھ ہے۔ اور جھوٹ سے اجتناب کرو، کیوںکہ جھوٹ ایمان کا مخالف عمل ہے۔ غورسے سنو! سچ نجات اور عزت کی بلند جگہ پر ہے، اور جھوٹ ہلاکت اور بربادی کی بلند جگہ پر ہے۔
غور سے سنو! حق بات کہو، اس سے تم پہچانے جائوگے۔ اور حق پر عمل کرو، اس سے تم حق والوں میں سے ہوجائوگے۔جس نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہے اسے اس کی امانت واپس کرو۔ جو رشتہ دار تم سے قطع رحمی کرے تو اس کے ساتھ صِلَہ رحمی کرو اور جو تمھیں نہ دے بلکہ محروم کرے تم اس کے ساتھ احسان کرو۔ جب تم کسی سے معاہدہ کرو تو اسے پوراکرو۔ جب فیصلہ کرو تو عدل وانصاف والاکرو۔ آباء و اجداد کے کارناموں پر ایک دوسرے پر فخر نہ کرو۔ اور ایک دوسرے کو برے لقب سے نہ پکارو۔ آپس میں حدسے زیادہ مذاق نہ کرو اور ایک دوسرے کو غصہ نہ دلائو۔اور کمزور، مظلوم،مقروض، مجاہد فی سبیل اللہ، مسافر اور سائل کی مدد کرو، اور غلاموں کو آزادی دلوانے میں مدد کرو۔ اور بیوہ اور یتیم پر رحم کرو۔ اور سلام پھیلائو اور جو تمھیں سلام کرے تم اسے ویساہی جواب دو یا اس سے اچھا جواب دو۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو، کیوںکہ اللہ سخت سزا والاہے۔ اور مہمان کا اکرام کرو، پڑوسی سے اچھا سلوک کرو۔ بیماروں کی عیادت کرو اور جنازے کے ساتھ جائو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔
اما بعد! دنیا منہ پھیر کر جارہی ہے اور اپنے رخصت ہونے کا اعلان کررہی ہے، اور آخرت سایہ ڈال چکی ہے اور جھانک رہی ہے۔ آج دوڑانے کے لیے گھوڑے تیار کرنے کا دن ہے، کل قیامت کو ایک دوسرے سے آگے بڑھناہوگا اور آگے بڑھ کر جنت میں جاناہوگا۔اگر آگے بڑھ کر جنت میں نہ جاسکا تو پھر اس کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ توجہ سے سنو! تمھیں ان دنوں عمل کرنے کی مہلت ملی ہوئی ہے، اس کے بعد موت ہے جو بہت تیزی سے آرہی ہے۔ جو مہلت کے دنوں میں موت کے آنے سے پہلے اپنے ہر عمل کو اللہ کے لیے خالص کرے گا وہ اپنے عمل کو اچھا اور خوب صورت بنالے گا اور اپنی اُمید کو پائے گا۔ اور جس نے اس میں کوتاہی کی اس کے عمل خسارے والے ہوجائیں گے، اس کی اُمید پوری نہ ہوگی بلکہ اُمید کی وجہ سے اس کا نقصان ہوگا۔ لہٰذا اللہ کے ثواب کے شوق میں اس کے عذاب سے ڈر کر عمل کرو۔ اگر کبھی نیک اعمال کی رغبت اور شوق کا تم پر غلبہ ہو تو اللہ کا شکر کرو، اور اس شوق کے ساتھ خوف پیداکر نے کی کوشش کرو۔ اور اگر کبھی اللہ کے خوف کا غلبہ ہو تو اللہ کا ذکر کرو اور اس خوف کے ساتھ کچھ شوق ملانے کی کوشش کرو، کیوںکہ اللہ نے مسلمانوں کو بتایاہے کہ اچھے عمل پر اچھا بدلہ ملے گا اور جو شکر کرے گا اللہ اس کی نعمت بڑھائے گا۔
میں نے جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس کا طالب سورہا ہو اور جہنم کی آگ جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس سے بھاگنے والا سو رہاہو۔ اور میں نے اس سے زیادہ کمانے والا نہیں دیکھا جو اس دن کے لیے نیک اعمال کماتاہے جس دن کے لیے اعمال کے ذخیرے جمع کیے جاتے ہیں، اور جس دن دلوں کے تمام بھید کھل جائیں گے اور تمام بری چیزیں اس دن جمع ہوجائیں گی۔ جسے حق سے کوئی فائدہ نہ ہوا اسے باطل نقصان پہنچائے گا، جسے ہدایت سیدھے راستہ پر نہ چلاسکی اسے گمراہی سیدھے راستہ سے ہٹادے گی، جسے یقین سے کوئی فائدہ نہ ہوا اسے شک نقصان پہنچائے گا اور جسے اس کی موجودہ چیز نفع نہ پہنچا سکی اسے اس کی دور والی غیر حاضر چیز بالکل نفع نہیں پہنچا سکے گی، یعنی جو براہِ راست مجھ سے بیان سن کر فائدہ نہ اٹھاسکے وہ میرے نہ سنے ہوئے بیانات سے تو بالکل فائدہ نہیں اٹھاسکے گا۔ تمھیں کوچ کر کے سفر میں جانے کا حکم دیاجاچکاہے اور سفر میں کام آنے والا توشہ بھی تمھیں بتایاجاچکاہے۔
توجہ سے سنو! مجھے آپ لوگوں پرسب سے زیادہ دوچیزوں کا ڈر ہے: ایک لمبی اُمیدیں، دوسرے خواہشات پر چلنا۔ لمبی اُمیدوں کی وجہ سے انسان آخرت بھول جاتاہے اور خواہشات پر چلنے کی وجہ سے حق سے دور ہوجاتاہے۔ توجہ سے سنو! دنیا پیٹھ پھیر کر جارہی ہے اور آخرت سامنے سے آرہی ہے، اور دونوں کے طالب اور چاہنے والے ہیں۔ اگر تم سے ہوسکے تو آخرت والوں میں سے بنو اور دنیا والوں میں سے نہ بنو، کیوںکہ آج عمل کرنے کا موقع ہے لیکن حساب نہیں ہے، کل حساب ہوگا لیکن عمل کا موقع نہیں ہوگا۔1
حضرت ابُوخَیرہ کہتے ہیں: میں حضرت علی ؓکے ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ کوفہ پہنچ گئے اور منبر پر تشریف فرماہوئے۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے نبی ﷺ کی آل پر تمہارے سامنے فوج حملہ آور ہوگی؟ کوفہ والوں نے کہا:ہم اللہ کو ان کے بارے میں زبردست بہادری دکھائیں گے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تمہارے سامنے ان پر فوج حملہ آور ہوگی اور تم مقابلہ پر آکر ان کو خود قتل کروگے۔ پھر یہ شعر پڑھنے لگے:
ھُمْ أَوْرَدُوْہُ بِالْغُرُوْرِ وَغَرَّدُوْا
أَجِیْبُوْا دُعَاہُ لَا نَجَاۃَ وَلَا عُذْرًا
وہ اسے دھوکہ سے لے آئیں گے اور پھر اونچی آواز سے یہ گائیں گے کہ اس (کے مخالف یعنی یزید) کی دعوت (بیعت) قبول کرلو، اسے قبول کیے بغیر تمھیں نجات نہیں ملے گی اور اس میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کیاجائے گا۔1
حضرت ابراہیم تیمیکے والد (حضرت یزید بن شریک ) کہتے ہیں: ہم میں حضرت علی ؓنے بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایاکہ
ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفے کے علاوہ کچھ اور لکھا ہوا ہے جسے ہم پڑھتے رہتے ہیں تووہ بالکل غلط کہتاہے۔ اور اس صحیفے میں زکوٰۃ اور دِیت کے اونٹوں کی عمر اور زخموں کے مختلف اَحکام کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ اور اس صحیفے میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ کا حرم عَیر پہاڑ سے ثَور پہاڑ تک ہے۔ یہ سارا علاقہ قابلِ احترام ہے۔ لہٰذا جو اس علاقہ میںخود کوئی نئی چیز ایجاد کرے یا نئی چیز ایجاد کرنے والے کو ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی،اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کسی فرض اور نفل عمل کو قبول نہیں فرمائیں گے۔ اور جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کی نسبت کرے گا، اور جو غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے غلام ہونے کا دعویٰ کرے گا تو ان دونوں پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی، اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے کسی فرض اور نفل عمل کو قبول نہیں فرمائیں گے۔ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہے جس کے لیے کم درجے کا مسلمان بھی سعی کرے گا (یعنی ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی کسی کافر یا دشمن کے آدمی کو امان دے دے تو اب اسے تمام مسلمانوں کی طرف سے امان مل جائے گی)۔1
