صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نبی کریم ﷺ کانماز کا شوق اورنماز کا بہت زیادہ اہتمام
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: خوش بو اور عورتیں میرے لیے محبوب بنادی گئی ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔3
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: نماز آپ کے لیے محبوب بنادی گئی ہے، لہٰذا آ پ اس میں سے جتنا چاہیں اپنا حصہ لے لیں۔ 4
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن تشریف فرماتھے اور لوگ بھی آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کسی نہ کسی عمل کا زیادہ شوق عطا فرمایا تھا، مجھے رات کو نماز پڑھنے کا بہت زیادہ شوق ہے، اس لیے میں جب نماز میں کھڑا ہو جاؤں تو کوئی میرے پیچھے ہر گز نماز نہ پڑھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے لیے آمدنی کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بنایا تھا اور میری آمدنی کاذریعہ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ ہے۔ جب میرا انتقال ہوجائے تو پھر یہ پانچواں حصہ میرے بعد خُلفا کے لیے ہے۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے کھڑے ہوکر اللہ کی اتنی عبادت کی کہ آپ کے دونوں قدم سوج گئے۔ اس پر آپ کی خدمت میںعرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں کردیے؟ آپ نے فرمایا: تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟2
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نماز پڑھا کر تے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم سوج جاتے۔3
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ رات کو اتنی نماز پڑھا کرتے کہ آپ کے دونوں قدم سوج جاتے۔پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔ 4
حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ رات کو عبادت میں اتنا زیادہ کھڑے رہتے کہ آپ کے دونوں قدم پھٹ جاتے۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔ 5
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ رات کو عبادت میں اتنا زیادہ کھڑے رہتے کہ آپ کے قدم ورم کی وجہ سے پھٹ جاتے۔ میں نے حضورﷺ کی خدمت میںعرض کیا: یارسول اللہ! جب آپ کی مغفرت ہوچکی ہے تو پھر آپ یہ کیوں کرتے ہیں؟ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔1
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ عبادت میں اتنا زیادہ کھڑے رہا کرتے کہ آپ کے دونوں قدم پھٹ جاتے۔ 2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اللہ کی اتنی زیادہ عبادت کی کہ آپ پرانی مشک کی طرح ہوگئے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف نہیں کردیے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں کردیے ہیں، لیکن کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟3
حضرت حُمیدکہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے حضورﷺ کی رات کی نماز کے بارے میںپوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم حضورﷺ کو رات کے جس حصہ میں بھی نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے دیکھ لیتے تھے اور رات کے جس حصہ میں بھی سوتا ہوا دیکھنا چاہتے دیکھ لیتے تھے۔ یعنی کبھی آپ رات کے شروع میں نماز پڑھتے، کبھی درمیان میں اور کبھی آخری حصے میں۔ اور آپ کسی مہینہ میں اتنے زیادہ روزے رکھا کر تے کہ ہم کہتے کہ اس مہینہ میں آپ ایک دن بھی روزہ نہیں چھوڑیں گے۔ اور کسی مہینہ میں آپ بالکل نہ رکھتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ایک دن بھی روزہ نہ رکھیں گے۔ 4
حضرت عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے حضورﷺ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی، لیکن آپ نے اتنا لمبا قیام فرمایا کہ میں نے برے کام کا ارادہ کرلیا۔ ہم نے پوچھا: آپ نے کس کا م کا ارادہ کرلیا تھا؟ انھوں نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو چھوڑ کر بیٹھنے کا ارادہ کر لیا تھا۔5
حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورﷺ ساری رات نماز میں کھڑے رہے اور فجر تک یہی آیت پڑھتے رہے:
{اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ آیت کا نشان}1
اگر آپ ان کو سزادیں تو یہ آپ کے بندے ہیں۔ اور اگر آپ ان کو معاف فرمادیں تو آپ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ 2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ کو کچھ تکلیف ہوگئی۔ جب صبح ہوئی تو کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تکلیف کا اثر آپ پر بالکل واضح ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم جو مجھ پر تکلیف کا اثر دیکھ رہے ہو میں نے اس کے باوجود آج رات سات لمبی سورتیں پڑھی ہیں۔3
حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی۔ حضورﷺ نے سورۂ بقرہ شروع فرمائی اور میں نے کہا: سو آیتوں پر رکوع کردیں گے، لیکن آپ پڑھتے رہے۔ پھر میں نے کہا:آپ اس سورت کو دو رکعتوں میں پڑھیں گے، لیکن آپ پڑھتے رہے۔ پھر میں نے کہا: آپ اسے ختم کرکے رکوع کردیں گے، لیکن آپ نے سورۂ نساء شروع کردی۔ اسے ختم کر کے سورۂ آلِ عمران شروع کردی اور اسے بھی پورا پڑھ لیا۔ آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے۔ آپ جب کسی ایسی آیت کے پاس سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنے لگتے۔ او ر جب ایسی آیت کے پاس سے گزرتے جس میں (اللہ سے) مانگنے کا ذکر ہوتا تو آپ اللہ سے مانگتے۔ اور جب ایسی آیت کے پاس سے گزر تے جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا تو آپ پناہ مانگتے۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیْمِ کہنے لگے، اور آپ کا رکوع قیام جیسا لمبا تھا۔ پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فرما کر کھڑے ہوگئے اور تقریباً رکوع جتنی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی کہنے لگے، اور آپ کا سجدہ بھی قیام جیسا لمبا تھا۔4
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا۔ آپ نماز پڑھ رہے تھے میں نے بھی پیچھے کھڑے ہوکر نماز شروع کردی۔ آپ کو معلوم نہیں تھا (کہ میں آپ کی نماز میں شامل ہوگیا ہوں) آپ نے سورۂ بقرہ شروع فرمارکھی تھی۔ میرا خیال تھا کہ یہ سورت ختم کرکے آپ رکوع کرلیں گے، لیکن آپ پڑ ھتے ہی رہے۔ حضرت سِنان راوی کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق حضرت حذیفہ ؓنے یہی فرمایا کہ حضورﷺ نے چار رکعت نماز پڑھی۔ حضورﷺ کا رکوع قیام کی طرح لمباہوتا تھا۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میںنے (نماز کے بعد) حضورﷺ کو بتا یا کہ میں بھی آپ کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا! اب تک میری کمر میں درد ہورہا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر مجھے پتا چل جاتا کہ تم میرے پیچھے ہو تو میں نماز مختصر کردیتا۔1
حضرت عائشہؓ کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ ایک رات میں سارا قرآن ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پڑھ لیتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں حضورﷺ کے ساتھ ساری رات کھڑی رہتی تھی۔ آپ سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورہ ٔ نساء پڑھا کرتے تھے۔ خوف والی آیت پر گزر تے تو دعا مانگتے اور اللہ کی پناہ چاہتے، اور بشارت والی آیت پر گزر تے تو دعا مانگتے اور اس کا شوق ظاہر کر تے۔2
حضرت اَسودکہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عائشہؓ کے پاس تھے۔ ہم نے نماز کی اہمیت، عظمت اور پا بندی کا تذکرہ کیا، تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: حضور ﷺ کا مرض الوفات شروع ہوا۔ نماز کا وقت آیا حضرت بلال ؓ نے اذان دی تو حضور ﷺ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضورﷺ کی ایک بیوی نے عرض کیا: حضرت ابوبکر تو بہت رقیق القلب ہیں جلد روپڑتے ہیں۔ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ حضورﷺ نے وہی بات دوبارہ فرمائی۔ اس نے اپنی بات دوبارہ عرض کی۔ حضورﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا: تم تو حضرت یوسف ؑ کی ساتھن (زلیخا) کی طرح ہو (اوپر سے کچھ اور اندر سے کچھ۔ اوپر سے کہہ رہی ہو کہ ابوبکر بہت روتے ہیں اور اندر دل میں یہ ہے کہ حضورﷺ کی جگہ کھڑے ہونے سے لوگ بدفا لی لیں گے، جیسے کہ زلیخا نے اوپر سے تو عورتوں کا اکرام کیا اور اندر سے مقصود انھیں حضرت یوسف ؑ کو دکھانا تھا) ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ چناںچہ حضرت ابوبکر ؓ نماز پڑھانے چلے گئے۔ پھر حضورﷺ نے اپنی بیماری میں کچھ کمی محسوس کی تو کمزوری کی وجہ سے آپ دو آدمیوں کے سہارے مسجد گئے، گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپ کے دونوں قدم زمین پر گھسٹتے ہوئے جارہے ہیں۔ (حضورﷺ کو تشریف لاتے ہوئے دیکھ کر) حضرت ابو بکر ؓ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا۔ حضورﷺ نے انھیں اشارہ سے فرمایا وہیں اپنی جگہ رہو۔ پھر حضورﷺ جاکر ان کے پہلوں میں بیٹھ گئے۔1
