نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کا صبر

نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ کا موت پر صبر

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن سراقہ ؓ جنگِ بدر کے دن شہید ہوئے تھے اور یہ اس جماعت میں تھے جو لشکر کی دیکھ بھال کرنے والی تھی۔ انھیں اچانک ایک نامعلوم تیر لگا جس سے یہ شہید ہوگئے۔ ان کی والدہ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ! آپ مجھے بتائیں کہ حارثہ کہاں ہے؟ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی ورنہ اللہ تعالیٰ بھی دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں یعنی کتنا نوحہ کرتی ہوں۔ اس وقت تک نوحہ کرنا حرام نہیں ہوا تھا۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: تیرا بھلا ہو! کیا تم بے وقوف ہوگئی ہو (کہ ایک ہی جنت سمجھتی ہو؟) جنتیں تو آٹھ ہیں اور تمہارے بیٹے کو فردوسِ اعلیٰ جنت ملی ہے۔4 ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر حارثہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی اور اگر کہیں اور ہے تو میں اس کی وجہ سے رونے میں سارا زور لگاؤں گی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمّ حارثہ! وہاں تو کئی جنتیں ہیںاور تمہارا بیٹا فردوسِ اعلیٰ میں گیا ہے۔1 طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمّ حارثہ! وہاں ایک جنت نہیں ہے بلکہ بہت سی جنتیں ہیں اور وہ فردوسِ اعلیٰ جنت میں ہے۔ حضرت اُمّ حارثہ نے کہا: پھر تو میں صبر کروں گی۔ ابنِ نجار کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت اُمّ حارثہ ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میرا بیٹا جنت میں ہے تو میں نہ روؤں گی اور نہ غم کا اظہار کروں گی، اور اگر وہ جہنم میں ہے تو میں جب تک دنیا میں زندہ رہوں گی روتی رہوں گی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمّ حارثہ! وہاں ایک جنت نہیں ہے بلکہ کئی جنتیں ہیںاور (تمہارا بیٹا) حارث (پیار کی وجہ سے حارثہ کی جگہ حارث فرمایا) تو فردوسِ اعلیٰ میں ہے۔ اس پر وہ ہنستی ہوئی واپس گئیں اور کہہ رہی تھیں: واہ واہ! اے حارث! تیرے کیا کہنے۔2 حضرت محمد بن ثابت بن قیس بن شماسؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو قریظہ کی لڑائی میں انصار کے ایک صاحب شہید ہوگئے جنھیں خلّاد کہا جاتا تھا۔ کسی نے آکر ان کی والدہ سے کہا: اے اُمّ خلّاد! خلّاد شہید ہوگئے۔ تو وہ نقاب پہنے ہوئے باہر آئیں۔ کسی نے کہا: تمہارا بیٹا خلّاد شہیدہوگیا ہے اور تم نے نقاب پہنا ہوا ہے (تمھیں اظہارِ غم کے لیے نقاب اتار دینا چاہیے)۔ انھوں نے کہا: اگر میرا بیٹا خلاد چلا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میں شرم وحیا کو بھی ہاتھ سے جانے دوں۔ حضور ﷺکو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا: غور سے سنو! خلّاد کو دو شہیدوں کا اجر ملا ہے۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہوا؟ حضورﷺ نے فرمایا: اس لیے کہ اہلِ کتاب نے اسے قتل کیا ہے۔3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ (ان کی والدہ) حضرت اُمّ سُلَیم ؓ (اپنے خاوند) ابو انس کے پاس آئیں اور کہا: آج میں ایسی خبر لائی ہوں جو تمھیں پسند نہیں آئے گی۔ ابو انس نے کہا: تم اس دیہاتی کے پاس سے ہمیشہ ایسی خبریں لاتی ہو جو مجھے پسند نہیں آتیں۔ حضرت اُمّ سُلیم نے کہا: تھے تو وہ دیہاتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں چن لیا اور انھیں پسند کر کے نبی بنایا ہے۔ ابو انس نے کہا: اچھا! کیا خبر لائی ہو؟ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: شراب حرام کر دی گئی۔ ابو انس نے کہا: آج سے میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہوگئی (یعنی میں نے تمھیں طلاق دے دی)۔ اور ابو انس حالتِ شرک میں ہی مرا۔ اور حضرت ابو طلحہ ؓ (جو اس وقت تک کافر تھے) حضرت اُمّ سُلَیم کے پاس (شادی کرنے کے ارادہ سے) آئے تو حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: جب تک تم مشرک رہو گے میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔ حضرت ابو طلحہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جو تم کہہ رہی ہو وہ تم چاہتی نہیں ہو۔ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: میں کیا چاہتی ہوں؟ حضرت ابو طلحہ نے کہا: تم سونا اور چاندی لینا چاہتی ہو (مشرک ہونے کا بہانہ تو تم ویسے ہی کر رہی ہو)۔ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا کہ میں تمھیں اور اللہ کے نبی ﷺ کو اس بات پر گواہ بناتی ہوں کہ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو میں تم سے اسلام پر راضی ہو جاؤں گی ( اور مہر کا مطالبہ نہ کروں گی یہ اسلام ہی مہر ہوگا)۔ حضرت ابو طلحہ نے کہا: میرا یہ کام کون کرے گا؟ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: اے انس! اٹھو اور اپنے چچا کے ساتھ جاؤ۔ چناںچہ (میں اٹھا اور) حضرت ابو طلحہ بھی اٹھے اور انھوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، پھر ہم دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ جب ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے قریب پہنچے تو حضورﷺ نے ہماری گفتگو سن لی تو حضورﷺ نے فرمایا: یہ ابو طلحہ ہیں۔ ان کی پیشانی پر اسلام کی رونق ہے۔ چناںچہ حضرت ابو طلحہ نے جا کر حضورﷺ کو سلام کیا اور کلمۂ شہادت أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھا۔ حضورﷺ نے اسلام پر ہی ان کی شادی حضرت اُمّ سُلَیم سے کر دی۔ حضرت اُمّ سُلَیم سے ان کا بیٹا پیدا ہوا۔ جب وہ چلنے لگا اور والد کو اس سے بہت پیار ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کرلی۔ پھر حضرت ابو طلحہ جب گھر آئے تو انھوں نے پوچھا: اے اُمّ سُلَیم! میرے بیٹے کا کیا ہوا؟ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: پہلے سے بہتر ہے۔ (یہ غلط نہیں کہا، اس لیے کہ مؤمن کی حالت مرنے کے بعد دنیا سے بہتر ہو جاتی ہے) پھر حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: آج آپ نے دوپہر کے کھانے میں دیر کر دی تو کیا آپ دوپہر کا کھانا کھائیں گے؟ فرماتی ہیں: پھر میں نے کھانا ان کے سامنے رکھا اور میں نے ان سے کہا: کچھ لوگوں نے ایک آدمی سے کوئی چیز بطورِ عاریت لی، پھر وہ عاریت ان کے پاس کچھ عرصہ رہی اور عاریت کے مالک نے آدمی بھیج کر اس عاریت کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور اپنی عاریت واپس لے لی، تو کیا ان لوگوں کو اس پر پریشان ہونا چاہیے؟ حضرت ابو طلحہ نے کہا: نہیں۔ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: تو پھر آپ کا بیٹا اس دنیا سے چلا گیا ہے (آپ کو اللہ نے دیا تھا اور اب اسے واپس لے لیا ہے)۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا: اس وقت وہ کہاں ہے؟ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: وہ اندر کوٹھڑی میں ہے۔ چناںچہ حضرت ابو طلحہ نے اندر جا کر اس بچے کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور إِنَّا لِلّٰہِ پڑھی اور جا کر حضورﷺ کو حضرت اُمّ سُلَیم کی ساری بات بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے! اُمّ سُلَیم نے چوںکہ اپنے اس بیٹے کے مرنے پر صبر کیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں ایک اور لڑکے کا حمل شروع کر دیا ہے۔ چناںچہ جب حضرت اُمّ سُلَیم کے ہاں وہ لڑکا پیدا ہوا تو حضورﷺ نے فرمایا: اے انس! اپنی والدہ سے جا کر کہو کہ جب تم اپنے بیٹے کی ناف کاٹ لو تو اسے کچھ چکھانے سے پہلے میرے پاس بھیج دو۔ چناںچہ حضرت اُمّ سُلَیم نے وہ بچہ میرے بازوؤں پر رکھ دیا اور میں نے آکر حضورﷺ کے سامنے اس بچے کو رکھ دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس تین عجوہ کھجوریں لاؤ۔ چناںچہ میں تین کھجوریں لایا۔ حضورﷺ نے ان کی گٹھلیاں نکال کر پھینک دیں اور پھر انھیں اپنے منہ میں ڈال کر چبایا اور پھر اس بچے کا منہ کھول کر اس میں ڈال دیں۔ بچہ انھیں زبان سے چوسنے لگا۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ انصاری ہے اس لیے اسے کھجور پسند ہے۔ پھر فرمایا: جاکر اپنی والدہ سے کہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس بیٹے میں برکت عطا فرمائے، اور اسے نیک اور متقی بنائے۔1 بزّار کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت اُمّ سُلَیمؓ نے شادی کے پیام کے جواب میں کہا: کیا میں آپ سے شادی کرلوں حالاںکہ آپ ایسی لکڑی کی عبادت کرتے ہیں جسے میرا فلاں غلام گھسیٹے پھرتا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ ؓ کا ایک بیٹا بیمار تھا۔ حضرت ابو طلحہ گھر سے باہر گئے تو پیچھے اس کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابو طلحہ نے واپس آکر پوچھا کہ میرے بیٹے کا کیا ہوا؟ حضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: پہلے سے زیادہ سکون میں ہے۔ پھر حضرت اُمّ سُلَیم نے ان کے سامنے رات کا کھانا رکھا، حضرت ابو طلحہ نے کھانا کھایا اور بعد میں ان سے صحبت بھی کی۔ جب وہ فارغ ہوگئے توحضرت اُمّ سُلَیم نے کہا: بچے کو دفن کر دو۔ صبح کو آکر حضرت ابو طلحہ نے ساری بات حضورﷺ کو بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے آج رات صحبت کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان دونوں (کی صحبت) میں برکت عطا فرما۔ چناںچہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ حضرت ابو طلحہ نے مجھ سے فرمایا: اسے حفاظت سے حضورﷺ کی خدمت میں لے جاؤ۔ حضرت اُمّ سُلَیم نے بچے کے ساتھ مجھے کھجوریں بھی دیں۔ میں اس بچے کو لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضورﷺ نے بچے کو لیا اور فرمایا: کیا اس بچے کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں! کھجوریں ہیں۔ حضورﷺ نے وہ کھجوریں لے کر انھیں چبایا اور انھیں اپنے منہ سے نکال کر اس بچے کے منہ میں تالو پر لگادیا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔1 بخاری کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کی اس رات میں برکت عطا فرمائیں گے۔ چناںچہ حضرت سفیان کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے کہا: میں نے اس بچے کے نو بیٹے دیکھے جو سب قرآن پڑھے ہوئے تھے۔