صحابہ کرام ؓ کے بیانات
امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر ؓکے بیانات
حضرت عُروہ فرماتے ہیں: جب حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمدوثنا بیان کی پھر فرمایا:
امابعد! اے لوگو! مجھے آپ لوگوں کا ذمہ دار بنایا گیاہے حالاںکہ میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں۔ اور اب قرآن نازل ہو چکاہے اور حضورﷺ سنتیں بیان فرما چکے ہیں اور آپ نے ہمیں یہ سکھایاہے کہ سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ ہے اور سب سے بڑی حماقت فسق و فجورہے۔ اور جو تم لوگوں میںسب سے زیادہ طاقت ور ہے (اور وہ طاقت کے زور سے کمزوروں کے حق دبا لیتا ہے) وہ میرے نزدیک کمزورہے، میں کمزور کو اس طاقت ور سے اس کا حق دلواکر رہوںگا۔ اور جو تم میں سب سے زیادہ کمزور ہے (جس کے حق طاقت وروں نے دبارکھے ہیں) وہ میرے نزدیک طاقت ور ہے میں اس کے حق طاقت وروں سے ضرور لے کر دوںگا۔ اے لوگو! میں تو (حضور ﷺ کا) اتباع کرنے والا ہوں اور اپنی طرف سے گھڑ کر نئی باتیں لا نے والا نہیں ہوں۔ اگر میں اچھے کام کروںتو آپ لوگ ان میں میری مدد کریں اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کردیں۔میں اپنی بات اسی پر ختم کر تا ہوں، اور اپنے لیے اور آپ لوگوں کے لیے اللہ سے اِستغفار کرتاہوں۔1
حضرت عبداللہ بن عُکَیم کہتے ہیں: جب حضرت ابوبکرؓ کی بیعتِ خلافت ہوگئی تو وہ منبر پر تشریف لے گئے اور منبر پر جہاں نبی کریم ﷺ بیٹھا کر تے تھے اس سے ایک سیڑھی نیچے بیٹھے۔ پہلے اللہ کی حمدوثنا بیان کی پھر فرمایا:
اے لوگو! اچھی طرح سے سمجھ لو کہ سب سے بڑی عقل مندی۔ اس کے بعد پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا اور آخر میں اس مضمون کا اضافہ کیا کہ اپنے نفس کا محا سبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ (اللہ کی طرف سے) کیا جا ئے۔ اور جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑدے گی ان پر اللہ تعالیٰ فقر مسلط کر دیں گے۔ اور جس قوم میں بے حیائی عام ہو جا ئے گی اللہ تعالیٰ ان سب پر مصیبت بھیجیں گے۔ لہٰذا جب تک میں اللہ کی اطاعت کروں تم لوگ میری اطاعت کرو،اور جب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروں تو پھر میری اطاعت تمہارے ذمہ نہیں ہے۔میں اپنی بات اس پر ختم کرتاہوں، اور اپنے لیے اور آپ لوگوں کے لیے اللہ سے اِستغفار کر تاہوں۔2
حضرت حسن پچھلی حدیث کا کچھ مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ جو حضرت ابوبکر ؓ کا ارشاد ہے کہ سب سے بڑی حماقت فسق وفجور ہے اس کے بعد یہ اضافہ کرتے ہیں:
غور سے سنو! میرے نزدیک سچ بولنا امانت داری ہے اور جھوٹ بولنا خیانت ہے۔
اور اسی طرح حضرت حسن نے حضرت ابوبکرؓ کے فرمان کہ ’’میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں‘‘ کے بعد یہ کہا کہ اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر ان سب سے بہتر تھے اور اس بات میں کوئی ان سے مزاحمت کر نے والا نہیں تھا ،لیکن مؤمن آدمی یوں ہی کسرِ نفسی کیا کرتا ہے۔
اس کے بعد حضرت حسن نے یہ بھی نقل کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: میری تو دلی تمناہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی آدمی اس خلافت کا بوجھ اٹھا لیتا اور میں اس ذمہ داری سے بچ جاتا۔
حضرت حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر نے یہ تمنا والی بات سچے دل سے کہی تھی (وہ واقعی خلیفہ نہیں بننا چا ہتے تھے)۔ پھر حضرت ابوبکر نے فرمایا:
اگر تم لوگ یوں چاہو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے اپنے نبی ﷺ کو سیدھے راستے پر لے آیا کر تے تھے اسی طرح مجھے بھی لے آیا کریں، یہ بات تو مجھے حاصل نہیں ہے، میں تو عام انسان ہی ہوں، اس لیے تم لوگ میری نگرانی رکھو۔1
حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت ابوبکر ؓ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا:
