نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کا صبر
سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا صبر
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے (حضورﷺ کے صاحب زادے) حضرت ابراہیم ؓکو دیکھاکہ حضورﷺ کے سامنے ان پر نزاع کی کیفیت طاری تھی۔ یہ دیکھ کر حضورﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے اور دل غمگین ہو رہا ہے، لیکن ہم زبان سے وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اے ابراہیم! اللہ کی قسم! ہم تمہارے جانے کی وجہ سے غمگین ہیں۔3
حضرت مکحول ؓکہتے ہیں کہ حضورﷺ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ پر سہارا لیے ہوئے اندر تشریف لائے۔ اندر حضرت ابراہیمؓ پر نزع کی حالت طاری تھی۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو حضورﷺ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تو حضورﷺ کی خدمت میں حضرت عبد الرحمن نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سے تو آپ لوگوں کو روکتے ہیں، جب مسلمان آپ کو روتا ہوا دیکھیں گے تو وہ بھی رونے لگ جائیں گے۔ جب آپ کے آنسو رک گئے تو آپ نے فرمایا: یہ رونا تو رحم یعنی دل کی نرمی کی وجہ سے ہے، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ ہم تو لوگوں کو مردہ پر نوحہ کرنے سے روکتے ہیںاور اس بات سے روکتے ہیں کہ مردہ کی ان خوبیوں کا تذکرہ کیا جائے جو اس میں نہیں تھیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا سب کو اکھٹا کر دینے کا وعدہ اور موت کا چالو راستہ نہ ہوتا اور ہم میں سے بعد میں جانے والوں کا پہلے جانے والوں سے جا ملنا نہ ہوتا تو ہمیں اس سے زیادہ غم ہوتا۔ اور ہم اس کے جانے پر غمگین ہیں، آنکھ سے آنسو بہہ رہے ہیں، دل غمگین ہے، لیکن ہم زبان سے ایسی بات نہیں کہیں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔ اور اس کی دودھ پینے کی باقی مدت جنت میں پوری کی جائے گی۔1
حضرت اُسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپ کی ایک صاحب زادی نے آپ کو بلانے کے لیے ایک آدمی یہ پیغام دے کر بھیجا کہ ان کے بیٹے کا انتقال ہونے والا ہے۔ حضورﷺ نے آنے والے قاصد سے فرمایا کہ واپس جا کر میری بیٹی کو بتا دو کہ اللہ نے جو چیز ہم سے لے لی وہ بھی اسی کی ہے، اور جو ہمیں دی ہے وہ بھی اسی کی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے۔ اور اسے کہہ دو کہ وہ صبر کرے اور اللہ سے ثواب کی اُمید رکھے۔ (وہ قاصد صاحب زادی کے پاس جواب لے کر گیا لیکن صاحب زادی نے اسے دوبارہ بھیج دیا) وہ قاصد دوبارہ آیا اور اس نے کہا کہ وہ آپ کو قسم دے کر کہہ رہی ہیں کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لے جائیں۔ اس پر حضور ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عُبَادہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت اُبیّ بن کعب اور حضرت زید بن ثابت ؓ اور چند صحابہ بھی کھڑے ہوئے۔ میں بھی ان حضرات کے ساتھ گیا۔ (جب وہاں پہنچے تو) اس بچے کو اُٹھا کر حضورﷺ کے پاس لایا گیا۔ بچے کا سانس اکھڑا ہوا تھا (ایسی آواز آرہی تھی) جیسے کہ وہ پرانے اور سوکھے مشکیزے میں ہو۔ حضور ﷺ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت سعد نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ رحم اور شفقت کا مادہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے (خاص) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ان ہی بندوں پر رحم فرماتے ہیں جو دوسروں پر رحم کرنے والے ہوں۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حمزہ بن عبد المطّلب ؓ شہید ہوگئے تو آپ ﷺ نے ایسا دردناک منظر دیکھا کہ اس سے زیادہ درد ناک منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ ان کے کان، ناک وغیرہ اعضاکاٹ دیے گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی رحمت تم پر ہو! جہاں تک مجھے معلوم ہے تم صلہ رحمی کرنے والے اور بہت زیادہ نیکیاں کرنے والے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے بعد والے رشتہ داروں کے رنج و غم کے زیادہ ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میری خوشی اس میں تھی کہ میں تمھیں یہاں ایسے ہی چھوڑ دیتا (اور دفن نہ کرتا اور تمھیں درندے کھا جاتے یوں تمہاری قربانی اور بڑھ جاتی) تاکہ اللہ تعالیٰ تمھیں درندوں کے پیٹوں میں سے جمع کر کے اٹھاتا۔ غور سے سنو! اللہ کی قسم! ان کافروں نے جیسے تمہارے ناک، کان اعضا کاٹے ہیں میں ان میں سے ستّر کافروں کے ناک، کان اعضا کاٹوں گا۔ اس پر حضرت جبرائیل ؑ یہ سورت لے کر نازل ہوئے:
{وَاِنْ عَاقَبْـتُمْ فَعَاقِـبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْـتُمْ بِہٖ}آیت کے آخر تک۔2
اور اگر بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا، اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت ہی اچھی بات ہے۔ اور آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر کرنا خدا ہی کی توفیق سے ہے، اور ان پر غم نہ کیجیے، اور جو کچھ یہ تدبیریں کیا کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوجیے۔
اس پر حضورﷺ نے اپنی اس قسم کو پورا نہ کیا بلکہ اس کا کفارہ ادا کیا۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ حضرت حمزہ ؓ (کی شہادت کے بعد اُن) پر کھڑے ہوئے تو آپ نے بہت زیادہ دل دُکھانے والی حالت دیکھی۔ اس پر آپ نے فرمایا: اگر اپنی رشتہ دار عورتوں کے رنج و غم بڑھ جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انھیں دفن نہ کرتا اور یہاں ایسے ہی چھوڑ دیتا تاکہ یہ درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کی پوٹوں میں چلے جاتے اور وہاں سے اللہ تعالیٰ انھیں میدانِ حشر میں اٹھاتے۔ ان کی دردناک حالت دیکھ کر حضورﷺ نے شدتِ غم میں فرمایا: اگر وہ کافر میرے قابو میں آگئے تو میں ان میں سے تیس آدمیوں کے ناک، کان اعضا کاٹوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖط وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ o} سے لے کر { یَمْکُرُوْنَ} تک۔1
(ترجمہ پہلے گزر چکا ہے) پھر آپ کے فرمانے پر حضرت حمزہ کو قبلہ رخ لٹایا گیا اور آپ نے نو تکبیریں کہہ کر ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (پھر ان کا جنازہ وہیں رہنے دیا) پھر آپ کے پاس شُہَدَا کو لایا گیا۔ جب بھی کوئی شہید لایا جاتا تو اسے حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھ دیا جاتا (چوںکہ شُہَدَا ۷۲ تھے اس وجہ سے) آپ نے حضرت حمزہ کی اور دیگر شُہَدَا کی بہتّر مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر آپ نے کھڑے ہوکر ان شُہَدَاکو دفن کیا۔ جب قرآن کی اوپر والی آیت نازل ہوئی تو آپ نے کافروں کو معاف کر دیا اور ان سے درگزر فرمالیا اور ان کے ناک، کان اعضا کاٹنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔2
حضرت اُسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ جب میرے والد شہید ہوئے تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اگلے دن میں پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: آج بھی تمھیں دیکھ کر مجھے وہی رنج وصدمہ ہو رہا ہے جو کل ہوا تھا۔3
حضرت خالد بن شُمیرؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت زید بن حارثہ ؓ شہید ہوگئے تو حضور ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں حضورﷺ کے سامنے حضرت زید کی بیٹی بلک بلک کر رونے لگی۔ اس پر آپ بھی رونے لگ گئے اور اتنا روئے کہ آپ کے رونے کی آواز آنے لگ گئی۔ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ ایک دوست کا اپنے محبوب دوست کے شوق میں رونا ہے۔1
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان بن مَظْعون ؓ کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے ان کا بوسہ لیا اس وقت آپ رو رہے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔2
ابنِ سعد کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے آنسو بہہ کر حضرت عثمان بن مظعونؓ کے رخسار پر گر رہے ہیں۔3