2 حضرت قاسم بن محمد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ کے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓ کو غزوۂ طائف میں ایک تیر لگا تھا (جس کا زخم ایک دفعہ تو بھر گیا تھا، لیکن) حضورﷺ کے انتقال کے چالیس دن بعد وہ زخم پھر پھٹ گیا اور اس میں ان کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابو بکر، حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور فرمایا: اے بِٹیا! اللہ کی قسم! مجھے تو ایسے معلوم ہورہا ہے کہ جیسے کسی بکری کا کان پکڑ کر اسے ہمارے گھرسے باہر نکال دیا گیا ہو۔ حضرت عائشہ نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے آپ کے دل کو مضبوط کر دیا اور اس موقع کی ہدایت پر آپ کو پکا کر دیا (یعنی اس موقع پر صبر و ہمت سے کام لینے کی توفیق عطا فرما دی)۔ پھر حضرت ابوبکر باہر آگئے، پھر اندر آئے اور فرمایا: اے بِٹیا! کیا تمھیں اس بات کا ڈر ہے کہ تم نے عبد اللہ کو زندہ ہی دفن کر دیا ہو؟ حضرت عائشہ نے کہا: اے ابا جان! إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ حضرت ابو بکر نے کہا: میں شیطان مردود سے اس اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اے بِٹیا! ہر آدمی کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں: ایک اچھے جو فرشتے کی طرف سے آتے ہیں، ایک برے جو شیطان کی طرف سے آتے ہیں۔ پھر قبیلہ ثقیف کا وفد (طائف سے) حضرت ابو بکر کے پاس آیا تو وہ تیر جو حضرت ابو بکر کے بیٹے عبد اللہ کو لگا تھا وہ ان کے پاس تھا۔ حضرت ابو بکر نے وہ تیر نکال کر انھیں دکھایا اور پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے؟ تو قبیلہ بنو عجلان کے حضرت سعد بن عبیدؓ نے کہا: اس تیر کو میں نے تراشا تھا اور میں نے اس کا پر لگایا تھا اور اس کا پٹھا لگایا تھا اور میں نے ہی یہ تیر مارا تھا۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: (میرا بیٹا) عبد اللہ بن ابی بکر اسی سے شہید ہوا ہے، لہٰذا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے تمہارے ہاتھوں سے شہادت سے نوازا اور تمھیں اس کے ہاتھ سے (قتل کروا کر) ذلیل نہیں کیا (ورنہ تم دوزخ میں جاتے)۔ بے شک اللہ تعالیٰ وسیع حمایت و حفاظت والے ہیں۔1 بیہقی کی روایت میں یہ ہے کہ اللہ نے تمھیں اس کے ہاتھ سے ذلیل نہیں کیا، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کے لیے (فائدہ میں) وسعت پیدا فرما دی۔2 حضرت عمرو بن سعیدؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی حضرت عثمانؓ کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو حضرت عثمان اسے منگواتے۔ اسے کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹ کر لایا جاتا، پھر وہ اسے ناک لگا کر سونگھتے۔ کسی نے پوچھا: آپ اس طرح کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: میں اس لیے کرتا ہوں تاکہ میرے دل میں اس کی کچھ محبت پیدا ہو جائے اور پھر اگر اسے کچھ ہو (یعنی بیمار ہو جائے یا مر جائے) تو (اس محبت کی وجہ سے) دل کو رنج و صدمہ ہو اور پھر صبر کیا جائے اور اس کی جنت ملے (جب بچہ سے محبت نہیں ہوگی تو اس کی بیماری یا موت سے صدمہ بھی نہیں ہوگا اور صبرکرنے کی ضرورت نہیں ہوگی)۔1 حضرت ابوذرؓ سے کسی نے پوچھا: کیا بات ہے آپ کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا؟ فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو میرے بچوں کو اس فانی گھر سے لے رہا ہے اور ہمیشہ رہنے والے گھر یعنی جنت میں جمع کر رہا ہے۔2 حضرت عمر بن عبد الرحمن بن زید بن خطّاب ؓکہتے ہیں کہ جب بھی حضرت عمر ؓ کو کوئی رنج وصدمہ پہنچتا تو (اپنے کو تسلی دینے کے لیے) فرماتے کہ مجھے (میرے بھائی) حضرت زید بن خطّاب ؓ (کی شہادت) کا زبردست صدمہ پہنچا تھا، لیکن میں نے اس پر صبر کر لیا تھا (تو یہ تو اس سے چھوٹا ہے اس پر تو صبر کرنا ہی چاہیے)۔ حضرت عمر نے اپنے بھائی حضرت زید کے قاتل کو دیکھا تو فرمایا: تیرا بھلا ہو! تم نے میرے ایسے بھائی کو قتل کیا ہے کہ جب بھی پُروا ہوا چلتی ہے تو مجھے وہ بھائی یاد آجاتا ہے (یعنی مجھے اس سے بہت زیادہ محبت ہے)۔3 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حمزہ ؓ شہید ہوگئے تو (ان کی ہمشیرہ) حضرت صفیہؓ انھیں تلاش کرتی ہوئی آئیں۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ حضرت حمزہ کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ راستہ میں حضرت علی اور حضرت زبیر ؓ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا: تم اپنی والدہ کو بتا دو (کہ حضرت حمزہ شہید ہوگئے ہیں)۔ حضرت زبیر نے حضرت علی سے کہا:نہیں، بلکہ آپ اپنی پھوپھی کو بتائیں۔ حضرت صفیہ نے ان دونوں سے پوچھا کہ حضرت حمزہ کا کیا ہوا؟ ان دونوں نے ایسے ظاہر کیا جیسے کہ انھیں معلوم نہیں ہے۔ وہ چلتے چلتے حضورﷺ تک پہنچ گئیں۔ حضورﷺ نے انھیںدیکھ کر فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ صدمہ کی شدت سے ان کے دماغ پر اثر نہ پڑ جائے اس لیے آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دعا فرمائی (اور پھر انھیں بتایا جس پر) حضرت صفیہ نے إِنَّا لِلّٰہِ پڑھی اور رونے لگیں۔ پھر حضورﷺ تشریف لے گئے اور حضرت حمزہ کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے۔ ان کے ناک، کان اور دیگر اَعضا کٹے ہوئے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: اگر (رشتہ دار)عورتوں کی پریشانی کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں (دفن نہ کرتا، بلکہ) یہیں چھوڑ دیتا تاکہ کل قیامت کے دن ان کا حشر پرندوں کی پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے ہوتا۔ پھر آپ کے فرمانے پر شُہَدا کے جنازوں کو لایا گیا اور آپ ان کی نمازِ جنازہ پڑھنے لگے۔ اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت حمزہ کے ساتھ نو اور جنازے رکھے جاتے، آپ سات تکبیروں کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ پڑھتے، پھر نو جنازے تو اٹھالیے جاتے لیکن حضرت حمزہ کا جنازہ وہاں ہی رہنے دیا جاتا۔ پھر نو اور جنازے لائے جاتے آپ سات تکبیروں کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ پڑھتے۔ یوں ہی سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ آپ ان کی نمازِ جنازہ سے فارغ ہوئے۔1 حضرت زبیر بن عوّام ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ اُحد کے دن ایک عورت سامنے سے تیز چلتی ہوئی نظر آئی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ مقتول شُہَدا کو دیکھنا چاہتی ہے۔ حضورﷺ نے اسے پسند نہ فرمایا کہ یہ عورت انھیں دیکھے، اس لیے حضورﷺ نے فرمایا: عورت! عورت! یعنی اسے روکو۔ مجھے دیکھنے سے اندازہ ہوگیا کہ یہ میری والدہ حضرت صفیہ ؓ ہیں۔ چناںچہ میں دوڑ کر ان کی طرف گیا اور ان کے شُہَدا تک پہنچنے سے پہلے میں ان تک پہنچ گیا۔ انھوں نے میرے سینے پر زور سے ہاتھ مارا وہ بڑی طاقت ور تھیں۔ اور انھوں نے کہا: پرے ہٹ! زمین تیری نہیں ہے۔ میں نے کہا: حضورﷺ نے بڑی تاکید سے آپ کو اِدھر جانے سے روکا ہے۔ یہ سن کر وہ وہیں رک گئیں۔ اور ان کے پاس دو چادریں تھیں انھیں نکال کر فرمایا: یہ دو چادریں میں اپنے بھائی حمزہ کے لیے لائی ہوں، مجھے ان کے شہید ہونے کی خبر مل چکی ہے، لہٰذا ان کو ان میں کفن دے دو۔ چناںچہ ہم لوگ وہ چادریں لے کر کفنانے کے لیے حضرت حمزہ کے پاس گئے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ ایک انصاری شہید بھی پڑے ہوئے ہیں جن کے ساتھ کافروں نے وہی سلوک کیا ہوا ہے جو انھوں نے حضرت حمزہ کے ساتھ کیا تھا۔ تو ہمیں اس میں بڑی ذلت اور شرم محسوس ہوئی کہ حضرت حمزہ کو دو چادروں میں کفن دیا جائے اور انصاری کے پاس ایک بھی چادر نہ ہو۔ چناںچہ ہم نے کہا: ایک چادر حضرت حمزہ کی اور دوسری انصاری کی۔ دونوں چادروں کو ناپا تو ایک بڑی تھی اور ایک چھوٹی۔ چناںچہ ہم نے دونوں حضرات کے لیے قرعہ اندازی کی اور جس کے حصہ میں جو چادر آئی اسے اس میں کفنا دیا۔1 حضرت زُہری، حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ، حضرت محمد بن یحییٰ اور دیگر حضرات ؒ حضرت حمزہ ؓکی شہادت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ حضرت صفیّہ بنتِ عبد المطّلب ؓ اپنے بھائی کو دیکھنے آئیں تو انھیں راستہ میں (ان کے بیٹے) حضرت زبیرؓ ملے۔ انھوں نے کہا: اے اماں جان! حضورﷺ فرما رہے ہیں کہ آپ واپس چلی جائیں۔ انھوں نے کہا: کیوں؟ مجھے یہ خبر مل چکی ہے کہ میرے بھائی کے ناک، کان اعضا کاٹے گئے ہیں اور ان کے ساتھ یہ سب کچھ اللہ کی وجہ سے کیا گیا ہے، اور جو کچھ ہوا ہے ہم اس پر بالکل راضی ہیں۔ اِن شاء اللہ میں ہر طرح صبر کروں گی اور اللہ سے ثواب کی امید رکھوں گی۔ حضرت زبیر نے جاکر حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اچھا! انھیں جانے دو، نہ روکو۔ چناںچہ وہ حضرت حمزہ کے پاس گئیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ پھر حضورﷺ کے فرمانے پر حضرت حمزہ کو دفن کیا گیا۔2 حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں: ایک دن (میرے خاوند) حضرت ابو سلمہ ؓ حضور ﷺ کے پاس سے میرے ہاں آئے اور انھوں نے کہا: میں نے حضورﷺ سے ایک بات سنی ہے جس سے مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: جب کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ اس پر إِنَّا لِلّٰہ ِ پڑھے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ آجِرْنِيْ فِيْ مُصِیْبَتِيْ وَأَخْلِفْ لِيْ خَیْرًا مِّنْھَا۔ اے اللہ! مجھے اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور جو چیز چلی گئی ہے اس سے بہتر مجھے عطا فرما۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر صورت عطا فرماتے ہیں۔ حضرت اُمّ سلمہ کہتی ہیں: میں نے ان کی اس بات کو یاد رکھا۔ چناںچہ جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے إِنَّا لِلّٰہِ پڑھی اور یہ دعا پڑھی۔ دعا تو میں نے پڑھ لی لیکن دل میں یہ خیال آتا رہا کہ ابو سلمہ سے بہتر مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت ختم ہوگئی تو حضورﷺ نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میں کھال رنگ رہی تھی۔ میں نے کیکر کے پتوں والے ہاتھ دھوئے (کھال کے رنگنے میں کیکر کے پتے استعمال ہوتے تھے) پھر میں نے آپ کو اجازت دی۔ اور میں نے آپ کے لیے چمڑے کا گدّا رکھا جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ اس پر بیٹھ گئے اور مجھے اپنے ساتھ شادی کرنے کا پیغام دیا۔ جب آپ بات پوری فرما چکے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مجھے آپ سے شادی کرنے کی رغبت نہ ہو، لیکن ایک بات یہ ہے کہ میری طبیعت میں غیرت بہت ہے، تو مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس غیرت کی وجہ سے آپ میری طرف سے کوئی ایسی بات دیکھیں جس پر اللہ تعالیٰ مجھے عذاب دے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میری عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ میں بال بچوں والی عورت ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے جو غیرت کا ذکر کیا ہے اسے اللہ تعالیٰ دور فرما دیں گے۔ اور تم نے عمر زیادہ ہونے کا جو ذکر کیا ہے تو تمہاری طرح میری عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اور تم نے بچوں کا ذکر کیا ہے تو تمہارے بچے میرے بچے ہیں۔ اس پر میں نے حضور ﷺ کی بات کو تسلیم کرلیا اور پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابو سَلَمہ سے بہتر خاوند عطا فرما دیا یعنی رسول اللہﷺ ۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو ذُو الحُلَیفہ پر ہمارا استقبال ہوا اور انصاری لڑکے اپنے گھر والوں کا استقبال کر رہے تھے، تو لوگ حضرت اُسید بن حُضَیر ؓ سے ملے اور انھیں بتایا کہ ان کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہ سن کر وہ اپنے منہ پر کپڑا ڈال کر رونے لگے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے! آپ حضورﷺ کے صحابی ہیں، آپ کو اسلام میں سبقت حاصل ہے اور آپ پرانے مسلمان ہیں۔ آپ کو کیا ہوا کہ آپ ایک عورت کی وجہ سے رو رہے ہیں؟ اس پر انھوں نے سر سے کپڑا ہٹایا اور کہا: آپ سچ فرماتی ہیں۔ میری زندگی کی قسم! حضرت سعد بن معاذؓ کے انتقال کے بعد مجھے کسی پر رونے کا حق نہیں پہنچتا، کیوںکہ حضورﷺ نے ان کے بارے میںبڑی فضیلت والی بات فرمائی تھی۔ میں نے پوچھا: حضورﷺ نے ان کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انھوں نے کہا: حضور ﷺ نے فرمایا تھا: سعد بن معاذ کے مرنے پر عرش بھی ہل گیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: اس وقت حضرت اُسید میرے اور حضورﷺ کے درمیان چل رہے تھے۔1 حضرت عون ؓکہتے ہیں: جب حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو ان کے بھائی حضرت عتبہ ؓ کے انتقال کی خبر ملی تو وہ رونے لگے۔ کسی نے ان سے کہا: کیا آپ رو رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: وہ نسب میں میرے بھائی تھے اور ہم دونوں حضورﷺ کے ساتھ اکٹھے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں ان سے پہلے مرتا، بلکہ ان کا پہلے انتقال ہو اور میں صبر کروں اور اللہ سے ثواب کی اُمید رکھوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں پہلے مروں اور میرے بھائی صبر کر کے اللہ سے ثواب کی امید رکھیں۔2 حضرت خَیْثمہؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہؓکو ان کے بھائی حضرت عتبہ ؓ کے انتقال کی خبر ملی تو ان کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا: یہ (رونا) رحمت اور شفقت کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ دلوں میں ڈالتے ہیں، ابنِ آدم کا ان (آنسوؤں) پر کوئی اختیار نہیں ہے۔