غور سے سنو! اللہ کی قسم! میں آپ لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہوں اور میں اپنے لیے اس مقامِ خلافت کو پسند نہیں کر تاتھا۔ مجھے اس کی خواہش نہیں تھی، بلکہ میری خواہش تھی کہ آپ لوگوںمیں سے کوئی میرے بجائے خلیفہ بن جاتا۔ کیا آپ لوگوںکا خیال یہ ہے کہ میں آپ لوگوں میں بعینہٖ حضورﷺ والے طریقہ پر عمل کرلوںگا؟ تویہ خیال بالکل غلط ہے،میں ایسا نہیں کرسکوںگا، کیوںکہ حضورﷺ کی تو وحی کے ذریعہ ہر غلط بات سے حفاظت ہوجاتی تھی اور انھیں تو عصمتِ خداوندی حاصل تھی اور ان کے ساتھ خاص فرشتہ ہر وقت رہتا تھا۔ میرے ساتھ تو شیطان لگاہواہے جو میرے پاس آتارہتاہے۔جب مجھے غصہ آجائے تو مجھ سے بچ کر رہنا، کہیں میں آپ لوگوںکی کھالوں اور بالوں پر اثراندازنہ ہوجائوں۔غورسے سنو! آپ لوگ میری نگرانی رکھو، اگر میں سیدھاچلوں تو میری مدد کرنا اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کردینا۔
حضرت حسنکہتے ہیں: ایسا زبردست بیان کیا تھا کہ اللہ کی قسم!اس کے بعد ویسا بیان تو کبھی ہوا ہی نہیں۔1
ایک روایت میں یہ ہے کہ
میں تو ایک عام انسان ہوں، کام ٹھیک بھی کرلیتاہوں اور غلط بھی ہو جاتے ہیں۔ جب میں ٹھیک کام کروں تو آپ لوگ اللہ کی تعریف کریں (کیوںکہ اسی کے کرم سے کام ٹھیک ہوا) اور جب غلط ہوجائے تو مجھے سیدھاکردینا۔2
حضرت قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: حضورﷺ کی وفات کے ایک مہینہ بعد میں حضور ﷺ کے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے بعد حضرت قیس نے حضرت ابوبکر کی خلافت کا قصہ ذکرکیا۔ اس کے بعد کہتے ہیں:تمام لوگوں کو مسجد ِنبوی میں جمع کرنے کے لیے یہ اعلان کیا گیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِِعَۃٌ ’’یعنی سب لوگ نماز مسجد ِنبوی میں اکٹھے پڑھیں‘‘ (مدینہ کی باقی نو مسجدوں میں سے کسی اورمیں نہ پڑھیں)۔ اور پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت ابوبکر اس منبر پر تشریف فرماہوئے جو اُن کے بیان اور خطبے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ حضورﷺ کی وفات کے بعد اسلام میں حضرت ابوبکر کا پہلا بیان تھا۔ انھوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر فرمایا:
اے لوگو! میری آرزو تو یہ ہے کہ کوئی اور میری جگہ خلیفہ بن جائے۔ اگر تم لوگ مجھ سے مطالبہ کرو کہ میں عین تمہارے نبیﷺ کی سنت کے مطابق چلوں تو یہ میرے بس میں نہیں ہے،کیوںکہ حضور ﷺ تو معصوم تھے، اللہ نے ان کی شیطان سے مکمل حفاظت فرمارکھی تھی اور ان پر آسمان سے وحی اترتی تھی (اور یہ دونوں باتیں مجھے حاصل نہیں ہیں، اس لیے میں بالکل ان جیسا نہیں ہوسکتا)۔3
اور جلد دوم صفحہ؟؟؟ پر ’’طبرانی‘‘ کی روایت عیسیٰ بن عطیہ کے حوالے سے گزرچکی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے بیان میں فرمایا:
اے لوگو! لوگ اسلام میں خوشی اور ناخوشی دونوں طرح داخل ہوئے ہیں، لیکن اب وہ سب اللہ کی پناہ اور اس کے پڑوس میں ہیں، اس لیے تم اس کی پوری کو شش کرو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنی ذمہ داری کا کچھ بھی مطالبہ نہ کرے (یعنی کسی مسلمان کو کسی طرح تکلیف نہ پہنچائو)۔ میرے ساتھ بھی ایک شیطان رہتاہے، جب تم دیکھو کہ مجھے غصہ آگیاہے تو پھر تم مجھ سے الگ ہوجائو کہ کہیںمیںتمہارے بالوںاور کھالوں کو تکلیف نہ پہنچادوں۔ اے لوگو! اپنے غلاموں کی آمدنی کی تحقیق کرلیاکرو کہ حلال ہے یا حرام،اس لیے کہ جس گوشت کی پرورش حرام مال سے ہووہ جنت میں داخل ہونے کے لائق نہیں۔
حضرت عاصم بن عدی کہتے ہیں: حضور ﷺ کی وفات کے اگلے دن حضرت ابوبکر ؓ کی طرف سے ایک آدمی نے اعلان کیا کہ حضرت اُسامہ ؓ کے لشکر کی روانگی کا کام مکمل ہوجاناچاہیے۔غورسے سنو! اب حضرت اُسامہ کے لشکر کا کوئی آدمی مدینہ میں باقی نہیں رہنا چاہیے، بلکہ جُرف میں جہاں ان کے لشکر کا پڑائو ہے وہاں پہنچ جاناچاہیے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر لوگوں میںبیان کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے اللہ کی حمدوثنابیان فرمائی پھر فرمایا:
