اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر
نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کا خوف
حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نوجوان کے دل میں اللہ کا ڈر اتنا زیادہ پیدا ہوگیا کہ جب بھی اس کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا وہ رونے لگ جاتا اوراس کی کیفیت کا اتنا زیادہ غلبہ ہوگیا کہ وہ ہر وقت ہی گھر رہنے لگا باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ کسی نے حضورﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ اس کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر حضورﷺ نے اسے گلے لگا لیا، اتنے میں اس کی روح پرواز کر گئی اور اس کی لاش نیچے گر گئی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اپنے اس ساتھی کی تجہیز وتکفین کرو، اللہ کے ڈر نے اس کے جگر کے ٹکڑے کر دیے۔1
حضرت حذیفہ ؓ سے بھی ایسی ہی حدیث منقول ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضورﷺ اس نوجوان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب اس نوجوان کی حضورﷺ پر نگاہ پڑی تو وہ کھڑے ہو کر حضورﷺ کے گلے لگ گیا اور اسی میں اس کی جان نکل گئی اور وہ مر کر نیچے گر پڑا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی تجہیز وتکفین کرو، جہنم کے ڈر نے اس کے جگر کے ٹکڑے کر دیے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ نے اسے جہنم سے پناہ عطا فرما دی ہے۔ جو آدمی کسی چیز کی اُمید کرتا ہے وہ اسے ڈھونڈا کرتا ہے اور جو کسی چیز سے ڈرتا ہے وہ اس سے بھاگتا ہے۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ}3
اے ایمان والو! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں۔
تو آپ نے ایک دن یہ آیت اپنے صحابہؓکو سنائی۔ سنتے ہی ایک نوجوان بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ آپ نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ حرکت کر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے جوان! لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھو۔ اس نے کلمہ پڑھا جس پر حضورﷺ نے اسے جنت کی بشارت دی۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیایہ بشارت ہم میں سے صرف اسی کے لیے ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا:
{ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ o}1
(اور) یہ ہر اس شخص کے لیے (عام) ہے جو میرے روبہ رو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے۔2
حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطابؓ بیمار ہوئے۔ حضورﷺ عیادت کے لیے ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عمر! اپنے آپ کو کس حال پر پا رہے ہو؟ انھوں نے عرض کیا: (اللہ کے فضل و کرم کی) اُمید بھی لگائے ہوئے ہوں اور (اپنے اعمال کی وجہ سے) ڈر بھی رہا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جس مؤمن کے دل میںاُمیداور خوف جمع ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی اُمید کو پورا کردیتے ہیں، اور جس چیز سے ڈرتا ہے اس سے اسے بچا لیتے ہیں۔3
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جہاں سختی اور تنگی کی آیت ذکر کرتے ہیں وہاں اس کے قریب ہی نرمی اور وسعت کی آیت بھی ذکر کرتے ہیں، اور جہاں نرمی اور وسعت کی آیت ذکر کرتے ہیں وہاں اس کے قریب ہی سختی اور تنگی کی آیت بھی ذکر کرتے ہیں تاکہ مؤمن کے دل میں رغبت اور ڈر دونوں ہوں۔ اور (بے خوف ہو کر) اللہ سے ناحق تمنائیں نہ کرنے لگے اور (نااُمید ہو کر) خود کو ہلاکت میں نہ ڈال دے۔4
اور خُلَفاکے خوف کے باب میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کے خوف کے قصے گزر چکے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن رومی ؓکہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: اگر مجھے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کر دیا جائے، اور مجھے معلوم نہ ہو کہ دونوں میں سے کس طرف جانے کا حکم ملے گا، تو اس بات کے جاننے سے پہلے ہی مجھے راکھ بن جانا پسند ہوگا کہ دونوں میں سے کس طرف مجھے جانا ہے۔1
حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ فرماتے ہیں: کاش! میں مینڈھا ہوتا، میرے گھر والے مجھے ذبح کرتے، پھر میرا گوشت کھا لیتے اور میرا شوربا پی لیتے۔
حضرت عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں: کاش! میں ایک ٹیلہ پر پڑی ہوئی راکھ ہوتا جسے آندھی والے دن ہوا اڑا دیتی۔2
حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے فرمایا: کاش! میں راکھ ہوتا جسے ہوائیں اڑا لے جاتیں۔3
