صحابہ کرام ؓ کا ایمان
اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے علم سے اثر لینا
حضرت ولید بن اَبی الولید ابو عثمان مدنی کہتے ہیں کہ حضرت عُقبہ بن مسلم نے ان سے بیان کیاکہ حضرت شُُفَی اَصْبَحی نے ان سے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کے اردگرد بہت لوگ جمع ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابو ہریرہؓ ہیں۔ میں ان کے قریب جاکر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ وہ لوگوں کو حدیثیں سنا رہے تھے۔ جب وہ خاموش ہوگئے اور سب لوگ چلے گئے اور وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے عرض کیا کہ میرے آپ پر جتنے حق بنتے ہیں (کہ میں مسلمان ہوں، مسافر ہوں اور طالب علم ہوں وغیرہ) ان سب کا واسطہ دے کر میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ حدیث سنائیں جو آپ نے حضورﷺ سے سنی ہے اور خوب اچھی طرح سمجھی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: ضرور، میں تمھیں وہ حدیث ضرور سناؤں گا جو حضورﷺ نے مجھ سے بیان فرمائی اور میں نے اسے خوب اچھی طرح سمجھا ہے۔ پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے ایسے زور سے سسکی لی کہ بے ہوش ہونے کے قریب ہوگئے۔ ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے، پھر انھیں افاقہ ہو ا تو فرمایا: میں تمھیں وہ حدیث ضرور سناؤں گا جو حضورﷺ نے مجھ سے اس گھر میں بیان فرمائی تھی، اور اس وقت میرے اور حضورﷺ کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ پھر اتنے زور سے سسکی لی کہ بے ہوش ہی ہوگئے۔ پھر انھیں افاقہ ہوا اور انھوں نے اپنا چہرہ پونچھا اور فرمایا: میں تمھیں وہ حدیث ضرور سناؤں گا جو حضورﷺ نے اس وقت مجھ سے بیان فرمائی تھی جب کہ ہم دونوں اس گھر میں تھے اور ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ اس کے بعد پھر حضرت ابوہریرہؓ نے اتنے زور سے سسکی لی کہ بے ہوش ہوگئے اور منہ کے بل زمین پر گرنے لگے، لیکن میں نے انھیں سنبھال لیا اور بہت دیر تک انھیں سہارا دے کر سنبھالے رکھا۔
پھر انھیں افاقہ ہوا تو فرمایا کہ مجھ سے حضورﷺ نے یہ بیان فرمایا کہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس وقت کسی میں اﷲ کے سامنے کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہوگی، بلکہ ہر جماعت گھٹنوں کے بل سر جھکائے ہوئے ہوگی۔ اور اﷲ تعالیٰ پہلے تین آدمیوں کو بلائیں گے: ایک وہ آدمی جس نے سارا قرآن یاد کیا، اور دوسرا وہ آدمی جسے اﷲ کے راستے میں شہید کیا گیا، اور تیسرا مال دار آدمی۔
پھر اﷲ تعالیٰ قرآن کے قاری کو فرمائیں گے: جو وحی میں نے اپنے رسول پر نازل کی تھی کیا میں نے وہ تجھے نہیں سکھائی تھی؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ!سکھائی تھی۔ اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: تُو نے جو کچھ سیکھا تھا اس پر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں رات دن اس کی تلاوت کرتا تھا۔ اﷲتعالیٰ اس سے فرمائیں گے: تو غلط کہتا ہے۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو غلط کہتا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: تو نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ لوگ تجھے قاری کہیں۔ سو یہ تجھے کہا جاچکا(اور تیرا مقصد حاصل ہوچکا)۔
پھر مال دار کو لایا جائے گا اور اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے: کیا میں نے تجھے اس قدر زیادہ وسعت نہیں دی تھی کہ تو کسی کا محتاج نہیں تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، بہت وسعت دی تھی۔ اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے:جب میں نے تجھے اتنا زیادہ دیا تو تُو نے اس کے مقابلہ میں کیا عمل کیے؟ وہ کہے گا: میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ خیرات دیتا تھا۔اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: تو غلط کہتا ہے۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو غلط کہتا ہے۔ پھر اﷲ تعالیٰ کہیں گے:تو نے سب کچھ اس لیے کیا تھا تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں بہت سخی ہے اور یہ کہا جاچکا۔