اے لوگو! میںتو تمہارے جیساہی ہوں، مجھے معلوم تو نہیں لیکن ہوسکتاہے کہ تم لوگ مجھے اس چیز کا مکلّف بنائو جو صرف حضورﷺ کے بس میں تھی (اور میرے بس میں نہیں)۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (ﷺ) کو تمام جہانوں پر فوقیت عطافرمائی تھی اور انھیں چناتھا اور انھیں تمام آفات سے حفاظت عطافرمائی تھی، اور میں (ان ہی کے) پیچھے چلنے والاہوں اپنی طرف سے نئی چیزیں گھڑنے والا نہیں ہوں۔ اگر میں سیدھا چلوں تو تم میرے پیچھے چلو اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو تم لوگ مجھے سیدھا کردو۔ حضورﷺ کی شان تو یہ تھی کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو اس وقت اُمّت میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں تھا جو کوڑے کی ماریا اس سے بھی کم ظلم کا مطالبہ کررہاہو۔
غورسے سنو! میرے ساتھ بھی ایک شیطان لگاہواہے جو میرے پاس آتارہتاہے۔ جب وہ میرے پاس آئے تو مجھ سے تم لوگ الگ ہوجائو کہیں میں تمہاری کھالوں اور بالوں کو تکلیف نہ پہنچادوں۔تم لوگ صبح اور شام اس موت کے منہ میں ہو جس کا تمھیں علم نہیں کہ کب آ جا ئے گی۔تم اس کی پوری کوشش کرو کہ جب بھی تمہاری موت آئے تو تم اس وقت نیک عمل میں لگے ہوئے ہو اور تم ایسا صرف اللہ کی مدد سے ہی کر سکتے ہو۔ لہٰذا جب تک موت نے مہلت دے رکھی ہے اس وقت تک تم لوگ نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، اس سے پہلے کہ موت آ جائے اور عمل کر نے کا موقع نہ رہے،کیوںکہ بہت سے لوگوں نے موت کو بھلا رکھا ہے اور اپنے اعمال دوسروں کے لیے کردیے ہیں، لہٰذا تم ان جیسے نہ بنو۔ خوب کوشش کرو اور مسلسل کوشش کرو اور (سستی سے کام نہ لو بلکہ) جلدی کرو اور جلدی کرو، کیوںکہ موت تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے جو تمھیں تلاش کر رہی ہے اور اس کی رفتار بہت تیزہے، لہٰذا موت سے چوکنّے رہو اور آباء واَجداد، بیٹوں اور بھائیوں(کی موت) سے عبرت حاصل کرو۔ زندہ لوگوں کے ان نیک اعمال پر رشک کرو جن پر تم مُردوں کے بارے میںرشک کرتے ہو، یعنی دنیاوی چیزوں میں زندہ لوگوں پر رشک نہ کرو۔1
حضرت سعید بن ابی مریم کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے تو آپ منبر پر تشریف فرماہوئے۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
اللہ کی قسم! اگر ہمارے ہوتے ہوئے تمہارے اجتماعی کاموں کے خراب ہوجانے کا خطرہ نہ ہوتاتو (میں خود خلیفہ نہ بنتا،بلکہ) میں یہ چاہتا کہ جو تم میں سے مجھے سب سے زیادہ مبغوض ہے اس کی گردن میں اس امرِخلافت کی ذمہ داری ڈال دی جاتی پھر اس کے لیے اس میں کوئی خیر نہ ہوتی۔ غور سے سنو! دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ بدبخت لوگ بادشاہ ہیں۔
اس پر تمام لوگوں نے گردنیں بلند کیں اور سر اٹھا کر حضرت ابوبکر کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر حضرت ابوبکر نے فرمایا:
تم لوگ اپنی جگہ آرام سے بیٹھے رہو،تم لوگ جلدباز ہو۔ جو بھی کسی ملک کا بادشاہ بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بادشاہ بنانے سے پہلے اس کے ملک کو جانتے ہیں، اوربادشاہ بن جانے پر اس کی آدھی عمر کم کر دیتے ہیں، اور اس پر خوف اور غم مسلط کردیتے ہیں، اور جو کچھ خود اس کے اپنے پاس ہے اس سے اس کا دل ہٹا دیتے ہیں، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کا لالچ اس میں پیداکردیتے ہیں، وہ چاہے کتنے اچھے کھانے کھائے اور عمدہ کپڑے پہنے، لیکن اس کی زندگی تنگ ہو گی سکھ چین اسے نصیب نہ ہو گا۔ پھر جب اس کا سایہ ختم ہوتا ہے اور اس کی جان نکل جاتی ہے اور اپنے ربّ کے پاس پہنچ جاتاہے، تو وہ اس سے سختی سے حساب لیتا ہے اور اس کی بخشش کا امکان بہت کم ہوتاہے، بلکہ اس کی بخشش ہی نہیں ہوتی۔ غورسے سنو! مسکین لوگوںکی ہی مغفرت ہوتی ہے۔ غور سے سنو! مسکین لوگوں کی ہی مغفرت ہوتی ہے۔غور سے سنو! مسکین لوگوں کی ہی مغفرت ہوتی ہے۔1
حضرت عبداللہ بن عُکَیمکہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابوبکر ؓنے ہم لوگوں میں بیان فرمایا تو اس میں ارشاد فرمایا:
