نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

مہر کا بیان

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کا مہر بارہ اُوقیہ اور ایک نش تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں، کیوںکہ ایک اُوقیہ میں چالیس درہم اور ایک نش میں بیس درہم ہوتے ہیں۔1 حضرت مسروق ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: میرے علم میں ایسا آدمی کوئی نہ آئے جس نے چار سو سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو، کیوںکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کا مہرچار سو درہم یا اس سے کم تھا۔ اگر مہر زیادہ کرنا کوئی تقویٰ اور عزّت کی بات ہوتی تو تم لوگ ان مبارک حضرات سے مہر میں آگے نہیں جا سکتے تھے۔ پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ پھر ایک قریشی عورت ان کے سامنے آئی اور اس نے کہا: کیا آپ نے لوگوں کو چار سو سے زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: ہاں۔ اس عورت نے کہا: کیا آپ نے اﷲ تعالیٰ کو قرآن میں یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: {وَاٰتَیْـتُمْ اِحْدٰ ھُنَّ قِنْطَارًا}2 اور تم اس ایک (عورت) کو انبار کا انبار مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی مت لو۔ (یعنی اس آیت میں مہر میں بہت زیادہ مال دینے کو اﷲ نے ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ زیادہ مہر دینا بھی جائز ہے ) یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا: اے اﷲ! میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔ تمام لوگ عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتے ہیں۔ پھر واپس آکر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے تمھیں چار سو سے زیادہ مہر دینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تمھیں اجازت ہے کہ جتنا چاہو یا جتنا تمہارا دل کہے تم اتنا مہر دے سکتے ہو۔3 حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطّابؓ نے بیان فرمایا۔ اﷲ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: غور سے سنو! عورتوں کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو۔ اگر مجھے کسی کے بارے میںپتا چلا کہ اس نے اس سے زیادہ مہر دیا ہے جتنا خود حضورﷺ نے دیا تھا یا آپ کی بیٹیوں کو دیا گیا تھا، تو میں زائد مہر لے کر بیت المال میںجمع کر دوں گا۔ پھر حضرت عمر منبر سے نیچے اُتر آئے تو قریش کی ایک عورت نے ان کے سامنے آکر کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اﷲ کی کتاب اتباع کی زیادہ حق دار ہے یا آپ کی بات؟ حضرت عمر نے فرمایا: اللہ کی کتاب۔ کیا بات ہے؟ اس عورت نے کہا: آپ نے لوگوںکو عورتوں کے مہر زیادہ بڑھانے سے منع کیا حالاںکہ اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرما رہے ہیں: {وَاٰتَیْـتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا} (ترجمہ گزر چکا ہے)۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے دو تین مرتبہ فرمایا: ہر ایک عمر سے دین کی سمجھ زیادہ رکھتاہے۔ پھر منبر پر واپس آکر لوگوں سے فرمایا: میں نے تمھیں عورتوں کے مہر بہت زیادہ مقرر کرنے سے منع کیا تھا، لیکن اب تمھیں اختیار ہے ہر آدمی اپنے مال میں جو چاہے کرے۔1 حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر زیادہ مہر آخرت میں درجات اور مرتبہ کی بلندی کا ذریعہ ہوتا تو نبی کریمﷺ کی بیٹیاں اور بیویاں اس کی زیادہ حق دار تھیں۔2 حضرت ابنِ سیرین ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے عورت کو دو ہزار مہر دینے کی اجازت دی اور حضرت عثمان ؓ نے چار ہزار کی اجازت دی۔3 حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے حضرت صفیہ ؓ سے چار سو درہم پر شادی کی تو حضرت صفیہ نے حضرت ابنِ عمر کو یہ پیغام بھیجا کہ یہ چار سو تو ہمیں کافی نہیں ہوں گے۔ اس پر حضرت ابنِ عمر نے حضرت عمرؓ سے چھپ کر دو سو درہم بڑھا دیے۔4 حضرت ابنِ سیرین ؓکہتے ہیں کہ حضرت حسن بن علیؓ نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کے پاس سو باندیں بھیجیں، ہر باندی کے ساتھ ہزار درہم بھیجے (کل لاکھ درہم کے ہوگئے)۔5