نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ
حضورﷺ کا حضرت اُمّ حبیبہ بنتِ ابی سفیانؓ سے نکاح
حضرت اسماعیل بن عمرو ؓکہتے ہیں کہ حضرت اُمّ حبیبہ بنتِ ابی سفیانؓ نے فرمایا کہ میں حبشہ میں تھی، مجھے پتا ہی اس وقت چلا جب (حبشہ کے بادشاہ) نجاشی ؓ کی اَبْرَہَہ نامی باندی ان کی طرف سے قاصد بن کر آئی اور یہ بادشاہ کے کپڑوں اور تیل کی خدمت پر مقرر تھی ۔ اس نے مجھ سے اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دی۔ اس نے کہا: بادشاہ نجاشی یہ کہہ رہے ہیں کہ حضورﷺ نے مجھے لکھا ہے کہ میں آپ کی شادی حضورﷺ سے کردوں۔ میں نے کہا: اﷲ تمھیں بھی خیر کی بشارت دے ( یعنی میں راضی ہوں)۔ پھراس نے کہا: بادشاہ آپ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی کو وکیل مقرر کر دیں جو آپ کی شادی کر دے۔ اس پر میں نے حضرت خالد بن سعید بن عاصؓکو (جو کہ میرے چچا تھے) بلا کر اپنا وکیل بنا دیا۔ اور میں نے حضرت اَبْرَہَہ کو چاندی کے دو کنگن اور چاندی کے دو پازیب جو کہ میں نے پہنے ہوئے تھے اور چاندی کی وہ ساری انگوٹھیا ں جو میرے پائوں کی ہر انگلی میں تھیں سب اتار کر اس بشارت کی خوش خبری میں دے دیں۔
شام کو حضرت نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور جتنے مسلمان وہاں تھے ان سب کو بلایا اور یہ خطبہ پڑھا کہ تمام تعریفیں اس اﷲ کے لیے ہیں جو بادشاہ ہے، سب عیبوں سے پاک ہے، امن دینے والا ہے، زبردست ہے، خرابی درست کرنے والا ہے۔اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور یہ وہی رسول ہیں جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے دی تھی۔ اما بعد! حضور ﷺ نے یہ حکم فرمایا ہے کہ میں ان کا نکاح اُمّ حبیبہ بنتِ ابی سفیان سے کر دوں۔ چناںچہ میں حضورﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں اور حضورﷺ کی طرف سے ان کو چار سو دینار مہر میں دے رہا ہوں۔ یہ کہہ کر حضرت نجاشی نے چار سو دینار ان لوگوںکے سامنے رکھ دیے۔
اس کے بعد حضرت خالد بن سعید نے بات شروع کی اور فرمایا: تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں، میں اسی کی تعریف کرتا ہوں اور اسی سے مغفرت چاہتا ہوں۔ اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اﷲ نے ان کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اس دینِ حق کو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات ناگوار گزرے۔ اما بعد! حضورﷺ نے جو حکم فرمایا ہے میں اسے قبول کرتا ہوں اور میں نے حضورﷺ سے اُمّ حبیبہ بنتِ ابی سفیان کی شادی کر دی۔ اﷲ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو (اس شادی میں) برکت نصیب فرمائے۔ پھر حضرت نجاشی نے وہ دینارحضرت خالد بن سعیدؓکو دیے جو حضرت خالد نے لے لیے۔ پھر مسلمان وہاں سے اُٹھنے لگے تو حضرت نجاشی نے کہا: آپ لوگ بیٹھے رہیں، کیوںکہ انبیا ؑ کی سنت یہ ہے کہ جب وہ شادی کرتے ہیں تو ان کی شادی پر کھاناکھلایا جاتا ہے۔ پھر حضرت نجاشی نے کھانا منگوایا جو ان سب نے کھایا اور پھر سب چلے گئے۔1