امابعد! میں تمھیں اس بات کی وصیت کر تا ہوں کہ تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی شایانِ شان تعریف کرو۔ اور اللہ کے عذاب کا خوف تو ہوناچاہیے،لیکن ساتھ کے ساتھ اس کی رحمت کی اُمید بھی رکھو اور اللہ سے خوب گڑگڑا کر مانگو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا ؑ اور ان کے گھر والوں کی قرآن میں تعریف فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے:
{اِنَّہُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَہَبًاط وَکَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ آیت کا نشان}2
یہ سب نیک کا موں میں دوڑ تے تھے اور اُمید وبیم کے ساتھ ہماری عبادت کیا کر تے تھے اور ہمارے سامنے دب کر رہتے تھے۔
پھر اے اللہ کے بندو! تم یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بدلہ میں تمہاری جانوں کو گروی رکھاہوا ہے،اور اس پر اللہ نے تم سب سے پختہ عہد لیا ہواہے، اور اس نے تم سے (دنیاکے) تھوڑے اور ختم ہو جانے والے مال اور سامان کو (آخرت کے) زیادہ اور ہمیشہ رہنے والے اجر کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔ اور یہ تم میں اللہ کی کتاب ہے جس کے عجائب ختم نہیں ہوسکتے اور اس کا نور کبھی بجھ نہیں سکتا، لہٰذااس کتاب کے ہر قول کی تصدیق کرو اور اس سے نصیحت حاصل کرو اور اندھیرے والے دن کے لیے اس میں سے روشنی حاصل کرو۔ اللہ نے تمھیں صرف عبادت کے لیے پیداکیاہے اور لکھنے والے کریم فرشتوں کو تم پر مقرر کیا ہے، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔
پھر اے اللہ کے بندو! یہ بھی جان لو کہ تم صبح اور شام اس موت کی طرف بڑھ رہے ہو جس کا وقت مقررہے لیکن تمھیں وہ بتایا نہیں گیا۔ تم اس کی پوری کوشش کرو کہ جب تمہاری عمر کا آخری وقت آئے تو تم اس وقت اللہ کے کسی عمل میں لگے ہوئے ہو اور ایسا تو تم صرف اللہ کی مدد سے ہی کر سکتے ہو۔ لہٰذا عمر کے پورے ہو نے سے پہلے تمھیں جو مہلت ملی ہوئی ہے اس میں نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، ورنہ تمھیں اپنے برے اعمال کی طرف جاناپڑے گا، کیوںکہ بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو بھلارکھاہے اور اپنی عمر دوسروں کو دے دی ہے، یعنی اپنے ایمان وعمل کی انھیں کوئی فکر نہیں ہے، میں تمھیں ان جیسا بننے سے سختی سے روکتا ہوں، جلدی کرو کیوںکہ تمہارے پیچھے موت کا فرشتہ لگا ہوا ہے جو تمھیں تیزی سے تلاش کررہاہے اس کی رفتار بہت تیزہے۔1
حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابوبکر ؓ نے بیان فرمایا: اس میں ارشاد فرمایا:
تمہارے فقر و فاقہ کی وجہ سے میں تمھیں اس بات کی وصیت کر تا ہوں کہ تم اللہ سے ڈرو اور اس کی شان کے مطابق اس کی تعریف کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو،کیوںکہ وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے۔
اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عکیم والی پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا اور مزید یہ مضمون ذکرکیا کہ
تم اس بات کو بھی جان لو کہ جو عمل تم خالص اللہ کے لیے کرو گے تو اس طرح تم اپنے ربّ کی اطاعت کرو گے اور اپنے حق کو محفوظ کرلوگے، لہٰذا تم اپنے قرضہ دینے کے زمانہ میں یعنی دنیاوی زندگی میں جو تم نے کمایاہے وہ سب (اللہ کو) دے دو اور اپنے سامنے ان کو بطورِ نوافل کے رکھو (یعنی جتنا مال خرچ کرنا فرض ہے وہ تو خرچ کرناہی ہے مزید اور بھی خرچ کرو)۔ اس طرح تمھیں شدید ضرورت کے وقت اور عین محتاجی کے زمانے میں اپنی اُن کمائیوں کا اور دیے ہوئے اپنے قرضوں کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
پھر اے اللہ کے بندو! ان لوگوں کے بارے میں سوچو جو تم سے پہلے دنیا میں تھے، وہ کل کہاں تھے اور آج کہاں ہیں؟ وہ بادشاہ کہاں ہیں جنھوں نے زمین کو خوب بویا اور جَوتا تھا، خوب کھیتی باڑی کی تھی، اور سامان اور تعمیرات سے زمین کو خوب آباد کیاتھا؟ آج سب لوگ انھیں بھول چکے ہیں اور ان کا تذکرہ تک بھلایاجاچکا ہے، لہٰذا آج وہ ایسے ہیں جیسے کہ وہ کچھ بھی نہ تھے، اور ان کے کفروظلم کی وجہ سے اُن کے گھر اور شہر ویران پڑے ہیں،اور وہ بادشاہ خود اس وقت قبر کی تاریکیوں میں ہیں۔ کیا تم ان ہلاک ہونے والوں میں سے کسی کودیکھتے ہو یا ان میں سے کسی کی ہلکی سی بھی آواز سنتے ہو؟ تمہارے وہ ساتھی اور بھائی آج کہاں ہیں جن کو تم پہچانتے تھے؟ وہ ان اعمال کے بدلے کی جگہ پر پہنچ گئے ہیں جو انھیں نے آگے بھیجے تھے اور بدبختی یا نیک بختی دونوں میں سے کسی ایک کی جگہ میں پہنچ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اور اس کی کسی مخلوق کے درمیان کوئی ایسا نسب کارشتہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اللہ اسے خیر دے اور اس سے برائی کو دور کرے۔ اللہ سے یہ باتیں تو صرف اس کی اِطاعت اور اس کے حکم کے پیچھے چلنے سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔وہ راحت راحت نہیں ہے جس کے بعد جہنم ہو اور وہ تکلیف تکلیف نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ میں اسی پر بات ختم کرتاہوں، اور اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔1
حضرت نُعَیم بن نمحہ حضرت عبداللہ بن عکیم جیسی حدیث میں حضرت ابوبکر ؓ کا بیان نقل کر تے ہیں اور مزید یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا:
اس قول میں کوئی خیر نہیں جس سے اللہ کی رضامقصود نہ ہو اور اس مال میں کوئی خیر نہیں جسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کیا جائے اور اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جس کی نادانی اس کی بردباری پر غالب ہو اور اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو اللہ کے معاملے میں ملامت کر نے والوں کی ملامت سے ڈرے۔2
حضرت عاصم بن عدی نے پہلے دوسرا بیان نقل کیا جسے ہم نے ابھی ذکر کیا،پھر حضرت عاصم کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ بیان کے لیے کھڑے ہوئے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:
اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کر تے ہیں جس سے مقصود صرف ان کی ذاتِ عالی ہو، لہٰذا تم اپنے اعمال سے صرف اسی کی ذات کو مقصود بنائو اور اس کا یقین رکھو کہ تم جو عمل خالص اللہ کے لیے کرو گے تو یہ ایک نیکی ہے جو تم نے کی ہے اور بڑا حصہ ہے جسے حاصل کر نے میں تم کا میاب ہوگئے ہو، اور یہ تمہاری ایسی آمدنی ہے جو تم نے (اللہ کو) دے دی ہے، اور یہ قرض ہے جو تم نے فانی دنیاکے دنوں سے لے کر ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کے لیے آگے بھیج دیاہے، اور یہ قرض تمھیں اس وقت کام آئے گا جب تمھیں اس کی سخت ضرورت ہوگی۔
اے اللہ! کے بندو! جو تم میں سے مرگئے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو، اور جو تم سے پہلے تھے ان کے بارے میں غور کرو کہ وہ کل کہاں تھے اور آج کہاں ہیں؟ ظالم اور جابر لوگ کہاں ہیں؟ اور وہ لوگ کہاں ہیں جن کے میدانِ جنگ میں لڑنے اور غلبہ پالینے کے تذکرے ہوتے تھے؟ زمانے نے ان کو ذلیل کر دیا، آج ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی ہیں اور اب تو ان کے تذکرے بھی ختم ہوگئے ہیں۔ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں۔اور وہ بادشاہ کہاں ہیں جنھوں نے زمین کو خوب بویا اور جَوتا تھا اور اسے ہر طرح آباد کیا تھا؟ اب وہ ہلاک ہوچکے ہیں اور ان کا تذکرہ بھی لوگ بھول چکے ہیں اور ایسے ہو گئے ہیں جیسے کہ وہ کچھ نہیں تھے۔
غور سے سنو! اللہ نے ان کی خواہشات کا سلسلہ تو (موت کے ذریعے سے) ختم کردیاہے، لیکن گناہوں کی سزا کا سلسلہ باقی رکھا ہوا ہے۔وہ دنیا سے جاچکے اور انھوں نے جو عمل کیے تھے وہ تو اب ان کے ہیں، لیکن جو دنیا اُن کے پاس تھی اب وہ دوسروں کی ہوگئی ہے۔اب ہم ان کے بعد آئے ہیں، اگر ہم ان سے عبرت حاصل کریںگے تو نجات پالیںگے اور اگر ہم دھو کے میں پڑے رہے تو ہم بھی اُن جیسے ہوجائیںگے۔ کہاں ہیں وہ حسین و جمیل لوگ جن کے چہرے خوب صورت تھے اور وہ اپنی جوانی پر اکڑتے تھے اب وہ مٹی ہوچکے ہیں؟ اور جن اعمال کے بارے میں انھوں نے کمی بیشی کی تھی اب وہ اعمال ان کے لیے حسرت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جنھوں نے بہت سے شہر بنائے تھے اور شہروں کے ارد گرد بڑی مضبوط دیواریں بنائی تھیں اور ان میں عجیب وغریب چیزیں بنائی تھی، اور بعد میں آنے والوں کے لیے وہ ان شہروں کو چھوڑ کر چلے گئے اور اب اُن کے رہنے کی جگہیں ویران پڑی ہوئی ہیں اور وہ خود قبر کی اندھیریوں میں ہیں۔
کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا اُن کی ہلکی سی بھی آواز سنتے ہو؟ تمہارے وہ بیٹے اور بھائی کہاں ہیں جنھیں تم پہچانتے ہو؟ ان کی عمریں ختم ہو گئیں اور جو اعمال انھوں نے آگے بھیجے تھے اب وہ ان اعمال کے پاس پہنچ گئے ہیں اور وہاں ٹھہر گئے ہیں اور موت کے بعد بد بختی یا نیک بختی والی جگہ ان کو مل گئی ہے۔
غور سے سنو!اللہ کا کوئی شریک نہیں۔اللہ کے اور اس کی کسی مخلوق کے درمیان کوئی ایسا خاص تعلق نہیں ہے جس کی وجہ سے اللہ اسے خیر دے اوراس سے برائی کوہٹا دے، اللہ سے تعلق تو صرف اِطاعت سے اور اس کے حکم کے پیچھے چلنے سے بنتا ہے۔ اور اس بات کو جان لو کہ تم ایسے بندے ہو جنھیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ صرف اس کی اِطاعت سے حاصل ہوسکتا ہے۔ غور سے سنو! وہ راحت راحت نہیں جس کے بعد جہنم ہو اور وہ تکلیف تکلیف نہیں جس کے بعد جنت ہو۔1
حضرت موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق ؓ بیان میں اکثر یہ فرمایا کرتے تھے کہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔میں اللہ کی تعریف کرتاہوں اور ہم اس سے مدد مانگتے ہیں اور موت کے بعد کے اکرام کا اس سے سوال کر تے ہیں، کیوںکہ میری اور تمہاری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوںکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور حضرت محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں جنھیں اللہ نے حق دے کر خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا، تاکہ جو شخص زندہ ہے وہ اسے ڈرائیں اور کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہو جا ئے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ ہوگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔
میں آپ لوگوں کو اس بات کی وصیت کر تا ہوں کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے اس دین کو مضبوطی سے پکڑو جو اس نے تمہارے لیے شریعت بنایا اور جس کی اس نے تمھیں ہدایت دی۔ اور کلمۂ اخلاص (لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ) کے بعد ہدایتِ اسلام کی جامع بات یہ ہے کہ اس آدمی کی بات سنی اور مانی جائے جس کو اللہ نے تمہارے تمام کاموں کا والی اور ذمہ دار بنایاہے۔ جس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے والی اور ذمہ دار کی اطاعت کی وہ کامیاب ہوگیا،جو حق اس کے ذمہ تھا وہ اس نے اداکردیا۔
اور اپنی خواہش کے پیچھے چلنے سے بچو اور جو آدمی خواہش کے پیچھے چلنے سے، لالچ میں پڑنے سے اور غصہ میں آنے سے محفوظ رہا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور اِترانے سے بچو اور اس انسان کا کیا اتر انا جو مٹی سے بنا ہے اور عن قریب مٹی میں چلا جائے گا پھر اِسے کیڑے کھا جائیں گے۔ آج وہ زندہ ہے اور کل وہ مرا ہوا ہوگا۔ ہر روز اور ہر گھڑی عمل کرتے رہو۔ اور مظلوم کی بددعا سے بچو اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو اور صبر کرو، کیوںکہ ہر عمل صبر کے ذریعے ہی ہوتاہے۔ اور چوکنّے رہو، کیوںکہ چوکنا رہنے سے فائدہ ہو تا ہے،اور عمل کر تے رہو،کیوںکہ عمل ہی قبول ہو تے ہیں۔ اور اللہ نے اپنے جس عذاب سے ڈرا یا ہے اس سے ڈرتے ہو اور اللہ نے اپنی جس رحمت کا وعدہ کیا ہے اسے حاصل کرنے میں جلدی کرو۔
سمجھنے کی کوشش کرو اللہ تمھیں سمجھا دے گا اور بچنے کی کوشش کرو اللہ تمھیں بچادے گا، کیوںکہ اللہ نے وہ اعمال بھی تمہارے سامنے بیان کردیے ہیں جن کی وجہ سے تم سے پہلے لوگوں کو اللہ نے ہلاک کیا ہے اور وہ اعمال بھی بیان کردیے ہیں جن کی وجہ سے نجات پانے والوں کو نجات ملی۔ اور اللہ نے اپنی کتاب میں اپنا حلال اور حرام، اور پسندیدہ اور ناپسند اعمال سب بیان کردیے ہیں۔ اور میں تمہارے بارے میں اور اپنے بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا، اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے، اور بُرائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی سے ملتی ہے۔
