اجر و ثواب حاصل کرنے کا شوق
نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ کا اَجر وثواب حاصل کرنے کا شوق
حضرت مطّلب بن ابی وَدَاعہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے ایک آدمی دیکھا جو بیٹھ کر نماز پڑھ رہا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔ یہ سن کر تمام لوگ مشقت اور تکلیف کے باوجود کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو ان دنوں مدینہ میں بخار کا زور تھا، چناںچہ لوگوں کو بخار ہونے لگا۔ ایک دن حضورﷺ مسجد میں تشریف لائے تو لوگ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ کرپڑھنے والے کی نماز ثواب میں کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھی ہوتی ہے۔1
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ اور آپ کے صحابہ مدینہ آئے تو صحابہ کو مدینہ کا بخار چڑھ گیا اور اتنے بیمار ہوئے کہ انھیں بڑی مشقت اٹھانی پڑی، البتہ حضورﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بخار سے محفوظ رکھا۔ صحابۂ کرام بخار سے اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ وہ بیٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن حضورﷺ باہر تشریف لائے اور صحابہ اسی طرح بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے ان سے فرمایا: یہ جان لو کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھی ہوتی ہے۔ یہ فضیلت سن کر تمام مسلمان کمزوری اور بیماری کے باوجود زیادہ ثواب حاصل کرنے کے شوق میں بتکلّف کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔2
حضرت ربیعہ بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں سارا دن حضورﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا اور جب عشاء پڑھ کر حضورﷺ گھر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے دروازے پر بیٹھ جاتا۔ میں کہتا شاید اللہ کے رسولﷺ کو کوئی ضرورت پیش آجائے۔ میں کافی دیر تک سنتا رہتا کہ حضورﷺ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖپڑھتے رہتے ہیں۔ میں یوں ہی بیٹھا رہتا یہاں تک کہ تھک کر واپس چلا جاتا یا نیند آجاتی تو وہاںہی سو جاتا۔ جب حضورﷺ نے دیکھا کہ میں آپ کی دل وجان سے خدمت کر رہا ہوں اور آپ کا خیال ہوا کہ میرا حضورﷺ پر حق بنتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اے ربیعہ بن کعب! مجھ سے مانگ لو، جو مانگو گے تمھیں ضرور دوں گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ذرا سوچ لوں پھر آپ کو بتاؤں گا۔ میں نے دل میں سوچا تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ دنیا تو بہرحال ختم ہونے والی اور چلی جانے والی چیز ہے اور بقدرِ ضرورت مجھے رزق مل ہی رہا ہے، اس لیے میں اللہ کے رسول ﷺ سے اپنی آخرت کے لیے مانگوں گا کیوںکہ ان کا اللہ کے ہاں بڑا خاص مقام ہے۔ چناںچہ یہ سوچ کر میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ربیعہ! تم نے کیا سوچا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنے رب کے ہاں میری سفارش فرمائیں تاکہ وہ مجھے دوزخ کی آگ سے آزاد کردے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمھیں یہ بات کس نے سمجھائی؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! مجھے یہ بات کسی نے نہیں سمجھائی، بلکہ جب آپ نے فرمایا کہ مجھ سے مانگو، جو مانگو گے وہ میں تمھیں ضرور دوں گا اور اللہ کے ہاں آپ کو بڑا خاص مقام حاصل ہے، تو میں نے اس معاملہ میں غور کیا تو مجھے نظر آیا کہ دنیا ختم ہونے والی اور چلی جانے والی چیز ہے اور بقدرِ ضرورت مجھے رزق مل ہی رہا ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اللہ کے رسول ﷺ سے میں اپنی آخرت کے لیے ہی مانگوں۔ یہ سن کر حضورﷺ کافی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا، لیکن تم اس بارے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو گے۔1