3 حضرت عبد اللہ بن ابی سَلِیطؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو احمد بن جحش ؓ (اپنی ہمشیرہ) حضرت زینب بنت جحشؓ کے جنازے کو اٹھائے ہوئے جا رہے ہیں حالاںکہ وہ نابینا تھے اور وہ رو رہے تھے۔ پھر میں نے سنا کہ حضرت عمر ؓ فرما رہے ہیں: اے ابو احمد! جنازے سے ایک طرف ہو جاؤ لوگوں کی وجہ سے تمھیں تکلیف ہوگی۔ ان کے جنازے کو اُٹھانے کے لیے لوگوں کا بڑا ہجوم تھا۔ حضرت ابو احمد نے کہا: اے عمر! ہمیں اسی بہن کی وجہ سے ہر خیر ملی ہے اور ان کے جانے پر جو رنج و صدمہ مجھے ہے وہ جنازہ اٹھانے سے کم ہو رہا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اچھا! پھر تو تم چمٹے رہو، چمٹے رہو۔1 حضرت اَحنف بن قیس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطّاب ؓکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قریش لوگوں کے سردار ہیں، ان میں سے جو بھی کسی دروازے میں داخل ہوگا اس کے ساتھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت بھی ضرور داخل ہوگی۔ مجھے ان کی اس بات کا مطلب سمجھ میں نہ آیا یہاں تک کہ انھیں نیزے سے زخمی کیا گیا۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حضرت صُہَیبؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو تین دن نماز پڑھائیں، اور انھوں نے اس بات کا بھی حکم دیا کہ نئے خلیفہ کے مقرر ہونے تک لوگوں کو کھانا پکا کر کھلایا جائے۔ جب لوگ حضرت عمر کے جنازے سے واپس آئے تو دسترخوان بچھائے گئے اور کھانا لا کر رکھا گیا، لیکن رنج و غم کی زیادتی کی وجہ سے لوگ کھانا نہیں کھا رہے تھے۔ توحضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ نے فرمایا: اے لوگو! حضورﷺ کا انتقال ہوا ہم نے اس کے بعد کھایا اور پیا، پھر حضرت ابو بکر ؓ کا انتقال ہوا تو ہم نے ان کے بعد کھایا اور پیا۔ اس لیے کھاناکھانا ضروری ہے، لہٰذا آپ سب یہ کھانا کھائیں۔ پھر حضرت عباسؓ نے ہاتھ بڑھا کر کھانا شروع کر دیا تو تمام لوگوں نے ہاتھ بڑھایا اور کھانا شروع کر دیا۔ تو اس وقت مجھے حضرت عمرؓ کی بات سمجھ آئی کہ قریش لوگوں کے سردار ہیں۔2 حضرت ابو عیینہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ جب کسی آدمی کو کسی مصیبت پر تسلی دیا کرتے تو فرمایا کرتے: آدمی اگر صبر اور حوصلہ سے کام لے تو کوئی مصیبت نہیں ہے، اور گھبرانے اور پریشان ہونے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ موت سے پہلے کا معاملہ بہت آسان ہے اور اس کے بعد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ حضورﷺ کی وفات کے صدمہ کو یاد کر لیا کرو اس سے تمہاری ہر مصیبت ہلکی ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ تمھیں اجرِ عظیم عطا فرمائے۔1 حضرت سفیان ؓکہتے ہیں: حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے حضرت اَشْعَث بن قیس ؓ کو ان کے بیٹے کی وفات پر تسلی دی تو فرمایا: اگر (بیٹے کے جانے پر) آپ کو رنج وصدمہ ہے تو یہ رشتہ داری کا تقاضا ہے۔ اب اگر آپ صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے بیٹے کا بدل عطا فرمائیں گے۔ اگر صبر کرو گے تو بھی تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہے گا لیکن آپ کو اجر وثواب ملے گا، اور اگر گلہ شکوہ کرو گے تو بھی تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہے گا لیکن آپ کو گناہ ہوگا۔2