اور تم اس بات کو جان لو کہ تم عمل خالص اللہ کے لیے کروگے تو اس طرح تم اپنے ربّ کی اطاعت کروگے اور (آخرت میں اجر و ثواب کے) اپنے بڑے حصے کو محفوظ کرلو گے اور قابلِ رشک بن جائوگے۔ اور جو اعمال تم نے فرائض کے علاوہ کیے ہیں انھیں اپنے آگے کے لیے نفل بنالو، اس طرح تم جو اللہ کو اعمال کاقرضہ دوگے اس قرضہ کا تمھیں آخرت میں پورا پورا بدلہ ملے گا جب کہ تمھیں اس کی شدید ضرورت ہوگی۔ پھر اے اللہ کے بندو!اپنے ان بھائیوں اور ساتھیوں کے بارے میں سوچو جو دنیا سے جا چکے ہیں، جو اعمال انھوں نے آگے بھیجے تھے اب وہ ان اعمال کے پاس پہنچ گئے ہیں اور وہاں ٹھہر گئے ہیں، اور موت کے بعد بدبختی اور خوش قسمتی کی جگہ میں پہنچ گئے ہیں۔ اللہ کا کوئی شریک نہیں، اللہ کے اور اس کی کسی مخلوق کے درمیان کوئی نسب کا رشتہ نہیں جس کی وجہ سے اللہ اسے کوئی خیردے یا اس سے کوئی برائی ہٹادے، بلکہ یہ باتیں تو صرف اللہ کی اطاعت سے اور اس کے حکم کے پیچھے چلنے سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ اور وہ راحت راحت نہیں جس کے بعد جہنم کی آگ ہو اور وہ تکلیف تکلیف نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ میں اسی پر بات ختم کرتاہوں، اور میں تمہارے لیے اور اپنے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتاہوں، اور اپنے نبی پر درود بھیجو۔
صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ، وَالسَّلَامُ عَلَیہِ وَرَحمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔1
حضرت یزید بن ہارون کہتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا اور اس میں ارشاد فرمایا کہ
ایک ایسے بندے کو قیامت کے دن لایاجائے گا جسے اللہ نے دنیا میں بہت نعمتیں دی تھیں اور اسے رزق میں خوب وسعت دی تھی اور اسے جسمانی صحت کی نعمت بھی دی تھی، لیکن اس نے اپنے ربّ کی ناشکری کی تھی۔ اسے اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم نے آج کے دن کے لیے کیا کیا اور اپنے لیے کون سے عمل آگے بھیجے؟ وہ کو ئی نیک عمل آگے بھیجا ہوا نہیں پائے گا، اس پر وہ رونے لگے گا اور اتنا روئے گاکہ آنسو ختم ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اَحکام ضائع کرنے کی وجہ سے اسے شرم دلائی جائے گی اور رسوا کیا جا ئے گا،اس پر وہ خون کے آنسو رونے لگے گا۔ پھر اسے شرم دلائی جا ئے گی اور رسوا کیا جائے گا جس پر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت کھاجائے گا۔ پھر اللہ کے اَحکام ضائع کرنے پر اسے شرم دلائی جائے گی اور رسوا کیا جائے گا جس پر وہ اونچی آواز سے روئے گا، اور اس کی آنکھیں نکل کر اس کے رخساروں پر آگریں گی، اور دونوں آنکھوں میں سے ہر آنکھ تین میل لمبی اور تین میل چوڑی ہوگی۔ پھر اسے شرم دلائی جائے گی اور رسوا کیا جا ئے گا یہاں تک کہ وہ پریشان ہو کر کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے دوزخ میں بھیج دے اور مجھ پر رحم فرماکر مجھے یہاں سے نکال دے اور اسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے:
{اَنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیْھَا ط ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ آیت کا نشان}1
جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا (جیسا یہ لوگ کررہے ہیں) تو یہ بات ٹھہرچکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہو گی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی ہے۔2
حضرت محمد بن ابراہیم بن حارث کہتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا:
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے!اگر تم تقویٰ اور پاک دامنی اختیار کرو تو تھوڑا عرصہ ہی گزرے گا کہ تمھیں پیٹ بھر کر روٹی اور گھی ملنے لگے گا۔3
حضرت عروہ بن زبیرؓ فر ما تے ہیں: حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے ایک مرتبہ لوگوں میں بیان فرمایا، اس میں ارشاد فرمایا:
اے مسلمانوں کی جماعت! اللہ عز وجل سے حیا کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جب میں قضائے حاجت کے لیے جنگل جاتاہوں تو میں اپنے ربّ سے حیا کی وجہ سے اپنے اوپر کپڑا اوڑھے رہتا ہوں۔4
حضرت ابنِ شہاب کہتے ہیں: حضرت ابوبکرؓ نے ایک دن بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اللہ سے حیا کرو، کیوںکہ اللہ کی قسم! جب سے میں حضورﷺ سے بیعت ہوا ہوں اس وقت سے جب بھی قضائے حاجت کے لیے باہر جاتاہوں تو اپنے ربّ سے حیا کی وجہ سے میں اپنا سر کپڑے سے ڈھانکے رکھتاہوں۔1
حضرت ابوبکرؓ ایک دن منبر پر کھڑے ہوئے تو رو نے لگے، پھر فرمایا:
پچھلے سال حضورﷺ ہم میں بیان کرنے کے لیے منبر پر کھڑے ہوئے تو رو نے لگے اور ارشاد فرمایا: اللہ سے معافی بھی مانگو اور عافیت بھی، کیوںکہ کسی آدمی کو ایمان ویقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی نعمت نہیں دی گئی، یعنی سب سے بڑی نعمت تو ایمان و یقین ہے اور اس کے بعد عافیت ہے۔2
حضرت اَوس کہتے ہیں: ایک دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا:
پچھلے سال حضورﷺ نے میری اسی جگہ کھڑے ہو کر بیان فرمایاتھا، اس میں ارشاد فرمایاتھا: اللہ سے عافیت مانگو،کیوںکہ کسی کو یقین کے بعد عافیت سے افضل نعمت نہیں دی گئی۔ اور سچ کو لازم پکڑے رہو، کیوںکہ سچ بولنے سے آدمی نیک اعمال تک پہنچ جاتاہے۔ سچ اور نیک اعمال جنت میں لے جاتے ہیں۔ اور جھوٹ سے بچو،کیوںکہ جھوٹ بولنے سے آدمی فِسْق و فُجور تک پہنچ جاتا ہے۔ اور جھوٹ اور فسق و فجور دوزخ میں لے جا تے ہیں۔ آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور جیسے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ 3
حضرت ابوبکر بن محمد بن عمر و بن حزم کہتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا اور اس میں ارشاد فرمایا:
حضورﷺ نے فرمایا: نفاق والے خشوع سے اللہ کی پناہ مانگو۔ صحابہؓ نے پوچھا: یارسول اللہ! نفاق والا خشوع کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دل میں تو نفاق ہو، لیکن ظاہرِ بدن میں خشوع ہو۔4
حضرت ابوالعالیہکہتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ہم میں بیان فرمایا اور اس میں ارشاد فرمایا:
حضور ﷺ نے فرمایا: مسافر (چار رکعت والی نماز کو) دو رکعت پڑھے گا اور مقیم چار رکعت پڑھے گا۔ میری پیدایش کی جگہ مکہ ہے اور میری ہجرت کی جگہ مدینہ ہے، اور جب میں ذوالحُلیفہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوتاہوں تو دو رکعت نماز پڑھتاہوں۔1
حضرت ابوضمرہ کہتے ہیں: حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:
عن قریب تمہارے لیے ملکِ شام فتح کردیا جائے گا، پھر تم وہاں نرم زمین میں جائو گے، اور روٹی اور تیل سے اپنا پیٹ بھروگے، اور وہاں تمہارے لیے مسجدیں بنائی جائیں گی، اور اس بات سے بچنا کہ اللہ کے علم میں یہ بات آئے کہ تم لوگ کھیل کود کے لیے ان مسجدوں میں جاتے ہو، کیوںکہ مسجدیں تو صرف ذکرکے لیے بنائی گئی ہیں۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر ؓ ہم میں بیان فرماتے تو انسان کی پیدایش کی اِبتدا کا تذکرہ کرتے اور فرماتے: انسان پیشاب کی نالی سے دو دفعہ گزر کر پیدا ہوا ہے۔اور اس کا اس طرح تذکرہ کرتے کہ ہم اپنے آپ کو ناپاک سمجھنے لگے۔3
جہاد کے باب میں مرتدین سے جنگ کی ترغیب کے بارے میں اور جہاد کی ترغیب کے بارے میں اور روم سے غزوہ کرنے کے لیے جانے کے بارے میں اور صحابۂ کرامؓ کے ملکِ شام جانے کے وقت حضرت ابوبکر ؓ کے بیانات گزر چکے ہیں، اور صحابۂ کرام کے باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کے اہتمام کے باب میں آپس کے انتشار سے ڈرانے اور حضور ﷺ کی وفات کے واقع ہوجانے اور حضورﷺ کے دین کو مضبوطی سے پکڑنے اور خلافت میں قریش کو ترجیح دینے اور خلافت قبول کرنے سے عذر پیش کرنے اور بیعت مسلمانوں کو واپس کرنے اور خلیفہ کی صفات کے بارے میں حضرت ابوبکر ؓ کے بیانات گزر چکے ہیں، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں آیت {لَایَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ}1 کی تفسیر کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ کا بیان گزر چکا ہے۔