مسلم کی روایت میں اس طرح سے ہے کہ حضرت ربیعہؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پاس رات گزارتا تھا اور وضو کا پانی اور ضرورت کی چیز آپ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے مانگو۔ میں نے عرض کیا: میںجنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہی یا کچھ اور مانگنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: بس یہی۔ آپ نے فرمایا: اچھا تو تم اس بارے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔2
حضرت عبد الجبار بن حارث بن مالک حدسی مَنَادی ؓ فرماتے ہیں: میں سَرَاۃ کے علاقہ سے وفد لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے عربوں کے طریقہ سے یوں سلام کیا کہ آپ کی صبح اچھی ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد(ﷺ) کو اور ان کی اُمت کو اس کے علاوہ اور سلام دیا ہے جو وہ ایک دوسرے کو کرتے ہیں۔ میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حضورﷺ نے فرمایا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ۔ پھر آپ نے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ میں نے کہا: جبار بن حارث۔ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، آج سے تم عبد الجبار بن حارث ہو۔ میں نے کہا: بہت اچھا، آج سے میرا نام عبد الجبار بن حارث ہے۔ چناںچہ میں اسلام میں داخل ہوگیا اور حضورﷺ سے بیعت ہوگیا۔ جب میں بیعت ہوگیا تو لوگوں نے حضورﷺکو بتایا کہ یہ مَنَادی تو اپنی قوم کا بہترین شہ سوار ہے۔ چناںچہ حضورﷺ نے مجھے ایک گھوڑا سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ پھر میں حضور ﷺ کے ہاں ٹھہر گیا اور آپ کے ساتھ جنگوں میں شریک ہو کر کافروں سے خوب لڑتا رہا۔ ایک مرتبہ حضورﷺ کو میرے اس گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز نہ آئی تو فرمایا: کیا بات ہے حَدَسی کے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز نہیں آرہی ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خبر ملی کہ آپ کو میرے گھوڑے کی آواز سے تکلیف ہوتی ہے اس لیے میں نے اسے خصی کر دیا۔ اس پر حضور ﷺ نے گھوڑوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا۔ مجھ سے لوگوں نے کہا: کیا ہی اچھا ہوتا کہ تم بھی حضورﷺ سے اپنے لیے کوئی خط لے لیتے جیسے تمہارے چچازاد بھائی حضرت تمیم داری ؓ نے حضورﷺ سے لیا تھا۔ میں نے کہا: انھوں نے حضورﷺ سے دنیا کی کوئی چیز مانگی ہے یا آخرت کی؟ لوگوں نے کہا: دنیا کی۔ میں نے کہا: دنیا تو میں چھوڑ کر آیا ہوں، میں تو حضور ﷺ سے یہ چاہتا ہوں کہ کل (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کے سامنے میری مدد فرمائیں۔1
حضرت عمرو بن تغلب ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور کچھ لوگوں کو نہ دیا، تو جن کو نہ دیا وہ حضورﷺ سے کچھ ناراض ہوگئے۔ تو حضورﷺ نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ اگر نہ دوں گا تو مجھے ڈر ہے کہ بے صبری کریں گے اور گھبرانے لگ جائیں گے، اور جن لوگوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے خیر اور استغنا کے جذبات رکھے ہیں ان کو اسی خیر اور استغنا کے حوالے کر دیتا ہوں، اور عمرو بن تغلب بھی ان ہی لوگوں میں سے ہے۔ حضرت عمرو کہتے ہیں: مجھے یہ بالکل پسند نہیں ہے کہ حضورﷺ کے اس فرمان کے بدلے مجھے سرخ اُونٹ مل جائیں۔2
حضرت عمرو بن حماد ؓکہتے ہیں کہ ایک صاحب نے ہمیں یہ قصہ سنایا کہ ایک مرتبہ حضرت علی اور حضرت عمر ؓ طواف کر کے باہر آئے تو ان لوگوں نے دیکھا کہ ایک دیہاتی آدمی اپنی والدہ کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہے اور یہ اشعار پڑھ رہا ہے:
أَنَا مَطِیَّتُھَا لَا أَنْفُرْ
وَإِذَا الرِّکَابُ ذَعِرَتْ لَا أَذْعَرْ
وَمَا حَمَلَتْنِي وَأَرْضَعَتْنِيْ أَکْثَرْ
میں اپنی ماں کی ایسی سواری ہوں جو بدکتی نہیں، اور جب سواریاں ڈرنے لگتی ہیں تو میں نہیں ڈرتا۔ اور میری ماں نے جو پیٹ میں مجھے اٹھایا اور جو مجھے دودھ پلایا وہ میری اس خدمت سے کہیں زیادہ ہے۔
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ حضرت علی نے فرمایا: اے ابو حفص! آؤ ہم بھی طواف کریں، کیوںکہ (اس دیہاتی کی اس اعلیٰ کیفیت کی وجہ سے) رحمت نازل ہو رہی ہے تو وہ ہمیں بھی مل جائے گی۔ پھر وہ دیہاتی مطاف میںداخل ہو کر طواف کرنے لگا اور یہ اشعارپڑھ رہا تھا:
أَنَا مَطِیَّتُھَا لَا أَنْفُرْْ
وَإِذَا الرِّکَابُ ذَعِرَتْ لَا أَذْعَرْ
وَمَا حَمَلَتْنِي وَأَرْضَعَتْنِيْ أَکْثَرْ
اور کہہ رہا تھا: لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ۔ حضرت علی ؓ یہ شعر پڑھنے لگے:
إِنْ تَبَرَّھَا فَاللّٰہُ أَشْکَرْ
یَجْزِیْکَ بِالْقَلِیْلِ الْأَکْثَرْ
اگر تم اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کررہے ہو تواللہ تعالیٰ بھی بہت زیادہ قدر دان ہیں وہ تمھیں اس تھوڑی خدمت کے بدلے میں بہت زیادہ دیں گے۔1
حضرت میمون بن مہران ؓ کہتے ہیں کہ نجدہ حروری (یہ خارجی تھا) کے ساتھی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے اُونٹوں کے پاس سے گزرے اور انھیں ہانک کر ساتھ لے گئے۔ ان اونٹوں کا چرواہا آیا اور اس نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ اپنے اونٹوں کے بارے میں ثواب کی نیت کرلیں۔ حضرت عبد اللہ نے پوچھا: اونٹوں کو کیا ہوا؟ اس چرواہے نے کہا: نجدہ (خارجی) کے ساتھی ان کے پاس سے گزرے تھے، وہ انھیں لے گئے۔ حضرت عبد اللہ نے پوچھا: یہ کیا بات ہے کہ وہ اونٹ تو لے گئے اور تمھیں چھوڑ گئے؟ اس نے کہا: وہ تو مجھے بھی اونٹوں کے ساتھ لے گئے تھے، لیکن میں ان سے کسی طرح چھوٹ کر آگیا۔ حضرت عبد اللہ نے پوچھا: تم انھیں چھوڑ کر میرے پاس کیوں آگئے؟ اس نے کہا: مجھے آپ سے محبت ان سے زیادہ ہے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: کیا تم اس اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہو جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم کو مجھ سے محبت ان سے زیادہ ہے؟ اس نے اللہ کی قسم کھا کر یہ بات کہہ دی۔ حضرت عبد اللہؓ نے کہا: ان اونٹوں کے بارے میں تو ثواب کی نیت میں نے کر ہی لی تھی، اب اونٹوں کے ساتھ تمہارے بارے میں بھی کرلیتا ہوں۔ چناںچہ انھوں نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد کسی نے آکر حضرت عبد اللہ کو کہا کہ آپ کو اپنی فلاں نام والی اونٹنی لینے کا کچھ خیال ہے؟ وہ بازار میں بک رہی ہے۔ اور اس نے اس اونٹنی کا نام بھی لیا۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: میری چادر مجھے دو۔ جب کندھے پر چادر رکھ کر کھڑے ہوگئے تو پھر بیٹھ گئے اور چادر نیچے رکھ دی اور فرمایا: میں نے اس اونٹنی کے بارے میں ثواب کی نیت کرلی تھی تو اب میں اس کو لینے کیوں جاؤں؟1
حضرت عمرو بن دینار ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے اس بات کا ارادہ فرمایا کہ وہ شادی نہیں کریں گے توان سے (ان کی بہن) حضرت حفصہ ؓ نے کہا: آپ شادی کریں، کیوںکہ اگر بچے پیدا ہو کر مر گئے تو آپ کو (صبر کرنے کی وجہ سے) ثواب ملے گا، اور اگر وہ بچے زندہ رہے تو وہ آپ کے لیے دعا کرتے رہیں گے۔2
حضرت عبد الرحمن بن ابزٰی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ دریائے فرات کے کنارے صفّین کی طرف چلے جا رہے تھے تو انھوں نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ تو مجھ سے اس بات سے زیادہ راضی ہوگا کہ میں اپنے آپ کو اس پہاڑ سے نیچے گرا دوں اور لڑھکتا ہوا نیچے چلا جاؤں (اور یوں خود کو ہلاک کر دوں) تو میں اس طرح کرنے کے لیے بالکل تیار ہوں۔ اور اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ تو مجھ سے اس بات سے زیادہ راضی ہوگا کہ میں بہت بڑی آگ جلا کر اس میں چھلانگ لگا دوں تو میں اس کے لیے بالکل تیار ہوں۔ اے اللہ! اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ تو مجھ سے اس بات سے زیادہ راضی ہوگا کہ میں پانی میں چھلانگ لگا کر ڈوب جاؤں تو میں اس کے لیے بالکل تیار ہوں۔ اور میں یہ جنگ صرف تیری وجہ سے لڑ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ جب میرا مقصد تجھ کو راضی کرنا ہی ہے تو تو مجھے نامراد و محروم نہیں کرے گا۔1
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں آج جتنا خیر کا کام کر رہا ہوں یہ مجھے حضورﷺ کے ساتھ اس سے دوگنا کام کرنے سے زیادہ محبوب ہے، کیوںکہ حضورﷺ کے ساتھ ہمیں آخرت کی ہی فکر ہوتی تھی دنیا کی فکر ہوتی ہی نہیں تھی اور آج تو دنیا ہماری طرف اُمڈی چلی آرہی ہے۔2