صحابہ کرام ؓ کا ذکر
حضور ﷺ کی وہ دعائیں جن کا وقت مقرر نہیں تھا
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی۔
اے اﷲ!میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ،پاک دامنی اور دل کا غنا مانگتا ہوں۔2
حضرت ابو موسیٰ اَشعریؓفرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ خَطِیْئَتِيْ وَجَھْلِيْ وَإِسْرَافِيْ فِيْ أَمْرِيْ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّيْ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ جِدِّيْ وَھَزْلِيْ وَخَطَئِيْ وَعَمَدِيْ وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِيْ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔
اے اﷲ! میری خطا اور میرے نادانی والے کام اور کاموں میںمیرا حد سے بڑھ جانا اور وہ گناہ جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما، اور میرے وہ گناہ جو سچ مچ ارادہ سے سر زد ہوئے یا ہنسی مذاق میں ہوگئے یا غلطی سے ہوگئے یا جان بوجھ کر قصداًکیے وہ سب معاف فرما، اور یہ سب طرح کے گناہ میرے پاس ہیں۔ اے اللہ! میرے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما، اور جو گناہ چھپ کر کیے اور جو علی الاعلان کیے وہ بھی معاف فرما، اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے وہ بھی معاف فرما، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 3
حضرت ابو ہریرہؓفرماتے ہیں: حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ أَصْلِحْ لِيْ دِیْنِيَ الَّذِيْ ھُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِيْ، وَأَصْلِحْ لِيْ دُنْیَايَ الَّتِيْ فِیْھَا مَعَاشِيْ، وَأَصْلِحْ لِيْ اٰخِرَتِيَ الَّتِيْ فِیْھَا مَعَادِيْ، وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِّيْ فِيْ کُلِّ خَیْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّيْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ۔
اے اﷲ! میرا وہ دین سنوار دے جس سے میرے تمام کاموں کی حفاظت ہوتی ہے اور میری وہ دنیا درست فرما دے جس سے میری معا ش کا تعلق ہے اور میری آخرت کو بھی ٹھیک کر دے جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے اور زندگی کو میرے لیے ہر خیر میں بڑھنے کا ذریعہ بنا اور موت کو میرے لیے ہرشر سے راحت پانے کا ذریعہ بنا۔ 1
حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں: حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ اٰمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ۔ اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِعِزَّتِکَ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِيْ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ یَمُوْتُوْنَ۔
اے اﷲ!میں تیرا فرماںبردار ہوگیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور تیری طرف ہی متوجہ ہوا اور تیری مدد سے ہی میں نے اہلِ باطل سے جھگڑا کیا۔ اے اﷲ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی وہ ذات ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گی اور اسے موت نہیں آئے گی، باقی تمام جنات اور انسان ایک دن مر جائیں گے۔ 2
حضرت اُمِ سَلَمہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
اے دلوں کو پلٹنے والے!میرے دل کو اپنے دین پر جما ئے رکھ۔3
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ عَافِنِيْ فِيْ جَسَدِيْ، وَعَافِنِيْ فِيْ بَصَرِيْ، وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّيْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
اے اﷲ!مجھے جسم میں اور نگاہ میں عافیت نصیب فرما،اور اس نگاہ کو موت تک باقی رکھ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو بردبار اور کریم ہے۔ میں اﷲ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ دعا میں یہ کہا کرتے تھے:
رَبِّ أَعِنِّيْ وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِيْ وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْکُرْ لِيْ وَلَا تَمْکُرْ عَلَيَّ، وَاھْدِنِيْ وَیَسِّرْ ھُدَايَ، وَانْصُرْنِيْ عَلٰی مَنْ بَغٰی عَلَيَّ۔ رَبِّ اجْعَلْنِيْ لَکَ شَاکِرًا، لَکَ ذَاکِرًا، لَکَ رَاھِبًا، لَکَ مِطْوَاعًا، إِلَیْکَ مُجِیْبًا أَوْ مُنِیْبًا۔ تَقَبَّلْ تَوْبَتِيْ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِيْ، وَأَجِبْ دَعْوَتِيْ، وَثَبِّتْ حُجَّتِيْ، وَاھْدِ قَلْبِيْ، وَسَدِّدْ لِسَانِيْ، وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِيْ۔
