صحابہ کرام ؓ کا ایمان

قرآن کے قاریوں کو نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کی نصیحتیں

حضرت کنانہ عدوی کہتے ہیں کہ ملکِ شام میں مسلمانوں کے جو لشکر تھے ان کے اُمرا کو حضرت عمر بن خطابؓ نے خط میں یہ لکھا کہ قرآن کے تمام حافظوں کی فہرست میرے پاس بھیج دو تاکہ میں ان کا وظیفہ بڑھاؤں اور انھیں اطرافِ عالم میں لوگوں کو قرآن سکھانے کے لیے بھیج دوں۔ اس پر حضرت (ابو موسیٰ) اَشعریؓ نے لکھا کہ ہمارے ہاں حافظوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جواب میں حضرت عمرؓنے ان حافظوں کو یہ نصیحتیں لکھیں: بسم اﷲالرحمن الرحیمـ یہ خط اﷲ کے بند ے عمر کی طرف سے حضرت عبد اﷲبن قیس (ابو موسیٰ اشعری) اور ان کے ساتھ جتنے حافظِ قرآن ہیں اُن سب کے نام ہے۔ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ اما بعد! یہ قرآن تمہاے لیے باعثِ اَجر، سببِ شرف و عزّت اور (آخرت میں کام آنے والا) ذخیرہ ہے۔ اس لیے تم اس کے پیچھے چلو (اپنی خواہشات کو قربان کر کے اس پر عمل کرو)، قرآن تمہارے پیچھے نہ چلے (یعنی قرآن کو اپنی خواہشات کے تابع نہ بناؤ)، کیوںکہ قرآن جس کے پیچھے چلے گا تو قرآن اسے گدی کے بل گرادے گا،پھر اسے آگ میں پھینک دے گا، اور جو قرآن کے پیچھے چلے گا قرآن اسے جنت الفردوس میں لے جائے گا۔ تم اس بات کی پوری کوشش کرو کہ قرآن تمہارا سفارشی بنے اور تم سے جھگڑا نہ کرے، کیوںکہ قرآن جس کی سفارش کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس سے قرآن جھگڑا کرے گا وہ آگ میں داخل ہوگا۔ اور یہ جان لوکہ قرآن ہدایت کا چشمہ اور علم کی رونق ہے اور یہ رحمان کے پاس سے آنے والی سب سے آخری کتاب ہے۔ اس کے ذریعہ سے اﷲتعالیٰ اندھی آنکھوںکو، بہرے کانوں کو اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھولتے ہیں۔ اور جان لو کہ بندہ جب رات کو کھڑا ہوتا ہے اور مسواک کرکے وضو کرتا ہے، پھر تکبیر کہہ کر (نماز میں) قرآن پڑھتا ہے، تو فرشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر کہتا ہے: اور پڑھ، اور پڑھ۔ تم خود پاکیزہ ہو اور قرآن تمہارے لیے پاکیزہ ہے۔ اور اگر وہ وضو کرے لیکن مسواک نہ کرے تو فرشتہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسی تک محدود رہتا ہے، اس سے آگے کچھ نہیں کرتا۔ غور سے سنو! نماز کے ساتھ قرآن کا پڑھنا محفوظ خزانہ اور اﷲ کا مقر ر کردہ بہترین عمل ہے، لہٰذا جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھو۔ نماز نور ہے، اور زکوٰۃ دلیل ہے، اور صبر روشن اور چمک دار عمل ہے، اور روزہ ڈھال ہے، اور قرآن تمہارے لیے حجت ہوگا یا تمہارے خلاف، لہٰذا قرآن کا اکرام کرو اور اس کی توہین نہ کرو، کیوںکہ جو قرآن کا اکرام کرے گا اﷲ اس کا اکرام کرے گا اور جو اس کی توہین کرے گا اﷲ اس کی توہین کرے گا۔ اور جان لو کہ جو قرآن پڑھے گا اور اسے یاد کرے گا اور اس پر عمل کرے گا اور جو اس میں ہے اس کا اتباع کرے گا تو اس کی دعا اﷲکے ہاں قبول ہوگی۔ اگر اﷲ چاہے گا تو اس کی دعا دنیا میں پوری کردے گا، ورنہ وہ دعا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ ہوگی۔ اور جان لو کہ جو کچھ اﷲ کے پاس ہے وہ ان لوگوں کے لیے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے جو ایمان والے اور اپنے ربّ پر توکل کرنے والے ہیں۔1 حضرت ابو کِنانہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے قرآن کے حافظوں کو جمع کیا، ان کی تعداد تقریباً تین سوتھی۔ پھر حضرت ابو موسیٰ نے قرآن کی عظمت بیان کی اور فرمایا: یہ قرآن تمہارے لیے باعثِ اجر ہوگا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے لیے بوجھ اور وبال بن جائے، لہٰذا تم قرآن کا اتباع کرو(اپنی خواہشات کو قربان کرکے اس پر عمل کرو)۔ قرآن کو اپنے تابع نہ کرو، کیوںکہ جو قرآن کے تابع ہوگا اسے قرآن جنت کے باغوں میں لے جائے گا، اور جو قرآن کو اپنے تابع کرے گا تو قرآن اسے گدی کے بل گرا کر آگ میں پھینک دے گا۔1 حضرت ابو اَسود دِیلی کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے قرآن کے حافظوں کو جمع کیا اور فرمایا: میرے پاس اندر صرف قرآن کے حافظوں کو ہی لاؤ۔ چناںچہ ہم تقریباً تین سو حافظ اُن کی خدمت میں اندر گئے۔ پھر انھوں نے ہمیں نصیحت کی اور فرمایا: تم لوگ شہروالوں کے حافظ ہو۔ کہیں ایسے نہ ہو کہ لمبی مدت گزر جانے پر تمہارے دلوں میں سختی آجائے جیسے کہ اہلِ کتاب کے دل سخت ہوگئے تھے۔ پھر فرمایا: ایک سورت نازل ہوئی تھی جو سورۂ برأت جتنی لمبی تھی اور سورۂ برأت کی طرح اس میں سختی اور ڈانٹ ڈپٹ تھی۔ اس وجہ سے ہم کہتے تھے کہ یہ سورۂ برأت کے مشابہ ہے۔ اس کی ایک آیت مجھے یاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر ابنِ آدم کو سونے کی دو وادیاں مل جائیں تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرنے لگے گا اور ابنِ آدم کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ اور ایک اور سورت بھی نازل ہوئی تھی جس کے بارے میں ہم کہتے تھے کہ یہ سورت مسبّحات کے مشابہ ہے، کیوںکہ وہ بھی سَبَّحَ لِلّٰہِ سے شروع ہوتی تھی۔ اس کی ایک آیت مجھے یاد ہے: {یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ آیت کا نشان}2 اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ ہر بات گواہی بن کر تمہاری گردنوں میں ڈالی جائے گی، پھر قیامت کے دن اس کے بارے میں تم سے پوچھ ہوگی۔3 حضرت ابنِ مسعودؓ کے پاس کوفہ کے کچھ لوگ آئے۔ حضرت ابنِ مسعودؓ نے انھیں سلام کیا اور انھیں اس بات کی تاکید کی کہ وہ اﷲ سے ڈریں اور قرآن کے بارے میں آپس میں جھگڑا نہ کریں ،کیوںکہ قرآن میں اختلاف نہیں ہے۔ اور نہ اسے چھوڑا جاسکتا ہے، نہ اسے زیادہ پڑھنے سے دل اُکتاتا ہے۔ اور کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ شریعتِ اسلام کے حدود، فرائض اور اَوامر سب ایک ہی ہیں؟ اگر قرآن میں ایک جگہ کسی کام کا حکم ہوتا اور دوسری جگہ اس کی ممانعت ہوتی تو پھر تو قرآن میں اختلاف ہوتا۔ قرآن میں تمام مضامین ایک دوسرے کی تائید کرنے والے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ تم لوگوں میں علم اور دین کی سمجھ اور لوگوں سے زیادہ ہے۔ اور اگر مجھے کسی آدمی کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والے علوم کو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے اور اونٹ مجھے اس تک پہنچا سکتے ہیں، تو میں(اس سے علم حاصل کرنے کے لیے) ضرور اس کے پاس جاتا تاکہ میرے علم میں اضافہ ہوجائے۔ مجھے خوب معلوم ہے کہ حضورﷺ پر ہر سال قرآن ایک مرتبہ پیش کیا جاتا تھا اور جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ پر دو مرتبہ پیش کیاگیا تھا (رمضان میں حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کو سارا قرآن سناتے تھے اور حضورﷺ حضرت جبرئیل ؑ کو)۔ اور میں جب بھی حضور ﷺکو قرآن پڑھ کر سناتا تو حضور ﷺہمیشہ فرماتے کہ میں نے قرآن بہت اچھا پڑھا ہے۔ لہٰذا جو میری طرح قرآ ن پڑھتا ہے وہ میری طرح پڑھتا رہے اور اسے غلط سمجھ کر چھوڑے نہیں۔ اور حضورﷺ سے اور بھی کئی طرح قرآن پڑھنا ثابت ہے، جو ان میں سے کسی ایک طرح قرآن پڑھتا ہو وہ اسے نہ چھوڑے، کیوںکہ جو اِن میں سے کسی ایک طرح کا انکار کرے گا وہ باقی تمام کا انکار کرنے والا شمار ہوگا۔1 حضرت عبد اﷲؓ کے ساتھیوں میں سے ہمدان کے رہنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عبداﷲکا مدینہ منورہ جانے کا ارادہ ہوا تو انھوں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا: مجھے اُمید ہے کہ اب آپ لوگوں میں دین، دینی سمجھ اور قرآن کا علم مسلمانوں کے باقی تمام لشکروں سے زیادہ ہوچکا ہے۔ اس کے بعد آگے لمبی حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ اس قرآن میں کسی قسم کا اختلاف نہیں، اور نہ یہ زیادہ پڑھنے سے پرانا ہوتا ہے اور نہ اس کی عظمت دل میں کم ہوتی ہے۔ 1 حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا کہ قرآن کے حافظ میں مندرجہ ذیل نشانیاں ہونی چاہییں جن سے وہ پہچانا جائے(اس زمانے میں قرآن کا ہر حافظ قرآن کا عالم بھی ہوتا تھا): رات کو لوگ جب سورہے ہوں تو وہ اﷲکی عبادت کررہا ہو، دن کو لوگ بغیر روزہ کے ہوں تو وہ روزہ دار ہو۔ اور جب لوگ خوش ہورہے ہوں تو وہ (اُمّت کے غم میں) غمگین ہو، اور جب لوگ ہنس رہے ہوں تووہ (اﷲکے سامنے) رو رہا ہو۔ اور جب لوگ آپس میں مل کر اِدھر اُدھر کی باتیں کررہے ہوں تو وہ خاموش ہو، اور جب لوگ اَکڑ رہے ہوں تو وہ عاجز اور مسکین بنا ہوا ہو۔ اور اسی طرح حافظِ قرآن کو رونے والا، غمگین، حکمت والا، بُردبار، علم والا اور خاموش رہنے والا ہونا چاہیے۔ اور بدسلوک، غافل، شور مچانے والا، چیخنے والا اور تیز مزاج نہیں ہونا چاہیے۔2 اور ایک روایت میں یہ ہے کہ تم اس کی پوری کوشش کرو کہ تم سننے والے بنو(یعنی سنانے سے زیادہ اچھے لوگوں کی سنا کرو) اور جب تم سنو کہ اﷲتعالیٰ فرما رہے ہیں: اے ایمان والو! تو اپنے کان اس کے حوالے کردو (یعنی پورے غور سے اُسے سنو)، کیوںکہ یا تو اللہ تعالیٰ خیر کے کام کا حکم دے رہے ہوں گے یا کسی برے کام سے روک رہے ہوں گے۔3