صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کا اجتہاد کرنا

حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے مجھے یمن بھیجا تو فرمایا: جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہوگا تو تم کس طرح فیصلہ کروگے؟ میں نے کہا: اﷲ کی کتاب کے مطابق۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم اسے اﷲکی کتاب میں نہ پاؤ تو پھر؟ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺکی سنت کے مطابق۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم اسے رسول اللہ کی سنت میں نہ پاؤ تو پھر؟ میں نے کہا: تو پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور (سوچ بچار میں) کوئی کمی نہیں کروں گا۔ اس پر حضورﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تمام تعریفیں اس اﷲکے لیے ہیں جس نے رسول اﷲ کے قاصد کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائی جس سے اﷲکے رسول خوش ہیں۔4 حضرت محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی آدمی حضرت ابو بکر ؓ سے زیادہ اس چیز سے ڈرنے والا نہیں تھا جسے وہ نہ جانتا ہو۔ اور حضرت ابو بکر ؓ کے بعد کوئی آدمی حضرت عمر ؓ سے زیادہ ڈرنے والا نہیں تھا۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکرؓ کے سامنے ایک مسئلہ پیش ہوا، انھوں نے اس کے لیے اﷲکی کتاب میں کوئی اصل نہ پائی اور نہ ہی سنت میں کوئی نشان پایا تو فرمایا: اب میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اگر ٹھیک فیصلہ ہوا تو اﷲکی طرف سے، اور اگر غلط فیصلہ ہوا تو میری طرف سے اور میں اﷲسے استغفار کرتا ہوں۔1 حضرت شُریح کہتے ہیں: حضرت عمرؓنے انھیں یہ خط لکھا کہ جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے تو اس میں اﷲکی کتاب کے مطابق فیصلہ کرو۔ اور اگر تمہارے پاس ایسا مقدمہ آئے جو کتاب اﷲمیں نہیں ہے تو پھر اس میں سنت رسول ﷺ کے مطابق فیصلہ کرو۔ اور اگر ایسا مقدمہ آئے جو نہ کتاب اﷲمیں ہے اور نہ سنتِ رسول میں تو پھر وہ فیصلہ کرو جس پر عُلما کا اجماع و اتفاق ہو۔ اور اگر ایسا مقدمہ آئے جو نہ کتاب اﷲمیں ہے اور نہ سنتِ رسول ﷺ میں اور نہ اس میں کسی عالم نے کوئی بات کی ہے، تو پھردو باتوں میں سے ایک بات اختیار کرلو: چاہے تو آگے بڑھ کر اپنی رائے سے اجتہاد کرکے فیصلہ کرلو اور چاہو تو پیچھے ہٹ جاؤ(اور کوئی فیصلہ نہ کرو)، اور میرے خیال میں پیچھے ہٹناتمہارے لیے بہترہی ہے۔2 حضرت ابنِ مسعودؓنے فرمایا: جسے کسی معاملہ میں فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اسے چاہیے کہ کتاب اﷲکے مطابق فیصلہ کرے۔ اور اگر ایسامعاملہ ہو جو کتاب اﷲمیں نہیں ہے تو پھر اس میں وہ فیصلہ کرے جو اﷲکے نبی کریم ﷺ نے کیا۔ اور اگر ایسا معاملہ پیش آجائے جو نہ کتاب اﷲ میں ہو اور نہ اس کے بارے میں اﷲکے نبی ﷺ نے کوئی فیصلہ کیا ہو تو پھر اس میں وہ فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو۔ اور اگر ایسا معاملہ پیش آجائے جو نہ کتاب اﷲ میں ہو، اور نہ اﷲکے نبی ﷺ اور نیک بندوں نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو، تو پھر اپنی رائے سے اجتہاد کرے، اور اپنی اس بات پر پکّا رہے اور شرمائے نہیں۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ پھر اپنی رائے سے اجتہاد کرے اور یہ ہرگز نہ کہے: میرا خیال تو ایسا ہے۔ البتہ میں ڈرتا بھی ہوں کیوںکہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان دونوں کے درمیان بہت سے مشتبہ اُمور ہیں(جن کا حلام یا حرام ہونا واضح نہیں ہے)۔ اس لیے وہ کام چھوڑ دو جن میںکسی قسم کا شک ہے اور وہ کام اختیار کرو جن میں کوئی شک نہیں۔1 حضرت عبداﷲبن اَبی یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کا یہ معمول دیکھا کہ جب ان سے کوئی چیز پوچھی جاتی اور وہ اﷲکی کتاب میں ہوتی تو وہ فرما دیتے۔ اور اگر وہ اﷲکی کتاب میں نہ ہوتی، لیکن اس کے بارے میں حضورﷺ سے کچھ منقول ہوتا تو وہ فرما دیتے۔ اور اگر وہ اﷲ کی کتاب میں نہ ہوتی اور حضورﷺ سے بھی کچھ منقول نہ ہوتا، لیکن حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی طرف سے کچھ منقول ہوتا تو وہ فرما دیتے۔ اور اگر وہ اﷲ کی کتاب میں نہ ہوتی، اور حضورﷺ سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے بھی کچھ منقول نہ ہوتا، تو پھر اپنی رائے سے اجتہاد کرتے۔2 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: جب ہمارے پاس حضرت علیؓ کی طرف سے کوئی مضبوط دلیل آجاتی تو ہم اس کے برابر کسی کو نہ سمجھتے (بلکہ اسی کو اختیار کرلیتے)۔3 حضرت مسروق کہتے ہیں: میں نے حضرت اُبی بن کعبؓ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: کیا یہ چیز پیش آچکی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو فرمایا: جب تک یہ پیش نہ آجائے اس وقت تک ہمیں آرام کرنے دو۔ جب پیش آجائے گی تو پھر ہم کوشش کرکے اپنی رائے بتادیں گے۔ 4