حضرت ابراہیم نخعی ؓ کہتے ہیں: حضرت علقمہ بن قیس نے اس منبر پر ہاتھ مار کر کہاـ: حضرت علی ؓ نے اس منبر پر ہم میں بیان کیا۔ پہلے انھوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور کچھ دیر اللہ کی ذات وصفات کا تذکرہ کیا، پھر فرمایا:
حضور ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں سب سے بہتر حضرت ابوبکرؓ ہیں،پھر حضرت عمرؓ ہیں، پھر ہم نے ان کے بعد بہت سے نئے کام کیے ہیں جن کا اللہ ہی فیصلہ کرے گا۔2
حضرت ابو جُحَیفہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت علیؓ منبر پر تشریف فرماہوئے۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، پھر فرمایا:
حضور ﷺ کے بعد اس اُمّت میں سب سے بہترین آدمی حضرت ابوبکر ؓ ہیں، پھر دوسرے نمبر پر حضرت عمر ؓ ہیں اور اللہ تعالیٰ جہاں چاہتے ہیں خیر رکھ دیتے ہیں۔3
’’مسنداحمد ‘‘میں حضرت وہب سوائی ؓ سے اسی کے ہم معنی روایت مذکور ہے، البتہ اس میں یہ مضمون نہیں ہے کہ پھر ہم نے بہت سے نئے کام کیے۔ اور اس میں حضرت علیؓ کا یہ فرمان ہے کہ ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ کی زبان پر فرشتہ بولتاہے۔
حضرت عَلْقَمہ کہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ پر فضیلت دیتے ہیں۔ اگر میں اس کام سے لوگوں کو منع کرچکا ہوتا تو آج میں اس پر ضرور سزادیتا اور روکنے سے پہلے سزادینا مجھے پسند نہیں۔ بہر حال اب سب سن لیں کہ آیندہ میرے اس بیان کے بعد جو بھی اس بارے میں ذراسی بھی بات کرے گا وہ میرے نزدیک بہتان باندھنے والا ہوگا۔ اسے وہی سزاملے گی جو بہتان باندھنے والے کی ہوتی ہے۔ حضورﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہترین حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر ہیں۔ پھر ہم نے ان حضرات کے بعد بہت سے نئے کام کیے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرمائیںگے۔1
حضرت زید بن وَہب کہتے ہیں: حضرت سُوَید بن غَفَلَہ حضرت علی ؓکے زمانۂ خلافت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں چند لوگوں کے پاس سے گزرا جو حضرت ابوبکراور حضرت عمرؓکی شان میں نامناسب کلمات کہہ رہے تھے۔ یہ سن کر حضرت علی اٹھے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:
اس ذات کی قسم جس نے دانے کو(زمین میں جانے کے بعد) پھاڑا اور جان کو پیداکیا! ان دونوں حضرات سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن اور صاحبِ فضل وکمال ہوگا، اور ان سے بُغض صرف بدبخت اور بے دین ہی رکھے گا۔ حضرات شیخین کی محبت اللہ کے قرب حاصل ہونے کا ذریعہ ہے اور ان حضرات سے بغض و نفرت بے دینی ہے۔ لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ حضورﷺ کے دو بھائیوں، دو وزیروں، دوخاص ساتھیوں، قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو روحانی باپوں کا نامناسب کلمات سے ذکر کرتے ہیں۔ جو بھی ان حضرات کاذکر برائی سے کرے گا میں اس سے بری ہوں اور میں اسے اس وجہ سے سزادوںگا۔2