حضرت اسماعیل بن عمرو بن عاص ؓکہتے ہیں: حضرت اُمّ حبیبہؓ نے فرمایا کہ میں نے (حبشہ میں) خواب میں دیکھا کہ میرے خاوند عبیداﷲ بن جحش کی شکل وصورت بہت بگڑی ہوئی ہے۔ میں گھبرا گئی۔ میں نے کہا: اس کی حالت بدل گئی ہے۔ چناںچہ وہ صبح کو کہنے لگا: اے اُمّ حبیبہ! میں نے دین کے بارے بہت سوچا ہے مجھے تو کوئی دین نصرانیت سے بہتر نظر نہیں آرہا ہے۔ میں تو پہلے نصرانی تھا، پھر میں محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوا تھا، اب میں پھر نصرانیت میں واپس آگیا ہوں۔ میں نے کہا: اﷲ کی قسم! تمہارے لیے اس طرح کرنے میں بالکل خیر نہیں ہے۔ اور جو خواب میں نے دیکھا تھا وہ میں نے اسے بتایا، لیکن اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ آخر وہ شراب پینے میں ایسا لگا کہ اسی میں مر گیا۔ پھر میں نے خواب دیکھا کہ کسی آنے والے نے مجھ سے کہا: اے اُمّ المؤمنین! یہ سن کر میں گھبرا گئی اور میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی کہ حضورﷺ مجھ سے شادی کریں گے۔ ابھی میری عدت ختم ہوئی ہی تھی کہ حضرت نجاشیؓ کا قاصد میرے پاس آیا۔ پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔
اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ حضرت اُمّ حبیبہؓ نے فرمایا کہ جب وہ مال (یعنی چار سو دینار) میرے پاس آیا تو میں نے حضرت اَبْرَہَہ کو جنھوں نے مجھے بشارت دی تھی پیغام دے کر بلایا اور میں نے اس سے کہا: اس دن میں نے تمھیں جو کچھ دیا تھا وہ تو تھوڑا تھا اس لیے کہ میرے پاس مال نہیں تھا، اب میرے پاس مال آگیا ہے۔ یہ پچاس مثقال ( پونے اُنیس تولے) سونا لے لو اور اسے اپنے کام میں لے آئو۔ اس نے ایک ڈبہ نکالا جس میں میری دی ہوئی تمام چیزیں تھیں اور اس نے وہ مجھے واپس کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ نے مجھے قسم دے کر کہا ہے کہ میں آپ سے کچھ نہ لوں۔ اور میں ہی بادشاہ کے کپڑوں اور خوش بو کو سنبھالتی ہوں اور میں نے حضورﷺ کے دین کو اختیار کر لیا ہے اور مسلمان ہوگئی ہوں۔ اور بادشاہ نے اپنی تمام بیویوں کو حکم دیا ہے کہ ان کے پاس جتنا عطر ہے وہ سارا آپ کے پاس بھیج دیں۔ چناںچہ اگلے دن عود، ورس، عنبر اور زباد بہت ساری خوشبوئیں لے کر میرے پاس آئی اور یہ تمام خوشبوئیں لے کر میں حضورﷺ کی خدمت میں آئی اور آپ دیکھتے کہ یہ خوشبوئیں میرے پاس ہیں اور میں نے لگا رکھی ہیں، لیکن آپ نے کبھی انکار نہیں فرمایا۔
پھر حضرت اَبْرَہَہؓ نے کہا: مجھے آپ سے ایک کام ہے کہ آپ حضورﷺ کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دیں اور انھیں بتا دیں کہ میں نے ان کا دین اختیار کر لیا ہے۔ اس کے بعد حضرت اَبْرَہَہ مجھ پراور زیادہ مہربان ہوگئی اور اسی نے میرا سامان تیار کرایا تھا۔ وہ جب بھی میرے پاس آتی تو یہ کہتی: جو کام میں نے آپ کو بتایا ہے اسے نہ بھول جانا۔ جب ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں آئے تو میںنے حضورﷺکو ساری بات بتائی کہ کیسے شادی منگنی وغیرہ ہوئی اور حضرت اَبْرَہَہ نے میرے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا۔ حضورﷺ سن کر مسکرائے۔ پھر میں نے حضورﷺکو حضرت اَبْرَہَہ کا سلام پہنچایا۔ حضورﷺ نے جواب میں فرمایا: وَعَلَیْھَا السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔1