نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کا صبر
نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرام ؓ کا بیماریوں پر صبر
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: بخار نے حضورﷺ کی خدمت میں آنے کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بخار نے کہا: اُمّ مِلْدَم ہوں۔ (یہ بخار کی کنیت ہے) حضور ﷺ نے بخار کو حکم دیا کہ قبا والوں میں چلے جاؤ۔ (چناںچہ بخار ادھر چلا گیا) اور انھیں بخار ہونے لگا اور اللہ ہی جانتا ہے کہ انھیں کتنا بخار ہوا۔ انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بخار کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ اگر تم لوگ چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دوں اور اللہ تعالیٰ تمہارا بخار دور کر دے، اور اگر تم چاہو تو (تمہارا بخار باقی رہے اور) یہ بخارتمہارے لیے (گناہوں سے) پاکی کا ذریعہ بن جائے۔ ان قبا والوں نے عرض کیا: کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ تو انھوں نے عرض کیا: پھر تو بخارکو رہنے دیں۔3
حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ بخار نے حضورﷺ سے حاضری کی اجازت چاہی۔ حضورﷺ نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں بخار ہوں، گوشت کو کاٹتا ہوں اور خون چوس لیتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جاؤ قبا والوں کے پاس چلے جاؤ۔ چناںچہ بخار قبا چلا گیا (اور قبا والوں کے چہرے زرد ہوگئے) تو انھوں نے آکر حضورﷺ سے بخار کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں اور وہ تمہارا بخار دور کر دے۔ اور اگر تم چاہو تو بخار کو رہنے دو اور تم لوگوں کے باقی تمام گناہ معاف ہو جائیں۔ انھوں نے کہا: ضرور یا رسول اللہ! آپ بخار کو رہنے دیں۔1
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ بخارنے حضورﷺ کی خدمت میں آکر کہا: یا رسول اللہ! مجھے آپ اپنے ان صحابہ کے پاس بھیج دیں جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: انصار کے پاس چلے جاؤ۔ چناںچہ بخار ان کے پاس چلا گیا اور سب کو بخار آنے لگا جس کی وجہ سے وہ سب گر گئے۔ انصار نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے ہاں بخار آیا ہوا ہے، آپ ہمارے لیے صحت و شفا کی دعا فرما دیں۔ حضورﷺ نے دعا فرمائی تو بخار چلا گیا۔ ایک عورت حضورﷺ کے پیچھے آئی اور عرض کیا: یارسول اللہ! میرے لیے دعا فرما دیں میں بھی انصار میں سے ہوں اس لیے میرے لیے بھی وہی دعا فرما دیں جیسے آپ نے انصار کے لیے دعا فرمائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمھیں ان دو باتوں میں سے کون سی زیادہ پسند ہے: ایک یہ کہ میں تمہارے لیے دعا کر دوں اور تمہارا بخارچلا جائے، اور دوسری یہ کہ تم صبر کرو اور تمہارے لیے جنت واجب ہو جائے؟ اس نے تین دفعہ کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں صبر کروں گی۔ اور پھر کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کی جنت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک نوجوان حضورﷺ کی مجلس میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ وہ چند دن نہ آیا تو حضورﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے فلاں نظر نہیں آرہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیاکہ اسے بخار ہوگیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اٹھو، اس کی عیادت کے لیے چلیں۔ جب حضور ﷺ اس نوجوان کے گھرمیں اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگا۔ حضورﷺ نے اس سے فرمایا: مت رو، کیوںکہ حضرت جبرائیل ؑ نے مجھے خبر دی ہے کہ بخار میری اُمت کے لیے جہنم کے بدلے میں ہے۔1