حضرت علیؓ کا یہ بیان اَکابر کی وجہ سے ناراض ہونے کے باب میں پوری تفصیل سے گزر چکاہے۔
حضرت علی بن حسین کہتے ہیں: جب حضرت علی بن ابی طالب ؓجنگ صِفّین سے واپس آئے تو ان سے بنوہاشم کے ایک نوجوان نے کہا:اے امیرالمؤمنین!میں نے آپ کو جمعہ کے خطبہ میں یہ کہتے ہوئے سنا:اے اللہ! تو نے جس عمل کے ذیعہ سے خلفائے راشدین کی اصلاح فرمائی اسی کے ذریعہ سے ہماری بھی اصلاح فرما،تو یہ خلفائے راشدین کون ہیں؟ اس پر حضرت علیؓ کی دونوں آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور فرمایا: خلفائے راشدین حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ ہیں جو کہ ہدایت کے امام اور اسلام کے بڑے زبردست عالم ہیں جن سے حضورﷺ کے بعد ہدایت حاصل کی جاتی ہے۔ جو اِن دونوں کا اِتباع کرے گا اسے صراطِ مستقیم کی ہدایت ملے گی اور جو اِن دونوں کی اِقتدا کرے گا وہ رُشد والاہوجائے گا، جو اِن دونوں کو مضبوطی سے پکڑے گا وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہوجائے گا اور اللہ کی جماعت والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔1
بنو تمیم کے ایک بڑے میاں کہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ ہم میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
لوگوں پر ایسازمانہ آئے گا جس میں لوگ ایک دوسرے کو کاٹ کھائیں گے اور مال دار اپنے مال کو روک کر رکھے گا بالکل خرچ نہیں کرے گا، حالاںکہ اسے اس کا حکم نہیں دیاگیاتھا(بلکہ اسے تو ضرورت سے زائد سارا مال دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم دیاگیا تھا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ}2
اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو۔
برے لوگ زور پر ہوں گے غالب آجائیں گے، نیک لوگ بالکل دب جائیں گے اور مجبور لوگوں سے خرید وفروخت کی جائے گی(یا تو انھیں خرید وفروخت پر کسی طرح مجبور کیا جائے گا یا وہ قرضے وغیرہ کی وجہ سے مجبور ہو کر اپنا سامان وغیرہ سستے داموں بیچیں گے)۔ حالاںکہ حضورﷺ نے مجبور انسان سے اس طرح خرید نے سے اور دھوکہ کی خرید وفروخت سے اور پکنے سے پہلے پھل بیچ دینے سے منع فرمایا ہے۔3
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓکے آزاد کردہ غلام حضرت ابوعبید کہتے ہیں: میں حضرت علی ؓکے ساتھ عیدالاضحی کی نماز میں شریک ہوا۔ حضرت علی نے خطبہ سے پہلے اذان اور اِقامت کے بغیر عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا، اس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! حضورﷺ نے تمھیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے، لہٰذا تم لوگ تین دن (تو گوشت کھائو اس) کے بعد نہ کھائو۔ (حضور ﷺ نے پہلے تو منع فرمایاتھا، لیکن بعد میں تین دن کے بعد بھی کھانے کی اجازت دے دی تھی)۔1
حضرت رِبعی بن حِراش کہتے ہیں: میں نے حضرت علیؓ کو بیان میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ
حضور ﷺ نے فرمایا: میرے بارے میں جھوٹ نہ بولو،کیوںکہ جومیرے بارے میں جھوٹ بولے گا وہ جہنم کی آگ میں داخل ہوگا۔2
