صحابۂ کرام ؓ کا مختلف قبائل اور اقوامِ عرب کو دعوت دینا
حضرت طفیل بن عمرو دوسی ؓ کا اپنی قوم کو دعوت دینا
محمد بن اِسحاق کہتے ہیںکہ حضور ﷺ اپنی قوم کی طرف سے سخت رویہ دیکھنے کے باوجود ان کی خیر خواہی کی پوری کوشش کرتے رہتے، اور دنیا اور آخرت کی جس مصیبت میںوہ گرفتار تھے اس سے نجات پانے کی ان کو دعوت دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قریش سے حضور ﷺ کی پوری حفاظت فرما دی تو انھوں نے یہ رویہ اختیار کیا کہ لوگوں کو اور باہر سے آنے والے عربوں کو ڈرا کر حضور ﷺ سے ملنے سے روکتے۔ حضرت طفیل بن عمرو دَوْسی ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ مکہ گئے اور حضور ﷺ وہاں ہی تھے۔ حضرت طفیل بہت معزّز اور بڑے شاعر اور بڑے سمجھ دار تھے۔ قریش کے چند آدمی اُن کے پاس آئے اور اُن سے کہا: اے طفیل! آپ ہمارے شہر میں آئے ہیں، یہ آدمی جو ہمارے درمیان رہتا ہے اس نے ہمیںبڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس کی بات تو جادو کی طرح اثر رکھتی ہے۔ یہ باپ بیٹے میں اور بھائی بھائی میں اور میاں بیوی میں جدائی پیدا کر دیتا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ جو پریشانیاں ہم پر آگئی ہیں کہیں وہ آپ پر اور آپ کی قوم پر نہ آجائیں، لہٰذا آپ نہ تو اس سے بات کریں اور نہ اس کی کوئی بات سنیں۔ حضرت طفیل کہتے ہیںکہ انھوں نے مجھ پر اتنا اِصرار کیا اور اتنا پیچھے پڑے کہ میں نے بھی طے کرلیا کہ میں نہ تو حضور ﷺ سے کوئی بات سنوں گا اور نہ ہی اُن سے کوئی بات کروں گا، یہاں تک کہ صبح کو جب میں مسجد کو جانے لگا تو کانوں میں روئی اس ڈر سے بھرلی کہ کہیں بلا اِرادہ آپ کی کوئی بات میرے کان میں نہ پڑ جائے۔ چناں چہ میں مسجد گیا تو حضور ﷺ کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ کے قریب کھڑا ہوگیا۔ اس ساری احتیاط کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مجھے حضور ﷺ کے بعض الفاظ سنا ہی دیے۔ مجھے وہ بہت اچھا کلام محسوس ہوا تو میں نے اپنے دل میں کہا: میری ماں مجھے روئے! میں ایک سمجھ دار اور شاعر آدمی ہوں، اچھے اور برے کلام میں تمیز کرلیتا ہوں، اس میں کیا حرج ہے کہ میں ان کی بات سنوں؟ اگر اچھی ہوئی تو قبول کرلوں گا اور اگر بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ پھر میں وہاں انتظار میں بیٹھا رہا ،یہاں تک کہ حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوکر گھر کو تشریف لے چلے تومیں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوگئے تو میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا: اے محمد! آپ کی قوم نے مجھ سے ایسے ایسے کہا اور اللہ کی قسم! مجھے آپ سے اتنا ڈراتے رہے کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی اچھی طرح سے بھرلی تاکہ آپ کی بات نہ سن سکوں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی بات سنا ہی دی۔ مجھے بہت اچھا کلام محسوس ہوا۔ آپ اپنی بات میرے سامنے پیش کریں ۔ چناںچہ حضور ﷺ نے میرے سامنے اِسلام کو پیش کیا اور مجھے قرآن پڑھ کر سنایا۔ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اس سے پہلے اس سے زیادہ عمدہ اور اس سے زیادہ اِنصاف والی بات نہیں سنی تھی۔ چناںچہ میں کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگیااور میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میری قوم میں میری چلتی ہے۔ میں ان کے پاس واپس جاکر انھیں اِسلام کی دعوت دوں گا۔ آپ اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسی کوئی نشانی دے جس سے مجھے انھیں دعوت دینے میں مدد ملے۔ آپ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو کوئی نشانی عطا فرما۔ چناں چہ میں اپنی قوم کی طرف چل پڑا۔
جب میں اس گھاٹی پر پہنچا جہاں سے میں اپنی آبادی والوں کو نظر آنے لگا تو میری دونوں آنکھوں کے درمیان چراغ کے مانند ایک چمکتا ہوا نور ظاہر ہوا۔ میں نے دعا مانگی: اے اللہ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ ظاہر کردے، کیوں کہ مجھے خطرہ ہے کہ میری قوم والے (آنکھوں کے درمیان نور دیکھ کر) یہ سمجھیں گے کہ ان کے دین کو چھوڑ نے کی وجہ سے میرا چہرہ بدل گیا ہے۔ چناںچہ وہ نور بدل کر میرے کوڑے کے سِرے پر آگیا۔ جب میں گھاٹی سے آبادی کی طرف اُتر رہا تھا تو آبادی والوں کو میرے کوڑے کا یہ نور لٹکے ہوئے قندیل کی طرح نظر آرہا تھا جسے وہ ایک دوسرے کو دکھارہے تھے، یہاں تک کہ میں اُن کے پاس پہنچ گیا۔ جب میں سواری سے اترا تو میرے والدآئے جو کہ بہت بوڑھے ہوچکے تھے۔ میںنے اُن سے کہا: اے اباجان! مجھ سے دور رہیں۔ آپ کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا آپ سے۔ انھوں نے کہا: اے میرے بیٹے!کیوں؟ میں نے کہا: کیوں کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور محمد ﷺ کا دین اختیار کرچکا ہوں۔ میرے والد نے کہا: میرا دین بھی وہی ہے جو تمہارا دین ہے۔ پھر انھوں نے غسل کیا اور اپنے کپڑے پاک کیے پھر میرے پاس آئے۔ میں نے ان پر اِسلام پیش کیا، وہ اِسلام میں داخل ہوگئے۔ پھر میری بیوی میرے پاس آئی۔ میں نے اس سے کہا: پرے ہٹ! میرا تم سے کوئی تعلق نہیں اور نہ تمہارا مجھ سے۔ اس نے کہا: کیوں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے کہا: اِسلام کی وجہ سے میرے اور تیرے درمیان جدائی ہوگئی ہے۔ چناںچہ وہ بھی مسلمان ہوگئی۔
پھر میں اپنے قبیلہ دَوْس کو اِسلام کی دعوت دیتا رہا (لیکن وہ اِنکار کرتے رہے) اور انھوں نے بہت دیر کردی۔ آخر میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں مکہ حاضر ہوکر کہا: یا نبی اللہ! قبیلہ دَوْس نے مجھے ہرا دیا (میں نے انھیں بہت دعوت دی، لیکن وہ ایمان نہ لائے) آپ اُن کے لیے بد دعا کر دیں۔ آپ نے (بجائے بد دعا کرنے کے) اُن کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ! دَوْس کو ہدایت دے دے۔ (اور مجھ سے فرمایا:) اپنی قوم میں واپس جاؤ اور اُن کو دعوت دیتے رہو، لیکن اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ چناںچہ میں واپس آیا اور قبیلہ دَوْس میں ٹھہر کر اُن کو اِسلام کی دعوت دیتا رہا یہاں تک کہ حضور ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے اور بدر اور اُحد اور خندق کے غزوات بھی ہوگئے۔ پھر میں اپنی قوم کے مسلمانوں کو ساتھ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس وقت حضور ﷺ خیبر گئے ہوئے تھے۔ میں دَوْس کے ستّر یا اسّی گھرانوں کو لے کر مدینہ پہنچا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ حضرت طفیل بن عمرو ؓ کے اِسلام لانے، اور ان کے اپنے والد اور بیوی اور اپنی قوم کو دعوت دینے، اور ان کے مکہ آنے کے قصے کو تفصیل سے ذکر کرتے ہیںاور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ان کو حضور ﷺ نے ذُوالکفّیْن بُت کے جلانے کے لیے بھیجا تھا، اور یہ یمامہ بھی گئے تھے اور اس بارے میں انھوں نے خواب بھی دیکھا تھا اور غزوۂ یمامہ میں یہ شہید ہوگئے تھے۔ 1
’’اِصابہ ‘‘ میں ابو الفرج اِصبہانی کے واسطہ سے ابنِ کلبی کی یہ روایت ہے کہ حضرت طفیل جب مکہ آئے تو اُن سے قریش کے کچھ لوگوں نے حضورﷺ کی دعوت کا تذکرہ کیا اور ان سے یہ بھی کہا کہ وہ حضور ﷺ کا امتحان لے کر دیکھیں۔چناںچہ انھوں نے حضورﷺ کے پاس جاکر اپنے شعر پڑھ کر سنائے۔ حضورﷺنے سورۂ اِخلاص اور مُعَوّذتین پڑھ کر سنائیں۔ یہ فوراً مسلمان ہوگئے اور اپنی قوم کے پاس واپس چلے گئے۔ پھر کوڑے میں نور کے ظاہر ہونے کا قصہ بھی ذکر کیا۔ انھوں نے اپنے والدین کو دعوت دی، والد تو مسلمان ہوگئے لیکن والدہ نہ ہوئیں۔ اور انھوں نے اپنی قوم کودعوت دی جن میں سے صرف حضرت ابو ہریرہ ؓ نے ان کی دعوت کو قبول کیا۔ اس کے بعد انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو دَوْس کی زمین مل جائے جو کہ مضبوط اورمحفوظ قلعہ ہے؟ (یعنی حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیں یا ان کے لیے بددعا کریں، لیکن) حضور ﷺ نے دَوْس کی ہدایت کی دعا فرمادی، تو حضرت طفیل نے حضورﷺ سے کہا: میں تو (ان کی ہدایت کی) یہ (دعا) نہیں چاہتا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان میں تیرے جیسے بہت سارے ہیں۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت جُنْدُب بن عمرو بن حُممَہ بن عوف دوسی ؓ زمانۂ جاہلیت میں کہا کرتے تھے کہ اس مخلوق کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے لیکن وہ کون ہے؟ یہ میں نہیں جانتا ۔جب انھوں نے حضورﷺ کی خبر سنی تو اپنی قوم کے ۷۵ آدمیوں کو لے کر چل پڑے اور (حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر) خود بھی مسلمان ہوئے اور اُن کے ساتھی بھی مسلمان ہوئے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جندب ؓ ایک ایک آدمی کو (حضورﷺ کی خدمت میںمسلمان ہونے کے لیے) پیش کرتے جاتے تھے۔
حضرت علیؓ کا قبیلہ ہمدان کو دعوت دینا ۱۶۰ صفحہ پراور حضرت خالد بن ولید ؓ کا بنو حارث بن کعب کو دعوت دینا ۱۶۰ صفحہ پراور حضرت ابو اُمامہ ؓ کا اپنی قوم کو دعوت دینا ۱۵۵ صفحہ پر گزر چکا ہے۔