صحابہ کرام ؓ کے بیانات
حکا م اور صَدَ قات کی وصولی کا کام کرنے والوں کے بارے میں حضورﷺ کا بیان
حضرت ابو سعید ؓ فر ماتے ہیں: ایک مر تبہ حضو رﷺ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا اور اس بیان میں یہ ارشاد فرمایا:
غور سے سنو! قریب ہے کہ مجھے (اس دنیا سے) بلالیا جائے اور میں یہاں سے چلا جائوں۔ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حاکم بنیں گے جو ایسے عمل کریں گے جنھیں تم جا نتے پہچا نتے ہو، اُن کی اطاعت صحیح اور اصل اطاعت ہے۔ کچھ عرصہ ایسا ہی ہوگا لیکن اس کے بعد ایسے لوگ تمہارے حاکم بن جائیں گے جو ایسے عمل کریں گے جنھیں تم جانتے پہچانتے نہیں ہو۔ جواُن کی قیادت (غلط کاموں میں) کرے گا اور (دنیاوی کاموں میں) ان کا فائدہ چاہے گا وہ خود بھی برباد ہوگا اور دوسروں کو بھی برباد کرے گا۔ جسمانی طور پر تو تم ان سے ملے جلے رہو، لیکن غلط اعمال میں تم ان سے الگ رہو۔ البتہ ان میں سے جو اچھے عمل کرے تم اس کے اچھے عمل کر نے کی گو اہی دو، جو بُرے عمل کرے تم اس کے بُرے عمل کرنے کی گواہی دو۔1
حضرت ابو حُمید ساعدی ؓ فر ما تے ہیں: حضورﷺ نے ایک آدمی کو صَدَقات (عشر، زکوٰۃ) وصول کرنے کے لیے بھیجا۔وہ اپنے کا م سے فارغ ہو کر حضورﷺ کی خد مت میں آیا اور کہنے لگا: یارسول اﷲ! یہ مال اور جانور تو آپ کے ہیں، اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے۔ حضور ﷺ نے اس سے فرمایا: تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھ کر کیوں نہیں دیکھ لیتے کہ تمھیں ہدیے ملتے ہیں یا نہیں۔ پھر شام کو حضورﷺبیا ن کے لیے کھڑے ہوئے،پہلے کلمۂ شہا دت پڑھا،پھر اﷲ کے شایانِ شان تعریف کی، پھر فرمایاـ: اما بعد! صدقا ت کی وصولی کے لیے جانے والے کو کیا ہوا؟ہم اسے صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجتے ہیں وہ واپس آکر ہمیں کہتا ہے:یہ تو آپ لو گوں کے کام کی وجہ سے ملا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میںملا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھ کر کیوں نہیں دیکھ لیتا کہ اسے ہدیے ملتے ہیں یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے! تم میں سے جو آدمی بھی صدقات کے مال میں سے تھوڑی سی بھی خیانت کرے گا اور صدقات کے جانوروں میں سے کچھ بھی لے لے گا، وہ اسے اپنی گردن پر اٹھا ئے ہوئے قیامت کے دن لائے گا۔ اونٹ، گائے اور بکری جو لیا ہو گا اسے گردن پر اٹھا کر لا ئے گا، اور ہر جا نور اپنی آواز نکال رہا ہوگا۔میں نے (تمھیں اﷲکا پیغام) پہنچا دیا ہے۔
حضرت ابو حُمید ؓ فر ماتے ہیں: پھر حضورﷺنے اپنا ہا تھ اتنا اوپر اُٹھایا کہ ہمیں آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ یہ بیان میرے ساتھ حضرت زید بن ثابتؓ نے حضور ﷺ سے سنا ہے اس لیے ان سے بھی پو چھ لو۔1