حضرت ابوعبدالرحمن سُلَمِی کہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے بیان کیا جس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! اپنے غلام اور باندیوں پر شرعی حدود قائم کرو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، کیوںکہ حضور ﷺ کی ایک باندی سے زنا صادر ہو گیا تھا تو حضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حدِ شرعی قائم کرو۔ میں اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس کے ہاں کچھ دیر پہلے بچہ پیدا ہوا ہے، تو مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں اسے کوڑے ماروں گا تو وہ مرجائے گی۔ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر یہ بات عرض کی۔ آپ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔3
حضرت عبداللہ بن سبع کہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے ہم سے بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! میری یہ ڈاڑھی سر کے خون سے ضرور رنگین ہوگی یعنی مجھے قتل کیا جائے گا۔ اس پر لوگوں نے کہا:آپ ہمیں بتائیں کہ وہ (آپ کو قتل کرنے والا) آدمی کون ہے؟ اللہ کی قسم! ہم اس کے سارے خاندان کو تباہ کر دیں گے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: میں تمھیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ میرے قاتل کے علاوہ کوئی اور ہر گز قتل نہ ہو۔ لوگوں نے کہا: اگر آپ کو یقین ہے کہ عن قریب آپ کو قتل کردیاجائے گا تو آپ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر فرمادیں۔ فرمایا: نہیں، بلکہ میں تو تمھیں اسی کے سپرد کرتاہوں جس کے سپرد حضورﷺ کر کے گئے تھے (یعنی حضورﷺ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا بلکہ اللہ کے حوالے کیا تھا، میں بھی ایسے ہی کرتاہوں)۔1
حضرت عَلاءکہتے ہیں: حضرت علیؓ نے بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں نے تمہارے مال میں سے اس شیشی کے علاوہ اور کچھ نہیں لیا۔
اور اپنے کُرتے کی آستین سے خوشبو کی ایک شیشی نکال کر فرمایا:
یہ ایک گائوں کے چودھری نے مجھے ہدیہ کی ہے۔2
حضرت عمیر بن عبدالملک کہتے ہیں: حضرت علی ؓنے کوفہ کے منبر پر ہم لوگوں میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
اگر میں خود حضور ﷺ سے نہ پوچھتا تو آپ مجھے خود بتا دیتے اور اگر میں آپ سے خیر کے بارے میں پوچھتا تو آپ اس کے بارے میں بتاتے۔ آپ نے اپنے ربّ کی طرف سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے اپنے عرش کے اوپر بلند ہونے کی قسم! جس بستی والے اور گھر والے اور جنگل میں اکیلے رہنے والے سب میری نافرمانی پر ہوں جو کہ مجھے ناپسند ہے،پھر یہ اسے چھوڑ کر میری اطاعت اختیار کر لیں جو مجھے پسند ہے، تو میرا عذاب جو انھیں ناپسند ہے ان سے ہٹا کر اپنی رحمت کو ان کی طرف متوجہ کردوں گا جو انھیں پسند ہے۔ اور جس بستی والے اور جس گھر والے اور جنگل میں اکیلے رہنے والے سب میری اطاعت پر ہوں جو مجھے پسند ہے، وہ اسے چھوڑ کر میری نافرمانی اختیار کرلیں جو مجھے ناپسند ہے، تو میری رحمت جو انھیں پسند ہے وہ ان سے ہٹا کر اپنا غصہ ان کی طرف متوجہ کردوں گا جو انھیں ناپسند ہے۔3