حضرت ابو سفر ؓکہتے ہیںکہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر ؓ بیمار ہوئے تو کچھ لوگ ان کی عیادت کرنے آئے اور انھوں نے عرض کیا: اے خلیفۂ رسول اللہ! کیا ہم آپ کے لیے کسی طبیب کو نہ بلا لائیں جو آپ کو دیکھ لے؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: طبیب مجھے دیکھ چکا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ)۔ ان لوگوں نے پوچھا: پھر اس طبیب نے آپ کو کیا کہا ہے؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اس نے کہا ہے کہ میں جو چاہتا ہوں کر گزرتا ہوں۔2
حضرت معاویہ بن قرّہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء ؓ ایک مرتبہ بیمار ہوگئے تو ان کے پاس ان کے ساتھی آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو الدرداء! آپ کو کیا شکایت ہے؟ انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے گناہوں سے شکایت ہے۔ انھوں نے پوچھا: آپ کیا چاہتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: میں جنت چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا: کیا ہم آپ کے لیے کسی طبیب کو بلا نہ لائیں؟ انھوں نے فرمایا: طبیب نے ہی تو مجھے (بیمار کر کے بستر پر) لٹایا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ نے)۔3
حضرت عبد الرحمن بن غنم ؓکہتے ہیں: ملکِ شام میں طاعون کی وبا پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص ؓ نے فرمایا: یہ طاعون تو عذاب ہے، لہٰذا تم لوگ اس سے بھاگ کر وادیوں اور گھاٹیوں میں چلے جاؤ۔ یہ بات جب حضرت شُرَحْبِیْل بن حسنہؓ کو پہنچی تو انھیں غصہ آگیا اور فرمایا: حضرت عمرو بن عاص غلط کہتے ہیں۔ میں تو (شروع زمانہ میں مسلمان ہو کر) حضور ﷺ کی صحبت اختیار کر چکا تھا اور ان دنوں حضرت عمرو بن عاص تو اپنے گھر والوں کے اونٹ سے زیادہ گمراہ تھے (یعنی کافر تھے)۔ یہ طاعون تو تمہارے نبی کی دعا ہے (کیوںکہ حضور ﷺ نے دعا مانگی ہے کہ اے اللہ! میری اُمت کو نیزوں کے ذریعے بھی اپنے راستہ کی شہادت نصیب فرما اور طاعون کے ذریعہ بھی)۔ اور یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے (کہ طاعون سے جو مرے گا وہ اللہ کے ہاں شہید شمار ہوگا) اور تم سے پہلے جو نیک لوگ تھے یہ ان کی وفات کا ذریعہ ہے۔ یہ بات حضرت معاذ بن جبل ؓکو پہنچی تو انھوں نے فرمایا: اے اللہ! اس طاعون کی بیماری میں سے معاذ کی اولاد کو وافر حصہ نصیب فرما۔
چناںچہ ان کی دو بیٹیاں اسی بیماری میں انتقال کر گئیں اور ان کے بیٹے حضرت عبد الرحمن کو بھی طاعون ہوگیا تو حضرت عبد الرحمن نے کہا: یہ امر واقعی آپ کے رب کی طرف سے (بتلایا گیا) ہے، لہٰذا آپ شبہ کرنے والوں میں سے ہرگز نہ بنیں۔ تو حضرت معاذ نے فرمایا: تم مجھے اِن شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔ اور حضرت معاذ کو ہتھیلی کی پشت پر طاعون کا دانہ نکل آیا تو فرمانے لگے: یہ دانہ مجھے سرخ اُونٹوں سے زیادہ محبوب ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کے پاس بیٹھا ہوا ایک آدمی رو رہا ہے۔ فرمایا: تم کیوں رو رہے ہو؟ اس آدمی نے کہا: میں اس علم کی وجہ سے رو رہا ہوں جو میں آپ سے حاصل کیا کرتا تھا۔ فرمایا: مت رو، کیوںکہ حضرت ابراہیم ؑ ایسے علاقہ میں رہتے تھے جہاں کوئی عالم نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں علم عطا فرمایا، لہٰذا جب میں مر جاؤں تو ان چار آدمیوں سے علم حاصل کرنا: حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن سلام، حضرت سلمان اور حضرت ابو الدرداءؓ ۔1
