صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓکا نماز کا شوق اور اس کا بہت زیادہ اہتمام کرنا

حضرت مِسْوَربن مخرمہؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطّابؓ کے پاس گیا۔ (وہ بے ہوش تھے اور)ان کے اوپر کپڑا ڈالا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا:آپ لوگوں کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ان لوگوں نے کہا: جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ میں نے کہا: آپ لوگ انھیں نماز کانام لے کر پکاریں (نماز کا سنتے ہی ہوش میں آجا ئیں گے)، کیوںکہ نماز ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ سب سے زیادہ گھبرائیں گے۔ چناںچہ لوگوں نے کہا: امیرالمؤمنین! نماز (کا وقت ہو گیا ہے)۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جو آدمی نماز چھوڑ دے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے نماز پڑھی اور ان کے زخم میں سے خون بہہ رہاتھا۔ 1 حضرت مِسْوَر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓکو نیزہ مارا گیا تو ان پر غشی طاری ہونے لگی۔ کسی نے کہا: اگر یہ زندہ ہیں تو پھر یہ نماز کے نام سے جتنی جلدی گھبراکر اٹھیں گے اتنی جلدی اور کسی چیز کے نام سے نہیں اٹھیں گے۔ کسی نے کہا: امیر المؤمنین نماز ہوچکی ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓ فوراً ہوش میں آگئے اور فرمایا: نماز۔ اللہ کی قسم! جس نے نماز چھوڑدی اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔ 2 حضرت محمد بن مسکینکہتے ہیں کہ جب باغیوں نے حضرت عثمانؓ کو گھیر لیا تو ان کی بیوی نے ان سے کہا: تم انھیں قتل کرنا چاہتے ہو؟ ان کو چاہے تم قتل کردو چاہے انھیں چھوڑ دو، یہ ساری رات نماز پڑھاکرتے تھے اور ایک رکعت میں سارا قرآن پڑھ لیا کر تے تھے۔3 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: جب باغیوں نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو شہید کردیا تو ان کی بیوی نے کہا: تم لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے، حالاںکہ یہ ساری رات عبادت کیا کرتے تھے اور ایک رکعت میں سار اقرآن پڑھ لیتے تھے۔4 حضرت عثمان بن عبدالرحمن تیمیکہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں زور لگا کر مقامِ ابراہیم پر آج رات عبادت کروںگا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں عشا کی نماز پڑھ چکا تو مقامِ ابراہیم پر آکر اکیلا کھڑا ہوگیا۔ میں کھڑا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے۔ پھر انھوں نے اُمُّ القرآن یعنی سورۂ فاتحہ سے پڑھنا شروع کیا اور قرآن ختم کیا،اور پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر (نماز پوری کر کے) اپنے جوتے اٹھائے (اور چلے گئے)۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی تھی یا نہیں۔1 حضرت عثمان بن عبدالرحمن تیمیکہتے ہیں کہ ایک رات میں نے مقامِ ابرا ہیم کے پاس حضرت عثمان ؓ کو دیکھا کہ وہ آگے بڑھے اور ایک رکعت میں سارا قرآن ختم کرکے اپنی نماز پوری کی۔2 حضرت عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھائی۔ پھر وہ مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وتر کی ایک رکعت میں سارا قرآن پڑھ دیا۔ حضرت محمد بن سیرینکہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ ساری رات اللہ کی عبادت کرتے تھے اورایک رکعت میں سارا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے۔3 حضرت مسیّب بن رافعکہتے ہیں کہ جب حضرت ابنِ عباسؓ کی نگاہ جاتی رہی تو ایک آدمی نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا کہ اگر آپ میرے کہنے پر سات دن اس طرح صبر سے گزاریں کہ ان میں آپ چِت لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھیں، تو میں آپ کا علاج کروں گا ان شاء اللہ آپ ٹھیک ہوجائیں گے۔ اس پر حضرت ابنِ عباسؓ نے حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ اور دوسرے بہت صحابہ کرام ؓ سے آدمی بھیج کر اس بارے میں پوچھا۔ ہر ایک نے یہی جواب میںکہا کہ اگر آپ کا ان سات دنوں میں انتقال ہوگیا تو پھر آپ نماز کاکیاکریں گے؟ اس پر انھوں نے اپنی آنکھوں کو ایسے ہی رہنے دیا اور ان کا علاج نہ کروایا۔4 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب میری بینائی چلی گئی تو کسی نے مجھ سے کہا:ہم آپ (کی آنکھ) کا علاج کردیتے ہیں، لیکن آپ چند دن نماز پڑھنا چھوڑدیں۔ میں نے کہا: نہیں ،کیوںکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو آدمی نماز چھوڑے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے۔1 حضرت علی بن ابی حملہ اور اوزاعی ؓ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن عبداللہ بن عباس روزانہ ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے۔2 حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نفلی روزے نہیں رکھا کرتے تھے اور فرماتے تھے: جب میں روزہ رکھتا ہوں تو کمزوری ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے نماز میں کمی آجاتی ہے، اور مجھے روزہ سے زیادہ نماز سے محبت ہے۔ وہ اگر روزہ رکھتے تو مہینے میں صرف تین دن رکھا کر تے۔3 حضرت عبدالرحمن بن یزیدکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بہت کم (نفلی) روزے رکھتے تھے۔ اس بار ے میں کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو انھوں نے جواب میں وہی بات کہی جو پچھلی حدیث میں گزری ہے۔4 حضرت عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کم روزہ رکھنے والا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔ تو کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ روزے کیوں نہیں رکھتے؟ انھوں نے فرمایا: مجھے نماز روزے سے زیادہ پسند ہے۔ روزے رکھتاہوں تو کمزور ہوجاتا ہوں اور پھر نماز کی ہمت نہیں رہتی۔ 5 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات عشاء کے بعد حضورﷺ کے پاس آنے میں مجھے دیر ہوگئی۔ جب میں آپ کے پاس گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: آپ کے ایک صحابی مسجد میں قرآن پڑھ رہے تھے، میں اسے سن رہی تھی۔ میں نے اس جیسی آواز اور اس جیسی قرأت آپ کے کسی صحابی کی نہیں سنی۔ آپ اپنی جگہ سے اٹھے۔ آپ کے ساتھ میں بھی اٹھی اور جاکر آپ نے کچھ دیر وہ قرأت سنی، پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: یہ حضرت ابوحذیفہ(ؓ) کے غلام سالم ہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری اُمّت میں اس جیسے آدمی بنائے۔1 حضرت مسروقکہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ تھے ہمیں ایک رات کھیتی والے باغ میں آگئی۔ چناںچہ ہم نے اس باغ میں قیام کیا۔ حضرت ابو موسیٰ رات کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت مسروق کہتے ہیں کہ ان کی آواز بہت دلکش اور قرأت بہت عمدہ تھی، اور جیسی آیت پرگزر تے اسی طرح کی دعا وغیرہ کرتے، پھر یہ دعا پڑھی: اے اللہ! تو تمام عیوب سے پاک ہے، اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے اور توہی امن دینے والا ہے، اور ایمان دار کو تو پسند کر تا ہے، اور تو ہی نگہبانی کر نے والا ہے اور تو نگہبانی کرنے والے کو پسند کر تا ہے، اور تو ہی سچا ہے اور تو سچے کو پسند کرتا ہے۔2 حضرت ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہؓ کا سات رات مہمان بنا تو وہ اور ان کا خادم اور ان کی بیوی تینوں باری باری رات کو عبادت کرتے تھے، اور اس کے لیے انھوں نے رات کے تین حصے کررکھے تھے۔ 3 حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہؓ اپنے ایک باغ میں (نفل) نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک چڑیا اڑی اور وہ راستہ کی تلاش میں ادھر ادھر چکر لگانے لگی، لیکن اسے راستہ نہیں مل رہا تھا (کیوںکہ باغ بہت گھنا تھا)۔ یہ منظر انھیں پسند آیا اور وہ اسے کچھ دیر دیکھتے رہے۔ پھر انھیں اپنی نماز کا خیال آیا تو اب انھیں یہ یا د نہ رہا کہ وہ کتنی رکعت نماز پڑھ چکے ہیں، تو کہنے لگے کہ اس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی ہے اور وہ فوراً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی نماز کاسارا قصہ سنا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! (اس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی اس لیے) یہ باغ اللہ کے نام پر صدقہ ہے، آپ اسے جہاں چاہیں خرچ فرمادیں۔1 حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓفرماتے ہیں کہ ایک انصاری مدینہ کی وادی قُفْ میں اپنے ایک باغ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ کھجوریں پکنے کا زمانہ اپنے شباب پر تھا اور خوشے کھجوروں کے بوجھ کی وجہ سے جھکے پڑے تھے۔ ان کی نگاہ ان خوشوں پر پڑی اور کھجوروں کی کثرت کی وجہ سے وہ اچھے معلوم ہوئے۔ پھر انھیں نماز کا خیال آیا تو یہ یاد نہ رہا کہ کتنی رکعت نماز پڑھ چکے ہیں، تو وہ کہنے لگے کہ اس باغ کی وجہ سے یہ مصیبت پیش آئی ہے۔ حضرت عثمان بن عفّان ؓ کا زمانۂ خلافت تھا۔ ان انصاری نے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا قصہ سنایا اور عرض کیا: یہ باغ اللہ کے لیے صدقہ ہے، اسے آپ کسی خیر کے کام میں خرچ کردیں۔ چناںچہ اسے حضرت عثمان نے پچاس ہزار میں بیچا۔ اس وجہ سے اس باغ کا نام ’’خمسین‘‘ یعنی پچاسا پڑگیا۔2 حضرت اَسماء ؓ فرماتی ہیں کہ ابنِ زبیرؓ رات بھر اللہ کی عبادت کرتے، دن بھر روزہ رکھتے اور (چوںکہ وہ مسجد میں زیادہ رہتے تھے) اس لیے ان کا نام مسجد کا کبوتر پڑگیا تھا۔3 حضرت عدی بن حاتم ؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی نماز کا وقت آتا ہے تو میں اس نماز کی تیار ی کرچکا ہوتا ہوں اور میرے اندر اس نماز کا شوق پورے زور پر ہوتا ہے۔4