نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

حضورﷺ کا حضرت زینب بنتِ حجش ؓسے نکاح

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت زینبؓ کی عدت پوری ہوگئی تو حضور ﷺ نے حضرت زیدؓ کو فرمایا: جائو اور زینب سے میرے نکاح کا تذکرہ کرو۔ حضرت زید گئے۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ آٹے میں خمیر ڈال رہی تھیں۔ حضرت زید کہتے ہیں: جب میں نے ان کو دیکھا تو مجھے اپنے دل میں ان کی ایک عظمت محسوس ہوئی کہ حضورﷺ ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں (اس لیے یہ بہت بڑے مرتبہ والی عورت ہیں) اور اس عظمت کی وجہ سے میں انھیں دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکا، اس لیے میں ایڑیوں کے بل مڑا اور ان کی طرف پشت کر کے کہا: اے زینب! تمھیں خوش خبری ہو، مجھے رسول اﷲﷺ نے بھیجا ہے وہ تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت زینب نے کہا: میں جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں اس وقت تک میں کوئی کام نہیں کیا کرتی۔ یہ کہہ کہ وہ کھڑی ہو کر اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر چلی گئیں اور اُدھر حضورﷺ پر قرآن نازل ہوا (جس میں اﷲتعالیٰ نے فرمایا: {زَوَّجْنٰکَھَا}1 ہم نے تمہاری شادی زینب سے کر دی۔ چوںکہ اﷲکے شادی کرنے سے حضرت زینب حضور ﷺ کی بیوی بن گئی تھیں اسی وجہ سے) حضورﷺ تشریف لے گئے اور حضرت زینب کے پاس اجازت لیے بغیر اندر چلے گئے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب حضورﷺ نے ان سے خلوت فرمائی تو حضورﷺ نے ہمیں ولیمہ میں گوشت اور روٹی کھلائی۔ اکثر لوگ کھانا کھا کر باہر چلے گئے لیکن کچھ لوگ کھانے کے بعد وہیں گھر میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ آپ گھر سے باہر تشریف لائے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ آپ اپنی بیویوں کے مکانات میں تشریف لے گئے اور اندر جاکر ہر ایک کو سلام کرتے، وہ پوچھتیں: یا رسول اﷲ! آپ نے اپنے گھر والوں کو کیسا پایا؟ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے حضورﷺ کو بتایا یا کسی اور نے بتایا کہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ چلے اور (حضرت زینب والے) گھر میں داخل ہونے لگے۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو حضورﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردہ کا حکم نازل ہوا۔ اور اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے جو آداب مسلمانوں کو سکھائے وہ حضورﷺ نے صحابہ کو بتائے: {لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ}2 اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (بے بلائے) مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو، لیکن جب تم کو بلایا جاوے (کہ کھانا تیار ہے) تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اُٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے، سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اﷲتعالیٰ صاف صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا۔ اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ بات (ہمیشہ کے لیے) تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اور تم کو جائز نہیں کہ رسول اﷲ کو کلفت پہنچائواور نہ یہ جائز ہے کہ تم آپ کے بعد آپ کی بیبیوں سے کبھی بھی نکاح کرو، یہ خدا کے نزدیک بڑی بھاری (معصیت کی) بات ہے۔1 ’’بخاری‘‘ میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے حضرت زینب بنتِ جحش ؓ سے خلوت فرمائی اور ولیمہ میں روٹی اور گوشت کھلایا۔ حضورﷺ نے کھانے پر بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ لوگ آتے کھانا کھا تے اور باہر چلے جاتے۔ پھر دوسرے لوگ آتے کھا کر باہر چلے جاتے۔ میں لوگوں کو بلا بلا کر بھیجتا رہا یہاں تک کہ جب مجھے بلانے کے لیے کوئی نہ ملا تو میں نے عرض کیا: یا نبیّ اﷲ! مجھے کوئی ایسا نہیں مل رہا ہے جسے میں کھانے پر بلائوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کھانا اٹھالو۔ باقی لوگ تو چلے گئے لیکن تین آدمی ایسے رہ گئے جو گھر میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ حضورﷺ باہر تشریف لے گئے اور حضرت عائشہؓ کے مکان میں تشریف لے گئے اور فرمایا: اے گھر والو! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ حضرت عائشہ نے کہا: وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہٗ، اﷲ تعالیٰ آپ کو اس شادی میں برکت نصیب فرمائے! آپ نے اپنے گھر والوں کو کیسا پایا؟ حضورﷺ اپنی تمام بیویوں کے گھروں میں تشریف لے گئے اور ان سب سے یہی فرماتے جو حضرت عائشہ کو فرمایا تھا اور وہ سب جواب میںحضورﷺ کو یہی کہتیںجو حضرت عائشہ نے کہا تھا۔ پھر حضورﷺ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ تینوں آدمی بیٹھے باتیںکر رہے ہیں۔ آپ بہت شرم وحیا والے تھے (اس لیے ان تینوں سے کچھ نہ فرمایا) اور آپ پھر حضرت عائشہؓ کے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے حضورﷺ کو بتایا یا کسی اور نے بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ واپس تشریف لے آئے۔ اور جب آپ نے ایک قدم چوکھٹ کے اندر رکھ لیا اور ایک ابھی باہر ہی تھا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ پہلی رات گذاری تو (میری والدہ) حضرت اُمّ سُلَیمؓ نے کھجور، گھی اور آٹے کو ملاکر حلوہ تیار کیا، اور ایک برتن میں ڈال کر مجھ سے کہا کہ حضورﷺ کی خدمت میں لے جائو اور عرض کرو کہ یہ تھوڑا سا کھانا ہماری طرف سے پیشِ خدمت ہے۔ اس زمانے میں لوگ بڑی مشقت اور تنگی میں تھے، چناںچہ وہ لے کر میں حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ عرض کیا: یا رسول اﷲ! حضرت اُمّ سُلَیم نے آپ کی خدمت میں یہ کھانا بھیجا ہے۔ وہ آپ کو سلام کہہ رہی ہیں اور عرض کیا ہے کہ یہ ہماری طرف سے تھوڑا سا کھانا پیشِ خدمت ہے۔ حضورﷺ نے کھانے کو دیکھ کر فرمایا: اسے گھر کے کونے میں رکھ دو۔ پھر فرمایا: جائو اور فلاں فلاں کو بلا لائو اور بہت سے مسلمانوں کے نام حضورﷺ نے لیے اور یہ بھی فرمایا : اور جو بھی مسلمان ملے اسے بھی بلا لائو۔ حضور ﷺ نے جن کے نام لیے میں نے ان کو بھی بلایا اور جو مسلمان ملا اسے بھی بلایا۔ میں واپس آیا تو گھر، چبوترہ اور صحن لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے ابو عثمان! (یہ حضرت انسؓکی کنیت ہے) لوگ کتنے تھے ؟ حضرت انس نے کہا: تقریباً تین سو۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: وہ کھانا لے آئو۔ چناںچہ میں وہ لے آیا اور حضورﷺ نے اس پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی اور کچھ پڑھا، پھر فرمایا: دس دس کا حلقہ بنالو اور بسم اﷲ پڑھ کر ہر انسان اپنے سامنے سے کھائے۔ چناںچہ صحابہ نے بسم اﷲ پڑھ کر کھانا شروع کیا یہاں تک کہ سب نے کھا لیا۔ پھر حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اس کھانے کو اٹھالو۔ میں نے آکر اٹھایا تو مجھے پتا نہیں لگ رہا تھا کہ جب میںنے رکھا تھا اس وقت کھانا زیادہ تھا یا اب اٹھاتے وقت زیادہ ہے۔ باقی لوگ توچلے گئے لیکن کچھ لوگ حضورﷺ کے گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور حضورﷺ کی زوجہ محترمہ جن سے ابھی شادی ہوئی تھی وہ دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ لوگ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے جس سے حضورﷺ کو بہت تکلیف ہوئی، لیکن حضورﷺ سب سے زیادہ شرم و حیا والے تھے۔ ان بیٹھنے والوں کو اگر اس کا اندازہ ہوجاتا تو یہ بیٹھنا ان پر بھی گراں ہوتا (لیکن انھیں اس کا اندازہ نہیں ہوسکا)۔ حضورﷺ وہاں سے اٹھ کر گئے اور اپنی تمام بیویوں کو سلام کیا۔ جب ان بیٹھنے والوں نے دیکھا کہ حضورﷺ واپس آگئے ہیں تو اس وقت انھیں اندازہ ہوا کہ ان کی باتوں سے حضورﷺ کو تکلیف ہوئی ہے۔ تو اس پر وہ تیزی سے دروازے کی طرف جھپٹے اور چلے گئے۔ پھر حضورﷺ تشریف لائے اور پردہ ڈال دیا۔ آپ اندر گھر میں تشریف لے گئے اور میں صحن میں رہ گیا۔ آپ کو گھر میں تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اﷲتعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل فرما دیا۔ آپ یہ آیتیں پڑ ھتے ہوئے تشریف لائے : {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ} سے لے کر {اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا} تک۔ حضورﷺ نے تمام لوگوں سے پہلے یہ آیتیں پڑھ کر مجھے سنائیں اور مجھے سب سے پہلے ان آیات کے سننے کی سعادت نصیب ہوئی۔1