حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا

صلح حدیبیہ کا قصہ

حضرت مِسْور بن مخرمہ اور مروان ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستہ میںایک جگہ حضورﷺ نے فرمایا کہ خالد بن ولید قریش کے سواروں کی ایک جماعت لے کر مقامِ غمیم پر حالات معلوم کرنے کے لیے آئے ہوئے ہیں، لہٰذا تم دائیں طرف کو ہوجاؤ۔ اللہ کی قسم! حضرت خالد کو حضورﷺ کے قافلہ کی خبر اس وقت ہوئی جب کہ یہ لوگ عین ان کے سر پر پہنچ گئے اور انھیں اس قافلہ کا غبار نظر آیا۔ جب حضرت خالد کو پتہ چلا تو انھوں نے گھوڑا دوڑا کر قریش کو آپ کی آمد کی اطلاع دی۔ حضورﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے مکہ کی طرف راستہ جاتا تھا تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ اس اونٹنی کا نام قَصْواء تھا۔ لوگوں نے(اسے اٹھانے کے لیے عرب کے رواج کے مطابق) حَلْ حَلْ کہالیکن وہ بیٹھی رہی، تو لوگوں نے کہا: قَصْواء اَڑ گئی ہے، قَصْواء اَڑ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ قَصْواء اَڑی نہیں ہے اور نہ اس طرح اَڑ جانا اس کی عادت ہے بلکہ اس کو اسی ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا یعنی اللہ نے۔ پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! کفار ِمکہ مجھ سے جو نسی بھی ایسی تجویز کا مطالبہ کریں گے جس سے وہ اللہ کی قابلِ احترام چیزوں کی تعظیم کررہے ہوں گے،میںاُن کی ایسی تجویز کو ضرور مان لوں گا۔ پھر آپ نے اس اونٹنی کو جِھڑکا تووہ فوراً کھڑی ہوگئی۔ پھر آپ نے مکہ کا راستہ چھوڑ دیا اور وادیٔ حدیبیہ کے آخری کنارے پر پڑاؤ ڈالا جہاں ایک چشمہ میں سے تھوڑا تھوڑا پانی نکل رہا تھا۔ صحابہ ؓ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لینے لگے تو تھوڑی دیر میں سارا پانی ختم ہوگیا اور صحابہ نے حضورﷺ سے پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا اور فرمایا کہ اسے چشمہ میں گاڑ دو۔ (صحابہ نے وہ تیر اس چشمہ میں گاڑ دیا ) تو جب تک صحابہ وہاں رہے اس چشمہ میں سے پانی جوش مار کر پھوٹتارہا اور صحابہ اس سے خوب سیراب ہوتے رہے۔ حضورﷺ اور صحابۂ کرام ؓ وادیٔ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اتنے میں بُدَیل بن ورقاء اپنی قوم خُزاعہ کی ایک جماعت کو لے کر آئے، اور یہ لوگ اہل ِتہامہ میں سے آپ کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے۔ انھوں نے کہا: میں کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کے پاس سے آرہا ہوں، انھوں نے حدیبیہ کے چشموں پر پڑاؤ ڈالا ہوا ہے (اور وہ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر سارا سامان لے کر آئے ہیں حتیٰ کہ) اُن کے ساتھ بیاہی اور بچے والی اونٹیاں بھی ہیں، وہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیںاور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ تو آپ نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں، (ہم بہت حیران ہیں کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہوکر آگئے ہیں حالاں کہ) لڑائیوں نے تو قریش کو بہت تھکا دیا ہے اور ان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان سے ایک عرصہ تک کے لیے صلح کرنے کو تیار ہوں، اس عرصہ میں وہ میرے اور لوگوں کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے (اور میں اس عرصہ میں دوسرے لوگوں کو دعوت دیتا رہوں گا)۔ اگر دعوت دے کر میں لوگوں پر غالب آگیا (اور لوگ میرے دین میں داخل ہوگئے) تو پھر قریش کی مرضی ہے اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اس دین میں داخل ہوجائیں جس میں دوسرے لوگ داخل ہوئے ہوں گے، اور اگر میں غالب نہ آیا (اور دوسرے لوگوں نے غالب آکر مجھے ختم کردیا) تو پھر یہ لوگ آرام سے رہیں گے۔ اور اگر وہ صلح کرنے سے انکار کردیں تو اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں اُن سے اس دین کے لیے ضرور لڑوں گا یہاں تک کہ میری گردن میرے جسم سے الگ ہوجائے (یعنی مجھے مار دیا جائے) اور اللہ کا دین ضرور چل کر رہے گا۔ حضرت بُدَیل نے کہا: آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں میں وہ سب اہلِ مکہ کو پہنچا دوں گا۔ چناں چہ حضرت بُدَیل وہاں سے چل کر قریش کے پاس پہنچے اور اُن سے کہا: ہم اس آدمی کے پاس سے آپ کے پاس آرہے ہیں اور ہم نے اس کو ایک بات کہتے ہوئے سنا ہے اگر آپ چاہیں تو ہم اس کی بات آپ کو پیش کردیں۔ اہلِ مکہ کے نادان قسم کے لوگوں نے کہا: ہمیں ان کی کوئی بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ان میں سے سمجھ دار لوگوں نے کہا: تم نے ان سے جو سنا ہے وہ ہمیں ضرور بتاؤ ۔ حضرت بُدَیل نے کہا: میں نے ان کو یہ یہ کہتے ہوئے سنا اور ان کو حضورﷺکی ساری بات بتائی۔ تو حضرت عروہ بن مسعود نے کھڑے ہوکر کہاکہ کیا میںتمہارے لیے والد کا درجہ نہیںرکھتا ہوں؟ انھوں نے کہا: رکھتے ہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم میرے لیے اولاد کی طرح نہیں ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں! اولاد کی طرح ہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تمہیں میرے بارے میں کوئی شک یا شبہ ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اہلِ عکاظ کو تمہاری مدد کے لیے آمادہ کیا تھا، لیکن جب وہ تیار نہ ہوئے تو میں اپنے گھر والوں اور اپنے بچوں اور اپنے مطیع و فرماں بردار انسانوں کو لے کر تمہاری مدد کے لیے آگیا تھا؟ انھوں نے کہا: ہاں معلوم ہے۔ عروہ نے کہا کہ اس آدمی نے (یعنی حضورﷺ نے) تمہارے سامنے ایک بھلی اور اچھی تجویز پیش کی ہے تو تم اس کو قبول کرلو، اور مجھے اس سلسلہ میں بات کرنے کے لیے اُن کے پاس جانے دو۔ مکہ والوں نے کہا: ضرور جاؤ۔ چناں چہ عروہ حضورﷺ کے پاس گئے اورحضورﷺ سے بات کرنے لگے۔ حضورﷺ نے جو بُدَیل کو فرمایا تھا وہی آپ نے ان سے بھی کہا ۔تو اس پر عروہ نے کہا: اے محمد! آپ یہ بتائیے کہ اگر آپ نے اپنی قوم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تو کیا آپ نے سنا ہے کہ آپ سے پہلے عرب کے کسی آدمی نے اپنے خاندان والوں کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہو؟ اور اگر دوسری صورت ہوئی یعنی قریش تم پر غالب آگئے تو میں تمہارے ساتھ قابلِ اعتماد اور وفادار لوگوں کا مجمع نہیں دیکھ رہا ہوں، بلکہ اِدھر اُدھر کے متفرق لوگوں کی بھیڑ ہے جو (جنگ شروع ہوتے ہی) تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ اس پرحضرت ابو بکرؓ نے کہا: تو اپنے معبود لات بُت کی پیشاب گاہ چوس! کیا ہم حضورﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ عروہ نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ ابو بکر ہیں۔ عروہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تمہارا مجھ پر وہ اِحسان نہ ہوتا جس کا میں اب تک بدلہ نہیں دے سکا تو میں تمہاری اس بات کا جواب ضرور دیتا ۔ عروہ حضورﷺ سے گفتگو کرتے ہوئے حضورﷺ کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگانے لگتے اور(عروہ کے بھتیجے) حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ہاتھ میں تلوار لیے اور سر پر خَود پہنے ہوئے حضورﷺ کے سرہانے کھڑے تھے۔ جب بھی عروہ حضورﷺ کی ڈاڑھی کی طرف ہاتھ بڑھاتے تو حضرت مغیرہ اس کے ہاتھ کو تلوار کا دستہ مارتے اور کہتے کہ حضورﷺ کی ڈاڑھی مبارک سے اپنے ہاتھ دور رکھو۔ چناں چہ عروہ نے سر اٹھا کر پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ توعروہ نے کہا: او غدّار! کیا میں تیری غداری کو ابھی تک نہیں بھگت رہا ہوں؟ (یعنی تم نے جو قتل کیا تھا اس کا خون بَہَا میں ابھی تک دے رہا ہوں اور جو تم نے مال لوٹا تھا اس کا تاوان اب تک بھر رہا ہوں)۔ حضرت مغیرہ زمانۂ جاہلیت میں ایک قوم کے ساتھ سفر میں گئے تھے، ان کو قتل کرکے اور ان کا مال لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آگئے تھے اور مسلمان ہوگئے تھے۔ حضورﷺ نے اُن سے صاف فرمایا تھا کہ تمہارا اِسلام تو قبول ہے، لیکن تم جو مال لائے ہو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ (عروہ کا اشارہ اسی قصہ کی طرف تھا) پھر عروہ حضورﷺ کے صحابہؓ کو بڑے غور سے دیکھنے لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! حضورﷺ جب بھی تھوکتے تو اسے کوئی نہ کوئی صحابی اپنے ہاتھ میں لے لیتا اوراس کو اپنے چہرہ اور جسم پر مَل لیتا، اور حضورﷺ جب انھیں کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو صحابہ اسے فوراً کرتے، اور جب آپ وضو فرماتے تو آپ کے وضو کے پانی کو لینے کے لیے صحابہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے اور لڑنے کے قریب ہوجاتے، اور جب آپ گفتگو فرماتے تو صحابہ آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست کرلیتے۔ اور صحابہ کے دل میں آپ کی اِتنی عظمت تھی کہ وہ آپ کو نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ چناں چہ عروہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گئے اور ان سے یہ کہا کہ میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوںقیصر، کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کی تعظیم اس کے درباری اتنی کرتے ہوں جتنی محمد (ﷺ) کے صحابہ محمد کی کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! حضورﷺ جب بھی تھوکتے تو اسے کوئی نہ کوئی صحابی اپنے ہاتھ پر لے کر اپنے چہرہ اور جسم پر مَل لیتا، اور انھیں جس کام کے کرنے کا حکم دیتے اس کام کو وہ فوراً کرتے، اور وہ جب وضو کرتے تو ان کے وضو کا پانی لینے کے لیے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے اور لڑنے کے قریب ہوجاتے، اور وہ جب گفتگو فرماتے تو سب اپنی آوازیں پست کرلیتے یعنی خاموش ہوجاتے، اور تعظیم کی وجہ سے صحابہ آپ کو نظر بھر کر نہ دیکھ سکتے۔ اور انھوں نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے تم اسے قبول کرلو۔ اس کے بعد بنو کِنانہ کے ایک آدمی نے کہا: مجھے ان کے پاس جانے دو۔ تومکہ والوں نے کہا: ضرور جاؤ۔ جب یہ آدمی حضورﷺ اور صحابہ کے قریب پہنچا تو حضورﷺ نے فرمایا: یہ فلاں آدمی ہے اور یہ اس قوم کا آدمی ہے جو قربانی کے اونٹوں کی بڑی تعظیم کرتے ہیں، لہٰذا تم جو قربانی کے اونٹ لے کر آئے ہو وہ اس کے سامنے کھڑے کردو۔ چناں چہ وہ اونٹ اس کے سامنے کھڑے کردیے گئے اور لوگوں نے لبیک پڑھتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ اس نے جب یہ منظر دیکھا تو اس نے کہا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو تو بیت اللہ سے ہرگز نہیں روکنا چاہیے۔ تو اس آدمی نے اپنے ساتھیوںکو واپس جاکر یہ کہا کہ میں یہ منظر دیکھ کر آیا ہوں کہ صحابہ نے قربانی کے اونٹوں کے گلے میں قلادہ (یعنی ہار) ڈالا ہوا ہے اور ان کے کوہان کو زخمی کیا ہوا ہے (اس زمانے میں قربانی کے اونٹ کے ساتھ یہ دو کام کیے جاتے تھے تاکہ ان نشانیوں سے ہر ایک کو پتہ چل جائے کہ یہ قربانی کا اونٹ ہے، یعنی وہ لوگ عمرہ کے لیے تیار ہوکر آئے ہیں، اس لیے) میری رائے نہیںہے کہ ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکا جائے۔ تو ان میں سے مِکْرَز بن حفص نامی ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ذرا مجھے ان کے پاس جانے دو۔ لوگوں نے کہا: ضرور جاؤ۔ جب وہ حضورﷺ کے قریب آیا تو حضورﷺ نے فرمایا: یہ تو مِکْرَز ہے۔ یہ تو بڑا بدکار آدمی ہے۔ وہ آکر حضورﷺ سے باتیں کرنے لگا کہ اتنے میں سہیل بن عمرو آگئے۔ معمر راوی کہتے ہیں: مجھے ایوب نے عکرمہ سے یہ نقل کیا ہے کہ جب سہیل بن عمرو آئے تو حضورﷺ نے ان کے نام سے نیک فال لیتے ہوئے کہا: اب تمہارا کام آسان ہوگیا ۔معمر کہتے ہیں کہ زُہری اپنی حدیث میں یوں بیان کرتے ہیں کہ سہیل نے کہا: آئیے صلح نامہ لکھ لیتے ہیں۔ حضورﷺ نے لکھنے والے کو بلایا اور اس سے فرمایا: لکھو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔سہیل نے کہا: مجھے تو پتہ نہیں کہ رحمن کون ہوتا ہے، اس لیے آپ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّلکھیں جیسے پہلے لکھا کرتے تھے۔ صحابہ نے کہا: نہیں نہیں ہم تو صرف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھیں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کوئی بات نہیں بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّلکھ دو۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ لکھو ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِکہ یہ وہ صلح نامہ ہے جس کا محمد رسول اللہ نے فیصلہ کیا ہے۔ تو سہیل نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو نہ ہم آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ ہم آپ سے جنگ کرتے (صلح نامہ میں وہ بات لکھی جاتی ہے جو فریقین کو تسلیم ہو)، اس لیے محمد بن عبداللہ لکھو۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! چاہے تم نہ مانو، ہوں تو میں اللہ کا رسول لیکن محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ حضرت زُہری فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کا فروں کی ہر بات اس لیے مان رہے تھے کیوں کہ قَصْواء اونٹنی کے بیٹھ جانے پر آپ نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ کفارِ مکہ مجھ سے جونسی بھی ایسی تجویز کا مطالبہ کریںگے جس سے وہ اللہ کی قابلِ احترام چیزوں کی تعظیم کررہے ہوں گے تو میں اُن کی ایسی ہر تجویز کو ضرور مان لوں گا ۔ حضورﷺ نے اس سے فرمایا کہ صلح کی شرط یہ ہوگی کہ تم ہمیں بیت اللہ کا طواف کرنے دوگے۔ تو سہیل نے کہا کہ اگر آپ اسی سال بیت اللہ کا طواف کریں گے تو سارے عرب میں یہ بات مشہور ہوجائے گی کہ ہم مکہ والے آپ سے دب گئے، اس لیے آپ اس سال نہ کریں اگلے سال کرلینا۔ چناں چہ یہ بات صلح نامہ میں لکھی گئی (کہ اگلے سال طواف اور عمرہ کریں گے)۔ سہیل نے کہا: صلح نامہ کی ایک شرط یہ ہوگی کہ ہم میں سے جو آدمی بھی آپ کے پاس چلا جائے گا چاہے وہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہمارے پاس واپس کردیں گے۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر ہمارے پاس آئے اور اسے مشرکوں کے پاس واپس کردیا جائے۔ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ سہیل بن عمرو کے بیٹے حضرت ابو جندل ؓ بیڑیوں میں چلتے ہوئے آگئے۔ یہ مکہ کے نیچے والے حصہ میں قید تھے، وہاں سے کسی طرح نکل کر آگئے اور گرتے پڑتے مسلمانوں کے مجمع میں پہنچ گئے۔ سہیل نے کہا: اے محمد ! میرا مطالبہ یہ ہے کہ صلح کی اس شرط کے مطابق آپ سب سے پہلے مجھے یہ آدمی واپس کریں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ابھی تو اس صلح نامہ کی تحریر پوری نہیںہوئی (لہٰذا ابھی تو معاہدہ نہیں ہوا)۔ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! پھر تومیں آپ سے ہرگز صلح نہیں کروں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اسے میری وجہ سے ہی چھوڑ دو۔ سہیل نے کہا: نہیں، میں اسے آپ کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، چھوڑ دو۔ سہیل نے کہا: نہیں، میں نہیں چھوڑ سکتا ۔ اس پر مِکْرَز نے کہا: اچھا! ہم اسے آپ کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ حضرت ابو جندل نے کہا: اے مسلمانو! میں تو مسلمان ہوکر آیا تھا اور اب مجھے مشرکوں کی طرف واپس کیا جارہا ہے۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ میں کتنی مصیبتیں اٹھا رہا ہوں؟ اور واقعی انھیں اللہ کی خاطر سخت مصیبتیں پہنچائی گئی تھیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ کیا آپ اللہ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہوں۔ پھر میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے کہا: پھر ہم کیوں اتنا دب کر صلح کریں؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا ہوں اور وہی میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا :کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جاکر اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں میں نے کہا تھا، لیکن کیا میں نے تم کو یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال بیت اللہ جائیں گے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تم بیت اللہ ضرور جاؤگے اور اس کا طواف کروگے۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابو بکر ! کیا یہ اللہ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا :ہیں ۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ حضرت ابوبکر نے کہا:ہاں! تم ٹھیک کہتے ہو۔میں نے کہا: پھر ہم کیوں اتنا دب کر صلح کریں؟حضرت ابوبکر نے کہا: اے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتے ہیں اور اللہ اُن کا مددگار ہے ۔ تم ان کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اللہ کی قسم ! وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا :کیا انھوں نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا ہم بیت اللہ جاکر اس کا طواف کریں گے؟ انھوں نے کہا :ہاں انھوں نے کہا تھا، لیکن کیا انھوں نے تم کو یہ بھی کہا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ جاؤگے ؟ میں نے کہا :نہیں۔ انھوں نے کہا: تم بیت اللہ ضرور جاؤگے اوراس کا طواف کروگے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی گستاخی کی معافی کے لیے بہت سے اعمالِ خیر کیے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضورﷺ جب صلح نامہ کی لکھائی سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اٹھو، اپنی قربانی ذبح کرو پھر اپنے سر مُونڈ لو۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا حتیٰ کہ آپ نے یہ حکم تین مرتبہ فرمایا۔ جب ان میں سے کوئی بھی نہ کھڑا ہوا تو حضورﷺ حضرت اُمِّ سلمہؓکے پاس تشریف لے گئے اور لوگوں کی طرف سے آپ کو جو پریشانی پیش آرہی تھی وہ ان کو بتائی۔ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی ! کیا آپ یہ کروانا چاہتے ہیں؟ آپ باہر تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی سے کوئی بات نہ کریں بلکہ اپنی قربانی ذبح کریں اور اپنے نائی کو بلا کر سر مُنڈا لیں۔ چناں چہ آپ باہر تشریف لائے اور اُن میں سے کسی سے کوئی بات نہ کی اور اپنی قربانی کو ذبح کیا اور اپنے نائی کو بلا کر اپنے بال منڈوائے۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انھوں نے بھی کھڑے ہوکر اپنی قربانیاں ذبح کیں اور ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے، اور رنج اور غم کے مارے یہ حال تھا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ایک دوسرے کو قتل کردیں گے۔ پھر آپ کے پاس چند مؤمن عورتیں آئیں جن کے متعلق اسی وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یٰٓایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ} سے لے کر { بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ}1 تک۔ اے ایمان والو! جب آئیں تمہارے پاس ایمان والی عورتیں وطن چھوڑ کر تو اُن کو جانچ لو، اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو۔ پھر اگر جانو کہ وہ ایمان پر ہیں تو مت پھیرو ان کو کافروں کی طرف ۔ نہ یہ عورتیں حلال ہیں ان کافروں کو اور نہ وہ کافر حلال ہیں ان عورتوں کو۔ اور دے دو ان کافروں کو جو ان کا خرچ ہوا ہو۔ اور گناہ نہیں تم کو کہ نکاح کرلو اور عورتوں سے جب اُن کو دو اُن کے مہر، اور نہ رکھو اپنے قبضہ میں ناموس کا فر عورتوں کے۔ چناں چہ اس حکم کی وجہ سے حضرت عمر نے اپنی دو عورتوں کو طلاق دے دی جو مشرک تھیں، ان میں سے ایک سے معاویہ بن ابی سفیان اور دوسری سے صفوان بن اُمیَّہ نے شادی کی، (یہ دونوں حضرات بھی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) پھر حضورﷺ مدینہ واپس آگئے۔ اتنے میں قریش کے ابو بصیر ؓ مسلمان ہوکر آپ کے پاس آگئے۔ مکہ والوں نے ان کو واپس بلانے کے لیے دو آدمی بھیجے کہ آپ نے ہم سے جو معاہدہ کیا ہے اسے پورا کریں۔ آپ نے حضرت ابو بصیرکو ان دونوں کے حوالے کردیا۔ وہ دونوں ان کو لے کر وہاں سے چل پڑے یہاں تک کہ ذُو الحُلَیفہ پہنچ کر ٹھہر گئے اور کھجوریں کھانے لگے۔ حضرت ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا: اے فلانے! مجھے تمہاری تلوار بڑی عمدہ نظر آرہی ہے۔ اس نے نیام سے تلوار نکال کر کہا: ہاں اللہ کی قسم ! یہ تو بہت عمدہ تلوار ہے اور میں نے اسے بہت لوگوں پر آزمایا ہے۔ حضرت ابو بصیر نے کہا : ذرا مجھے دکھاؤ میں اسے دیکھوں۔ اس نے تلوار ان کے حوالے کردی، انھوں نے اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہوگیا۔ دوسرا وہاں سے مدینہ کی طرف بھاگ پڑا اور دوڑتا ہوا وہ مسجدِ نبوی میں داخل ہوا۔ حضورﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اس نے کوئی گھبراہٹ کی چیز دیکھی ہے ۔ جب وہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچا تو اس نے کہا: میرا ساتھی تو مارا جاچکا اب میرا نمبر ہے۔ اس کے بعد ابو بصیر پہنچے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے آپ کا عہد پورا کروادیا کہ آپ نے تو مجھے واپس کردیا تھا، اب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان لوگوں سے چھٹکارا دلایا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس کی ماں کا ستیاناس ہو! یہ لڑائی بھڑکانے والا ہے۔ کاش! کوئی اسے سنبھالنے والا ہوتا۔ جب حضرت ابو بصیر نے یہ سنا تو وہ سمجھ گئے (کہ اب بھی اگر مکہ سے اُن کوکوئی لینے آیا) تو حضورﷺ اُن کو واپس کردیں گے۔ چناں چہ وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے ایک جگہ آپڑے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو جندل بن سہیل بن عمروؓمکہ والوں سے چھوٹ کر حضرت ابو بصیر کے پاس آگئے۔ اس طرح قریش کا جو شخص بھی مسلمان ہوتا وہ حضرت ابو بصیر سے جا ملتا، چند روز میں یہ ایک مختصر سی جماعت ہوگئی۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں کو جب خبر لگتی کہ قریش کا کوئی تجارتی قافلہ ملکِ شام جارہا ہے تو اس پر ٹوٹ پڑتے، ان کو قتل کردیتے اور ان کا مال لے لیتے حتیٰ کہ کفار قریش نے (پریشان ہوکر ) حضورﷺ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر آدمی بھیجا کہ اس بے سری جماعت کو آپ اپنے پاس بلالیں (تاکہ یہ معاہدہ میں داخل ہوجائیں اور ہمارے لیے آنے جانے کا راستہ کھلے )اور اس کے بعد جو بھی آپ کے پاس آئے گا اسے امن ہے (ہم اسے واپس نہ لیں گے)۔ چناں چہ حضورﷺ نے آدمی بھیج کر اُن کو مدینہ بلوالیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : {وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْْہِمْ} سے لے کر { الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ}1 تک۔ اوروہی ہے جس نے روک رکھا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے بیچ شہر مکہ کے، بعد اس کے کہ تمہارے ہاتھ لگادیا ان کو (سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک) جب رکھی منکروں نے اپنے دلوں میں کد، نادانی کی ضد ۔ ان کافروں کی ضد یہ تھی کہ انھوں نے نہ تو حضورﷺ کے نبی ہونے کا اقرار کیا اور نہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھے جانے کو مانا اور مسلمانوں کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے۔2 حضرت عروہؓ بیان فرماتے ہیں کہ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر حضورﷺ کے حدیبیہ میں قیام فرمانے کی وجہ سے قریش گھبرا گئے۔ حضورﷺ نے مناسب سمجھا کہ اپنے صحابہ میں سے کسی کو قریش کے پاس بھیجیں۔ چناں چہ آپ نے قریش کے پاس بھیجنے کے لیے حضرت عمر بن الخطّابؓکو بلایا۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (آپ کے ارشاد پر عمل کرنے سے مجھے اِنکار نہیں ہے، لیکن) میں اہلِ مکہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ہوں۔ اگر انھوں نے مجھے کوئی تکلیف پہنچائی تو مکہ میں (میرے خاندان) بنو کعب میں سے ایسا کوئی نہیں ہے جو (میرا دفاع کرے اور) میری وجہ سے ناراض ہو۔ آپ حضرت عثمان کو بھیج دیں، کیوں کہ ان کا خاندان مکہ میں ہے، تو جو پیغام آپ بھیجنا چاہتے ہیں وہ اہلِ مکہ کو پہنچادیں گے۔ چناں چہ حضورﷺ نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو بلاکر قریش کی طرف بھیجا اور اُن سے فرمایا کہ انھیں یہ بتادو کہ ہم (کسی سے) لڑنے کے لیے نہیں آئے ہیں ہم تو صرف عمرہ کرنے آئے ہیں، اور اُن کو اِسلام کی طرف دعوت دینا۔ اور آپ نے حضرت عثمان کو یہ بھی حکم دیا کہ مکہ میں جو مؤمن مرد اور عورتیں ہیں حضرت عثمان اُن کے پاس جاکر اُن کو فتح کی خوش خبری سنادیں، اور اُن کو بتادیں کہ اللہ تعالیٰ عنقریب مکہ میں اپنے دین کو ایسا غالب کردیں گے کہ پھر کسی کو اپنا ایمان چھپانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ خوش خبری دے کر آپ مکہ کے کمزور مسلمانوں کو (ایمان پر) جمانا چاہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ تشریف لے گئے (مکہ کے راستے ) مقام بَلْدَح میں اُن کا قریش کی ایک جماعت پر گزر ہوا۔ قریش نے پوچھا :کہاں (جارہے ہو)؟ انھوں نے کہا: حضورﷺ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میںتمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف اور اِسلام کی طرف دعوت دوں اور تمہیں بتادوں کہ ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ جیسے حضورﷺ نے فرمایا تھا انھوں نے ویسے اُن کو دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ہم نے آپ کی بات سن لی ہے، جاؤ اپنا کام کرو۔ اَبان بن سعید بن عاص نے کھڑے ہوکر حضرت عثمان کا استقبال کیا اور ان کو اپنی پناہ میں لیا اور اپنے گھوڑے کی زِین کسی اور حضرت عثمان کو اپنے گھوڑے پر آگے بٹھا کر مکہ لے گئے۔ پھر قریش نے بُدَیل بن ورقاء خُزاعی اور قبیلہ بنو کنانہ کے ایک شخص کو حضورﷺ کے پاس بھیجا ۔ اس کے بعد عروہ بن مسعود ثقفی آئے، آگے حدیث اور بھی ہے۔ 1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ نے اہلِ مکہ سے (دب کر) صلح کی اور ان کی ساری باتیں مان لیں ۔ اگر حضورﷺ کسی اور کو امیر بنا کر بھیجتے اور وہ اس طرح کرتا جیسے حضورﷺ نے کیا تو میں اس کی نہ کوئی بات سنتا اور نہ مانتا ۔ آپ نے اُن کی یہ شرط بھی مان لی تھی کہ جو (مسلمان ہوکر) مسلمانوں کے پاس جائے گا مسلمان اسے واپس کردیں گے، اور جو مسلمان (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ!)( کافر ہوکر) کافروں کے پاس جائے گا کافر اسے واپس نہیں کریں گے۔ 1 حضرت ابو بکر صدیقؓ فرمایا کرتے تھے کہ اِسلام میں فتح حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں ہے، محمدﷺ اور ان کے رب کے درمیان جو معاملہ تھا لوگ اسے سمجھ نہ سکے۔ بندے جلد بازی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طرح جلد بازی نہیں کرتے، بلکہ (اپنی ترتیب اور ارادے کے مطابق) ہر کام کو اپنے مقرر کردہ وقت پر کرتے ہیں۔ یہ منظر بھی میرے سامنے ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت سہیل بن عمرو قربان گاہ میں کھڑے ہوکر قربانی کی اونٹنیاں حضورﷺ کے قریب کررہے تھے اور حضورﷺ اُن کو اپنے ہاتھ سے ذبح کررہے تھے۔ پھر آپ نے نائی کو بلا کر اپنے بال منڈوائے تو میں نے دیکھا کہ حضرت سہیل حضورﷺ کے بالوں کو چن چن کر اپنی آنکھوں پر رکھ رہے تھے، اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ وہی سہیل ہیں جنہوں نے صلحِ حدیبیہ کے موقع پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اور محمد رسول اللہ (ﷺ) کے (معاہدہ نامہ میں) لکھے جانے سے انکار کردیا تھا۔ (یہ دیکھ کر) میں نے اس اللہ کی تعریف کی جس نے ان کو اسلام کی ہدایت دی۔2