اے میرے ربّ!میری اعانت فرما اور میرے خلاف کسی کی اعانت نہ فرما،اور میری مدد فرما اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کوئی تدبیر نہ فرما، اور مجھے ہدایت نصیب فرما اور ہدایت پر قائم رہنے کو میرے لیے آسان فرما، اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے ربّ! تو مجھے اپنا شکر کرنے والا، اپنا ذکر کرنے والا، اپنے سے ڈرنے والا، اپنا فرماںبردار اور اپنی طرف متوجہ ہونے والا بنا دے۔ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، اور میری دعا قبول فرما، اور میری دلیل کو مضبوط فرما، اور میرے دل کو ہدایت نصیب فرما، اور میری زبان کو ٹھیک رکھ، اور میرے دل کے کینہ اور کھوٹ کو نکال دے۔2
حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں: حضورﷺ یہ دعا بھی مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ، وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّجَاۃَ مِنَ النَّارِ۔
اے اﷲ! ہم تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والے اعمال اور تیری مغفرت کو ضروری بنانے والے اسباب اور ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی توفیق اور جنت میں داخلہ کی کامیابی اور دوزخ سے نجات مانگتے ہیں۔3
حضرت عبداﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمَدَنَا۔
اے اﷲ!ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، ہمارے ظلم کو اور ہنسی مذاق کے گناہوں کو اور شعوری گناہوں کو اور جو گناہ جان بوجھ کر کیے ان سب کو معاف فرما۔1
حضرت عمران بن حصینؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ اکثر یہ دعا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَھِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ۔
اے اﷲ! میرے وہ تمام گناہ معاف فرما جو مجھ سے غلطی سے ہوگئے اور جو جان بوجھ کر ہوگئے اور جو میں نے چھپ کر کیے اور جو علی الاعلان کیے اور جو میں نے نادانی کے کام کیے اور جو گناہ جان بوجھ کر کیے وہ سب معاف فرما۔ 2
حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِيْ فَأَحْسِنْ خُلُقِيْ۔
اے اﷲ! تُو نے میری صورت اچھی بنائی اب سیرت بھی اچھی بنا دے۔3
حضرت اُمِ سَلَمَہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاھْدِنِي السَّبِیْلَ الأَقْوَمَ۔
اے میرے ربّ! مغفرت فرما، اور رحم فرما، اور مجھے سیدھے اور پختہ راستہ پر چلا۔4
حضرت انس بن مالکؓفرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
یَا وَلِيَّ الإِسْلاَمِ وَأَھْلِہٖ ثَبِّتْنِيْ بِہٖ حَتّٰی أَلْقَاکَ۔
اے اسلام کے والی اور اسلام والوں کے مددگار!مجھے اپنی ملاقات کے وقت تک یعنی موت تک اسلام پر جما ئے رکھ۔1
حضرت بُسْر بن ابی اَرطاۃ ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُوْرِ کُلِّھَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَۃِ۔
اے اﷲ! تمام کاموں میں ہمارا انجام اچھا فرما، اور ہمیں دنیا کی رسوائی سے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔
طبرانی کی روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:جو یہ دعا مانگتا رہے گا وہ آزمایش میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی مر جائے گا۔ 2
حضرت ابو صِرمہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ غِنَايَ وَغِنٰی مَوْلَايَ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اپنے غنا اور اپنے ہر تعلق والے کے غنا کا سوال کرتا ہوں۔ 3
حضرت ثَوبانؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الطَّیِّبَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَأَنْ تَتُوْبَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِيْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزیں اور منکرات کے چھوڑنے کی ہمت اور مسکینوں کی محبت مانگتا ہوں، اور یہ بھی مانگتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے، اور یہ بھی کہ اگر کسی وقت تو اپنے بندوں کو آزمایش میں ڈالنا چاہے تو مجھے اس آزمایش میں ڈالے بغیر اپنے پاس بلالے۔ 4
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَيَّ عِنْدَ کِبَرِ سِنِّيْ وَانْقِطَاعِ عُمْرِيْ۔
اے اﷲ! بڑھاپے میں اور اَخیر عمر میں مجھے سب سے زیادہ فراخ روزی عطا فرما۔5