ابو نعیم کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت مُعاذ، حضرت عبیدہ، حضرت شُرَحْبِیْل بن حسنہ اور حضرت ابو مالک اشعریؓ ایک ہی دن طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو حضرت معاذ نے کہا: یہ طاعون تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے (کہ اس پر شہادت کا درجہ ملتا ہے) اور تمہارے نبی کریم ﷺ کی دعا ہے اور تم سے پہلے کے نیک بندوں کی روح قبض کرنے کا ذریعہ ہے۔ اے اللہ! آلِ معاذ کو اس رحمت میں سے وافر حصہ عطا فرما۔ ابھی شام نہیں ہوئی تھی کہ ان کے بیٹے حضرت عبدالرحمن طاعون میں مبتلا ہوگئے، یہ ان کے سب سے پہلے بیٹے تھے اورا سی کے نام سے ان کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی اور حضرت معاذ کو اس سے محبت سب سے زیادہ تھی۔ حضرت معاذ مسجد میں آئے تو دیکھا کہ ان کا بیٹا عبد الرحمن بہت بے چین ہے۔ تو انھوں نے کہا: اے عبد الرحمن! تم کیسے ہو؟ عبد الرحمن نے جواب میں کہا: اے ابا جان! یہ امر واقعی آپ کے رب کی طرف سے ہے، آپ شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہوں۔ حضرت معاذ نے فرمایا: اور اِن شاء اللہ تم مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔ آخر اسی رات عبد الرحمن کا انتقال ہوگیا اور اگلے دن ان کو حضرت معاذ نے دفن کیا۔ پھر حضرت معاذ کو بھی طاعون کی بیماری ہوگئی اور نزاع کی ایسی سخت کیفیت ان کو ہوئی کہ کسی کو نہ ہوئی ہوگی۔ جب بھی موت کی سختی سے ان کو افاقہ ہوتا تو آنکھ کھول کر کہتے: اے میرے رب! تو میرا جتنا گلا گھوٹنا چاہتا ہے گھونٹ لے، تیری عزّت کی قسم! تو جانتا ہے کہ میرا دل تجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔1
حضرت شہر بن حَوشَبْ ؓ اپنی قوم کے ایک آدمی حضرت رابہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب طاعون کی وبا پھیلنے لگی تو حضرت ابو عبیدہ ؓ لوگوں میں بیان کرنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! یہ بیماری تو تمہارے رب کی رحمت ہے اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے کے نیک بندوں کی موت کا ذریعہ تھی۔ اور ابو عبیدہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابوعبیدہ کو اس بیماری میں سے اس کا حصہ عطا فرمائے۔ چناںچہ انھیں بھی طاعون کی بیماری ہوئی جس میں ان کا انتقال ہوگیا۔ پھر ان کے بعد حضرت معاذ بن جبل ؓ لوگوں کے امیر بنے تو انھوں نے بھی کھڑے ہو کر بیان کیا اور فرمایا: اے لوگو! یہ بیماری تمہارے رب کی رحمت ہے اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے کے نیک بندوں کی موت کا ذریعہ تھی۔ معاذ، اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ وہ معاذ کی اولاد کو اس بیماری میں سے ان کا حصہ عطا فرمائے۔ چناںچہ ان کے بیٹے عبد الرحمن کو طاعون کی بیماری ہوئی اور اس میں ان کا انتقال ہوگیا۔ پھر حضرت معاذ نے کھڑے ہو کر اپنے لیے بیمار ہونے کی دعا مانگی تو ان کی ہتھیلی میں طاعون کا دانہ نکل آیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت معاذ اسے دیکھ رہے تھے اور اپنی ہتھیلی کو پلٹ کر فرما رہے تھے: (اے ہتھیلی!) مجھے یہ بالکل پسند نہیں ہے کہ تجھ میں جو یہ طاعون کی بیماری ہے اس کے بدلے مجھے دنیا کی کوئی چیز مل جائے۔