حضرت عامر بن مسروق ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ؓ کے سامنے ایک آدمی نے کہا: مجھے صرف اتنی بات پسند نہیں ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہو جاؤں جن کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملیں گے، بلکہ مجھے تو مقرّبین میں سے ہونا زیادہ پسند ہے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: یہاں تو ایک آدمی ایسا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہی نہ کیا جائے (بلکہ اسے بالکل ہی ختم کر دیا جائے)۔ اس سے وہ اپنی ذات مراد لے رہے تھے (اپنے آپ کو تواضعاً جنت کا مستحق نہیں سمجھتے تھے)۔4
حضرت حسن ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: اگر مجھے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کر کے یہ کہا جائے کہ تم پسند کرلو چاہے جنت اور جہنم میں سے کسی میں چلے جاؤ ، چاہے راکھ بن جاؤ، تو میں راکھ بن جانے کو پسند کروں گا۔5
حضرت ابو ذر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم وہ جان لو تو تم اپنی بیویوں سے بے تکلف نہ ہوسکو اور تمھیں بستروں پر سکون نہ ملے۔ اللہ کی قسم! میری آرزو ہے کہ کاش! اللہ تعالیٰ مجھے درخت بناتے جسے کاٹ دیا جاتا اور جس کے پھل کھا لیے جاتے۔1
حضرت حزام بن حکیم ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء ؓ نے فرمایا کہ تم نے جو کچھ مرنے کے بعد دیکھنا ہے اگر تمھیں اب اس کا یقین ہو جائے تو نہ مزے لے کر کھانے کھاؤ اور نہ مزے لے کر کچھ پیو اور نہ گھروں کے سائے میں بیٹھ سکو، بلکہ میدانوں کی طرف نکل جاؤ اور اپنے سینوں کو پِیٹ پِیٹ کر اپنی جانوں پر روتے رہو۔ اور میری آرزو ہے کہ کاش! میں درخت ہوتا جسے کاٹ کر اس کا پھل کھا لیا جاتا۔2
حضرت ابو درداء ؓ فرماتے ہیں: میری آرزو ہے کہ کاش! میں اپنے گھر والوں کا مینڈھا ہوتا۔ ان کا کوئی مہمان آتا اور وہ میری رگوں پر چھری پھیر کر مجھے ذبح کر لیتے، خود بھی میرا گوشت کھاتے اور مہمان کو بھی کھلاتے۔3
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں: میری آرزو ہے کہ کاش! میں یہ والا ستون ہوتا۔4
حضرت طاؤس ؓکہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ ہمارے علاقے میں تشریف لائے تو ہمارے بڑوں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ارشاد فرمائیں تو ان پتھروں اور لکڑیوں کو جمع کر کے آپ کے لیے ایک مسجد بنا دیں؟ انھوں نے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن اس مسجد کو پشت پر اٹھانے کا مجھے مکلف نہ بنا دیا جائے۔5
حضرت نافع ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر ؓ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو میں نے سنا کہ وہ سجدے میں پڑے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: (اے اللہ!) تو جانتا ہے کہ صرف تیرے ڈر کی وجہ سے میں نے قریش سے اس دنیا کے بارے میں مزاحمت نہیں کی۔6
حضرت ابو حازمؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر ؓ کا ایک عراقی آدمی پر گزر ہوا جو زمین پر بے ہوش پڑا ہوا تھا۔ انھوں نے پوچھا: اسے کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ جب اس کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توا س کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔ انھوں نے فرمایا: ہم بھی اللہ سے ڈرتے ہیں، لیکن ہم تو بے ہوش ہو کر زمین پر نہیں گرتے۔1
حضرت شدّاد بن اَوس انصاری ؓ جب بستر پر لیٹتے تو کروٹیں بدلتے رہتے اور ان کو نیند نہ آتی اور یوں فرماتے: اے اللہ! جہنم نے میری نیند اُڑا دی۔ پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دیتے اور صبح تک اس میں مشغول رہتے۔2
حضرت عمرو بن سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میری آرزو ہے کہ کاش! میں کوئی درخت ہوتی۔ اللہ کی قسم! میری آرزو ہے کہ کاش! میں مٹی کا ڈھیلا ہوتی۔ اللہ کی قسم! میری آرزو ہے کہ کاش! اللہ نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔3
حضرت ابنِ ابی مُلَیکہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کے انتقال سے پہلے ان کی خدمت میں حضرت ابنِ عباس ؓ آئے اور ان کی تعریف کرنے لگ گئے کہ اے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ! آپ کو خوش خبری ہو! حضورﷺ نے آپ کے علاوہ اور کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی، اور آپ کی (تہمتِ زنا سے) براء ت آسمان سے اتری تھی۔ اتنے میں سامنے سے حضرت ابنِ زبیر حاضرِ خدمت ہوئے تو حضرت عائشہ نے فرمایا: یہ عبد اللہ بن عباس میری تعریف کر رہے ہیں اور مجھے یہ بالکل پسند نہیں ہے کہ آج میں کسی سے اپنی تعریف سنوں۔ میری تمنا تویہ ہے کہ کاش! میں بھولی بسری ہو جاتی۔4