صحابۂ کرام ؓ کا مختلف قبائل اور اقوامِ عرب کو دعوت دینا
حضرت عُروہ بن مسعود ؓ کا قبیلۂ ثقیف کو دعوت دینا
حضرت عروہ بن زُبیر ؓ کہتے ہیں: جب لوگوں نے ۹ ہجری میں حج کی تیاری شروع کی تو حضرت عروہ بن مسعود ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے اس بات کی اجازت چاہی کہ اپنی قوم کے پاس واپس چلے جائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہیں کہیں قتل نہ کردیں۔ انھوں نے کہا: (وہ میرا اتنا اِحترام کرتے ہیں کہ) اگر وہ میرے پاس آئیں اور میں سو رہا ہوں تو وہ مجھے جگاتے نہیں ہیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اُن کو اجازت دے دی۔ وہ مسلمان ہوکر اپنی قوم کے پاس واپس عشاء کے وقت پہنچے۔ سارا قبیلہ انھیں سلام کرنے آیا۔ انھوں نے ان سب کو اِسلام کی دعوت دی۔ قوم نے اُن پر طرح طرح کے اِلزام تراشے اور انھیں غصہ دلایا اور انھیں بہت سی ناگوار باتیں سنائیں پھر انھیں شہید کرڈالا۔ چناںچہ حضور ﷺ نے (یہ خبر سن کر ) فرما یا: عروہ بھی ان (حبیب نجار) جیسے ہیں جن کا تذکرہ سورۂ یٰس میں ہیکہ انھوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی انھوں نے ان کو شہید کردیا ۔ 1
بہت سے اہلِ علم اس قصہ کو تفصیل سے ذکر کرتے ہیں اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عروہ ؓ عشاء کے وقت طائف پہنچے اور اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ قبیلہ ثقیف نے آکر اُن کو جاہلیت کے طریقہ پر سلام کیا۔ انھوں نے لوگوں کو اس سلام سے روکا اور ان سے کہا: تم جنت والوں کے طریقہ پر سلام کرو اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہو۔ قوم نے اُن کو طرح طرح سے ستایا اور اُن کو بے عزت کیا لیکن یہ برداشت کرتے رہے ۔ قوم کے لوگ ان کے پاس سے جاکر ان کے بارے میں مشورہ کرتے رہے یہاں تک کہ صبح صادق ہوگئی۔ حضرت عروہ ؓ نے بالاخانہ پر چڑھ کر فجر کی اذان دی۔ قبیلہ ثقیف کے لوگ ہر طرف سے نکل آئے۔ بنو مالک کے اَوس بن عوف نامی آدمی نے اُن کو ایسا تیر مارا جو اُن کی شہ رگ میں لگا اور اس شہ رگ کا خون نہ رکا، تو غیلان بن سلمہ اور کنانہ بن عبدِیَالِیْل اور حکم بن عمرو اور بنو اَحلاف کے دیگر ممتاز سرداروں نے کھڑے ہوکر ہتھیار پہن لیے اور جمع ہوگئے اور یوں کہا: یا تو ہم سارے مرجائیں گے یا عروہ بن مسعود کے بدلہ میںبنو مالک کے دس سرداروں کو قتل کر دیں گے۔ حضرت عروہ بن مسعود نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا: میری وجہ سے تم کسی کو قتل نہ کرو،میں نے اپنا خون اپنے قاتل کو اس لیے معاف کردیا تاکہ اس سے تمہاری صلح باقی رہے۔ یہ میرا قتل تو اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص انعام ہے اور اس نے مجھے شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ تم مجھے قتل کردوگے۔ پھر انھوں نے اپنے خاندان والوں کو بلا کر کہا: جب میں مرجاؤں تو مجھے اُن شہیدوں کے ساتھ دفن کرنا جو حضور ﷺ کے ساتھ تمہارے ہاں سے جانے سے پہلے شہید ہوئے۔ چناںچہ اُن کا انتقال ہوگیا اور اُن کے خاندان والوں نے ان کو ان ہی شہید صحابہ ؓ کے ساتھ دفن کیا۔ حضور ﷺ کو اُن کے قتل کی خبر پہنچی تو فرمایا کہ عروہ بھی…آگے پچھلی والی حدیث جیسا مضمون ہے۔1
قبیلہ ثقیف کے مسلمان ہونے کا قصہ صفحہ ۲۴۸ پر حضور ﷺ کے ان اخلاق واعمال کے قصوں میں گزرچکا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملتی تھی۔