صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے علم کے علاوہ دوسرے علم میں مشغول ہونے پر انکار اور سختی
حضرت عمرو بن یحییٰ بن جَعْدہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی خدمت میں ایک کتاب لائی گئی جو کسی جانور کے کندھے کی ہڈی پر لکھی ہوئی تھی۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: کسی قوم کے بے وقوف اور گمراہ ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اپنے نبی کے لائے ہوئے علم کو چھوڑ کر دوسرے نبی کے علم کی طرف متوجہ ہو، یااپنے نبی کی کتاب کے علاوہ کسی اور کتاب کی طرف متوجہ ہوں۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{اَوَلَمْ یَکْفِھِمْ اَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْھِمْ}1
کیا ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں ہوئی کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی جو اِن کو سنائی جاتی رہتی ہے۔
حضرت خالد بن عُرفطہکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں قبیلہ عبد القیس کا ایک آدمی ان کے پاس لایا گیا جس کی رہایش ’’سوس‘‘ شہر میں تھی۔ (یہ خوزستان کا ایک شہر ہے جس میں حضرت دانیال ؑ کی قبر ہے)۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم فلاں بن فلاں عبدی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر ؓ کے پاس ایک لاٹھی تھی وہ انھوں نے اسے ماری۔ اس نے کہا:اے امیر المؤمنین میرا کیا قصور؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے یہ آیات تین دفعہ پڑھیں:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
{الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِآیت کا نشان اِنَّا اَنْزَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَآیت کا نشان نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَصلیق وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰـفِلِیْنَ آیت کا نشان}2
الٓرٰ۔یہ آیتیں ہیں ایک کتاب واضح کی۔ ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھو۔ ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصّہ بیان کرتے ہیں اور اس کے قبل آپ محض بے خبر تھے۔
اور اسے تین مرتبہ لاٹھی ماری۔ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرا قصور؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم نے ہی حضرت دانیال ؑ کی کتابیں لکھی ہیں۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ مجھے جو فرمائیں گے میں وہی کروں گا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: جاؤ، اور جاکر ان پر گرم پانی ڈال کر سفید اُون سے مَل کر ان کو مٹادو، نہ خود پڑھو اور نہ کسی کو پڑھاؤ اگر مجھے پتا چلا کہ تم نے خود پڑھی ہیں یا کسی کو پڑھائی ہیں تو میں تمھیں سخت سزا دوں گا۔ پھر اس سے فرمایا: یہاں بیٹھو۔ وہ حضرت عمر ؓ کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ایک دفعہ میں گیا اور اہلِ کتاب کی ایک کتاب نقل کی اور اسے ایک کھال پر لکھ کر حضورﷺ کی خدمت میں لایا۔ حضورﷺ نے فرمایا:اے عمر! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! یہ کتاب میں اس لیے لکھ کر لایا ہوں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہوجائے۔ یہ سنتے ہی حضور ﷺ کو غصہ آگیا اور اتنا غصہ آیا کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے، پھر (حضور ﷺ کے ارشاد پر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے)۔ الصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کہہ کر اعلان کیا گیا۔ ا نصار نے کہا تمہارے نبی ﷺ کو کسی وجہ سے سخت غصہ آیا ہوا ہے اس لیے ہتھیار لگاکر چلو، ہتھیار لگا کر چلو۔ چناںچہ انصار تیار ہوکر آئے اور آکر حضورﷺ کے منبر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! مجھے ایسے کلمات دیے گئے ہیں جن کے الفاظ کم اور معانی بہت زیادہ ہیں، اور وہ مہر کی طرح آخری درجے کے اور فیصلہ کن نوعیت کے کلمات ہیں، اور اﷲ تعالیٰ نے بہت مختصر کرکے مجھے عطافرمائے ہیں۔ اور میں تمہارے پاس ایسی ملت لے کر آیا ہوں جو بالکل واضح اور صاف ستھری ہے۔ لہٰذا تم حیرت اور پریشانی میں مت پڑو، اور نہ حیرت میں پڑنے والوں یعنی اہلِ کتاب سے دھوکہ کھاؤ۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: میں نے فوراً کھڑے ہوکر عرض کیا: میں اﷲ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے رسول ہونے پر بالکل راضی ہوں۔ پھر حضورﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ 1
