صحابہ کرام ؓ کا ایمان

حضورﷺ کی احادیث میں مشغول ہونا، احادیث میں مشغول ہونے والے کو کیا کرنا چاہیے؟

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ ایک مجلس میں لوگوں سے بات فرما رہے تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی نے آکر کہا: قیامت کب ہوگی؟ حضورﷺ (نے اسے کوئی جواب نہ دیا بلکہ) بات فرماتے رہے(کیوںکہ حدیث کے درس کا ادب یہ ہے کہ بیچ میں سوال نہ کرنا چاہیے اور نہ جواب دینا چاہیے)۔ بعض لوگوں نے کہا: حضورﷺ نے اس کی بات تو سن لی ہے لیکن حضور ﷺ کو پسند نہیں آئی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ جب آپ ﷺ نے بات پوری فرمالی تو فرمایا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں یہاں ہوں یارسول اﷲ! آپ ﷺ نے فرمایا: جب امانت کو ضایع کردیا جائے تو تم قیامت کا انتظار کرو۔ اس دیہاتی نے پوچھا: امانت کا ضایع کرنا کس طرح ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب کام نااہل کے سپر د کردیا جائے تو تم قیامت کا انتظار کرو۔1 حضرت وابصہؓ رِقہ شہر کی سب سے بڑی مسجد میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن کھڑے ہوکر ارشاد فرماتے: جب حضورﷺنے حجۃ الوداع میں لوگوں کو خطبہ دیا تھا اس وقت میں بھی وہاں موجود تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا: اے لوگو! کون سا مہینہ سب سے زیادہ قابلِ احترام ہے؟ لوگوں نے کہا: یہی (حج والا مہینہ)۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کون سا شہر سب سے زیادہ قابلِ احترام ہے؟ لوگوں نے کہا: یہی (مکہ شہر)۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایسے ہی قابلِ احترام ہیں جیسے کہ تمہارا یہ (حج کا) دن، تمہارا یہ (حج والا) مہینہ اور تمہارا یہ شہر(مکہ مکرمہ) قابلِ احترام ہے، اور یہ اس دن تک قابلِ احترام ہیں جس دن تم اپنے ربّ سے ملاقات کرو گے۔ کیا میں نے (اﷲکا پیغام سارا)پہنچادیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔ پھرفرمایا: اے لوگو! تم میں سے جو یہاں موجود ہے وہ غائبین تک پہنچائے۔ (اس کے بعد حضرت وابصہؓ نے کہا: اے لوگو!) تم بھی میرے قریب آجاؤ تاکہ ہم (حضور ﷺ کا دین) تم تک پہنچائیں جیسا کہ حضورﷺ نے ہم سے فرمایا تھا۔2 حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حِمص میں میں، حضرت ابنِ اَبی زکریا اور حضرت سلیمان بن اَبی حبیب، ہم تینوں حضرت ابواُمامہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھیں سلام کیا۔ انھوں نے فرمایا: تمہارا یہ (ہمارے ساتھ) بیٹھنا اﷲکی طرف سے تم تک دین کے پہنچنے کا ذریعہ ہے اور اﷲکی تم پر حجت ہے اور حضور ﷺ نے خود (اﷲکا دین) پہنچایا، لہٰذا تم دوسروں تک پہنچاؤ۔3 ایک روایت میں حضرت سُلَیم بن عامر کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابواُمامہؓ کے پاس بیٹھا کرتے وہ ہمیں حضورﷺ کی طرف سے بہت سی حدیثیں سنایاکرتے۔ جب خاموش ہونے لگتے تو فرماتے: کیا تم لوگ سمجھ گئے؟ جیسے تم تک یہ حدیثیں پہنچائی گئی ہیں ایسے ہی تم بھی آگے دوسروں تک پہنچاؤ۔1 حضرت ابنِ عباس ؓفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے اﷲ! میرے خُلَفا و نائبین پر رحم فرما۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ کے خُلَفا کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور میری احادیث کی روایت کریں گے اور لوگوں کو حدیثیں سکھائیں گے۔2 حضرت عاصم بن محمداپنے والد حضرت محمدسے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن باہر تشریف لاتے اور منبر کے دو مٹھوں کو پکڑ کر کھڑے ہوجاتے اور فرماتے: ہمیں ابو القاسم رسول اﷲالصادق المصدوق ﷺ نے یہ حدیث بیان کی اور پھر مسلسل اَحادیث بیان کرتے رہتے۔ جب امام کے نماز کے لیے باہر آنے پر حجرہ کے دروازے کے کھلنے کی آواز سنتے تو پھر بیٹھتے۔3 حضرت اَسلمکہتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمرؓ کی خدمت میں عرض کیا کرتے کہ آپ ہمیں حضورﷺ کی طرف سے حدیث بیان فرمادیں، تو وہ فرماتے: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ میں کہیں کوئی حرف گھٹا یا بڑھا نہ دوں اور حضورﷺ نے فرمایا ہے: جو جان بو جھ کر میرے بارے میں جھوٹ بولے گا وہ آگ میں جائے گا۔