صحابہ کرام ؓ کا ذکر

چاند دیکھنے، کڑک سننے، بادل آنے اور تیز ہوا چلنے کے وقت کی حضورﷺ کی دعائیں

حضرت طلحہؓفرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: اَللّٰھُمَّ أَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالإِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالإِسْلَامِ رَبِّيْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ۔ اے اﷲ! تو اس چاند کو ہم پر برکت اور ایمان کے ساتھ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ نکال۔ (اے چاند!)میرا اور تیرا ربّ اﷲ ہے۔4 حضرت ابنِ عمر ؓ نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ أَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْأَمْنِ وَالأَمَانِ وَالسَّلاَمَۃِ وَالإِسْلاَمِ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی، رَبُّنَا وَرَبُّکَ اللّٰہُ۔ اﷲ سب سے بڑا ہے۔ اے اﷲ! اس چاند کو ہم پر امن وامان سلامتی اور اسلام کے ساتھ، اور اپنے محبوب اور پسندیدہ اعمال کی توفیق کے ساتھ نکال۔ (اے چاند!)ہمارا اور تیرا ربّ اﷲ ہے۔1 حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: ھِلَالُ خَیْرٍ وَرُشْدٍ۔ یہ خیر وہدایت کا چاند ہے۔ پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذَا الشَّھْرِ وَخَیْرِ الْقَدْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ۔ اے اﷲ! میں تجھ سے اس مہینے کی بھلائی اور تقدیر کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔2 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب بادل گرجنے اور بجلی کڑکنے کی آواز سنتے تو فرماتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔ اے اﷲ! ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ فرما اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ فرما اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت نصیب فرما۔3 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَخَیْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِہٖ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِہٖ۔ اے اﷲ!میں تجھ سے اس ہوا کی خیر اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر اور جو کچھ دے کر یہ ہوا بھیجی گئی اس کی خیر مانگتا ہوں، اور تجھ سے اس ہوا کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے اور جو کچھ دے کر یہ ہوا بھیجی گئی ہے اس کے شر سے پناہ مانگتاہوں۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ جب آسمان کے کنارے میں اٹھتا ہوا بادل دیکھتے تو کام چھوڑدیتے اور اگر نماز میں ہوتے تو اسے مختصر کر دیتے، پھر یہ کلمات فرماتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا۔ اے اﷲ! اس بادل کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اگر بارش ہوجاتی تو فرماتے: اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا ھَنِیْئًا۔ اے اﷲ! اسے بہت برسنے والا لیکن با برکت اور نفع بخش بنادے۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ جب آسمان کے کسی کنارے پر گہرے بادل دیکھتے تو جس کام میں بھی ہوتے اسے چھوڑدیتے چاہے وہ نماز ہی کیوں نہ ہو اور اس بادل کی طرف متوجہ ہو جاتے اور فرماتے: اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِہٖ۔ اے اﷲ! ہم اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں جسے دے کر ا س بادل کو بھیجا گیا ہے۔ پھر اگر بارش ہو جاتی تو دو تین دفعہ فرماتے: صَیِّبًا نَافِعًا اسے بہت برسنے والا نفع دینے والا بنادے۔ اگر اﷲ تعالیٰ اس بادل کو ہٹادیتے اور بارش نہ ہوتی تو اس پر اﷲتعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے۔3 حضرت سَلَمہ بن اَکوعؓ فرماتے ہیں: جب ہوا تیز چلتی تو حضورﷺ فرمایا کرتے: اَللّٰھُمََّّ لَقْحًا لَا عَقِیْمًا۔ اے اﷲ!اسے ایسی ہوا بنا جس سے درختوں پر خوب پھل لگیں اور اسے بانجھ نہ بنا (جس سے کوئی فائدہ نہ ہو)۔1