حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا
حضرت عمرو بن العاص ؓ کے اسلام لانے کا قصہ
حضرت عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم غزوۂ خندق سے واپس آئے تو میں نے قریش کے اُن لوگوں کو جمع کیا جو میری رائے سے اتفاق کیا کرتے تھے اور میری بات سنا کرتے تھے۔ میں نے اُن سے یہ کہا: اللہ کی قسم ! تم جانتے ہو کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ محمد ( ؑ) کا دین تمام دینوں پر بری طرح غالب آتا جارہا ہے۔ مجھے ایک بات سمجھ میں آئی ہے تم لوگوں کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: وہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ ہم نجاشی کے پاس چلے جائیں اور وہیں رہا کریں ۔ پھر اگر محمد ( ؑ) ہماری قوم پر غالب آگئے تو اس وقت ہم نجاشی کے پاس ہوں گے ، کیوں کہ نجاشی کے ماتحت ہوکر رہنا ہمیں محمد ( ؑ) کے ما تحت ہوکر رہنے سے زیادہ پسند ہے۔ اور اگر ہماری قوم غالب آگئی تو ہم جانے پہچانے لوگ ہیں وہ ہمارے ساتھ بھلائی کا ہی معاملہ کریں گے۔ سب نے کہا: یہ تو بہت اچھی رائے ہے۔ میں نے کہا: اس کو دینے کے لیے کچھ ہدیے جمع کرلو۔ نجاشی کو ہمارے ہاں کے چمڑے کا ہدیہ سب سے زیادہ پسند تھا۔ چناں چہ ہم لوگوں نے یہاں کا تیار شدہ چمڑا کثیر تعداد میں جمع کیا۔ پھر ہم مکہ سے چلے اور اس کے پاس پہنچ گئے۔ اللہ کی قسم! ہم وہاں ہی تھے کہ اتنے میںعمرو بن اُمیَّہ ضمریؓ وہاں آئے اور حضورﷺ نے اُن کو نجاشی کے پاس حضرت جعفر ؓ اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں بھیجا تھا۔ حضرت عمرو بن العاص فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن اُمیَّہ نجاشی کے پاس ملنے گئے اور پھر وہاں سے باہر آئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ عمرو بن اُمیَّہ ہیں۔ اگر میں نجاشی کے پاس جاکر ان سے ان کو مانگ لوں اور وہ مجھے یہ دے دیں اور میں اُن کی گردن اڑادوں تو قریش یہ سمجھیں گے کہ میں نے محمد ( ؑ) کے قاصد کو قتل کرکے اُن کا بدلہ لے لیا ہے۔ چناں چہ میں نے نجاشی کے دربار میں جاکر نجاشی کو سجدہ کیا جیسے میں پہلے کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا :خوش آمدید ہو میرے دوست کو ۔ اپنے علاقہ سے میرے لیے کچھ ہدیے لائے ہو؟ میں نے کہا:ہاں، اے بادشاہ! میں آپ کے لیے ہدیہ میں بہت سے چمڑے لایا ہوں۔ چناں چہ میں نے وہ چمڑے اس کے سامنے پیش کیے ، وہ اسے بہت پسند آئے کیوں کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق تھے۔
پھر میں نے اس سے کہا:اے بادشاہ!میں نے ایک آدمی کوآپ کے پاس سے نکلتا ہو ا دیکھا ہے، وہ ہمارے دشمن کاقاصد ہے۔ آپ اسے میرے حوالے کر دیں تاکہ میں اسے قتل کردوں، کیوں کہ اس نے ہمارے سرداروں اور معزّز لوگوں کو قتل کیا ہے ۔(یہ سنتے ہی) نجاشی کو ایک دم غصہ آگیا اور اس نے غصہ کے مارے اپنا ہاتھ اپنی ناک پر اس زور سے مارا کہ میں سمجھا کہ اس کی ناک ٹوٹ گئی ہے، اور ڈر کے مارے میرا یہ حال تھا کہ اگر زمین پھٹ جاتی تو میں اس میں گھس جاتا۔پھر میں نے کہا: اے بادشاہ ! اللہ کی قسم! اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ یہ بات آپ کو ناگوار گزرے گی تو میں آپ سے اسے بالکل نہ مانگتا۔ نجاشی نے کہا: تم مجھ سے اس آدمی کے قاصد کو مانگ کر قتل کرنا چاہتے ہو جس کے پاس وہی ناموس اکبر (جبرائیل ؑ) آتے ہیں جو موسیٰ ( ؑ ) کے پاس آیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: اے بادشاہ ! کیا وہ ایسے ہی ہیں؟ اس نے کہا: تیرا ناس ہو اے عمرو ! میری بات مان لے اور ان کا اتباع کرلے، کیوں کہ وہ حق پر ہیں اور وہ اپنے مخالفوں پر ایسے غالب آئیں گے جیسے حضرت موسیٰ بن عمر ان فرعون اور اس کے لشکر پر غالب آئے تھے۔ میں نے کہا: کیا تم مجھے ان کی طرف سے اِسلام پر بیعت کروگے؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے ہاتھ بڑھادیا اور میں اُن کے ہاتھ پر بیعت ہوگیا۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کے پاس باہر آیا تو میری رائے بدل چکی تھی۔ اپنے ساتھیوں سے میں نے اپنا اِسلام چھپائے رکھا۔ پھر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اِسلام لانے کے ارادے سے میں وہاں سے چل پڑا۔
