نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق

نبی کریمﷺ کی بردباری

امام بخاری ؓ اپنی کتاب میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ حنین میں فتح پانے کے بعد حضورﷺ نے (تالیفِ قلب کی وجہ سے مال دینے میں) بہت سے (نئے) لوگوں کو ترجیح دی (اور پرانوں کو نہ دیا، نئے لوگوں کو وہ سارا مالِ غنیمت دے دیا)۔ چناںچہ حضرت اَقرع بن حابس ؓ کو سو اُونٹ دیے اور حضرت عیینہ بن حصنؓ کو بھی اتنے ہی دیے اور بھی کچھ لوگوں کو دیا۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: مالِ غنیمت کی اس تقسیم میں اللہ کی رضا مقصود نہیں رہی۔ میں نے کہا: میں یہ بات حضورﷺ کو ضرور بتاؤں گا۔ چناںچہ میں نے حضورﷺ کو بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ پر رحم فرمائے! انھیں تو اس سے زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انھوں نے صبر کیا تھا (چناںچہ میں بھی صبر کروںگا)۔ بخاری ؓ کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی نے کہا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا اور نہ اللہ کی رضا اس میں مقصود ہے۔ میں نے کہا: میں یہ بات حضورﷺ کو ضرور بتاؤں گا۔ چناںچہ میں نے جاکر حضورﷺ کو بتا دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جب اللہ اور اس کے رسول عد ل نہیں کریں گے تو پھر اور کون کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ ؑ پر رحم فرمائے! انھیں تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انھوں نے صبر کیا تھا۔ ’’بخاری‘‘ اور’’مسلم‘‘ میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضورﷺ کے پاس موجود تھے۔ آپ لوگوں میں کوئی چیز تقسیم فرما رہے تھے کہ اتنے میں بنوتمیم کا ایک آدمی ذُوالخُوَیْصَرہ آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے تقسیم فرمائیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تیراناس ہو! اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟ (اگر میں انصاف نہیں کروں گا) تو میں ناکا م وبرباد ہو جاؤں گا۔ جب میں انصاف نہیں کروں گا تو پھر اور کون کرے گا؟ حضرت عمر بن خطّابؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اُڑا دوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، اسے چھوڑ دو۔ اس کے ایسے ساتھی ہیں کہ ان کے نماز، روزے کے مقابلہ میں تم اپنے نماز روزہ کو کم سمجھو گے۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کی ہنسلی سے آگے (ان کے دل کی طرف) نہیں جائے گا (یا قرآن ہنسلی سے آگے بڑھ کر اوپر اللہ کی طرف نہیں جائے گا)۔ اور یہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو لگ کر اس سے پار ہو کر آگے چلا جاتا ہے۔ تیر کے پھل کو دیکھا جائے تو اس میں کو ئی چیز نظر نہیں آئے گی، پھر اس کی تانت کو دیکھا جائے (جس سے پھل کو لکڑی پر مضبوط کیا جاتا ہے) تو اس میں بھی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، پھر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی حالاںکہ یہ تیر اس شکار کی اوجھڑی اور خون میں سے گزر کر پار گیا ہے لیکن اس اوجھڑی اور خون کا اس میں کو ئی نشان نظر نہیں آئے گا۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک کالا آدمی ہوگا جس کے ایک بازو کا گوشت عورت کے پستان کی طرح یا گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہلتا ہوگا۔ یہ لوگ اس وقت ظاہر ہوں گے جب کہ لوگوں میں اختلاف اور انتشار کا زور ہوگا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث حضورﷺ سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان لوگوں سے حضرت علیؓ نے جنگ کی تھی میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ حضرت علی نے اس آدمی کو لانے کا حکم دیا لوگ اسے ڈھونڈ کر حضرت علی کے پاس لے آئے اور حضورﷺ نے اس کی جو نشانی بتائی تھی وہ میں نے اس میں پوری طرح سے دیکھی۔1 بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب (منافقوں کا سردار) عبد اللہ بن اُبیّ مر گیا تو اس کے صاحب زادے (حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن اُبیّ ؓ) نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے اپنی قمیص دے دیں میںاس میں اپنے باپ کو کفناؤں گا، اور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں اور اس کے لیے استغفار فرمائیں۔ چناںچہ حضورﷺ نے انھیں اپنی قمیص دے دی اور فرمایا: جب جنازہ تیار ہوجائے تو مجھے خبر کر دینا میں اس کی نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔ جب حضورﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمر نے آپ کو پیچھے کھینچ کر کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقوں کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے (استغفار کرنے اور نہ کرنے) دونوں باتوں کااختیار دیا ہے، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ}1 آپ خواہ ان (منافقین) کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔ چناںچہ حضورﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا}2 اور ان میں کوئی مر جائے تو اس کے (جنازہ) پر کبھی نماز نہ پڑہیے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: جب عبد اللہ بن اُبیّ مر گیا تو حضورﷺ کو اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا گیا۔ چناںچہ حضورﷺ تشریف لے گئے۔ جب آپ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوگئے تو میں گھوم کر آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ اللہ کے دشمن عبد اللہ بن اُبیّ کی نمازِ جنازہ پڑھانے لگے ہیں جس نے فلاں فلاں دن یہ اور یہ کہا تھا اور میں اس کے دن گنوانے لگا۔ حضورﷺ مسکراتے رہے۔ جب میں بہت کچھ کہہ چکا تو آپ نے فرمایا: اے عمر! پیچھے ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے منافقوں کے لیے (استغفار کرنے، نہ کرنے کا) اختیار دیا ہے، میں نے (استغفار کرنے کی صورت کو) اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر آپ ان کے لیے ستّر بار بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کونہ بخشے گا۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ستّر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے سے اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں ضرور کرتا۔ پھر حضورﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور جنازہ کے ساتھ قبرستان گئے اور اس کے دفن ہونے تک آپ اس کی قبر پر کھڑے رہے۔ بہرحال حضورﷺ کے مقابلہ پر جو میں نے جرأت سے کام لیا اس پر مجھے بہت حیرانی تھی۔ اللہ اور رسول ہی بہتر جانتے ہیں (کہ اس میں کیا مصلحت تھی)۔ اللہ کی قسم! ابھی اس بات کو تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دو آیتیں نازل ہوئیں: {وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا}۔ اس کے بعد حضورﷺ نے کسی منافق کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، اور اس دنیا سے تشریف لے جانے تک آپ کا یہی دستور رہا۔1 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: جب عبد اللہ بن اُبی مر گیا تو اس کے صاحب زادے نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اس جنازہ میں تشریف نہیں لائیں گے تو لوگ ہمیں ہمیشہ اس کا طعنہ دیتے رہیں گے۔ چناںچہ حضورﷺ تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ وہ لوگ اسے قبر میں رکھ چکے ہیں تو آپ نے فرمایا: قبر میں رکھنے سے پہلے تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔ چناںچہ اسے قبر سے نکالا گیا اور حضورﷺ نے اس پر سر سے لے کر پاؤں تک دم فرمایا۔ آپ نے اسے اپنی قمیص پہنائی (کیوںکہ اس نے جنگِ بدر کے موقع پر حضور ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کو اپنی قمیص پہنائی تھی، حضورﷺ اس کے اس احسان کا بدلہ دینا چاہتے تھے اور اس کے بیٹے کی دل داری بھی کرنا چاہتے تھے)۔2 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: جب عبد اللہ بن اُبی کو قبر میں رکھ دیا گیا تب حضورﷺ اس کے پاس پہنچے۔ چناںچہ حضورﷺ کے فرمانے پر اسے باہر نکالا گیا۔ حضورﷺ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اس پر دم فرمایا اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔3 حضرت زید بن اَرقمؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے حضورﷺ پر جادو کیا جس کی وجہ سے آپ چند دن بیمار رہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے حاضر ہو کر عرض کیا: ایک یہودی نے آپ پر جادوکیاہے۔ اس نے گرہیں لگا کر فلاں کنوئیں میں پھینک دیا ہے، آپ آدمی بھیج کر اسے منگوا لیں۔ آپ نے حضرت علیؓکو بھیجا، وہ اسے نکال کر حضورﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضورﷺ نے ان گرہوں کو کھولا تو حضورﷺ ایسے ٹھیک ہو کر کھڑے ہوئے کہ جیسے کسی بندھن سے نکلے ہوں۔ (معلوم ہو جانے کے باوجود) حضورﷺ نے نہ تو یہ بات آخری دم تک اس یہودی کو بتائی اور نہ اس نے اس کا کوئی ناگوار اثر حضورﷺ کے چہرے پر کبھی دیکھا۔4 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ پر جادو ہوا تھا جس کے اثر کی وجہ سے آپ کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے ہیں لیکن حقیقت میں آپ گئے نہیں ہوتے تھے۔ حضرت سفیان راوی کہتے تھے کہ یہ اثر سب سے سخت جادو کا ہوتا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمھیں معلوم ہے کہ میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی وہ اللہ نے قبول فرمالی؟ میرے پاس دو فرشتے آئے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کے پاس۔ سر والے نے دوسرے سے کہا: ان حضرت کو کیا ہوا ہے؟ دوسرے نے کہا: ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے پوچھا: جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: لَبِیْد بن اَعْصَم نے جو قبیلہ بنو زُرَیق کا ہے اور یہودیوں کا حلیف اور منافق ہے۔ پہلے نے پوچھا: اس نے جادو کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: کنگھی پر اورکنگھی سے گرے ہوئے بالوں پر کیا ہے۔ پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے کہا: نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں ذروان کنوئیں کے اندر جو پتھر رکھا ہوا ہے اس کے نیچے رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور یہ چیزیں اس میں سے نکالیں اور فرمایا: یہ کنواں وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے۔ اس کنوئیں کا پانی ایسا سرخ تھا جیسے مہندی والے برتن کو دھونے کے بعد پانی کا رنگ لال ہوتا ہے۔ اور اس کنوئیں کے کھجوروں کے درخت ایسے وحشت ناک تھے کہ جیسے شیطانوں کے سر ہوں۔ میں نے حضورﷺ سے عرض کیا: یہ چیزیں آپ نے لوگوں کو کیوں نہ دکھادیں؟ انھیں دفن کیوں کر دیا؟ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے تو (جادو سے) شفا عطا فرما دی ہے اور میں کسی کے خلاف شر وفتنہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا۔1 امام احمد ؓکی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کا چھ ماہ تک یہ حال رہا کہ آپ کو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آپ بیوی کے پاس گئے ہوں اور حالاںکہ حقیقت میں گئے ہوئے ہوتے نہیں تھے۔ پھر آپ کے پاس دو فرشتے آئے۔ آگے اور حدیث بیان کی۔2 حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت بکری کے گوشت میں زہر ملا کر حضورﷺ کے پاس لائی۔ حضورﷺ نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا (تو آپ کوپتا چل گیا)۔ اس عورت کو آپ کی خدمت میں لایا گیا۔ حضورﷺ نے اس سے اس زہر ملانے کے بارے میں پوچھا تو اس عورت نے صاف کہا: میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میرے خلاف تمہارے اس منصوبہ کو ہرگز کامیاب کرنے والے نہیں تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا آپ اس عورت کو قتل نہیں کریں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میں زندگی بھر حضورﷺ کے گلے کے کوّے پر اس زہر کا اثر دیکھتا رہا۔1 حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر حضورﷺ کی خدمت میں بطورِ دعوت بھیجا۔ (اس میں سے کچھ کھانے کے بعد) حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: رک جاؤ اس گوشت میں زہر ملا ہوا ہے۔ حضورﷺ نے اس یہودی عورت سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس عورت نے کہا: یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اللہ آپ کو بتا دیں گے (کہ اس میں زہر ہے چناںچہ ایسا ہی ہوا)، اور اگر آپ جھوٹے ہیں تو آپ زہر سے ہلا ک ہو جائیں گے اور لوگوں کی جا ن آپ سے چھوٹ جائے گی۔ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) یہ سن کر حضورﷺ نے اسے کچھ نہ کہا۔2 امام احمد ؓ حضرت ابوہریرہؓ والی اس حدیث جیسی حدیث حضرت ابنِ عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں۔ اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ جب بھی حضورﷺ کو اس زہر کی وجہ سے جسم میں تکلیف محسوس ہوا کرتی تو آپ سینگی لگواتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ سفر میں آپ تشریف لے گئے اور آپ نے اِحرام باندھا اور آپ کو اس زہر کا اثر محسوس ہوا تو آپ نے سینگی لگوائی۔3 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بکری کو بھونا اور پھر اس میں زہر ملا دیا اور پھر حضورﷺ کی خدمت میں اسے بھیجا۔ حضورﷺ نے اس کی دستی کو لیا اور اس میں سے نوش فرمانے لگے اور آپ کے ساتھ چند صحابہؓ نے بھی اس کا گوشت کھایا۔ پھر حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو۔ حضورﷺ نے آدمی بھیج کر اس عورت کو بلایا اور اس سے فرمایا: کیا تم نے اس بکر ی میں زہر ملایا ہے؟ اس یہودی عورت نے کہا: آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ دستی کا ٹکڑا جو میرے ہاتھ میں ہے اس نے مجھے بتایا ہے۔ اس عورت نے کہا: ہاں، میں نے ملایا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: زہر ملا کر تو کیا حاصل کرنا چاہتی تھی؟ اس عورت نے کہا: میں نے سوچا کہ اگر آپ سچے نبی ہوں گے تو یہ زہر ملی بکری آپ کو نقصان نہیں کر سکے گی، اور اگر آپ نبی نہیں تو ہماری جان آپ سے چھوٹ جائے گی۔ حضورﷺ نے اس عورت کو معاف کر دیا اور اسے سزا نہ دی۔ اور جن صحابہ نے اس بکری کا گوشت کھایا تھاان میں سے بعض صحابہ کا انتقال ہو گیا، اور اس زہریلی بکری کا جو گوشت آپ نے کھایا تھا اس کی وجہ سے آپ نے اپنے کندھے پر سینگی لگوائی۔ حضرت ابو ہندؓ نے آپ کو سینگ اور چھری سے سینگی لگائی۔ حضرت ابو ہند انصار کے قبیلہ بنو بیاضہ کے آزادکردہ غلام تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ انتقال کرنے والے صحابی حضرت بشر بن براء بن معرورؓ تھے اور حضورﷺ کے فرمانے پر اس عورت کو قتل کر دیا گیا۔1 حضرت مروان بن عثمان بن ابی سعید بن معلیؓ فرماتے ہیں کہ مرض الوفات میں حضور ﷺ کے پاس حضرت بشر بن براء بن معرورؓ کی بہن آئیں توحضورﷺ نے ان کو فرمایا: اے اُمّ بشر! میں نے تمہارے بھائی کے ساتھ جو بکری کا گوشت خیبر میں کھایا تھا اس کی وجہ سے مجھے اس وقت اپنی دل کی رگ کٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ اور تمام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو نبوّت سے نوازا ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺکو شہادت کا مرتبہ بھی عطا فرمایا ہے۔2 حضرت جَعْدہ بن خالد بن صِمَّہ جشمیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا تو ہاتھ سے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر یہ (مال) اس جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ ہوتا تو تمہارے لیے بہتر تھا۔ پھر حضورﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا اور صحابہ نے بتایا کہ یہ آدمی آپ کو (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) قتل کرنا چاہتا تھا۔ حضورﷺ نے اس سے فرمایا: ڈرو مت! اگر تمہارا یہ ارادہ تھا تو اللہ نے تمھیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔1 حضرت انسؓ فرماتے ہیں: صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے اَسّی آدمی ہتھیار لے کر حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر حملہ آور ہونے لگے تھے۔ وہ لوگ بے خبری میں حضورﷺ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ حضورﷺ نے ان کے خلاف بد دعا کی تو وہ سب پکڑے گئے۔ حضرت عفان راوی کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ان کو معاف فرما دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ م بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْْہِمْ}2 اور وہ ایسا ہے اس نے ان کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے) اور تمہارے ہاتھ ان (کے قتل) سے عین مکہ (کے قرب) میں روک دیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دے دیا تھا۔3 یہی قصہ حضرت عبد اللہ بن مُغفّلؓ اور زیادہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں اس میں یہ ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ میں اسی طرح ٹھہرے ہوئے تھے کہ اچانک ہتھیار لگائے ہوئے تیس نوجوان ظاہر ہوئے۔ وہ ہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ حضورﷺ نے ان کے لیے بد دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سننے کی طاقت ختم کر دی اس لیے وہ کچھ کر نہ سکے۔ چناںچہ ہم لوگو ں نے کھڑے ہو کر ان کو پکڑ لیا۔ حضورﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم لو گ کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ یا کسی نے تمھیں امن دیا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے انھیں چھوڑ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : {وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ…}۔4 حضر ت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: حضرت طفیل بن عمرو دَوْسیؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: (میرے قبیلہ) دَوْس نے (میری دعوت) نہیں مانی اور (اسلام قبول کرنے سے) انکار کر دیا اس لیے آپ ان کے خلاف بد دعا کر دیں۔ حضورﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے۔ لوگوں نے کہا: اب تو قبیلہ دَوْس والے ہلاک ہوگئے (کیوںکہ حضورﷺ ان کے لیے بد دعا فرمانے لگے ہیں)، لیکن حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! دَوْس کو ہدایت نصیب فرما اور انھیں یہاں لے آ۔ اے اللہ! دَوْس کو ہدایت نصیب فرما اور انھیں یہاں لے آ۔ اے اللہ! دَوْس کو ہدایت نصیب فرما اور انھیں یہاں لے آ۔ چناںچہ حضرت طفیل واپس گئے اور خیبر کے موقع پر دَوْس کے ستّر، اَسّی گھرانے مسلمان کر کے لے آئے۔1