اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر
سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا خوف
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں (کچھ کمزوری کے آثار نظر آنے لگ گئے ہیں)۔ آپ نے فرمایا: مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ نے بوڑھا کر دیا۔1
’’بیہقی ‘‘ میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر بڑھاپے کے آثار بہت جلد ظاہر ہوگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی اور سورتوں واقعہ، عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ اور اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ نے بوڑھاکر دیا۔2
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں کیسے خوش حال اور مزے دار زندگی والا ہوسکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور منہ میں لے چکا ہے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے ہے اور کان لگائے انتظار کررہا ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اب کیا پڑھا کریں؟ حضورﷺ نے فرمایا: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا پڑھا کرو۔3
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک قاری کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:
{اِنَّ لَدَیْنَا اَنْکَالاً وَّجَحِیْمًا o}4ہمارے یہاں بیڑیاں ہیں اور دوزخ ہے۔
یہ سن کر حضورﷺ بے ہوش ہوگئے۔5