جب حضرت معاذ کا انتقال ہوگیا تو حضرت عمرو بن عاص ؓکو لوگوں کا امیر بنایا گیا تو انھوں نے کھڑے ہو کر بیان کیا: اے لوگو! یہ بیماری جب کسی کو ہوتی ہے تو آگ کی طرح بھڑکتی ہے، لہٰذا تم لوگ پہاڑوں میں جا کر اس سے اپنی جان بچاؤ۔ اس پر حضرت واثِلَہ ہذلی ؓ نے فرمایا: آپ غلط کہہ رہے ہو۔ اللہ کی قسم! میں اس وقت حضورﷺ کی صحبت میں رہا ہوں جس وقت آپ میرے اس گدھے سے زیادہ گمراہ تھے(یعنی کافر تھے)۔ حضرت عمرو نے فرمایا: آپ جو کہہ رہے ہیں میں اس کا جواب تو نہیں دوں گا، لیکن اللہ کی قسم! اب ہم لوگ یہاں نہیں رہیں گے۔ چناںچہ حضرت عمرو بن عاص وہاں سے چلے گئے اور لوگ بھی چلے گئے اور اِدھر اُدھر بکھر گئے اور اللہ تعالیٰ نے طاعون کی بیماری ان سے دور فرما دی۔ جب حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو حضرت عمرو بن عاص کی اس رائے کی اطلاع ملی تو اللہ کی قسم! انھوں نے اسے ناپسند نہ فرمایا۔1
حضرت ابو قلابہ ؓکہتے ہیں کہ ملکِ شام میں طاعون کی بیماری پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص ؓ نے کہا: یہ ناپاک بیماری پھیل چکی ہے لہٰذا تم یہاں سے چلے جاؤ اور وادیوں اور گھاٹیوں میں اِدھر اُدھر بکھر جاؤ۔ حضرت معاذ ؓکو جب ان کی اس بات کا پتا چلا تو انھوں نے ان کی اس بات کی تصدیق نہ فرمائی بلکہ فرمایا: نہیں، یہ طاعون تو شہادت کا درجہ دلاتا ہے اور اس کی وجہ سے اللہ کی رحمت اُترتی ہے اور یہ تمہارے نبی کریم ﷺ کی دعا ہے۔ اے اللہ! معاذ کو اور اس کے گھر والوں کو اپنی اس رحمت میں سے حصہ عطا فرما۔
حضرت ابو قلابہ کہتے ہیں: یہ تو میں سمجھ گیا کہ طاعون سے شہادت کا درجہ ملتا ہے اور رحمت اترتی ہے، لیکن اس بات کا مطلب نہ سمجھ سکا کہ طاعون تمہارے نبی کی دعا ہے، یہاں تک کہ کسی نے مجھے بتایا کہ حضورﷺ ایک رات نماز پڑھ رہے تھے، پھر آپ نے یہ دعا تین مرتبہ مانگی: اے اللہ! پھر یا تو بخار ہو یا طاعون ہو۔ صبح کو حضورﷺ کے گھر والوں میں سے کسی نے حضور ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! آج رات میں نے آپ کو ایک خاص دعا مانگتے ہوئے سنا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اچھا! تم نے وہ دعا سن لی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ میری اُمت قحط سالی سے ہلاک نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمالی۔ اور میں نے یہ دعا مانگی کہ ان پر ایسا دشمن مسلط نہ ہو جو اُن کو جڑ سے اُکھیڑ دے اور بالکل ختم کر دے۔ اور یہ بھی دعا کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، ان کے مختلف گروہ نہ بنیں اور ان میں آپس میں لڑائی نہ ہو۔ لیکن یہ آخری دعا قبول نہ ہوئی اور اس کا مجھے انکار ہوگیا۔ اس پر میں نے تین مرتبہ عرض کیا کہ پھر میری اُمت کو بخار ہو یا طاعون۔1
حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ طاعونِ عمواس (ملکِ شام کی ایک جگہ کا نام ہے) سے حضرت ابو عبیدہ بن جرّاحؓ اور ان کے گھر والے بچے ہوئے تھے، تو انھوں نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! ابو عبیدہ کے گھر والوں کو (اس بیماری میں سے) حصہ نصیب فرما۔ چناںچہ حضرت ابو عبیدہ کی چھوٹی انگلی میں طاعون کی پھنسی نکل آئی تو وہ اسے دیکھنے لگے، کسی نے کہا کہ یہ تو (چھوٹی سی ہے) کچھ بھی نہیں ہے۔ تو فرمایا: مجھے اللہ کی ذات سے اُمید ہے کہ وہ اس پھنسی میں برکت نصیب فرمائیں گے اور جب اللہ تعالیٰ تھوڑی چیز میں برکت ڈالتے ہیں تو وہ زیادہ ہوجاتی ہے۔2
حضرت حارث بن عمیرہ حارثی ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ کو طاعون کی بیماری ہوئی تو حضرت معاذ بن جبلؓ نے حضرت حارث کو حال پوچھنے کے لیے حضرت ابو عبیدہ کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت ابو عبیدہ نے حضرت حارث کو طاعون کی پھنسی دکھائی جو اُن کی ہتھیلی میں نکلی ہوئی تھی۔ حضرت حارث نے جب یہ پھنسی دیکھی تو وہ ڈر گئے کیوںکہ انھیں یہ پھنسی بڑی معلوم ہوئی۔ اس پر حضرت ابو عبیدہ نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ مجھے یہ بالکل پسند نہیںکہ مجھے اس پھنسی کی جگہ سرخ اُونٹ مل جائیں۔3