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے حضورﷺ سے باربار کہا (کہ ابوبکر نماز نہیں پڑھا سکتے) اور میں نے باربار اس وجہ سے کہا کہ مجھے ڈرتھا کہ حضورﷺ کی جگہ کھڑے ہونے سے لوگ ابوبکر سے بدفالی لیں گے، کیوںکہ مجھے یقین تھا کہ جو بھی حضورﷺ کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اس سے ضرور بدفالی لیں گے، اس لیے میں نے چاہا کہ حضورﷺ حضرت ابوبکر کے علاوہ کسی اور کو کھڑا کردیں۔2
’’مسلم‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! حضرت ابوبکر بہت رقیق القلب آدمی ہیں۔ جب قرآن پڑھیں گے تو آنسونہیں روک سکیں گے۔ اس لیے اگر آپ ان کے بجائے کسی اور کو فرمادیں تو اچھا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے یہ با ت صرف اس وجہ سے کہی تھی کہ میں اسے اچھا نہیں سمجھتی تھی کہ حضورﷺ کی جگہ سب سے پہلے کھڑے ہونے کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ سے لوگ بدفالی لیں۔ اس لیے میں نے یہ بات دو یا تین مرتبہ حضورﷺ کی خدمت میں عرض کی، لیکن حضورﷺ نے آخر میں یہی فرمایا کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو حضرت یوسف ؑ کی ساتھن (زلیخا) کی طرح ہو۔1
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہکہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ ہمیں حضورﷺ کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں بتاتیں؟ انھوں نے فرمایا: کیوں نہیں ضرور۔ جب حضورﷺ کی بیماری بڑھ گئی توآپ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نمازپڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرے لیے لگن میں پانی ڈالو۔ ہم نے پانی ڈالا، حضورﷺ نے غسل کیا،پھر آپ کھڑے ہونے لگے تو بے ہوش ہوگئے۔ پھر جب افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا:کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا:نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میرے لیے لگن میں پانی رکھو۔ ہم نے پانی رکھا، حضورﷺ نے غسل کیا، پھر آپ کھڑے ہونے لگے تو بے ہوش ہوگئے۔ پھرجب اِفاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نمازپڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میرے لیے لگن میں پانی رکھو۔ ہم نے پانی رکھا، حضورﷺ نے غسل کیا، پھر آپ کھڑے ہونے لگے تو بے ہوش ہوگئے۔ پھر جب اِفاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نمازپڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، یارسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ اور واقعی لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے عشا کی نماز کے لیے حضورﷺ کا انتظار کررہے تھے۔ اس کے بعد حضورﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر ؓ بہت نرم دل آدمی تھے اس لیے انھوںنے کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: نہیں، اس کے آپ زیادہ حق دار ہیں۔ چناںچہ ان دنوں حضرت ابوبکر ؓ نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد حضورﷺ کے باہر آنے کا ذکر کیا جیسے پہلے گزر چکا ہے۔2
حضرت انس ؓ سے ’’بخاری‘‘ میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مرض الوفات کے زمانہ میں حضرت ابوبکرؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب پیر کا دن ہو ا اور صحابہ صفیں بنا کر نماز میں کھڑے تھے، حضورﷺ حجرہ کا پر دہ ہٹا کر ہمیں دیکھنے لگے۔ آپ کھڑے ہوئے تھے اور آپ کا چہرہ قرآن کے صفحے کی طرح چمک رہا تھا، آپ مسکرارہے تھے (کہ اُمّت اجتماعی کام میں مشغول ہے جس میں انھوں نے لگا یا تھا)۔ حضورﷺ کو دیکھ کر ہمیں اتنی زیادہ خوشی ہوئی کہ بس ہم لوگ نماز توڑنے ہی لگے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ صف میں کھڑے ہونے کے لیے ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹنے لگے۔ پھر حضورﷺ نے ہمیں اشارہ سے فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ ڈال کر واپس اندر تشریف لے گئے اور اسی دن حضورﷺ کا وصال ہوگیا۔
دوسری سند سے ’’بخاری‘‘ میں حضرت انس ؓ سے منقول ہے کہ حضورﷺ تین دن باہر تشریف نہیں لائے۔ (پیر کے دن) نماز کی اِقامت ہورہی تھی حضرت ابوبکر ؓ آگے بڑھنے لگے کہ اتنے میں حضورﷺ نے فرمایا: پردہ اٹھاؤ۔ ساتھ والوں نے پردہ اٹھایا۔ جب حضور ﷺ کا چہرۂ انور نظر آیا تو ایسا عجیب منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ حضورﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو اشارہ سے آگے بڑھنے کو فرمایا اور پردہ ڈال دیا۔ پھر اس کے بعد حضور ﷺ کی (عام) زیارت نہ ہوسکی اور آپ کا انتقال ہوگیا۔1