اور پھر اﷲ کے راستے میں شہید ہونے والے کو لایا جائے گا اور اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے: تمھیں کس وجہ سے قتل کیا گیا؟ وہ کہے گا: تُو نے اپنے راستہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا، اس وجہ سے میں نے کفار سے جنگ کی یہاں تک کہ مجھے قتل کردیا گیا۔ اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے: تو غلط کہتا ہے۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو غلط کہتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: تُو نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تھا تاکہ یہ کہا جائے کہ فلاں بہت بہادر ہے اور یہ کہا جاچکا۔
پھر حضورﷺ نے میرے گھٹنوںپر ہاتھ مار کر فرمایا: اے ابو ہریرہ! اﷲ کی مخلوق میں یہی تین آدمی ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن سب سے پہلے آگ کو بھڑکایا جائے گا۔ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ ؓ سے سن کر حضرت شُفَی حضرت معاویہؓکی خدمت میں گئے اور انھیں یہ حدیث سنائی۔
حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت علاء بن ابی حکیم حضرت معاویہؓ کے تلوار بردار تھے۔ انھوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا کہ ایک آدمی نے حضرت معاویہؓ کے پاس آکر حضرت ابو ہریرہ ؓ کی طرف سے یہ حدیث سنائی۔ اسے سن کر حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا: جب ان تینوں کے ساتھ یہ کیا جائے گا تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ پھر حضرت معاویہ ؓ نے رونا شروع کیا اور اتنا زیادہ روئے کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ شاید وہ ہلاک ہوجائیں گے۔ اور ہم نے کہا: یہ آدمی تو ہمارے پاس بہت خطرناک خبر لے کر آیا ہے۔ پھر حضرت معاویہؓ کو اِفاقہ ہوا اور انھوں نے اپنا چہرہ صاف کیا اور فرمایا: اﷲ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے: {مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَآیت کا نشان اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ صلیق وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْھَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ آیت کا نشان}1
جو شخص (اپنے اعمالِ خیر سے) محض حیاتِ دنیوی (کی منفعت) اور اس کی رونق (کا حاصل کرنا) چاہتا ہے، تو ہم ان لوگوں کے (ان) اعمال (کی جزا) ان کو دنیا ہی میں پورے طور سے بھگتا دیتے ہیں اور ان کے لیے دنیا میں کچھ کمی نہیں ہوتی۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں بجز دوزخ کے اور کچھ (ثواب وغیرہ) نہیں، اور انھوں نے جو کچھ کیا تھا وہ آخرت میں سب کا سب ناکارہ (ثابت ہوگا) اور (واقع میں تو) جو کچھ کررہے ہیں وہ اب بھی بے اثر ہے۔2
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ مروہ پر حضرت عبد اﷲ بن عمر اور حضرت عبداﷲبن عمر و بن العاصؓکی آپس میں ملاقات ہوئی۔ وہ دونوں کچھ دیر آپس میں بات کرتے رہے، پھر حضرت عبداﷲبن عمروؓ چلے گئے اور حضرت عبد اﷲبن عمرؓ وہاں روتے ہوئے رہ گئے۔ تو ایک آدمی نے ان سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا: یہ صاحب یعنی حضرت عبداﷲ بن عمرو ؓ ابھی بتا کرگئے ہیں کہ انھوں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، اﷲ تعالیٰ اسے چہرے کے بل آگ میں ڈال دیں گے۔3
بنو نوفل کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو الحسن کہتے ہیں کہ جب ’’سورۂ طٰسٓمٓ شعراء‘‘ نازل ہوئی تو حضرت عبداﷲ بن رواحہ اور حضرت حسان بن ثابت ؓ روتے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے:
{وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ آیت کا نشان}1
اور شاعر وں کی راہ تو بے راہ لوگ چلا کرتے ہیں۔
پھر حضورﷺ {وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} (ہاں مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے) پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: تم ہو یہ لوگ۔ پھر پڑھا: {وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا} (اور انھوں نے (اپنے اشعار میں) کثرت سے اﷲ کا ذکر کیا) آپ نے فرمایا: تم ہو یہ لوگ۔ پھر پڑھا: {وَانْتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا} (اور انھوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا ہے (اس کا) بدلہ لیا) پھر فرمایا: تم ہو یہ لوگ۔ 2
حضرت ابو صالح کہتے ہیں: جب حضرت ابو بکر ؓ کے زمانے میں یمن والے آئے اور انھوں نے قرآن سنا تو وہ رونے لگے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے (تواضعاً) فرمایا: ہم بھی ایسے تھے پھر دل سخت ہوگئے۔ ابو نُعیم صاحبِ کتاب کہتے ہیں: دل سخت ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو پہچان کر دل طاقت ور اور مطمئن ہوگئے۔3