صحابہ کرام ؓ کے بیانات
حضرت محمد رسول ا ﷲ ﷺ کا پہلا بیان
حضرت ابو سَلَمَہ بن عبدالرحمن بن عوف فر ماتے ہیں: حضورﷺ نے مدینہ میں سب سے پہلا بیان فر مایا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ آپ نے کھڑے ہو کر پہلے اﷲ کی شان کے مطا بق حمد و ثنا بیان کی، پھر فر مایا:
اما بعد، اے لوگو! اپنے لیے (آخرت میں کا م آنے کے لیے نیک اعمال کا ذخیرہ) آگے بھیجو۔تم اچھی طرح جان لو! تم میں سے ہر آدمی نے ضرور مر نا ہے اور اپنی بکریاں بغیر چرواہے کے چھوڑ کر چلے جانا ہے۔ پھر اس کے اور اس کے ربّ کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا اور نہ کوئی دربان، اور اس کا ربّ اس سے پوچھے گا: کیا میرے رسول نے تیرے پا س آکر میرا دین نہیں پہنچا یا تھا؟ کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر فضل و احسان نہیں کیا تھا؟ اب بتا تو نے اپنے لیے یہاں آگے کیا بھیجا ہے؟ چناںچہ وہ دائیں بائیں دیکھے گا تو اسے کوئی چیز نظر نہ آئے گی۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم کے سوا اورکچھ نظر نہ آئے گا۔ لہٰذا تم میں سے جو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی بچا سکتا ہے اسے چا ہیے کہ وہ یہ ٹکڑا دے کر ہی خود کو بچالے۔ اور جسے اور کچھ نہ ملے تو وہ اچھی بات بول کر ہی خود کو بچالے، کیوںکہ آخرت میں نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سا ت سو گنا تک ملے گا۔
وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔
حضور ﷺ نے ایک مرتبہ پھر بیان فر مایا اور ارشاد فر مایا:
بات یہ ہے کہ تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں، میں اس کی تعریف کر تا ہوںاور اس سے مدد طلب کرتا ہوں۔ ہم اپنے نفس کے اور برے اعمال کے شر ور سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں۔جسے اﷲ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر ے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کو ئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شر یک نہیں۔سب سے اچھا کلام اﷲ کی کتاب ہے۔وہ آدمی کا میاب ہوگیا جس کے دل کو اﷲ نے قرآن سے مزیّن کیا اور اسے کفر کے بعد اسلام میں داخل کیا اور اس آدمی نے با قی تمام لوگوں کے کلام کو چھوڑکر اﷲ کی کتاب کو اختیار کیا۔یہ اﷲ کی کتاب سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ بلیغ کلام ہے۔ جو اﷲ سے محبت کرے تم اس سے محبت کرو اور تم اﷲ سے محبت اس طرح کرو کہ سا رے دل میں رَچ جائے۔اور اﷲ کے کلام اور اس کے ذکر سے مت اُکتاؤاور قرآن سے اِعراض نہ کرو ورنہ تمہارے دل سخت ہو جائیں گے، کیوںکہ اﷲ تعالیٰ(اعمال میں سے) جو کچھ پیدا کر تے ہیں اس میں سے بعض(اعمال) کوچن لیتے ہیں پسند کرلیتے ہیں۔ چناںچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتا ب کا نام پسندیدہ عمل،پسندیدہ عبادت، نیک کلام اور لوگوں کو حلال و حرام والا جو دین دیا گیا ہے اس میں سے نیک عمل رکھا ہے۔ لہٰذا تم اﷲ کی عبادت کرواور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ اور اس سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور تم لوگ اپنے منہ سے جو نیک اور بھلی باتیں بولتے ہو ان میں تم اﷲ سے سچ کہو اور اﷲ کی رحمت کی وجہ سے تم ایک دوسرے سے محبت کرو۔ اﷲ تعا لیٰ اس بات سے ناراض ہوتے ہیں کہ ان سے جو عہد کیا جائے اسے توڑا جائے۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔1