صحابہ کرام ؓ کا ایمان
تراویح کی نماز
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ رمضان میں رات کو تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے،لیکن اس کے واجب ہونے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ چناںچہ فرماتے تھے: جو رمضان کی راتوں میں تراویح ایمان ویقین کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کے شوق میں پڑھے گا اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔2
ایک روایت میں یہ ہے پھر حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا اور یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہا، اور پھر حضرت ابو بکرؓکے زمانے میں اور حضرت عمرؓ کے شروع زمانے میں یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔3
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ایک مرتبہ رمضان میں باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضورﷺ نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں؟ صحا بہؓنے عرض کیا: ان میں قرآن کا حافظ کوئی نہیں ہے، اس لیے حضرت اُبی بن کعبؓ انھیں نماز پڑھا رہے ہیں اور یہ ان کے پیچھے پڑھ رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: انھوں نے ٹھیک کیا اور ان کا یہ کام بہت اچھا ہے۔4
حضرت عبدالرحمن بن عبد قاری کہتے ہیں: رمضان کی ایک رات میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ساتھ مسجد میں گیا، لوگ مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے۔ کوئی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور ایک جماعت اس کے ساتھ پڑھ رہی تھی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میر ا خیال یہ ہورہا ہے کہ اگر میں ان سب کو ایک حافظِ قرآن کے پیچھے کھڑا کردوں تو یہ زیادہ بہتر رہے گا۔ پھر حضرت عمرؓنے اس کا پختہ ارادہ کرلیا اور ان سب کو حضرت اُبی بن کعبؓ کے پیچھے جمع کردیا۔ پھر میں حضرت عمرؓ کے ساتھ دوسری رات پھر گیا، لوگ اپنے قاری (حضرت اُبی بن کعب ؓ) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:یہ بہت اچھی بدعت ہے، لیکن تم شروع رات میں تو تراویح پڑھتے ہو اور آخر رات میں تہجد چھوڑ کر سوجاتے ہو۔ میرے نزدیک تہجد تراویح سے افضل ہے۔1
حضرت نوفل بن اِیاس ہُذَلی کہتے ہیں: ہم لوگ حضرت عمر بن خطّابؓکے زمانے میں رمضان میں مختلف جماعتوں میں تراویح پڑھا کرتے تھے۔ ایک جماعت یہاں تراویح پڑھ رہی ہے اور ایک وہاں۔ جس امام کی آواز زیادہ اچھی ہوتی لوگ اس کی طرف زیادہ چلے جاتے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: میرے خیال میں لوگوں نے قرآن کو گانے کی چیز بنالیا ہے۔ غور سے سنو! اﷲ کی قسم میرا بس چلا تو اس صورتِ حال کو ضرور بدل دوں گا۔ چناںچہ تین ہی دن کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت اُبی بن کعب ؓ کو حکم دیا اور انھوں نے تمام لوگوں کو اکٹھا کرکے تراویح کی نماز پڑھائی۔ پھر حضرت عمرؓ نے آخری صف میں کھڑے ہوکر فرمایا: ہے تو یہ (تراویح کا ایک جماعت بن کر پڑھنا) بدعت، لیکن ہے بہت عمدہ۔2
حضرت ابو اسحاق ہمدانی کہتے ہیں: حضرت علی ابی طالبؓرمضان کی پہلی رات میں باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ قندیلیں روشن ہیں اور اﷲ کی کتاب پڑھی جارہی ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: اے ابنِ خطّاب! جیسے تم نے اﷲ کی مسجدوں کو قرآن سے منوّر کیا ہے ایسے ہی اﷲ تعالیٰ تمہاری قبر کو منوّر فرمائے۔3
ْٓحضرت عروہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے رمضان میں تراویح کو ایک بڑی جماعت میں پڑھنے کا سلسلہ شروع کیاا ور مردوں کے لیے حضر ت اُبی بن کعب ؓ کو امام مقرر کیا اور عورتوں کے لیے حضرت سلیمان بن ابی حَثَمہؓ کو۔1
حضرت عمر بن عبد اﷲ عنسی کہتے ہیں: حضرت اُبی بن کعب اور حضرت تمیم داری ؓ نبی کریم ﷺ کی جگہ کھڑے ہوکر مردوں کو تراویح کی نماز باری باری پڑھایا کرتے تھے، اور حضرت سلیمان بن ابی حثمہ ؓ مسجد کے صحن میں عورتوں کو تراویح پڑھایا کرتے تھے۔ جب حضرت عثمان بن عفان ؓ خلیفہ بنے تو انھوں نے مردوں عورتوں سب کے لیے ایک ہی امام مقرر کردیا، یعنی حضرت سلیمان بن ابی حثمہ ؓ کو۔ اور حضرت عثمان ؓ کے فرمانے پر تراویح کے بعد عورتوں کو روک لیا جاتا جب مرد چلے جاتے پھر انھیں چھوڑا جاتا۔2
حضرت عُرْفُجہؓکہتے ہیں: حضرت علی بن اَبی طالبؓ لوگوں کو رمضان میں تراویح پڑھنے کا حکم دیتے، اور مردوں کے لیے ایک امام مقرر کرتے اور عورتوں کے لیے دوسرا۔ چناںچہ میں عورتوں کا امام ہوا کرتا۔3
حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اُبی بن کعب ؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اﷲ!آج رات مجھ سے ایک کام ہوگیا اور یہ واقعہ رمضان کا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُبی! کیا ہوا؟ انھوں نے عرض کیا: میرے گھر میں چند عورتیں تھیں، ان عورتوں نے کہا: ہم نے قرآن نہیں پڑھا ہم آپ کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھیں گی۔ چناںچہ میں نے انھیں آٹھ رکعت نماز پڑھائی اور وتر بھی پڑھائے۔ حضورﷺ نے اس پر کچھ نہ فرمایا، اس طرح آپ کی رضا مندی کی بنا پر یہ سنت ہوئی۔4