صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
اپنی رائے کے خلاف بڑوں کے پیچھے چلنے کا حکم
حضرت زید بن وہب ؓ کہتے ہیں: میں حضرت ابنِ مسعود ؓ کی خدمت میں کتاب اللہ (قرآن مجید) کی ایک آیت پڑھنے گیا۔ انھوں نے مجھے وہ آیت پڑھا دی۔ میں نے عرض کیا کہ آپ نے یہ آیت مجھے جس طرح پڑھائی ہے حضرت عمرؓ نے تو مجھے اس کے خلاف اور طرح سے پڑھائی تھی۔ اس پر وہ رو نے لگے اور اتنا روئے کہ مجھے ان کے آنسو کنکریوں میں گرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ پھر فرمایا: حضرت عمر نے تمھیں جیسا پڑھایا ہے تم ویسا ہی پڑھو، کیوںکہ اللہ کی قسم! ان کی قرأت سیلحین شہر (یہ بغداد کے قریب مشہور شہر تھا) کے راستہ سے بھی زیادہ واضح ہے۔ حضرت عمر اسلام کا ایک مضبوط قلعہ تھے، جس میںاسلام داخل ہوتا تھا اس میں سے نکلتا نہیں تھا۔ اور جب حضرت عمر شہید ہوگئے تو اس قلعہ میں شگاف پڑگیا ہے اور اسلام اب اس قلعہ سے باہر آرہا ہے اس کے اندر نہیں جارہا ہے۔2