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ کو اہلِ کتاب سے ایک کتاب ملی۔ وہ اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! مجھے اہلِ کتاب سے ایک بہت اچھی کتاب ملی ہے۔ یہ سنتے ہی حضورﷺ کو غصہ آگیا اور فرمایا: اے ابن الخطاب! کیا تم ابھی تک اسلام کے امور کے بارے میں حیران و پریشان ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس ایسی ملت لے کر آیا ہوں جو بالکل واضح اور صاف ستھری ہے۔ تم اہلِ کتاب سے کچھ نہ پوچھو، کیوںکہ ہوسکتا ہے کہ وہ جواب میں تمھیں حق بات کہہ دیں اور تم اسے جھٹلا دو، یا وہ غلط بات کہہ دیں اور تم اسے سچا مان لو (ان کے ہاں حق اور باطل آپس میں ملا ہوا ہے)۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر حضرت موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میرا ہی اِتباع کرنا پڑتا (اس کے علاوہ ان کے لیے بھی کامیابی کا اور کوئی راستہ نہ ہوتا)۔1
حضرت عبداﷲ بن ثابت ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اﷲ! میرا اپنے ایک بھائی کے پاس سے گزر ہوا جو کہ قبیلہ بنو قریظہ میں سے ہے۔ اس نے مجھے تورات میں سے جامع باتیں لکھ کردی ہی۔ کیا میں انھیں آپ کے سامنے پیش کروں؟ حضرت عبدا ﷲ ؓ فرماتے ہیں: یہ سنتے ہی غصہ کی وجہ سے حضورﷺ کا چہرہ بدل گیا، تو میں نے کہا:(اے عمر!) کیا تم حضورﷺ کے چہرے پر غصہ کے آثار نہیں دیکھ رہے ہو؟ انھوں نے فوراً عرض کیا: ہم اﷲ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ اس پر حضورﷺ کا غصہ زائل ہوگیا اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم میں حضرت موسیٰ ؑ ہوتے اور تم مجھے چھوڑکر ان کا اِتباع کرلیتے تو تم گمراہ ہوجاتے۔ دوسری اُمتوں میں سے تم میرے حصّے میں آئے ہو اور دوسرے نبیوں میں سے میں تمہارے حصّے میں آیا ہوں۔1
حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطّابؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین! ہم نے جب مدائن شہر فتح کیا تو مجھے ایک کتاب ملی جس کی باتیں مجھے بہت پسند آئیں۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: کیا اس کی باتیں اﷲ کی کتاب سے لی ہوئی ہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے کوڑا منگا کر اسے مارنا شروع کردیا اور یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں:
{الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ آیت کا نشان اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا}سے لے کر {وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰـفِلِیْنَ آیت کا نشان}تک۔2
ترجمہ اسی باب کے شروع میں گزر چکا ہے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے عُلمَا اور پادریوں کی کتابوں کی طرف متوجہ ہوگئے، اور انھوں نے تورات اور انجیل کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ یہ دونوں کتابیں بوسیدہ ہوگئیں اور دونوں میں جو علمِ الٰہی تھا وہ سب جاتا رہا۔3
حضرت حُریث بن ظُہیر کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: اہلِ کتاب سے کچھ بھی نہ پوچھا کرو، کیوںکہ وہ خود گمراہ ہوچکے ہیں اس لیے تمھیں کبھی بھی ہدایت کی بات نہیں بتائیں گے، بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ حق بات بیان کریں اور تم اسے جھٹلا دو، اور وہ غلط بات بیان کریں اور تم اس کی تصدیق کردو۔4
عبدالرزاق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: اگر تم نے ان سے ضرور پوچھنا ہے تو پھر یہ دیکھو کہ جو اﷲ کی کتاب کے مطابق ہو وہ لے لو اور جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دو۔
حضرت ابنِ عباس ؓفرماتے ہیںکہ تم اہلِ کتاب سے کوئی بات کیسے پوچھتے ہو جب کہ تمہاری یہ کتاب جو اﷲ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر نازل فرمائی ہے تمہارے سامنے موجود ہے۔ تمام کتابیں بہت زمانہ پہلے اﷲ کے پاس سے آئی ہیں اور یہ ابھی ابھی اﷲ کے ہاں سے آئی ہے، بالکل تروتازہ ہے، اس میں باہر کی کوئی چیز ملائی نہیں جاسکی۔ کیا اﷲ تعالیٰ نے تمھیں اپنی کتاب میں یہ نہیں بتایا کہ ان اہلِ کتاب نے اﷲ کی کتاب (تورات اور انجیل) کو بدل دیا ہے اور اس میں تحریف کی ہے اور بہت سی باتیں اپنے پاس سے لکھ کر اس میں شامل کرکے یوں کہنے لگے کہ یہ اﷲ کے پاس سے آئی ہیں؟ یہ اس لیے کیا تاکہ کچھ تھوڑا سا دنیا وی فائدہ حاصل ہوجائے۔ وہ علمِ الہٰی جو تمہارے پاس آیا ہے، کیا وہ تمھیں ان سے پوچھنے سے روکتا نہیں؟ (قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے اہلِ کتاب سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے)۔ اﷲ کی قسم! ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ اہلِ کتاب کا کوئی آدمی اس علم کے بارے میں پوچھ رہا ہو جو اﷲ نے تمہارے پاس نازل فرمایا ہے۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: تم اہلِ کتاب سے اُن کی کتابوں کے بارے میں پوچھتے ہو، حالاںکہ تمہارے پاس اﷲ کی کتاب ہے جو تمام کتابوں کے بعد سب سے آخر میں ابھی ابھی اﷲ کے پاس سے آئی ہے۔ تم اسے پڑھتے بھی ہو اور وہ بالکل تروتازہ ہے، اور اس میں کوئی اور چیز ابھی تک ملائی بھی نہیں جا سکی۔2