4 حضرت عبد الرحمن بن حاطب کہتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کے کسی صحابی کو حضرت عثمان ؓ سے زیادہ مکمل اور زیادہ عمدہ طریقہ سے حدیث بیان کرنے والا نہیں دیکھا، لیکن پھر بھی وہ حدیث بیان کرنے سے ڈرتے تھے۔1 حضرت عثمانؓ فرماتے تھے کہ حضورﷺ کی طرف سے حدیث بیان نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں آپ کے صحابہ میں(آپ ﷺ کی حدیثوںکا) سب سے زیادہ حافظ نہیں ہوں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو میرے بارے میں ایسی بات کہے جو میں نے نہیںکہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جو میرے بارے میں جھوٹی بات کہے تو وہ اپنا گھر آگ میں بنالے۔2 حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں جب تمھیں حضورﷺ کی طرف سے حدیث بیان کرتا ہوں تو (کمالِ احتیاط کی وجہ سے) میری یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ آسمان سے زمین پر گر جانا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوجاتا ہے کہ میں حضورﷺ کی طرف سے ایسی بات کہہ دوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔ اور جب میں تم سے آپس کے معاملات کے بارے میں بات کرتا ہوں تو پھر یہ کیفیت نہیں ہوتی (اور اس میں اتنی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی)، کیوںکہ انسانوں سے جنگ تو تدبیر و حکمت اور داؤ سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔3 حضرت عمرو بن میمونکہتے ہیں کہ بعض دفعہ پورا سال گزر جاتا لیکن حضرت عبد اﷲ ؓ حضور ﷺ کی طرف سے کوئی حدیث بیان نہ کرتے۔ چناںچہ ایک سال ایسا ہی گزرا، اس کے بعد ایک حدیث بیان کی تو ایک دم پریشان ہوگئے اور پیشانی پر پسینہ بہنے لگا اور فرمانے لگے: یہی الفاظ حضورﷺ نے فرمائے تھے یا ان جیسے یا ان کے قریب الفاظ تھے۔4 حضرت مسروق کہتے ہیں: حضرت عبد اﷲؓ ایک دن حدیث بیان کرنے لگے اور فرمایا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، (پھر حدیث بیان کی) تو کانپنے لگے اور کپکپی کی وجہ سے کپڑے ہلنے لگے اور فرمایا: حضورﷺ نے یہی الفاظ فرمائے تھے یا ان جیسے یا ان کے مشابہ الفاظ تھے۔1 حضرت ابو ادریس خولانی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت ابوالدرداء ؓ جب حضور ﷺ کی طرف سے حدیث بیان کرنے سے فارغ ہوجاتے تو فرماتے کہ حضور ﷺ نے یا تو یہی الفاظ فرمائے تھے یا ان جیسے یا ان سے ملتے جلتے الفاظ تھے۔2 ابنِ عبدالبر کی روایت میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اے اﷲ! اگر یہ الفاظ نہیں ہیں تو ان جیسے الفاظ تھے۔3 حضرت محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ جب حضرت انس بن مالک ؓ حضور ﷺ کی طرف سے حدیث بیان کرلیتے تو فرمایا کرتے کہ یا تو حضورﷺ نے یہی الفاظ فرمائے تھے یا پھر جیسے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔4 حضرت ابنِ سیرین کہتے ہیں کہ حضرت انسؓ حضورﷺ کی طرف سے بہت کم حدیث بیان کیا کرتے اور جب بیان کرتے۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔5 حضرت ابو جعفر محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے کوئی صحابی حضورﷺ سے حدیث سن کر اس کے بیان کرنے میں حضرت عبداﷲبن عمرؓ سے زیادہ احتیاط برتنے والا نہیں تھا۔ یہ حدیث کے الفاظ نہ بڑھاتے تھے اور نہ گھٹاتے تھے اور نہ ان میں کچھ تبدیلی کرتے تھے۔6 حضرت شعبیکہتے ہیں: ایک سال تک حضرت ابنِ عمرؓ کے ساتھ میرے نشست رہی۔ میں نے انھیں اس عرصہ میں حضورﷺ کی طرف سے ایک بھی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔1 حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا: میں نے حضورﷺ سے بہت سی حدیثیں سنی ہیں جو مجھے یاد بھی ہیں، لیکن میں انھیں صرف اس وجہ سے بیان نہیں کرتا کہ میرے ساتھ کے صحابہ ان حدیثوں میں میری مخالفت کریں گے۔ 