صحابہ کرام ؓ کا ایمان

فتویٰ دینے میں احتیاط سے کام لینا اور صحابہ ؓ میں کون فتویٰ دیا کرتے تھے

حضرت عبدالرحمن بن اَبی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے حضورﷺ کے ایک سو بیس صحابہ ؓ کو مسجد میں پایا کہ ان میں جو حدیث بیان کرنے والے تھے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کا بھائی حدیث بیان کردے اور انھیں حدیث بیان نہ کرنی پڑے، اور ان میں جو بھی مفتی تھے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کا بھائی فتویٰ دے دے اور خود اُنھیں فتویٰ نہ دینا پڑے۔1 حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: وہ آدمی پاگل ہے کہ اس سے جو بھی فتویٰ پوچھا جائے وہ فوراً فتویٰ دے دے۔2 حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: لوگوں کو فتویٰ دینے والے آدمی تین طرح کے ہیں: ایک تو وہ آدمی جو قرآن کے ناسخ و منسوخ کو جانتا ہے، دوسرا وہ امیرِ جماعت جسے فتویٰ دیے بغیر چارہ نہیں، اور تیسرا اَحمق۔3 حضرت ابنِ سیرینکہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو مسعودؓ سے فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی کہ تم امیر نہیں ہو پھر بھی تم لوگوں کو فتویٰ دیتے ہو؟ جسے اِمارت کی راحت ملی ہے اسے ہی اِمارت کی مشقت بھی اٹھانے دو۔ یعنی جو امیر ہے اسے ہی فتویٰ کی ذمہ داری اٹھانے دو تم فتویٰ نہ دو۔4 حضرت ابو منہال کہتے ہیں: میں نے حضرت زید بن اَرقم اور حضرت براء بن عازب ؓ سے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے بارے میں پوچھا تو میں نے جس سے بھی پوچھا اس نے یہی کہا: تم دوسرے سے پوچھ لو، کیوںکہ وہ مجھ سے بہتر اور مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اس کے بعد سونے چاندی کی خرید و فروخت کے بارے میں حدیث ذکر کی۔1 حضرت ابو حصینؓ نے فرمایا:اب تو ہر آدمی اس مسئلہ میں فتویٰ دے رہاہے، حالاںکہ اگر یہ مسئلہ حضرت عمر بن خطّابؓکے سامنے پیش ہوتا تو اس کے لیے وہ تمام بدری صحابہ کو جمع کرلیتے (اور پھر ان کے مشورہ سے فتویٰ دیتے)۔2 حضرت ابنِ عمرؓ سے پوچھا گیا کہ حضورﷺ کے زمانے میں کون فتویٰ دیا کرتا تھا؟ انھوں نے فرمایا: حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ، اور میرے علم میں ان دو کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔3 حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں: حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ حضور ﷺ کے زمانے میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔4 حضرت فُضَیل بن اَبی عبد اللہ بن دینار اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ان صحابہ میں سے تھے جو حضور ﷺ کے زمانے میں، اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ کے زمانے میں حضورﷺ سے سنی ہوئی احادیث کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔5 حضرت ابو عطیہ ہمدانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبداﷲبن مسعودؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے ایک مسئلہ پوچھا۔ حضرت ابنِ مسعودنے فرمایا: کیا تم نے یہ مسئلہ میرے علاوہ کسی اور سے بھی پوچھا ہے؟اس آدمی نے کہا: ہاں، میں نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے بھی پوچھا اور انھوں نے اس کا یہ جواب دیا تھا۔ جواب سن کر حضرت عبداﷲنے اس کی مخالفت کی۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ کھڑے ہوئے اور فرمایا: جب تک یہ بڑے عالم تم میں ہیں مجھ سے کچھ نہ پوچھا کرو۔1 حضرت ابو عمر و شیبانی کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے فرمایا: جب تک یہ بڑے عالم حضرت ابنِ مسعودؓ تم میں ہیں مجھ سے کچھ نہ پوچھا کرو۔2 حضرت سہل بن اَبی حثمہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانے میں فتویٰ دینے والے حضرات تین مہاجرین میں سے تھے اور تین انصار میں سے تھے: حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت اُبی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابتؓ۔3 حضرت مسروق کہتے ہیں: حضورﷺ کے صحابہ میں سے فتویٰ دینے والے حضرات یہ تھے:حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابنِ مسعود، حضرت زید، حضرت اُبی بن کعب اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ۔4 حضرت قَبِیصہ بن ذُؤیب بن حَلْحَلہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابتؓ حضرت عمر، حضرت عثمانؓ کے زمانے میں اور جب تک حضرت علیؓ مدینہ میں رہے اس وقت تک وہ مدینہ میں قضا، فتویٰ، قرأت اور فرائض و میراث میں امام تھے، اور حضرت علی ؓ کے مدینہ سے چلے جانے کے بعد بھی وہ پانچ سال مزید امام رہے۔ پھر سن چالیس میں حضرت معاویہ ؓ خلیفہ بنے تو بھی یہی امام تھے، یہاں تک کہ سن پینتالیس میں حضرت زید کا انتقال ہوگیا۔5 حضرت عطاء بن یسار کہتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ حضرت ابنِ عباس ؓ کو بلایا کرتے تھے، اور وہ بھی بدری صحابہ کے ساتھ مشورہ دیا کرتے تھے۔ اور حضرت ابنِ عباسؓ حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ کے زمانے میں فتویٰ دیا کرتے تھے اور پھر انتقال تک حضرت ابنِ عباسؓ کا یہی مشغلہ رہا۔6 حضرت زِیاد بن مِیناء کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس، حضرت ابنِ عمر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداﷲبن عمرو بن عاص، حضرت جابر بن عبداﷲ، حضرت رافع بن خدیج، حضرت سَلَمہ بن اَکوع، حضرت ابو واقدلیثی اور حضرت عبد اﷲ بن بُحینہ ؓ اور ان جیسے اور صحابہ مدینہ میں فتویٰ دیا کرتے تھے، اور حضورﷺکی طرف سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے انتقال پر یہ دونوں دینی خدمتیں ان حضرات کو میسر ہوئیں اور یہ سب اپنے انتقال تک ان میں ہی لگے رہے اور پھر ان میں سے فتویٰ میں زیادہ قابلِ اعتماد حضرت ابن عباس، حضرت ابنِ عمر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابوہریرہ اور حضرت جابر بن عبداﷲؓ تھے۔1 حضرت قاسم کہتے ہیں: حضرت عائشہؓ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں مستقل فتویٰ دیا کرتی تھیں، اور پھر انتقال تک ان کا یہی مشغلہ رہا۔ اﷲان پر رحمت نازل فرمائے! میں ہر وقت ان کے ساتھ رہاکرتا تھا اور وہ میرے ساتھ بہت اچھا سلوک فرمایا کرتی تھیں (حضرت قاسم حضرت عائشہؓ کے بھتیجے تھے)۔ آگے اور حدیث ذکر کی۔2