صحابہ کرام ؓ کا ذکر

نبی کریم ﷺ کی خُلَفائے اَربعہ کے لیے دعائیں

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا مانگی ـ:اے اللہ! ابوبکر کو قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں رکھنا۔2 حضرت عمر اور حضرت خباب ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے یہ دعا مانگی:ـاے اللہ! عمر بن خطاب اور ابوجہل بن ہشام میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعہ اسلام کو عزت عطا فرما۔3 حضرت عائشہؓفرماتی ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا مانگی:اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطّاب کے ذریعہ عزت عطافرما۔4 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا مانگی:اے اللہ! اسلام کو عمر کے ذریعے قوت عطا فرما۔5 حضرت زید بن اَسلم ؓ فرماتے ہیں: حضرت عثمان ؓ نے ایک بھورے رنگ کی اونٹنی حضورﷺ کی خدمت میں بھیجی۔ حضورﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی:اے اللہ! انھیں پلِ صراط(آسانی سے اور جلدی سے) پار کرادینا۔6 حضرت عائشہ اور حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا تین مرتبہ فرمائی: اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی ان سے راضی ہوجا۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! عثمان کے اَگلے پچھلے گناہ، اور جو گناہ چھپ کر کیے اور جو علی الا علان کیے، اور جو پوشیدہ طور سے کیے اور جو سب کے سامنے کیے سارے معاف فرما۔2 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں بیمار ہوا۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے اپنی جگہ بٹھایا اور خود کھڑے ہوکر نماز شروع فرمادی اور اپنے کپڑے کا ایک کنارہ مجھ پر ڈال دیا۔ پھر نماز کے بعد فرمایا: اے ابنِ ابی طالب! اب تم ٹھیک ہوگئے ہو کوئی فکر نہ کرو، میں نے جو چیز اللہ سے اپنے لیے مانگی اس جیسی میں نے اللہ سے تمہارے لیے بھی مانگی۔ اور میں نے جو چیز بھی اللہ سے مانگی وہ اللہ نے مجھے ضرور دی، بس اتنی بات ہے کہ مجھ سے یوں کہا گیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ چناںچہ میں وہاں سے اٹھا تو میں بالکل ٹھیک ہوچکاتھا اور ایسے لگ رہاتھا کہ جیسے میں بیمار ہی نہیں ہوا تھا۔3 حضرت زید بن یُثَیْع، حضرت سعید بن وَہب اور حضرت عمرو بن ذِی مر ؓ کہتے ہیں: ہم نے حضرت علی ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ہر اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتاہوں جس نے حضورﷺ کو (حجۃ الوداع سے واپسی پر) غدیرِخُم کے دن کچھ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ ضرور کھڑاہوجائے۔ چناںچہ تیرہ آدمی کھڑے ہوگئے اور انھوں نے اس بات کی گواہی دی کہ اس دن حضورﷺ نے فرمایا تھا: کیا میں مؤمنوں کے ساتھ خود اُن کی جان سے بھی زیادہ تعلق نہیں رکھتا؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا: بالکل رکھتے ہیں، یا رسول اللہ! پھر حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: میں جس کا دوست ہوں یہ (حضرت علی) اس کے دوست ہیں۔ اے اللہ! جو اِن سے دوستی کرے تو اس سے دوستی کر اور جو اِن سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی کر، اور جو اِن سے محبت کرے تو اُن سے محبت کر اور جو اِن سے بغض رکھے تو اُن سے بغض رکھ، اور جو اِن کی مدد کرے تو اُس کی مدد کر اور جو اِن کی مدد چھوڑے تو اُس کی مدد چھوڑدے۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ نے حضورﷺ سے حضرت علیؓ کے لیے یہ دعا نقل کی ہے: اے اللہ! علی کی اِعانت فرما اور ان کے ذریعہ سے اِعانت فرما، اور ان پر رحم فرما اور ان کے ذریعہ سے دوسروں پر رحم فرما، اور ان کی مدد فرما اور ان کے ذریعہ سے مدد فرما۔ اے اللہ! جو اِن سے دوستی کرے تو اُس سے دوستی کر اور جو اِن سے دشمنی کرے تو اُس سے دشمنی کر۔2 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے میرے لیے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! اس کی زبان کو (حق پر) جمادے اور اس کے دل کو ہدایت نصیب فرما۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے یہ الفاظ منقول ہیں: اے اللہ! اس کو فیصلہ کرنے کا صحیح راستہ دکھلا۔3