2 حضرت مُطَرّف کہتے ہیں: مجھ سے حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا: اے مُطَرّف! (مجھے بہت زیادہ حدیثیں یاد ہیں) اﷲ کی قسم! مجھے اس کا یقین ہے کہ اگر میں چاہوں تو دو دن مسلسل حضور کریم ﷺ کی طرف سے حدیثیں اس طرح بیان کرسکتا ہوں کہ کوئی حدیث دودفعہ بیان نہ ہو، لیکن مجھے زیادہ حدیثیں بیان کرنا پسند بھی نہیں اور میں زیادہ بیان بھی نہیں کرتا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعض صحابہ بھی اسی طرح (حضورﷺ کی مجلس میں) حاضر ہوا کرتے تھے جس طرح میں حاضر ہوا کرتا تھا اور انھوں نے بھی (حضور ﷺ سے) اسی طرح سنا جس طرح میں نے سنا، لیکن وہ کچھ حدیثیں ایسی بیان کرتے ہیں جن کے الفاظ کچھ آگے پیچھے ہوگئے ہیں۔ چناںچہ حضرت عمرانؓ بعض دفعہ تو یوں فرماتے کہ اگر آپ لوگوں کو میں یہ حدیث بیان کروں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے، تو مجھے یقین ہے کہ میں ان الفاظ میں بالکل سچا ہوں گا۔ اور کبھی پورے وثوق سے کہتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا۔3 حضرت سلیمان بن اَبی عبد اﷲ کہتے ہیں کہ میں حضرت صُہَیبؓکو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ کی قسم! میں جان بوجھ کر آپ لوگوں کو حدیثیں نہیں سناتا اور یوں نہیں کہتا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے۔ ہاں، اگر آپ لوگ کہیں تو میں حضورﷺ کے غزوات میں شریک ہوا ہوں اور ان میں بہت کچھ دیکھا ہے، یہ سب کچھ سنانے کو تیار ہوں، لیکن یوں کہوں کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے، اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔1 حضرت مکحول کہتے ہیں کہ ایک دن میں اور حضرت ابو الازہر دونوں حضرت واثلہ بن اَسقع ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے ابوالا سقع! ہمیں ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے حضورﷺ سے سنی ہو جس میں نہ تو وہم ہو نہ کمی زیادتی ہو۔ انھوں نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کچھ قرآن پڑھا ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، لیکن ہمیں قرآن اچھی طرح یاد نہیں ہے، الف یا واؤ کی زیادتی ہوجاتی ہے۔ تو فرمایا: یہ قرآن کتنے عرصہ سے تمہارے درمیان ہے اور تم لوگ اب تک اسے اچھی طرح یاد نہیں کرسکے ہو اور سمجھتے ہو کہ تم لوگوں سے قرآن میں کمی زیادتی ہوجاتی ہے، تو پھر تمہارا ان حدیثوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنھیں ہم نے حضورﷺ سے سنا ہے، کیوںکہ ہوسکتا ہے ہم نے حضورﷺ سے وہ حدیث ایک دفعہ ہی سنی ہو، اس لیے حضورﷺ والے الفاظ بعینہٖ بیان کرنا تو ہمارے لیے بہت مشکل ہے البتہ ان کا معنی اور مطلب ہم بیان کرسکتے ہیں تم اسی کو کافی سمجھو۔2 حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوفکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے انتقال سے پہلے حضورﷺ کے جن صحابہؓکے پاس آدمی بھیج کر انھیں اطرافِ عالم سے (مدینہ منورہ میں) جمع کیا وہ یہ ہیں: حضرت عبداﷲ بن حُذافہ، حضرت ابوالدرداء، حضرت ابوذر اور حضرت عُقبہ بن عامر ؓ۔ جب یہ حضرات آگئے تو ان سے حضرت عمرؓ نے فرمایا: آپ لوگوں نے اطرافِ عالم میں حضورﷺ کی طرف سے یہ کیا حدیثیں پھیلا دی ہیں؟ انھوں نے کہا: کیا آپ ہمیں (حدیثیں بیان کرنے سے) روکنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ آپ لوگ میرے پاس رہیں۔ اﷲ کی قسم! جب تک میں زندہ ہوں آپ لوگ مجھ سے جدا نہیں ہوسکتے (یہاں رہ کر حدیثیں بیان کریں) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بھی حدیثیں خوب جانتے ہیں، اس لیے آپ لوگوں کی حدیثوں کو دیکھیں گے کہ کون سی لینی چاہیے اور کون سی چھوڑنی چاہیے۔ چناںچہ یہ حضرات حضرت عمر ؓکے انتقال تک ان کے پاس ہی (مدینہ منورہ میں) رہے، ان سے جدا نہ ہوئے۔1 حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے حضرت ابنِ مسعود ، حضرت ابو مسعود انصاری اور حضرت ابو الدرداء ؓ کے پاس پیغام بھیج کر انھیں بلایا اور ان سے فرمایا: آپ لوگ حضورﷺ کی طرف سے حدیثیں کثرت سے کیوں بیان کر رہے ہیں؟ پھر شہید ہونے تک حضرت عمرؓ نے انھیں (وہیں مدینہ میں) روکے رکھا۔2 حضرت ابنِ اَبی اَوفیٰ کہتے ہیں: ہم لوگ حضرت زید بن اَرقم ؓکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کرتے کہ ہمیں حضورﷺ کی طرف سے حدیث بیا ن فرما دیں۔ وہ فرماتے: اب ہم زیادہ بوڑھے ہوگئے ہیں اور بھولنے لگ گئے ہیں اور حضورﷺ کی طرف سے حدیث بیان کرنا بڑی ذمہ داری کا کام ہے (اگر اس میں غلطی ہوگئی تو سخت پکڑ ہوگی)۔3