صحابہ کرام ؓ کے بیانات

بیان کے وقت نبی کریم ﷺ کی حالت

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب لوگوں میں بیان فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آواز بلند ہوجاتی اور غصہ تیز ہو جاتا جیسے کہ آپ لوگوں کو دشمن کے لشکر سے ڈرا رہے ہوں اور فرمارہے ہوں کہ دشمن کا لشکر تم پر صبح حملہ کر نے والاہے شام کو حملہ کرنے والاہے۔ پھر شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر ارشاد فرماتے: مجھے اور قیامت کو اس طرح ملا کر بھیجا گیا ہے۔ پھر فرماتے:سب سے بہترین سیرت محمد(ﷺ) کی سیرت ہے، اور سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے ایجاد کیے گئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور جو مرجائے اور مال چھوڑ کر جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرضہ یا چھوٹے بچے چھوڑ کر جائے جنھیں سنبھالنے والا کو ئی نہ ہو تو وہ میرے ذمہ ہیں، وہ قرضہ میں ادا کروںگا اور ان بچوں کو میں سنبھالوںگا۔2