راستے میں مجھے حضرت خالد بن ولید ملے،وہ مکہ سے آرہے تھے۔ یہ واقعہ فتحِ مکہ سے کچھ پہلے کا ہے۔ میں نے کہا: اے ابو سلیمان ! کہاں (جارہے ہو)؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! بات واضح ہوگئی ہے اور یہ آدمی یقیناً نبی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں (ان کے پاس) مسلمان ہونے جارہا ہوں۔ کب تک (ہم اِدھر اُدھر بھاگتے رہیںگے)؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی مسلمان ہونے جارہا ہوں۔ چناں چہ ہم دونوں مدینہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے ۔ حضرت خالد بن ولید آگے بڑھ کر مسلمان ہوئے اور انھوں نے حضورﷺ سے بیعت کی۔ پھر میں نے قریب ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں، آیندہ کے گناہوں کے متعلق مجھے خیال نہیں آیا۔ آپ نے فرمایا: اے عمرو ! بیعت ہوجاؤ، کیوں کہ اِسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ سے بیعت ہوگیا پھر واپس آگیا۔ 1
اس روایت کو بیہقی نے واقدی کے حوالے سے زیادہ مفصل اور زیادہ بہتر طریقہ سے ذکر کیا ہے اور اس میں یہ مضمون بھی ہے: پھر میں (حبشہ سے) چل دیایہاں تک کہ جب میں ہَدَہ مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دو آدمی ذرا کچھ آگے جاکر پڑاؤ ڈال رہے ہیں، ایک خیمہ کے اندر ہے اور دوسرا دونوں سواریوں کو تھامے ہوئے ہے۔ غور سے دیکھنے سے پتہ چلا کہ یہ تو خالد بن ولید ہیں۔ میں نے کہا: کہاں جارہے ہو؟ انھوں نے کہا: محمد( ؑ) کی خدمت میں حاضری کا ارادہ ہے، کیوں کہ سارے لوگ اِسلام میں داخل ہوچکے ہیں، کوئی ڈھنگ کا آدمی باقی نہیں رہا۔ اگر ہم یوں ہی ٹھہرے رہے تو ہماری گردن کو ایسے پکڑ لیا جائے گا جیسے کہ بَھٹ میں بِجُّو کی گردن پکڑ لی جاتی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا بھی محمد ( ؑ) کی خدمت میں حاضری کا اِرادہ ہے اور میں بھی مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ حضرت عثمان بن طلحہ ؓ نے خیمہ سے باہر آکر مجھے خوش آمدید کہا پھر ہم سب وہیں ٹھہرے گئے، پھر ہم ایک ساتھ ہی مدینہ آئے۔ مجھے اس آدمی کی بات نہیں بھولتی ہے جو ہمیں بیرِ ابوعتبہ کے پاس ملا۔ وہ یارَ با ح! یا رَ باح !یا رَباح! کہہ کر اپنے غلام کو پکار رہا تھا (رَباح اس کے غلام کا نام تھا لیکن اس کا لفظی ترجمہ نفع ہے) ہم نے اس کے ان الفاظ سے نیک فال لی اور ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔
پھر اس نے ہمیں دیکھ کر کہا: ان دو (سرداروں) کے بعد مکہ نے اپنی قیادت ہمیں دے دی ہے۔ وہ یہ کہہ کر میری اور حضرت خالد بن ولید کی طرف اشارہ کررہا تھااور وہ آدمی دوڑتا ہوا مسجد گیا۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ حضورﷺ کو ہمارے آنے کی خوش خبری سنانے گیا ہے، چناں چہ ایسے ہی ہوا۔ ہم نے اپنے اونٹ مقامِ حرّہ میں بٹھائے اور اپنے صاف ستھرے کپڑے پہنے، پھر عصر کی اَذان ہوگئی۔ ہم چل کر آپ کی خدمت میں آپہنچے۔ آپ کا چہرۂ مبارک (خوشی سے) چمک رہا تھا اور آپ کے چاروں طرف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے جو ہمارے مسلمان ہونے سے بڑے خوش ہو رہے تھے۔ چناں چہ حضرت خالد بن ولید آگے بڑھ کر حضورﷺ سے بیعت ہوئے، پھر حضرت عثمان بن طلحہ آگے بڑھ کر بیعت ہوئے۔ پھر میں آگے بڑھا۔ اللہ کی قسم ! جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں شرم کی وجہ سے اپنی نگاہ نہ اٹھا سکا، اور میں نے آپ سے اس شرط پر بیعت کی کہ میرے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں اور بعد میں ہونے والے گناہوں کا مجھے خیال نہ آیا۔ آپ نے فرمایا: اِسلام اپنے سے پہلے والے تمام گناہ مٹادیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے والے تمام گناہ مٹا دیتی ہے۔ اللہ کی قسم ! جب سے ہم دونوں ، میں اور خالد بن ولید مسلمان ہوئے اس وقت سے حضورﷺ نے کسی بھی پریشان کن امر میں اپنے کسی صحابی کو ہمارے برابر کانہیں سمجھا ۔ 1